فیصل آباد کی طالبہ عابدہ کا 4 روز اجتماعی زیادتی کے بعد قتل پاکستان کے منہ پر کالک ہے: عتیق گیلانی

394
0

Rapists-murderers-of-Faisalabad-university-student-still-at-large-justice-for-abida-ptm-manzoor-pashteen-ispr-general-asif-ghafoor

چیف ایڈیٹر نوشتۂ دیوار عتیق گیلانی نے کہا پنجاب کے دل جڑانوالہ فیصل آباد میں ایک طالبہ عابدہ کو اغوا کرکے 4روز اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کرنے کی خبر تمام پاکستانی اداروں عدلیہ ، سول و ملٹری بیروکریسی ، پولیس ، سیاسی حکومتوں کے ذمہ دار افراد کے منہ پر کالک ہے۔ 4روز تک تھانے میں رپورٹ بھی درج نہیں ہوئی۔ طالبات کے احتجاجی کمیپ کو بھی پولیس نے سپوتاژ کرنے کا اقدام اٹھایا ہے۔ منظور پشتین اپنے نوجوان طالبعلم ساتھیوں کے ساتھ پختونوں کا رونا دھونا چھوڑ کر پنجاب کی غریب عوام کی داد رسی کیلئے پہنچ جائیں۔ یہ محض ایک حادثاتی واقعہ نہیں بلکہ پنجاب کے بچے اور بچیاں بدمعاش سیاسی مافیا کی وجہ سے روز روز جنسی تشدد ،بے دردی سے قتل کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اسکاتدارک کرنے کیلئے محمد بن قاسمؒ ، صلاح الدین ایوبیؒ اور محمود غزنویؒ کو قبروں سے اٹھ کر نہیں آنا ہے۔ سید عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا کہ ’’جان پر آئے تو مال قربان کردینا ، عزت پر آئے تو پھر جان قربان کردینا اور ایمان پر آئے تو جان مال عزت سب قربان کردینا‘‘۔ پنجاب کے فرقہ وارانہ عناصر اور پختونخواہ کے جن شدت پسند طالبان نے اپنے خون سے اس چمن کو رنگین کردیا تو انکے گمان میں دین ، اسلام اور ایمان کیلئے قربانیاں دی گئیں۔ سینکڑوں سال سے حلالہ کے نام پر لوگ اپنی عزتوں کو ایمان پر قربان کررہے ہیں۔ منظور پشتون تحفظ موومنٹ کے سرگرم اور متحرک کارکن و رہنما خان زمان کاکڑ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر دیکھا جس میں وہ پنجابی اور پختون کی جنگ اور تعصبات کیلئے بات کررہے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا سب سے گھناؤنا کردار نواز شریف جیسے لوگوں کی پیداوار ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹوں نے ہمیشہ عوامی قیادت ابھرنے کے راستے روکے ہیں۔ پنجاب سے چھوٹے صوبوں اور سرائیکی کی نفرت بلاوجہ نہیں ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور ISPRنے حالیہ بیان میں کہا کہ ’’امریکہ کو سپر طاقت بنانے میں ہمارا مثبت کردار ہے‘‘۔ فوجیوں کو سیاست نہیں آتی۔ جن کو فوج کا ٹاؤٹ سمجھا جاتا ہے وہ دوسروں پر امریکہ نواز ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ جب تک ایسے فالتو یا پالتو ٹاؤٹوں کو لگام نہ دی جائے پاک فوج کے اجتماعی ضمیر کو درست سوچنے کا موقع بھی نہیں ملے گا ۔ کراچی میں موبائل فون چھیننے والوں کا قلع قمع ہو یا بلوچستان میں بغاوت کی سرکوبی ہو یا پختونخواہ میں طالبان کی وجہ سے عوام کا جینا دوبھر ہو، ان میں ریاست کو عوام سے بھی شکایت ہوسکتی ہے اور عوام کو ریاست سے بھی شکایت ہوگی لیکن پنجاب کے اندر جو کچھ ہورہا ہے ایسی زیادتی دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منظر عام پر آرہی ہے۔ ایک سال میں 41بچے اپنے والدین نے بھوک و افلاس اور ٹینشن کی وجہ سے قتل کئے ہیں۔ دورِ جاہلیت سے بھی بدترین حالات دوہرائے جارہے ہیں۔ جب میرے گھر کے مرد و خواتین ، رشتہ دار ، امام مسجد ، گھر کے خادم اور مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے آفریدی ، مروت ، جٹ اور محسود مہمانوں کو بھی شہید کیا گیا تو ریاست و حکومت بھی تماشہ دیکھ رہی تھی اور محسود قوم کے قبائلی عمائدین بھی طالبان کی معافی کیلئے دہشتگردوں کیساتھ آئے تھے۔ مجھے میرے بھائی نے دلاسہ دینے کیلئے کہا کہ ’’اگر ہمارے اس واقعہ کی وجہ سے قوم کو دہشتگردی سے نجات ملتی ہے تو یہ ہمارے لئے سستا سودا ہے‘‘۔ میں نے جواب میں کہا کہ ’’پنجاب میں خواتین کیساتھ جس طرح سے جنسی زیادتیاں ہورہی ہیں ، اصل ظلم وہ ہے اور جب تک ان کو تحفظ نہ ملے ہماری حالت کبھی ٹھیک نہ ہوگی‘‘ ۔ یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں کیساتھ زیادتی ہوتی ہے ان کا جذبہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ دنیا بھر میں دہشتگردی کا واحد واقعہ ہمارا تھا جس پر طالبان نے باقاعدہ نہ صرف معافی مانگی بلکہ مجرموں کو شریعت کے مطابق سزا دینے کا اعلان بھی کیا۔ اگرچہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ طالبان نے مجھے نظریاتی طور پرمخالف سمجھ کر نشانہ بنایا اور باقی قتل و غارت انہوں نے نظریات کیلئے نہ کئے، حکیم اللہ محسود اور قاری حسین کی اپنی گاؤں میں کوئی حیثیت نہیں تھی۔ ملک خاندان بہت شریف النفس اور گاؤں کے معتبر شخص تھے۔ جب انکو شہید کیا گیا تو انکے بیٹے نے کہا کہ میں قاتلوں کو پہچان گیا ہوں ، ان کو پکڑ کر باندھ لوں گا اور پوچھوں گا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟۔ ملک خاندان کے بیٹے نے گاڑی اسلئے لی کہ کوئی اپنی گاڑی میں لفٹ دینے سے ڈرتا تھا۔ پھر ان کو بھی گھر کے افراد کیساتھ شہید کیا گیا جن میں ایک حافظہ بچی بھی تھی۔ محسود قوم کے اندر غیرت نہیں رہی تھی جبکہ کانیگرم کی برکی قوم اٹھ گئی اور اپنے اغوا کردہ فرد گلشا عالم خان کا طالبان کے مرکزوں میں جاکر پوچھا۔ جب طالبان پورے ملک میں تباہی مچارہے تھے تو ایک مرتبہ میرے من میں بھی بات آئی کہ اپنے گھر کے افراد کے ذریعے ان پر خود کش حملے شروع کروں اور ایک ایسی تحریک اٹھاؤں کہ محسود قوم کے تمام افراد کو جہاں کہیں بھی ملے نشانہ بنا ڈالوں کیونکہ جب وہاں لاشیں جائیں گی تو یہ لوگ خود ہی انکے ٹھکانے ختم کرنے پر مجبور ہو نگے۔ جب دوسروں پر ان کو فرق نہیں پڑتا تو قوت مدافعت کا یہ فطری طریقہ قرآن میں بھی ہے مگر ایک بھائی نے کہا کہ بے گناہ لوگ بھی مارے جائینگے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔ میں نے کہا کہ فتنہ ختم کرنے کیلئے لازم ہے کہ ان کو احساس ہوجائے ، گناہگار جہنم میں اور بیگناہ جنت میں چلے جائیں گے۔ دوسرے بھائی نے کہا کہ ’’ایک بے گناہ بھی مارا جائے تو میں اپنی آخرت خراب نہیں کرسکتا‘‘۔ پھر میں نے سوچا کہ نقاب پوشوں کو کون ،کہاں اور کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے؟۔ ایک موقع پر جب طالبان نے کہا کہ تمام مجرم افراد کو ہم ماردینگے تو بھائی نے کہا کہ ہم معاف کردینگے اسلئے کہ اتنی خون ریزی ہماری وجہ سے ہو تو لوگ ہم سے بھی نفرت کرینگے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ ایک بھائی نے کہا کہ اب طالبان کیخلاف جہاد بنتا ہے تو میں نے عرض کیا کہ جب ذاتی دشمنی شامل ہو تو یہ جہاد نہیں بنتا۔ جس طرح حضرت علیؓ نے کافر کو چھوڑ دیا تھا۔
یہ سب باتیں عرض کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ پختون تحفظ موومنٹ کے جوان بھڑکیاں مارنے کے بجائے اصل کام کی طرف توجہ دیں۔ مسجد کا امام اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب اسکے پاس ایمان کی دلیل ہوتی ہے۔ حلالہ کے حوالے سے ہم نے علمی بنیادوں پر تصفیہ کردیا کہ ’’اب بے غیرتی کی ضرورت نہیں‘‘۔پختون ، پنجابی ، سندھی، بلوچ اور مہاجر علماء کرام کے ساتھ ملکر شعور کی تحریک چلائیں۔ جبری جنسی زیادتی کے خلاف اور مروجہ ریاستی و حکومتی ڈھانچہ بدلنے کی تحریک چلائیں۔ جب قوم کے سامنے خواتین اور عوام کے حقوق کی بات آئے تو سب سے پہلے مدارس ، جامعات ،اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ ملکر اپنا کردار ادا کریں۔ گورنمنٹ کے ملازم کی ریٹائرمنٹ 60سال پر ہوجاتی ہے ۔ قومی اسمبلی ، سینٹ ، وزیر اعظم، صدر، صوبائی اسمبلی وزیر اعلیٰ ، گورنر اور یونین کونسل و ضلع کونسل و میئر وغیرہ کیلئے بھی زیادہ سے زیادہ 60سال کی عمر مقرر کی جائے۔ زیادہ سے زیادہ 63سال کی عمر تک سرپرستی کرنیوالے عہدوں پر فائز ہونے کی گنجائش ہو۔ قرآن میں بھی ایک حد سے زیادہ عمر بڑھنے کے بعد انسان کی سمجھ بوجھ ختم ہونے کی نشاندہی ہے لیکن ہمارے ہاں حکمرانوں میں اقتدار کی ہوس کبھی پوری نہیں ہوتی۔ پاکستان میں عزتوں اور جانوں کے تحفظ کیساتھ ساتھ جو لوگ بھی ملک کو لوٹ کر لے گئے ہیں اور قرضوں کو عوام اپنے ٹیکسوں سے چکا رہے ہیں ان کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس لانا بھی ضروری ہے۔ میڈیا پر جرائم کی تشہیر ہوتی ہے اور سزاؤں کا کوئی رواج نہیں ہے جس کی وجہ سے روز بروز جرائم بڑھ رہے ہیں۔ فرسودہ عدالتی نظام اور بے ضمیر ججوں کو حقیقت نظر نہیں آتی.