روزہ (معروفات)

376
0

کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ایک نقارہ بجاکر اعلان کیا گیا کہ ’’ جس نے بھی روزہ نہ رکھا تو 500روپے جرمانہ ہوگا۔ کچھ جوانوں نے اسکی کھلے عام خلاف ورزی کی ، وہاں مغرب کے بعد گپ شپ کیلئے دعوت ہوتی تھی، روزے کیخلاف پابندی توڑنے کیلئے دن کی دعوت کا اہتمام ہوا۔ عوام میں انکو اسلام کادشمن تصور کیا جانے لگا، انکے بڑوں نے جرمانہ بھی ادا کیا اور اس اقدام کی وجہ سے شرمسار بھی ہوئے ، ان کو ڈانٹ ڈپٹ کر فرض بھی ادا کیا ہوگا۔ ان افراد میں اکثر یا سب شاید زندہ ہوں۔ ان لوگوں نے اپنے طور پر جو کیاسمجھ کر کیا؟، ہمارا انتہائی شریف پڑوسی تاج خان بھی ان میں شامل تھا، اس سے پوچھا کہ ’’ اس اقدام کی کیوں ضرورت پیش آئی؟‘‘۔ کیونکہ اس سے غلط حرکت متوقع نہیں ہوسکتی تھی تو اس نے کہا کہ ’’ میرا روزہ تھا، ہم نے یہ احتجاج اسلئے نوٹ کروایا تھا کہ روزے میں زبردستی اور جرمانے کا تصورغلط ہے‘‘۔ ایک مرتبہ شکار پور سندھ میں رمضان کا مہینہ گزارا، وہاں عوام کو کھلے عام دن دیہاڑے کھاتے پیتے دیکھ کر سمجھا کہ کھلے عام کھانے پینے والے ہندو ہیں پھر ایک مرتبہ گھر والی کے ایک رشتہ دار کو گلی میں سگریٹ پیتے دیکھا تو سمجھ گیا کہ دوسرے بھی مسلمان ہونگے۔ گرمی میں سفر کے دوران بھی مجھے روزہ رکھنے میں مشکل نہیں ہوتی تھی مگر جب دیکھا کہ مذہبی لوگ روزہ نہ رکھنے میں شرم کرتے ہیں توان کی جھجک دور کرنے کیلئے دورانِ سفر روزہ کھولنا شروع کیا۔ بنوں میں مسافروں کی بھی روزہ نہ رکھنے پر پٹائی لگ جاتی تھی۔ بہت ضروری ہے کہ اسلام میں غلو سے پرہیز کریں۔
علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ ’’ فطرت کے مقاصد کی کرتاہے نگہبانی یا بندۂ صحرائی یا مرد کوہستانی‘‘۔ کانیگرم جنوبی وزیرستان کے جن لوگوں نے روزے پر جرمانے کیخلاف اپنا احتجاج نوٹ کروایا تھا انکا احتجاج اصحابِ کہف کے جوانوں کی طرح تاریخ میں رقم کرنے کے قابل ہے۔ نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج میں زبردستی کے تصور نے اسلام کے معروف احکام کا چہرہ مسخ کیا۔ علامہ اقبالؒ نے جو تصورات پیش کئے، ان پر اسلامی جمہوری اتحاد کی سازش میں پیسے کھانے والے حکمران کہاں عمل کرسکتے ہیں؟۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا کہ: ’’ایراں ہو عالم مشرق کا جنیوا شاید کرۂ ارض کی تقدید بدل جائے ‘‘۔ نوازشریف سعودیہ سے اپنے احسانات کا بدلہ چکانے کیلئے بھی کوئی قدم نہیں اٹھاسکتا۔ ڈرپوک کتا بھونکے اور دور سے پاؤں پٹخے جائیں تو بھاگ جاتاہے۔ ہمارا حکمران طبقہ دنیا کے خوف سے پہلے تو بھونکتا نہیں اور بھونکے تو دور سے پیر پٹخنے کی آواز سن کر بھاگتاہے۔ جب امریکہ ہماری پشت پناہی کرتاہے تو پھر اسلام کیلئے ریاست، قوم، وطن اور عزت وناموس تک سب کچھ قربان کردیتے ہیں لیکن جب امریکہ راضی نہ ہو تو بھونکنے کی ہمت نہیں کرتے اور دُم ہلانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں اور کہیں آواز کی نوبت بھی آجائے تو مؤقف بدلنے میں دیر نہیں لگاتے ۔یہودونصاریٰ ، امریکہ اوراسرائیل سے زیادہ اپنے بنائے ہوئے پھندوں سے نکلنا ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔بقول علامہ اقبال ’’سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس‘‘۔ فرقہ واریت کا ناسورہمیں صرف باتوں سے ختم نہیں کرنا ہوگا بلکہ قرآن وسنت اور فطرت و عقل کے مطابق لوگوں کو گمراہی سے نکالنا ہوگا۔ میرا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان سے ہے جہاں کوئی نیا فرقہ نہیں۔ اکبربادشاہ کے دور میں ہندوستان میں مجدد الف ثانیؒ نے درباری کا کردار ادا نہیں کیا ، ہمارے کانیگرم کے پیرروشان بایزید انصاریؒ نے اکبر کیخلاف عملی جہاد کیا ،بادشاہوں کے خلاف لڑنے والی شخصیات کومتنازع بنانے میں درباریوں کا اہم کردار ہوتاہے۔ میرا کسی نئے فرقہ سے تعلق نہیں ، البتہ علماء دیوبندکے مدارس میں فقہ حنفی کی تعلیم حاصل کی ۔ بقولِ اقبال ’’ جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے جنگیزی‘‘ ۔ دین میں سیاست نہ ہو تو وہ اسلام نہیں بدھ مت، ہندومت اور عیسائیت ہے مگراسلام نہیں ۔ اسلام میں سیاست نہ ہوتی تو مکہ سے مدینہ ہجرت کا حکم نہ ملتا ۔ خلفاء راشدینؓ کی سیاست قرآن وسنت کا بنیادی ڈھانچہ تھا، اسلئے ان کی اتباع کا حکم ہے۔