قرون اولیٰ کی تاریخ دہرانے کا یہ دور ہے

659
0

شاہ اسماعیل شہیدؒ ، مولاناآزادؒ ، مولانا مودودیؒ ،ڈاکٹر عبداللہ ناصح علوانؒ وغیرہ کا اتفاق تھا
موجودہ دور میں پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی، حدیث کی روشنی میں پاکستان مرکز!
دنیا بھر کے مسلم ممالک میں اتنی مذہبی اور سیاسی آزادی نہیں جتنی پاک سرزمین شاد باد میں!
قوم ملک سلطنت ،پائندہ تابندہ باد،مرکزیقین ،نشانِ عزم عالیشان،سایہ خدائے ذوالجلال

قرآن و احادیث صحیحہ پر امت مسلمہ کا آج بھی پاکستان کی سرزمین سے اتفاق ہوسکتا ہے۔ قرآن میں اللہ کا حکم ہے کہ مسلمانوں میں لڑائی ہو تو ان بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ۔روس اور امریکہ شام میں مسلمانوں کو بمباریوں کا نشانہ بنارہے ہیں لیکن مسلمان خود انکے درمیان صلح کرنے سے قاصر ہیں۔ ہیلری کلنٹن کے دور میں کیا کچھ نہ ہوگا، امریکی بش نے افغانستان و عراق کو نشانہ بنایا، اوبامہ نے لیبیا اور شام میںیہ مشن آگے بڑھادیا۔ ’’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟‘‘ کا انتظار کئے بغیر پاکستان کو چاہیے کہ ایران اور سعودیہ کو قریب کرکے یمن اور شام سمیت دنیا بھر میں تفریق وانتشار کا شکار ہونے والے مسلمانوں کومزید تباہی وبربادی سے بچائے۔
اہل تشیع کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے بھرپور اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اسلام صرف محرم کے عاشور میں ماتمی جلوسوں کا نام نہیں، ایک چھوٹی سی کربلا سے ہم بھی گزرے اور اب بھی کربلائے عصر کی تنہائیوں میں اگر کسی کو حق کی خاطر جینے اور باطل کو چیلنج کرنے کا منظر دیکھنا ہو تو اہلبیت میں سید عتیق گیلانی کو دیکھ سکتے ہو۔ یہ فخر نہیں اللہ کا فضل ہے۔ یہ اللہ کا محض کرم ہے ورنہ مجھ میں ایسی بات ہے اور نہ میری یہ اوقات ہے۔ امام حسینؓ سے پہلے امام حسنؓ اور حضرت علیؓ بھی تھے اور حضرت حسینؓ کے بعد بھی اہل تشیع کے 9اماموں کا کردار ہے۔ اہل تشیع نے خود کو دور کرتے کرتے اتنامحدود کردیاکہ اہلسنت بخاری شریف کو کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتاب قرار دیتے ہیں اس میں ائمہ اہلبیت کیساتھ ’’علیہ السلام‘‘ اور حضرت فاطمہ کیساتھ ’’ علیہا لسلام ‘‘ لکھاہے۔ اگر دوری نہ ہوتی تو بعض لوگوں میں یہ غلط فہمی بھی نہ بنتی کہ ’’شیعہ علیہ السلام کہنے لکھنے کی وجہ سے گمراہ ہیں‘‘۔
نہج البلاغہ میں حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کی وفات پر جتنی تعریف کی ہے اس سے زیادہ کے سنی بھی قائل نہیں ہیں، اہل تشیع کو جرأت سے کام لیکر یہ تشہیر کرنا ہوگی کہ حضرت علیؓ نے یہ تقیہ نہیں کیا تھا۔ یزید کیخلاف اگر ممکن ہوتا تو حضرت حسینؓ کربلا سے واپسی کی راہ لیتے۔ حضرت حسینؓ نے یزید کیخلاف بعد میں آواز اٹھائی ، پہلے جب حسنؓ و حسینؓ حضرت عثمانؓ کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے، حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے نے پیچھے سے پھلانگ کر حضرت عثمانؓ کی داڑھی میں ہاتھ ڈالا، یہ شیعہ سنی کی لڑائی پہلے بھی نہ تھی اور آج بھی اس کو فرقہ واریت کا رنگ دینا غلط ہے۔ نبی ﷺ نے آخری خطبہ میں فرمایا:مجھ سے پہلے انبیاء نے دجال کے فتنے سے اپنی اُمتوں کو خبردار کیا۔ اگر تم دجال کو نہ پہچان سکو تو اللہ اس کو جانتاہے، اس کی آنکھ انگور کے دانے کی طرح ہوگی، خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ مسلمانوں کی عزتیں، ان کی جانیں اور انکے مال حرمت والے ہیں۔ جس طرح آج کا دن (یوم عرفہ)، اس مہینے ( ذی الحج)، اس شہر(مکہ) کی حرمت ہے۔ (بخاری شریف)
اس حدیث صحیحہ میں دجال کا تعارف یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ اس کی شناخت کرنا بھی مشکل ہوگا، جب ایک کانا برا لگتا ہو تو اس کی سیدھی آنکھ کو بھی انگور کے دانے سے مذمت کیلئے تشبیہ دی جائے گی۔ دجال کی معرفت آسان ہو ،تو اسکے بنیادی معنیٰ سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس کی شناخت اس حدیث میں اللہ کے علاوہ انسانوں یا مسلمانوں کیلئے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور بتائی گئی ہے۔ البتہ اس دجال کی بڑی علامت اور واضح نشانی یہ بتائی کہ وہ اور اس کا لشکر مسلمانوں کی جان، مال اور عزت کی حرمت ختم کردینگے۔ پہلے زمانے میں بھی خوارج نے حضرت علیؓ اور اماں عائشہ صدیقہؓ کے درمیان جنگیں برپا کرنے کی خدمت انجام دی، نبیﷺ نے فرمایا کہ یہ مختلف ادوار میں نکلتے رہیں گے، ان کا آخری لشکر دجال سے ملے گا، احادیث میں ان کی بہت سی نشانیوں کا ذکر ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بھی ایک روایت ہے کہ خراسان کی طرف سے دجال نکلے گا جس کے پیروکار ایسی قومیں ہوں گی، جنکے چہرے ڈھال کی طرح گول اور ہتھوڑے کی طرح لمبوترے ہونگے۔ (ابن ماجہ) مولانا فضل الرحمن نے جمعہ کی تقریر میں خراسان کی حدیث میں دجال کو موجودہ دہشت گردوں کا لشکر بتا کر فٹ کیا تھا۔