رمضان شریف میں زکوٰۃ کا اہم ترین مسئلہ

591
0

زکوٰۃ وصول کرنے کے نام پر بڑے بڑے اشتہارات لگانے والوں کی حیثیت ملٹی نیشن کمپنیوں سے بھی زیادہ ہے۔غریب ومستحق افراد کا اللہ نے ایک وسیلہ بنایا تھا ان ظالموں نے وہ بھی ان سے چھین لیاہے۔ معاشرے میں بہت سے عزتدار لوگ ہوتے ہیں جو زکوٰۃ کے مستحق ہوتے ہیں لیکن وہ کسی کے آگے اپنی ضرورت نہیں رکھ سکتے۔ امام غزالیؒ نے لکھ دیا تھا کہ ’’ امام ابوحنیفہؒ کے شاگردشیخ الاسلام امام ابویوسفؒ نے یہ حیلہ کررکھا تھا کہ سال ختم ہونے سے پہلے اپنا سارا مال اپنی بیوی کو ہبہ کردیتے اور پھر سال ختم ہونے سے پہلے بیوی اس کو ہبہ کردیتی تھی تاکہ زکوٰۃ سے بچا جاسکے۔ جب امام ابوحنیفہؒ سے کسی نے کہہ دیا کہ آپ کا شاگرد اس طرح سے کررہاہے تو فرمایا کہ یہ دین کا فقہ حاصل کرنے کا انعام ہے جس کا وہ فائدہ اٹھا رہاہے‘‘۔ امام ابوحنیفہؒ نے یقیناًطنز یہ یہ جملہ کہا ہوگا، مولانا ابوالکلام آزادؒ نے لکھا:’’ دارالعلوم دیوبند کا ایک بزرگ بھی یہ حیلہ کرتا ہے مگر یہ اسلام نہیں یہود نے جس طرح سے توراۃ کے حکم کو بگاڑ دیا تھایہ حدیث کے مطابق یہود کے نقش قدم پر چلنے کا نتیجہ ہے‘‘۔ (تذکرہ، آزادؒ )
حضرت ابوبکرؓ نے امیروں سے زکوٰۃ چھین کر غریبوں کو ان کا حق دلایا تھا، علماء کرام میں جو بہت امیر کبیر ہیں ان سے زکوٰۃ چھین کر غریب علماء میں بانٹی جائے تو کوئی مولوی غریب نہیں رہے گا لیکن فقہ وتفسیر کی کتابوں میں یہ لکھ دیا گیاہے کہ تمام فقہی مسالک اس پر متفق ہیں کہ زکوٰۃ میں زبردستی نہیں ہے۔ اگر حکمران زبردستی ان سے زکوٰۃ لیتے تو بیویوں کو ہبہ کرنے کے حیلے بہانے بھی نہ چلتے۔ خلافت راشدہ کا دور وہ تھا جسکے آخر میں بڑا شر برپا ہوا،آپس میں لڑ مرے،حالانکہ نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ صفات بیان کیں کہ رحماء بینھم اشداء علی الکفار ’’وہ آپس میں رحیم اور کافروں پر سخت ہیں‘‘ لیکن اسلام کے چہرے پر وہ غبار نہیں آیا جس کی وجہ سے اسلام کا سورج چھپ گیا ہو۔ پھر حضرت امام حسنؓ کے کردار کی وجہ سے صلح ہوگی لیکن اس خیر میں دھواں شامل ہوا، جس کے اثرات آج اپنے انتہاء کو پہنچ گئے ہیں۔
نبی کریمﷺ کی چاہت تھی کہ لوگ اپنی زکوٰۃ اپنے ہاتھوں سے مستحقین کے اندر تقسیم کردیں، صحابہؓ چاہتے تھے کہ آپﷺ کے ہاتھوں سے ان کی زکوٰۃ مستحقین کو مل جائے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کوحکم دیا کہ’’ ان سے صدقات ( وصول) کرو، یہ ان کیلئے تسکین کا ذریعہ ہے‘‘۔ نبیﷺ نے اللہ کے حکم سے صحابہؓ کی خواہش پر زکوٰۃ کو قبول کیا لیکن اپنے اہلبیت پر اس کو حرام کردیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے سمجھا کہ جو حکم اللہ کے نبیﷺ کو تھا،ایک خلیفہ کی حیثیت سے وہ حکم مسلمان حکمران کو بھی ہے، لہٰذا جن لوگوں نے بیت المال کو زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا تو انکے خلاف قتال کیا، حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک شخص کو قتل کرکے اس کی خوبصورت بیوی سے شادی بھی رچالی جس پر حضرت عمرؓ نے ان کو سنگسار کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی 99بیویاں تھیں تب بھی اپنے مجاہد اوریا کی عورت پر دل آیا تو اللہ نے دنبیوں کی تعبیر سے آپؑ کو منع کردیا۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ حضرت علیؓ کی بہن ام ہانیؓ سے شادی کرنا چاہتے تھے تو اللہ نے فرمایا کہ جن رشتہ دارعورتوں نے ہجرت نہیں کی ان سے نکاح نہ کریں اور یہ بھی فرمایا کہ ’’اسکے بعد کوئی عورت بھلی لگے تو اس سے شادی نہ کریں‘‘۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ اللہ نے نبیﷺ کے وصال کے بعد بھی آپﷺ کی ازواج مطہراتؓ سے شادی کا منع فرمایا تھا، یوں ایک طرف کسی عورت کو بہت ہی بڑا شرف مل جاتا کہ ام المؤمنین بن جاتی تو دوسری طرف بیوہ بن جانے کے بعد بھی وہ شادی کی مجاز نہ ہوتی۔ ابنت الجونؓ سے نبیﷺ نے خلوت صحیحہ فرمائی تھی مگر انکے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنے سے پہلے ان کو چھوڑدیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے انکی شادی پر پابندی لگانا چاہی لیکن اس نے کہا کہ مجھے نبیﷺ نے ہاتھ نہیں لگایا۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کو نبیﷺ نے سیف اللہ قرار دیا ،حضرت آدم ؑ اس شجرہ کے قریب گئے جسکا فرمایاگیا : ان لاتجوع ولاتعری کہ بھوکے ننگے نہ ہوجاؤ۔وہ کونساشجرہ ہے جسکے پھل کھانے سے انسان کا پیٹ نہ بھرے بلکہ بھوکا ننگا ہوجائے؟، شیطان نے آدمؑ کو بتایا ھل ادلکم علی شجرۃ الخلد وملک لایبلیٰ کیا تمہارے لئے اس شجرے کی نشاندہی کروں جو ہمیشہ والی ہو اور نہ ختم ہونے دولت ہو۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھا کہ شیطان نے اپنی مادی کیساتھ مباشرت کرکے بتادیا، بخاری میں ہے’’ اگر حواؑ نہ ہوتی تو کوئی عورت شوہرسے خیانت نہ کرتی‘‘۔
حضرت آدمؑ کا بڑا بیٹا اسی نافرمانی کے نتیجے میں پیدا ہواتھا، جس نے اپنی ناجائز خواہش کیلئے اپنے بھائی ہابیل کو شہید کردیا ،پھر کوئے نے دفن کرنے کا طریقہ بتایا۔ انسان اچھی سے اچھی چیز کھاکر بھی بدبودار بول وبراز خارج کرتاہے، اسکی پیدائش کا طریقہ کار بھی ماں باپ کے ملاپ اور نطفہ امشاج سے ہوتاہے۔ ضعیف انسان کو تکبر کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا اور اللہ اس کو برداشت بھی نہیں کرتاہے۔ زکوٰۃ مستحق کیلئے گند نہیں بلکہ اس کیلئے حق حلال ہے اور غیرمستحق کیلئے گندو حرام ہے۔ یہ فقراء ومساکین کا حق ہے ، غریب بیواؤں اور یتیموں کا حق کھانے اور کھلانے سے اس امت پر عذاب کی کیفیت طاری ہوگئی ہے۔ مال اوراولاد کو اللہ نے فتنہ قراردیا۔ نبیﷺ زکوٰۃ لینے سے انکار کررہے تھے تو اللہ نے حکم دیا کہ انکی تسکین کا ذریعہ ہے اور جب نبیﷺ نے قبول کرلیا تو حضرت ابوبکرؓ نے مغالطہ کھایا جس کی وجہ سے وہ خالد بن ولیدؓ کا ناگوار واقعہ بھی پیش آیا، اس واقعہ کی وجہ سے حضرت خالد بن ولیدؓ کی تمام خدمات کو فراموش کرنا ایسا ہے جیسے حضرت آدم ؑ کی ساری شرافت و اعزازات میں بس درخت کی غلطی کو پکڑ کر تنقید وتنقیص کا نشانہ بنایا جائے۔ رسول ﷺ کا یہ بہت بڑا کارنامہ تھا کہ بیواؤں و طلاق شدہ خواتین کو زوجیت کی عزت کا شرف بخشا، حضرت ابوبکرؓ نے اپنی ضرورت سے تھوڑا زیادہ لینا بھی برداشت نہیں کیا، ان کے خلوص پر حسنِ ظن نہ کرنا اپنا نقصان ہے مگر جس مغالطے کی وجہ سے ایک عظیم فوج کے عظیم سپہ سالار سے اتنی بڑی لغزش ہوئی، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ کاش نبیﷺ سے پوچھ لیتے کہ زکوٰۃ نہ دینے کے خلاف قتال کیا جائے یا نہیں؟۔ پھر زکوٰۃ کیلئے قتال کا مسئلہ ختم ہوا تو اس کی وجہ سے اچھی فضاء بن گئی اور یزید کے لشکر کے سپاہ سالار نے حضرت حر ؒ نے امام حسینؓ کا ساتھ دیا۔ ایک شخصیت کی وجہ سے مجموعی فضاء پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کے گھر سے سیلاب زدگان کیلئے تحفہ میں دیا جانے والا ہار برآمد ہوا، یہ زرداری کی صحبت کے دور رس اثرات تھے۔
حضرت علامہ سیدمحمد یوسف بنوریؒ تاجدارِ مدینہ کے فرزند تھے، مدرسہ کیلئے ایک قانون بنادیا کہ ’’ایک سال سے زیادہ کیلئے زکوٰۃ نہیں لے جائے گی۔ طالب علم کو ہاتھ میں زکوٰۃ دیکر مالک بنایا جائیگا، اسکی طرف سے مدرسہ وکالت کا کام نہیں کریگا اور سالانہ ماہرین کے ذریعہ سے آرڈٹ کرایا جائیگا‘‘۔ علامہ یوسف بنوریؒ نے خود پر ہدیہ کو بھی حرام قرار دیا تھا۔ ایک سرمایہ دار نے کہا کہ مولانا آپ کو ضرورت نہ ہو تو مستحق لوگوں میں بانٹ دیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ’’ ثواب آپکوملے جواب مجھے دینا پڑے، اس خسارے کا سودا میں نہیں کرتا‘‘۔ تاریخ کے ہر دور میں اہل حق موجود رہے ہیں، ہم نے ان اہل حق کی وراثت کا حق ادا کرنا ہے۔ حاجی عثمانؒ کے خلفاء کا یہ کارنامہ تھا کہ بسوں میں چلنے والے علماء کرام کو گاڑیاں دی تھیں، حاجی محمدعثمان ؒ نے سائیکل بھی نہ لی اور بہت خستہ حال بلڈنگ کے خستہ حال فلیٹ میں رہے۔ سیدعتیق