دو گھنٹے میں شاہ محمود قریشی کا نتیجہ آیا جبکہ دوسرے اور تیسرے دن بھی گنتی کا سلسلہ جاری رہا. اشرف میمن

393
0

shah-mehmood-qureshi-dawn-news-noon-league-pti-zardari-sohail-warraich-mazhar-abbas-the-party-is-over-imran-khan-wusatullah-khan-mubashir-zaidi-hamid-saeed-kazmi-amir-liaquat-bol-news-altaf-ahmed

پبلشر نوشتۂ دیوار اشرف میمن نے کہا پچھلی بار ہوا کارُخ ن لیگ کا تھا موسمی پرندوں نے الیکشن سے قبل پی ٹی آئی کو چھوڑ ا، ن لیگ میں شامل ہوگئے۔ زرداری کیخلاف میڈیا نے ہوا بنائی ۔ مظہر عباس نے سہیل وڑائچ کی کتاب ’’دی پارٹی از اوار‘‘ میں کہا کہ ’’الیکشن سے پہلے دھاندلی میں فضا ایسی بنائی جاتی ہے کہ رُخ کسی کی طرف ہو، جیو اور باقی چینلوں میں یہ فرق ہے کہ ہم سچ یا جھوٹ کہنے پر مجبور نہیں، ہم دیکھ لیتے ہیں تب اپنی مرضی سے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہتے ہیں۔ جمہوریت قربانی مانگتی ہے، ابھی بڑاسفر باقی ہے، یہ جمہوریت کی جیت ہے کہ الیکشن کے ذریعے مقتدر طبقہ کسی کو اقتدار دینے پر مجبور ہوا، کتاب کے نام سے کہانی کا پتہ چلتاہے، نوازشریف کو ناقابل برداشت سمجھا گیا، کل عمران خان بھی ناقابلِ برداشت ہوسکتے ہیں‘‘۔ ڈان نیوز پر ’’ ذرا ہٹ کے‘‘ میں بتایا ’’ ظفراللہ جمالی کے مقابلے میں مولانا فضل الرحمن کو ایک ووٹ سے ہرایا گیا۔ پانچ آزادمزید ارکان آئے تو اُن سے کہاگیا کہ بس آپ کی ضرورت نہیں، جمالی کو زیادہ ووٹ مل گئے تو ہاتھ سے نکل جائیگا‘‘۔وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی صحافت میں بڑے معتبر نام ہیں۔جیو، ڈان و دیگر چینل اور صحافیوں کو اللہ سلامت رکھے۔ یہ بڑی نعمت ، احسان اور غنیمت ہیں عوام کا شعور بڑھا رہے ہیں۔ روزنامہ جنگ نے سب سے بڑی سرخی لگائی ’’حامد سعید کاظمی نے کرپشن کا اعتراف کرلیا‘‘ کرپشن کا اعتراف کیا تھا؟ ۔ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں جن دستاویزی ثبوتوں کا دعویٰ کیا،درست تھے؟۔ ایک ایسا پروگرام صحافی حضرات پوری قوم کے سامنے رکھیں کہ عوام کا شعور بڑھے اور عوام کا صحافت ریاست ، عدالت اور سیاست پر اعتماد بحال ہو ۔ مظہر عباس اچھے صحافی ہیں جو لکیرکے ایک طرف ہیں، ڈاکٹر عامر لیاقت دوسری طرف ہیں۔ عامر لیاقت ڈاکٹر نہیں،جھوٹ کا کریڈٹ جیو کو جاتا ہے۔ عامر لیاقت نے اعتراف کیا کہ ’’ بول نیوز نے جھوٹ کہلوایا ، دل آزاری پر معذرت چاہتا ہوں‘‘۔ حامد سعید کاظمی پر اعتراف جرم کو جس انداز میں پھیلایا گیا تھا،کیا یہ جیو، جنگ کی غلط فہمی ہوسکتی تھی؟ ، نوازشریف کی طرف سے پارلیمنٹ کے بیان کو جیو، جنگ نے اس انداز میں پیش کیا جو اسکا حق تھا؟۔ صحافت کا یہ طریقہ واردات قوم کے مفاد میں ہے؟۔ یہ قابلِ فخر ہے؟۔ یہ غلط فہمی کا ہی نتیجہ ہے؟۔ ذاتی ، مالی اور دوستانہ مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی مہم جوئی قوم، ملک ، سلطنت اور صحافت کا مفاد نہیں ہوسکتا ۔ جیو دونوں قسم کی مہم جوئی پر عوامی عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہوگی۔وسعت اللہ خان، ضرار کھوڑو اور مبشر زیدی بتائیں کہ جو معیار آپ لوگ دوسروں کے بارے میں رکھتے ہیں ،کیا اپنے بارے میں بھی سوچا ہے؟۔ قومی اسمبلی کے ممبر وں کا غائب ہونا نظر کیوں نہ آیا؟۔ جمالی ایک ووٹ سے جیتا اور مولانا فضل الرحمن ایک ووٹ سے ہارا تھا ،یہ 5 ارکان کون تھے؟، کہاں گئے اور کس کو ووٹ ڈالا؟۔ایک ووٹ سے ہار جیت کا مسئلہ تھا اور 5آزاد ارکان پارلیمنٹ ایسے بے وقعت ہوئے تو ان کا نام گینزا بک ریکارڈ میں ڈالنے کی ضرورت ہے۔ خلائی مخلوق تو نظر نہیں آتی مگر یہ تو آج بھی دریافت ہوسکتے ہیں، سوشل میڈیا اور بے پر کی باتیں اُڑانیوالے اعترافِ جرم کے مرتکب ڈاکٹر عامر، سزایافتہ ڈاکٹر شاہد مسعود بیڈ صحافیوں کی فہرست میں لکیر کی دوسری جانب ہیں مگر وسعت اللہ خان ، مظہر عباس تو گڈ صحافیوں میں سرِ فہرست ہیں۔اعتراف جرم یا سزا ہونی چاہیے؟۔ جیوکی مہم جوئی سے اسٹیبلشمنٹ کے ہمدردوں کا رخ بھی ری ایکشن میں بدل گیا۔ صحافت میں وکالت کا کریڈت جیو جنگ کو جاتا ہے۔ ری ایکشن میں ARY نیوز اچھا ہوا کہ ن لیگ کی اپوزیشن میں آئی۔ جیو جنگ مہم جوئی کرتے کہ نوازشریف پارلیمنٹ میں جھوٹ پر مجبور نہ تھا اور قطری خط کھلا فراڈ ہے تو کوئی ن لیگ کیخلاف کھڑا نہ ہوتا۔جنگ جیو جھوٹی مہم جوئی نہ کرتے کہ حامد کاظمی نے اعتراف کیا تو دوسروں کو مہم جوئی کرنے کی ہمت نہ ہوتی۔ پاؤں کی انگلی کانوں کو لگاکر معافی مانگی جاسکتی تو بھی دریغ نہ کریں۔ن لیگ کی مخالفت اور پی ٹی آئی کی حمایت میں فضا کے رُخ بدلنے میں جیو جنگ کی بے شرمی سے مہم جوئی کا وطیرہ بنیادی اہمیت کا حامل تھا۔ صحافت کپڑے اتارکر شیشے میں شفاف طریقے سے بے شرمی کا مظاہرہ نہ کرتی تو صحافت کا ماحول ردِ عمل میں اتنا گھٹیا اور گھناؤنا نہ ہوتا۔ ن لیگ کی حکومت تھی۔ صحافت نے حکمرانوں کی غلطیوں کو اجاگر کرنا ہے ، حکمرانوں کے حق میں مہم جوئی کرنا بہت ہی غلط ہے۔جیو اور جنگ نے پیپلزپارٹی کیخلاف غلط مہم جوئی کی اور جمہوریت کو سخت نقصان پہنچایا، ن لیگ کے حق میں جب غلط مہم جوئی کی تو جمہوریت کو اور زیادہ نقصان پہنچا یاہے۔ اسکے شاگرد اس روش پر چل کر مزید کیا گل کھلائیں گے؟۔اسٹیبلشمنٹ جبر ہے مگر عوام کی مجبوری بھی ہے۔ عوام طالبان،ایم اکیوایم اوردیگر سیاسی پارٹیوں ن لیگ ، پیپلز پارٹی، جے یو آئی ف ، جماعت اسلامی اور جس کسی کو تھوڑا اختیار دیتے ہیں توانکے آمرانہ شکنجوں میں پھنستے ہیں، پھر اسٹیبلشمنٹ ہی عوام کی جان کو عذاب سے چھڑا سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان الطاف احمد معقول انسان لگتے ہیں، ہر سوال کا جواب خوش اسلوبی سے دیا، ہمارا بھی ایک سوال ہے جو شاید کسی نے نہ کیا کہ ٹھیک ہے سسٹم نے کام نہیں کیا جس کی وجہ سے نتائج کا اعلان بعد میں کرنا پڑا۔ یہ بتادیں کہ گنتی تسلسل سے جاری تھی؟۔ گنتی تو ہوچکی تھی اور پولِنگ ایجنٹوں کو نتیجہ دیا گیا تھا، جس سے کامیاب اور ناکام افراد کو اپنا پتہ چلتا۔ کامیاب امیدواروں نے خرچہ کیا، اہتمام کیا مگران کو اپنی کامیابی کی خبر کچھ انداز سے ملی کہ مسلسل گنتی جاری رہی اور ڈیلیوری کا آپریشن دیر تک چلتا رہا، اتنی دیر میں مرغی شطرمرغ کا انڈہ دے سکتی تھی، اگر الیکشن کمیشن کا قصور نہیں تو سوال کا جواب دے۔ مارشل لاء دور میں ریفرینڈ م پر بھی سوالات اٹھتے تھے۔

shah-mehmood-qureshi-dawn-news-noon-league-pti-zardari-sohail-warraich-mazhar-abbas-the-party-is-over-imran-khan-wusatullah-khan-mubashir-zaidi-hamid-saeed-kazmi-amir-liaquat-bol-news-altaf-ahmed-2