Home agreement-marriage سرکٹی تبلیغی جماعت کی کہانی عبد القدوس بلوچ کی زبانی

سرکٹی تبلیغی جماعت کی کہانی عبد القدوس بلوچ کی زبانی

629
0

پہاڑاپنی جگہ سے ہل سکتاہے، انسان فطرت سے نہیں ہٹ سکتا۔ حدیث ۔فرمایا کہ ’’انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے مگر والدین یہودو عیسائی بنادیتے ہیں‘‘۔اللہ نے فرمایا کہ لن ترضیٰ عنک الیہود ولن النصٰریٰ حتیٰ تتبع ملتھم ’’ یہود ونصاریٰ آپؐ سے کبھی راضی نہ ہونگے یہانتک کہ انکی ملت کا اتباع کرو‘‘۔
یہودونصاریٰ کا مذہبی طبقہ حق کو پہچاننے کے باوجود رسول ہ ﷺ کی مخالفت کرتا۔ عوام نے ان کو اللہ کے علاوہ اپنا رب بنالیا ، جس چیز کو حلال و حرام قرار دیتے ، عوام عمل پیرا ہوتے۔ جس طرح فرعون نے زمین پر خدائی قائم کی، دریا میں غرق ہوا مگر حق سے انکار کردیا۔ اہل کتاب کے مذہبی طبقے کا بھی بالکل یہی حال تھا۔ پھر وہ وقت آیا کہ عیسائیوں نے مذہبی خداؤں کو پہچان کر ان کی خدائی کا زمین میں خود ہی خاتمہ کرکے رکھ دیا۔

رسول ﷺ نے طرزِ نبوت کی ایسی خلافت کا ذکر فرمایا جس سے زمین وآسمان والے دونوں خوش ہونگے۔ یہ امت بھی سابقہ امتوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے مگر اسلام کے دینِ حق ہونے کی وجہ سے مذہبی طبقے کا خاتمہ نہ ہوگا بلکہ دیندار طبقے کو عروج حاصل ہوگا۔حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ خلافت اور اتحاد کے علمبردار تھے، حاجی عثمانؒ ؒ مولانا الیاس ؒ ، شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ اورحاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے جانشین تھے۔ تبلیغی جماعت سے 35سال تک ایسے وابستہ رہے کہ نصاب کی مکمل پابندی کی۔ پھر ہوا یہ کہ وہ جس جماعت میں گئے، عقیدتمند ضابطے کے منافی وہیں پہنچے، تبلیغی جماعت پیری مریدی نہیں۔ اسلئے زبردستی سے ڈسپلن کا پابند بنانا مشکل تھا، آخر جمعہ کے دن اور سہ روزہ جماعت میں بیان تک محدودہو گئے۔ حاجی عبدالوہاب سے بڑے اکابر میں شمار ہونے کے باوجود آپ کی نشست وبرخاست اور کھانے پینے کا طریقۂ کار بالکل عوامی تھا۔ تبلیغی جماعت کے مخصوص طبقے نے آپ کیخلاف پروپیگنڈہ کیا کہ ’’ حاجی عثمان کی وجہ سے تبلیغی جماعت شخصیت پرستی کا شکار ہورہی ہے‘‘۔ حاجی عثمانؒ نے جواب میں اپنے مریدوں میں بیان کیا کہ جماعتوں کا مقصد شخصیات بنانا ہی ہوتا ہے، شخصیت کے بغیر جماعت بھیڑ ہے ۔ شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ نے اس بیان کی کیسٹ تبلیغی جماعت کے اکابرکوبٹھا کر سنا دی اور فرمایا کہ انکا مؤقف درست اوریہ تمہارا پروپیگنڈہ غلط ہے کہ جماعت شخصیت پرستی کا شکار بنار ہے ہیں۔ پھرشیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ نے مجالسِ ذکر پر زور دینا شروع کیا اور انکے اکثروبیشتر خلفاء بھی تبلیغی جماعت کے سخت مخالف ہوگئے لیکن سرد جنگ کی طرح معاملہ چلتا رہا۔ حاجی عثمانؒ نے سرد جنگ نہ کی، مریدوں کو اختیار دیا کہ تبلیغی جماعت اور مریدی میں ایک کو چن لو، تاکہ ذہنی انتشار نہیں یکسو ہوکر اصلاح اور دین کا کام کرسکو۔ تصوف کا کام ولایت صغریٰ اور تبلیغ کا کام ولایت کبریٰ کا ہے۔ کافی سارے مریدوں نے تبلیغی جماعت کو ترجیح دی اور حاجی عثمانؒ کو چھوڑ دیا۔ حاجی صاحب نے پھر بھی جمعہ کے دن مسجد نور کا بیان جاری رکھا ، جہاں سے جماعت کی ترغیب و تشکیل کا کام بھی ہوتا رہا۔ تبلیغی جماعت نے یہ دیکھ کر پرزور پروپیگنڈہ کیا مگر ختم نبوت کے امیر مولانا خان محمد ؒ نے علماء و مفتیان کی نشست رکھی اور تبلیغی اکابر کو سختی کیساتھ تصادم کی فضاء پیدا کرنے سے روک دیا۔ حاجی صاحب کے مریدوں نے ٹی جے ابراہیم کے نام سے جو مضاربت کمپنی کھولی ۔ اکابر علماء ومفتیان اسکا حصہ تھے۔ تبلیغی جماعت نے روزمانہ جنگ میں اشتہارر دیا کہ ٹی جے ابراہیم سے جماعت لا تعلق ہے۔ حاجی عثمانؒ نے دیکھا تو مریدوں کو کمپنی ختم کر نے کا حکم دیا۔ مریدوں نے علماء و مفتیان کے مشورہ سے کمپنی کوختم نہ کیا بلکہ نام بدلا اور حاجی عثمان کو بتایا کہ الائنس موٹرز ہمارا شوروم ہے،مفتی رشیداحمدلدھیانوی الائنس موٹرز میں حاضری دیتا تھا مگر یہ تصور بھی نہ تھا کہ حاجی عثمانؒ وہاں جاتے۔ مفتی رشید لدھیانوی و مفتی تقی عثمانی نے الائنس موٹرز والوں کو خوش کرنے کیلئے تبلیغی جماعت کے اکابرین پر فتویٰ داغا۔ پیرطریقت حکیم اختر نے بھی 1986ء میں تبلیغی جماعت کی سخت مخالفت کی جو کتابی شکل میں نیٹ پر ہے۔ حاجی عثمانؒ نے فرمایا کہ میں محنت کرکے خانقاہ میں لوگوں کو دیندار بناؤنگا اور پھر رائیونڈ بھیج دونگا تاکہ پتہ چلے کہ کس طرح اصلاح ہوتی ہے؟۔ مگرافسوس کہ الائنس موٹرز والوں نے سازش کرکے حاجی صاحب کو کئی ماہ تک گھر میں نظر بند رکھا ، عبدالکریم بھائی کو پتہ چلا تو ملنے پہنچ گئے اور سب مریدوں تک بات پہنچادی۔ الائنس موٹرز والوں نے علماء ومفتیان کی مدد سے حاجی محمد عثمانؒ کے خلاف ایک عجوبہ فتویٰ شائع کرکے پھیلایا۔
الائنس موٹرز سرمایہ کار کو 40%منافع دیتی تھی۔بڑے علماء و مفتیان کمپنی کے ایجنٹ تھے جو سرمایہ کار سے 2%منافع لیتے تھے۔ کمپنی نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ سرمایہ واپس لینے کی صورت میں ایک ماہ پہلے اطلاع دینی ہوگی اور اس اطلاعی مدت کا منافع نہیں ملے گا۔ معروف شیخ الحدیث مولانا مفتی حبیب اللہ شیخ نے اس شق کی بنیاد پر اس کاروبار کو ناجائز قرار دیا تھا، جب بحران آیا تو مفتی رشید سے فتویٰ لیکر پہلے اطلاعی مدت یک طرفہ طور پر 3 ماہ کردی گئی اور پھر 6 ماہ کردی گئی۔
مولانا الیاسؒ کے ساتھی مولانااحتشام الحسن کاندہلویؒ مصنف ’’ موجودہ پستی کا واحد علاج‘‘ جو تبلیغی نصاب کا حصہ ہے، بہت پہلے جماعت کی سخت مخالفت کرچکے تھے۔ مولانا الیاسؒ کے بیٹے مولانا یوسفؒ نے کبھی جماعت میں وقت نہ لگایا تھا مگر صاحبزادہ ہونے کی وجہ سے امیر بنایا گیا۔ وہ نیک اور اچھے انسان تھے اسلئے جماعت اچھی چل رہی تھی۔ انکے بعد خاندان میں کوئی زیادہ عمر کا ذمہ دار شخص نہیں تھا تو مولانا انعام الحسن کو امیر بنایا گیا جو ذاتی طور پر اچھے مگر صلاحیت سے محروم تھے۔ان کو مشورہ دیا گیا کہ کسی کو زندگی میں امیر بنالو۔ رائیونڈ ، بنگلہ دیش اور بھارت کے اکابر مرکز بستی نظام الدین میں اکھٹے ہوئے مگر کسی بھی امیرپر اتفاق نہ ہوا۔ انکے بیٹے مولانا زبیر الحسن، مولانا الیاس کے پڑ پوتے مولانا سعد اور ایک تیسرے مولانا کو فیصل مقرر کیا۔ انکی وفات کے بعد تینوں مشاورت سے چلتے رہے۔ تیسرے کا انتقال ہوا تو مولانا سعد اور مولانا زبیر مشاورت سے چلتے رہے جنکے درمیان محبت واعتماد مثالی تھی لیکن دونوں کا خیال تھا کہ اگر ایک کو امیر بنایا گیا تو دوسرا گروپ نہیں مانے گا۔ یہ اس جماعت کی مرکزیت کا حال تھا جسکے ہاں تین آدمی کی تشکیل ہوتی ہے تو ایک امیر دوسرا رہبر، تیسرا متکلم بنتا ہے۔ یہ بھیڑ ہے جسے جماعت نہیں کہہ سکتے، اگر حاجی عثمانؒ کی بات مانی جاتی تو بہت سی شخصیات کا پیدا ہونا ممکن تھا۔ حاجی عبدالوہابؒ کی شخصیت نے ایک حد تک جماعت کو متحد رکھا ہوا تھا۔

حاجی عبدالوہابؒ نے سہاگ رات میں بیوی کو طلاق دیکرکہا کہ’’ مجھے دین کا کام کرنا ہے‘‘۔ اللہ نے فرمایا: الذین یجتنبون الکبائر من الاثم والفواحش الا لمم’’ جو اجتناب کیا کرتے ہیں بڑے گناہوں اور فحاشی سے مگر یہ لمم کا کبیرہ گناہ و فحاشی الگ ہے‘‘۔جس طرح کھانا پینا انسانی ضرورت ہے اسی طرح جنسی خواہش کا پورا کرنا بھی انسان کی بے بسی ہے۔ قرآن میں ہر ایک کو اپنے ماحول اورمقام کے اعتبارسے یہ استثنیٰ دیا گیا۔خواہش سے پاک اللہ سبحان ہے۔ حضرت آدمؑ وحواء ؑ کو شجر سے روکا گیا تھاتو وہ نافرمانی میں بے بس ہوگئے اسلئے یہ مؤمنین کی صفات پر اثر انداز نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی نظر اجنبی پر پڑگئی تو اپنی بیوی کے پاس گئے اور امت کو راستہ بتادیا کہ ایسا ہو تو بیگم سے حاجت پوری کرلینا ، جو چیز اسکے پاس ہے وہ بیوی کے پاس بھی ہے۔اسلام میں رہبانیت نہیں لیکن تبلیغی جماعت کے مرکزی شخص عبدالوہابؒ کو راہب کی زندگی گزارنی پڑگئی۔ وہ کتنے کامیاب کتنے ناکام تھے، یہ اللہ اور اسکے بندے کو معلوم ہے مگر قرآن نے فحاشی سے بچت کی ایک استثناء دیدی جس کی وسعتوں کو اللہ خود بہتر جانتا ہے۔ بیوی اور شوہر کی حیثیت پر معاشرے میں ریاست اورامارت کی بنیاد تعمیر ہے۔ بیوی امور خانہ داری کی ماہر ہو تو شوہر کو گھر کے سربراہ وامیر سے ذمہ داری کا تجربہ ہوتا ہے۔ حاجی عبدالوہاب ؒ نے نکاح کی سنت کو چھوڑ کر مستحسن کام کیلئے خود کو وقف کیاتھا ۔ معترض کہہ سکتا ہے کہ طلاق کے ناپسندیدہ عمل سے حاجی عبدالوہاب ؒ نے آغاز کیا تو انجام کیا تھا؟۔ ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق کے بارے میں ہے کہ لاجناح علیکم ان طلقتم النساء مالم تمسوھن ’’تم پر کوئی گناہ نہیں اگر ہاتھ لگانے سے پہلے عورتوں کو طلاق دی‘‘۔ مولوی بحث میں پڑیگا کہ خلوت صحیحہ ہاتھ لگانا تھا کہ نہیں تھا؟۔
تبلیغی جماعت میں مستورات کی جماعتوں کا رواج بعدمیں پڑا ۔ سوشل میڈیا پر مولانا سعد کے خلاف خاتون سے زنا کا الزام لگاکر کہا گیا کہ منع کرنے کے بعد مزید دو خواتین سے ملوث ہوا۔ مولانا صاحب شادی شدہ بھی ہونگے اور انسان اپنی فطرت پر مجبور ہوتا ہے۔ قرآن میں 1 نہیں 2،2، 3،3 اور 4، 4 عورتوں سے نکاح کا حکم ہے اور عدل نہ کرنے کا خوف ہو تو پھر ایک سے ۔ جودو خواتین میں عدل سے ڈرے اس کو ریاست یاجماعت کا امیر نہیں بننا چاہیے اور ایک کا بھی تجربہ نہ ہو تو اس کو ہرگز امیر نہیں ہونا چاہیے تھا۔
شیخ الہندؒ نے مالٹاکی قید کے بعدعوام کو قرآن اور اتحاد کی طرف بلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے کہا کہ خراسان سے مہدی آنے تک بگاڑ بڑھتا جائیگا۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے علماء کو قرآن کی دعوت دی ۔مولانا الیاسؒ نے بارش کی طرح برس کر اپنا فیض عام کرنا شروع کیا۔ لوگ نماز، وضو اور غسل کے بنیادی احکام سے واقف نہ تھے۔ تبلیغی جماعت نے ایک چلتی پھرتی خانقاہ اور مدرسے کا کام کرنا شروع کردیا۔ آج مذہب کی طرف اتنا بڑا رحجان اس جماعت کے کام کی برکت سے ہی ہے۔
مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے حاجی عثمانؒ کی قبر پر حاضری دی تو یہ علماء حق کیلئے بڑی بات ہے مگر اب تو معاملہ عیاں ہونے کی انتہاء ہوگئی۔
موبائل فون کی ایک مقبول رنگ ٹون میں مولانا طارق جمیل کی تقریر کا ایک حصہ ہے کہ :
’’جس زمین پر سجدہ نہ ہو اس سے بھی بڑا کوئی جرم ہے، زنا کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا زناسے بڑا جرم ہے، رشوت کھانے کو گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا رشوت کھانے سے بڑا جرم ہے، قتل کرنا بڑا گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا قتل کرنے سے بڑا جرم ہے، سجدے ہی کا تو انکار کیا تھا شیطان نے، شیطان نے کوئی زنا کیا تھا کوئی قتل کیا تھا کوئی شراب پی تھی کوئی جوا کھیلا تھا، کیا کیا تھا؟ کوئی شرک کیا تھا؟ شیطان ایک سجدے کا انکار کرکے وہ ہمیشہ کیلئے مردود ہوگیا۔‘‘
ان تقریروں سے دہشت گرد حوصلہ پاتے تھے۔ زنا ، رشوت ، قتل وغیرہ کیلئے ایسی تقریریں کرنے والوں کے پس پردہ کہانیوں سے نقاب اٹھتا ہے۔ بنگال میں تبلیغی جماعت کی لڑائی اس وقت بھی ہوسکتی تھی جب مستورات کی جماعتیں اس مرکز میں موجود ہوتیں۔ حاجی عبد الوہاب نکاح کی سنت پر عمل کرتے تو نبوت والے کام کیلئے مستورات کی جماعتیں نکالنے کی کوئی ضرورت پیش نہ آتی۔ بھوک پیاس کی طرح جنسی خواہش بھی انسان کی فطری کمزوری ہے اور یہی وجہ تھی کہ حضرت آدمؑ و حواؑ سے جنت میں اس کی غیر اختیاری خلاف ورزی ہوئی۔ شیطان نے اپنی بڑائی کیلئے تکبر کیا تھا ورنہ تو غزوہ خندق میں نبی کریم ﷺ اور صحابہؓ سے بھی نماز قضا ہوئی۔
ایک صحابیؓ نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے روزے کی حالت میں بیگم سے مباشرت کی تو میرے لئے کیا حکم ہے؟۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ 60 روزے رکھو۔ صحابیؓ نے عرض کیا کہ یہ تو بہت مشکل ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ ۔ صحابیؓ نے عرض کیا کہ میں خود مسکین ہوں تو نبی ﷺ نے کہیں سے آیا ہوا ہدیہ کا مال دیدیا کہ یہ صدقہ کردو۔ صحابیؓ نے عرض کیا کہ مجھ سے زیادہ کوئی مستحق نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اپنے گھر لے جاؤ۔ اس واقعہ سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جنسی خواہش اس وقت بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی جب وہ شادی شدہ ہو۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے عرض کیا تھا کہ ہم خود کو خصی نہ بنالیں ؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ ایک چادر کے بدلے سہی، کسی عورت سے متعہ کرلو۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ جن چیزوں کو اللہ نے تمہارے اوپر حلال کیا ہے ان کو اپنے لئے حرام نہ بناؤ۔(آیت: بخاری )
تبلیغی جماعت اللہ کے احکام اور نبی ﷺ کی سنت کی طرف زبانی جمع خرچ سے دعوت دیتی ہے لیکن عملی طور پر اپنے طریقہ کار کے علاوہ کسی کو درست نہیں سمجھ رہی ہے۔ مولانا الیاسؒ عظیم تھے اور حاجی محمد عثمانؒ انکے مشن کے اصل علمبردار تھے لیکن جماعت والوں نے انکی کوئی قدر نہیں کی۔ امارت کے مسئلے پر خلفاء راشدینؓ کا بھی اختلاف تھامگر اُمت عرصہ تک کسی امیر پر متفق رہی ہے۔
بشریٰ بی بی کو آئیڈیل کہنے والے اپنی بیگم کو ایسا دیکھنا پسند کرینگے؟میرا ور میرے ساتھیوں کا کردار ہرگز آئیڈیل نہیں مگر اسلامی تعلیم کی ترویج سے ہی چند لمحوں میں یہ دنیا بدل سکتی ہے۔ اعلیٰ اخلاقی معیار اوراقدارکے قیام کی راہ میں سب بڑی رکاوٹ ہماراہی اجنبی اسلام ہے۔اسلام کو اجنبیت سے نکالا جائے تو اسلام کے نام پر ڈرامہ نہ ہوگا۔رات کی تاریکیوں میں رونے سے دل کی اندھیرنگری میں اسوقت تک ہر گز روشنی پیدا نہ ہوگی جبتک کھلے دلوں سے دن کے وقت اسلامی احکامات کو قبول نہیں کیا جائے، مولانا سعد نے کہا کہ الیاسؒ نے دین کی دعوت مسجد میں دی تو مولانا طارق جمیل نے جواب دیا کہ آذان مسجد میں جائز نہیں تو دعوت کا کام مسجد سے باہر کرنا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر ایکدوسرے کیخلاف حیران کن طریقے سے گھٹیا الزامات خبث باطن کا اظہار ہے۔یہ ہماری کتاب جاندار کی تصویرکے جواز پر ’’جوہری دھماکہ‘‘کا کمال ہے کہ لاؤڈاسپیکر پرباجماعت نماز وآذان سے گریز اں طبقہ کھلم کھلا ویڈیو سے تبلیغی سرگرمیاں سامنے لانے کی جرأت کررہاہے۔مغرب نے حقوقِ نسواں کے تحفظ کیلئے اسلامی احکام کی طرف رجوع کرناہے مگر اسلام کو واضح کرنا ہوگا۔ مولانا طارق جمیل کہہ سکتاہے ’’ وزیر اعظم عمران خان کی ہمت کو سلام ، پاک پتن کے مزار پر سجدہ کی شکل بنا کر راہداری کو چوما ، ہم امیر پر اتفاق نہیں کرسکتے ۔ ٹیرن نے لونڈی لباس کی سنت زندہ کی، مجھ میں جرأت نہیں ورنہ اسکی ٹانگوں کو ملکہ سبا کی ٹانگیں سمجھ کر بوسہ دیتا‘‘۔ مفتی قوی کہتا کہ تبارک اللہ احسن الخالقین اور اللہ جمیل یحب الجمال کا منظرعمران کی بیٹی ہے تو تبلیغی اور pti کے کارکن سر دھنتے رہتے کہ واہ کیا بات ہے۔