اسلامی منشور دنیا بھر کے حکمرانوں اور عوام کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کی جائے. عتیق گیلانی

525
0

اسلامی منشور مسلم اُمہ کو پستی سے نکال کر عروج پر پہنچادے توانسانیت جمہوری بنیاد پر ہماری امامت پر فخر کریگی۔ امریکہ میں مسجد جلادی گئی تو یہودیوں نے اپنی عبات گاہ اس وقت تک دیدی جب تک مسجد کی تعمیر مکمل نہ ہو۔ اسرائیل میں مسلم ممالک پر پابندی کیخلاف مظاہرہ ہوا مگر سعودیہ اور عرب امارات نے امریکی پابندیوں کا خیر مقدم کیا ،یہ مجبوریاں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کیخلاف ناک کے نتھنے سے آواز بھی نہ نکالی کہ ’’ حافظ سعید کو نظر بند کیا گیا‘‘، اگر نظر بند نہ کیا جاتا تو سعودیہ کے ہاں میں ہاں اس نے ملانی اورناک کٹوانی تھی۔ کتنے بے گناہ افراد خاتون عافیہ صدیقہ سمیت امریکہ کے حوالے کئے؟،ریاست کی بغل کا حافظ سعید بلکہ مولانا مسعود اظہربھی نہ مانگا گیا، امریکی سی آئی اے اپناکھیل کھیل رہی ہے ۔ بقول اقبال جو چھپا دے نظروں سے تماشۂ حیات،خیر اسی میں ہے تاقیامت رہے مؤمن غلام،( ابلیس کی مجلس شوریٰ)۔ اسامہ ، ریمنڈ ڈیوس بڑی بات نہ تھی توشکیل آفریدی کیا ہے ؟۔یہ تو ابتداء عشق ہے روتاہے کیا؟ آگے آگے دیکھئے ہوتاہے کیا؟۔
اسلامی منشور دنیا بھر کے حکمرانوں اور عوام کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کی جائے۔ 1: قرآن میں توراۃ کے حوالے سے تصدیق ہے کہ ’’ جان کے بدلے جان، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، آنکھ کے بدلے آنکھ اور زخموں کا قصاص ہے‘‘۔ جب غریب امیر، مرد عورت، کمزور طاقتور، شریف و رذیل، چھوٹے بڑے، حاکم و محکوم اور ہر قسم کے لوگوں میں برابری کی بنیاد پرقانون سازی ہوگی تو دنیا میں سکون آجائیگا۔ قرآن کا فطری حکم جو توراۃ میں تھا۔ اللہ نے اس سے انحراف کو ظلم قرار دیا اور ہم کھلم کھلا منحرف ہیں تو دنیا میں ہمارے حکمران، ریاستیں اور عوام ذلیل و خوار ہونگے ۔دنیا بھر میں مسلمانوں کیلئے جلوس نکل رہے ہیں اور ہم ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں۔ 2: قرآن میں چور مرد اور چور عورت کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے ۔ پاکستان میں بادشاہی کا خواب دیکھنے والا کہتا ہے کہ چوری ثابت ہوگئی تو گھر چلا جاؤں گا۔ ہاتھ کاٹنے کا قرآنی قانون نافذ کیا تو آئین میں62اور63کے دفعات میں صادق اورامین کیلئے زیادہ غم کھانے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ جب ہاتھ کٹا ہو گا تو عوام کو دھوکہ دینے کیلئے تقریروں میں ہاتھ ہلاکر اشارے بھی نہ ہوسکیں گے۔ جمہوری نظام غیر اسلامی نہیں لیکن کرپشن کرنیوالے قانون کی پابندی کا بھی پاس نہیں رکھتے ۔…‘‘ 3: غریب اور امیر کی عزت برابر ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان لگانیوالوں کو وہی سزا کا حکم سنایا گیا ، جو ایک عام پاکدامن خاتون کے برابر تھا۔ ہماری عوام اور عدالتوں میں طاقت ور اور کمزور کی عزتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کسی کی عزت اربوں میں اور کسی کی لاکھوں میں بھی نہیں ہے۔ وہ عزت اللہ کی قسم عزت نہیں جس کی دنیا میں کوئی قیمت لگے۔ قرآن کے مطابق 80کوڑوں کی سزا دی جائے تو امیر غریب کی عزت میں فرق نہیں ہوگا اور سزا بھی دونوں کیلئے برابر ہوگی۔ امیر کیلئے رقم کی ادائیگی بڑی سزا نہیں لیکن غریب کیلئے رقم بڑی سزا ہے۔۔۔۔۔۔۔.‘‘ 4: رضامندی سے زنا کی سزا قرآن میں100کوڑے ہے۔ جس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی کوئی تفریق نہیں ۔ حضرت عمرؓ کے دور میں اگر کوڑوں کی سزا ہوتی توگورنر مغیرہ ابن شعبہؓ کو 100کوڑے سے بچانے کیلئے گواہوں کو80،80کوڑے مارنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس واقعہ پر قانون سازی اور فقہی اختلافات نے اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیل دیا ہے۔ مغیرہ ابن شعبہؓ کیساتھ ام جمیل پکڑی گئی ۔ ابولہب کی بیگم کا نام ام جمیل تھا اور اگر یہ بیوہ تھی اور باقاعدہ شادی کیلئے دونوں رضامند نہ تھے تو وقتی طور پر متعہ بھی کرلیتے۔ متعہ پر فقہ میں حد نہیں ۔ سعودیہ نے بھی مسیار کے نام پر متعہ کی اجازت دی اورعلیؓ نے فرمایا کہ ’’ عمرؓ متعہ پر پابندی نہ لگاتے توقیامت تک کوئی زنا نہ کرتا سوائے بد بخت کے‘‘۔پولیس اشارے پر دہشتگرد نہ رُکتا توبات تھی۔ طلاق شدہ لڑکی کی ماں نے بتایا کہ تین سال سے دوستی تھی، شادی شدہ لڑکے سے سعودی متعہ مسیار ہوتا تونہ بھاگنا پڑتااورنہ مرنایامارنا پڑتا۔ پولیس کی حوصلہ شکنی کی جائے تو دہشت گردوں کا حوصلہ بڑھے گا۔ 5: مغرب میں نکاح کے قوانین اس قدر سخت ہیں کہ باقاعدہ شادی کے بجائے گرل فرینڈ کو ترجیح دیتے ہیںیا ایگریمنٹ کرلیتے ہیں جس کی قانونی حیثیت متعہ کی ہے۔ اسلامی قانونِ نکاح کو دنیا کے سامنے لایا جائے تو مغرب قرآن کو قبول کرنے سے ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں کریگا۔ پاکستان کے نکاح کے فارم میں عورت کو طلاق دینے کا حق حیلہ اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے ۔ قرآن کے مطابق یہ قانون دنیا کے سامنے پیش کیا جائے کہ باہمی رضا سے حق مہر شوہر پرفرض ہے، عورت کی طرف سے خلع کا فیصلہ ہو تو جو کچھ بھی عورت کو دیا ہو ، اس کو اس غرض سے روکنا قانونی طور سے غلط قرار دیا جائے کہ دئیے مال میں سے کچھ واپس لے۔ چاہے حق مہر کے علاوہ ہو۔ یہ تصورہی قرآن کے خلاف ہے کہ عورت شوہر کی ملکیت بن جاتی ہے،جس کو رد کرنا ضروری ہے۔(النساء: آیت19) 6: تین طلاق کی ملکیت کے غلط تصور کو بھی حرفِ غلط کی طرح معاشرے سے ختم کیا جائیگا۔ یہ کیا منطق ہے کہ شوہر ایک طلاق دے اور عدت کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرلے ۔ وہاں سے طلاق کے بعد یہ بحث کہ شوہر پہلے سے موجود 2طلاق کا مالک ہوگا یا نئے سرے سے 3طلاق کا مالک ہوگا؟۔ یہ عجوبہ غیرفطری ہے کہ ایک طلاق کے بعد عورت دوسری شادی کرلے اور پہلا شوہربھی 2طلاق کا مالک رہے، قرآن نے شوہر کو طلاق کے بعد واضح خالی عدت کا حقدار قرار دیا ۔ 7: میاں بیوی کے حقوق، نکاح و طلاق اور متعہ کے درست تصورسے عالم اسلام اور عالم انسانیت میں عصمت فروشی کے دھندے ختم ہو نگے۔ قرآن نے لونڈی بنانے کو آل فرعون کی روایت قرار دیا لیکن معاشرے کی روایت عارضی قانون کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ حد اور تعزیر میں یہ فرق ہے کہ تعزیر کی سزا حکمران کی طرف سے قانونی ہوتی ہے جس میں کمی بیشی کی گنجائش ہے مگر اللہ نے جو حد مقرر کی، اس سزا میں کمی بیشی نہیں ۔ زنا کیلئے 100کوڑے ہیں اور اگر دومرد آپس میں بدکاری کریں تو انکو اذیت دینے کا قرآن میں حکم ہے اور اذیت کیلئے حکومت قانون سازی کرسکتی ہے۔ 8:اللہ نے جہاں لونڈی سے ازدواجی تعلق کی اجازت دی تو وہاں ان کی شادی کرانے کا حکم دیا۔ جس سے روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ معاشرے کی اس برائی کو برداشت بھی کیا گیا اور اس کی اصلاح کیلئے بھی راہ ہموار کی گئی۔ اللہ نے لونڈی بنانے کا حکم نہیں دیا اور کیسے دیتے جب اس کو آل فرعون کی روایت قرار دیا۔ اسلام نے غلامانہ نظام ختم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ مشرکینِ مکہ پر فتح حاصل کرلی تو ان کو مخاطب کرکے نبیﷺ نے فرمایا: لاثریب علیکم الیوم وانتم طلقاء ’’ آج تم پر کوئی ملامت نہیں اورتم آزاد ہو‘‘۔ تین دن کے بعد سب کو واپس جانے کا حکم فرمایا، تین دن تک متعہ کی اجازت دیدی۔ (صحیح مسلم) علماء و مفتیان سمجھتے ہیں کہ اگر ان کی ماں بہنوں کو چھین کر لونڈی بنایا جاتا تو ٹھیک تھا مگرمتعہ کی اجازت زناکی اجازت تھی العیاذ باللہ من ذلک 9: اللہ نے یہود ونصاریٰ کی پاکدامن عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ۔ان کو ولی نہ بنانے کا حکم جر گہ میں فیصلے کا مذہبی اختیار تھا۔ قرآن میں اگر میاں بیوی کے درمیان جدائی کا خطرہ ہو تو اللہ نے دونوں طرف سے ایک ایک رشتہ دار کو حکم بنانے کا حکم دیاہے اوراگر عمران خان اور اس کی بیگم جمائما خان کے درمیان جدائی پر دونوں خاندان ایک ایک حکم بناتے تو یہ قرآن کے مطابق ہوتا، البتہ اگر دونوں کو کسی بدکاری پر پکڑا جاتا اور یہودی ان کو توراۃ کے مطابق سنگسار کرتے اور مسلمان قرآن کے مطابق کوڑے لگاتے تو پھر یہودیوں کو ولایت یا اختیار دینے کی مذمت ہوتی ،جب ایک ہی حد سزاسنگساری ہوتی تو ولی بنانے کی مذمت کیونکر کی جاتی؟۔ اللہ کے احکام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 10:عیسائیوں کے پاس حدودوتعزیرات کیلئے اپنا مذہبی تصور نہیں ،وہ توراۃ کو مانتے ہیں۔ اسرائیل توراۃ کے مطابق مذہبی ریاست قائم کرلے اور مسلمان پاکستان سے اسلامی احکام کے مطابق حکومت قائم کرلیں تو انشاء اللہ پوری دنیا اسلامی قوانین کا خیرمقدم کریگی اور اسرائیل اپنا قبلہ بیت المقدس بھی مسلمانوں کو بہت خوشی سے حوالے کردے گا۔ پاکستان اگر اسلام کیلئے نہیں حکمرانوں کے کرپشن اور غریب عوام کو غلام بنانے کیلئے بنا ہے تو امریکہ و بھارت کی سازش سے ہمارا خدا بھی ہمیں بچانے میں مدد نہیں کریگا جیسامشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہوا تھا۔یہ بھارت کی حوصلہ افزائی نہیں اپنے حکمرانوں کی حوصلہ شکنی کیلئے ہے،پاکستان بنگال نہیں۔
نیٹو کا حشر افغانستان میں بھارت نے دیکھا، ایٹمی جنگ نہ ہو توبھی بھارت ایڈونچر کرنے کی غلطی نہ کریگا، بنگال آزاد ہوامگر پاکستان نے کس سے آزادی حاصل کرنی ہے؟۔مجاہدین پاکستان کے مسلم حکمرانوں کو نشانہ نہیں بناتے۔ افغانستان میں افغان فوجی امریکیوں پر حملہ کرتے ہیں۔ ہندو کو پاکستان کیخلاف اقدام پر بھارت کے مسلمان اور سکھ بھی معاف نہ کرینگے۔ بلوچ فطری طور پر باعزت ، بردبار اور باوقار ہیں۔ کمزوروں پر حملوں نے ان کا ضمیر گھائل کردیا ۔ریاست نے ان کوبھی بہت نقصان پہنچایا۔افہام وتفہیم مسائل کا حل ہے، ضمیر نہیں رہتا تو عزت فروشی کا دھندہ بھی ہوتاہے۔ جرمنی میں شکست کے بعد خواتین رات مہمان ٹھہرانے کیلئے دروازے پر کارڈ لگاتی تھیں۔ جنگ میں شکست کے بعد عورت کیلئے لونڈی بن جانا بھی عزت کا تحفظ ہے، دنیاخطرناک سمت جارہی ہے،اسلامی اقتدار میں انصاف ملے گا۔ انقلاب انقلاب اے انقلاب۔ عتیق گیلانی