رمضان کا مہینہ اور زکوٰۃ کا درست مصرف ایک اہم فریضہ

590
0

زکوٰۃ اپنے ہاتھوں سے مستحقین میں تقسیم کریں غریبوں کے حق پر مافیاز نے قبضہ کر رکھا ہے

مستحق کو زکوٰۃ دی جائے تو رقم مارکیٹ میں آتی ہے اللہ تعالیٰ نے اسلئے زکوٰۃ کو مال بڑھانے کا ..

لوگ رمضان میں زکوٰۃ دیتے ہیں، مگر خیال نہیں رکھتے کہ مستحق کو زکوٰۃ پہنچتی بھی ہے یا نہیں؟۔ اگر غریب غرباء کو زکوٰۃ دی جائے تو قوم کی مشکلات ختم ہونگی۔ غریب ضروریات کیلئے فوراً مارکیٹوں کا رخ کرتے ہیں جوکاروبارکے پہیہ کو گھمادیتا ہے، نتیجہ میں فائدہ کاروباری طبقہ کا بھی ہوتا ہے، تجارت میں ڈھائی فیصد سے زیادہ کماتے ہیں، اسلئے اللہ نے فرمایا کہ صدقات سے مال میں اضافہ ہوتا ہے۔
جب لوگوں کی زکوٰۃ غریب عوام تک پہنچنے کی بجائے ا کاؤنٹ سے دوسرے ا کاؤنٹ کو منتقل ہو تو زکوٰۃ کے مقاصد بھی پورے نہ ہونگے،غریب کو بھی فائدہ نہ ہوگا اور زکوٰۃ دینے والے معاشرہ کو بھی اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچے گا۔ جس طرح رکوع اور سجدے اللہ کیلئے کرنے کی بجائے بتوں کو کئے جائیں تو اس کا فائدہ نہیں بلکہ ایک رسم عبادت ہے جو انسان اپنی عبودیت کا ذوق پورا کرنے کیلئے کرتا ہے مگر حقیقت سے بے خبر انسان کو اس کا نقصان پہنچتا ہے۔ بڑے امیر علماء و مفتیان کی صفوں میں زکوٰۃ کے مسئلہ پر سیاسی جماعتوں کے قائدین اوررفاعی اداروں کے نام پر کرنے والے بڑے لوگ بھی شریک ہوگئے ہیں۔ جب تک کاروباری طبقہ اپنا قبلہ درست نہ کریگی ، علماء جس طرح سے حلالہ مسلط کرنا اپنا حق سمجھتے تھے، اسی طرح سے انہی کی زکوٰۃ و خیرات کو انکے خلاف بدمعاش طبقہ استعمال کریگا۔
غریب کے پیٹ میں دو وقت کی روٹی اور جسم ڈھانپنے کا کپڑا نہیں لیکن وہ پیسہ اشتہارات شائع کرنے میں استعمال کرنے والوں کو ذرا بھی شرم، حیاء اور غیرت نہیں آتی ۔ غریب کے حق پر شخصیات بلڈنگ ، اداروں اورگینگوں کی تعمیر واشاعت ہوگی تووہ نالائق ،بیکار، ظالم، جابر، بدمعاش، بے رحم اور استحصال کرنے والا طبقہ انہی تاجروں اور مالدار طبقے پر بھی مسلط ہوگا، بحر و بر میں فساد لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب ہوتا ہے۔ غریب کا حق چھیننے سے دریغ نہ ہو تو یہ قوم کی اور کیا بھلائی کرینگے۔ جماعت اسلامی نے الخدمت سے زکوٰۃ اور جمعیت سے بدمعاشی کاآغازکیا، پھردوسرے بھی اس راہ پرچل پڑے۔ نبی کریم ﷺ نے زکوٰۃ لینے سے انکاراورخودہی ضرورتمندوں تک پہنچانے کا حکم دیتے پھر اللہ نے حکم فرمایا کہ ’’ ان سے زکوٰۃ لے لیا کرو،یہ ان کیلئے تسکین کا ذریعہ ہے‘‘۔ رسولﷺ نے اللہ کا حکم مانا لیکن اپنے اور اپنے اقرباء پر زکوٰۃ کو حرام کردیا۔ علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ سال کی زکوٰۃ سے زیادہ مدرسہ کیلئے نہ لیتے تھے اور طلبہ کو ہی ہرماہ وظیفہ ہاتھ میں دیتے ،جو مدرسہ کا کھاتے ،وہ طعام کی مد میں کچھ رقم مدرسے میں جمع کرتے۔ دارالعلوم کراچی والے زکوٰۃ کے خود منصف اور وکیل بنتے، مفتی تقی عثمانی کا سود کو معاوضہ لیکر جائز دینے سے پہلے بھی علماء حق اور علماء سوء کی فہرست ہے۔ غریب کو زکوٰۃ کا مالک بنانا ضروری ہے، وہ تعلیم و علاج پرخود خرچہ کرے،پھرغربت اور گینگ ختم ہونگے۔