شاہ ولی اللہ و دیگر علماء نے مبشرات لکھی ہیں. ارشاد نقوی

420
0

shah-waliullah-aur-digar-ulama-ne-mobasherat-likhi-hein-Irshad-Naqvi

نوشتۂ دیوار کے مدیر خصوصی سید ارشاد علی نقوی نے اپنے بیان میں کہاہے کہ مولانا نور البشر برمی فاضل دارالعلوم کراچی ،مدیر اعلیٰ مھد عثمان بن عفان 36Bلانڈھی اور مولانا عدنان نقشبندی نے مسجدالٰہیہ سوکواٹر کے ناجائز قبضہ گروپ کی دعوت پر وہاں 25دسمبر کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حاجی عثمانؒ نے دیوار پرجو بشارت لکھوائی تھی وہ غلط تھی جس کو آپ نے مٹادیا ہے اور یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بھینس دودھ دیتی ہے تو اسکی مالیش بھی کی جاتی ہے، انسان کو جس مقصد کیلئے پیدا کیا گیا،وہ پورا ہونا چاہیے۔ مولانا نور البشر اور مولانا عدنان نقشبندی کو معلوم نہیں ہے کہ جوبشارت دیوار پر لکھ دی گئی تھی ،وہ حاجی عثمانؒ نے خود ہی اپنے وقت میں اسی وقت مٹادی تھی، جب آپؒ کے مریدوں نے بغاوت کی تھی۔ اسطرح کی بشارتوں پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ’’ الدر الثمین فی مبشرات النبی الامینﷺ ‘‘ ہے۔جس میں چالیس مبشرات کا ذکر ہے۔ ایک میں حضرت شاہ ولی اللہؒ نے لکھاہے کہ ’’ عصر کی نماز کے بعد میں ذکر کے مراقبہ میں بیٹھا تھا اور اس دوران نبیﷺ تشریف لائے ، مجھے ایک چادر اوڑھادی جس سے مجھ پر علوم کی باریکیاں کھل گئیں‘‘۔ (الدر الثمین)
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ایک کتاب ’’اخبار الاخیار‘‘ لکھی ہے جس کا ترجمہ دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث مولانا سبحان محمود صاحب نے کیا تھا ۔ جس میں لکھاہے کہ ’’ جب شیخ عبدالقادر جیلانیؒ تقریر کرتے تھے، تو سارے انبیاء کرامؑ اور اولیاء عظامؒ اس میں موجود ہوتے تھے۔ نبیﷺ بھی آپ کی حوصلہ افزائی کیلئے جلوہ افروز ہوتے تھے‘‘۔( اخبارالاخیار)
شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کے خلیفہ نے مکاشفات پر مبنی کتاب لکھی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ ’’ شیخ الحدیث بیمار تھے ، نماز باجماعت کیلئے مدینہ میں مسجد نبوی ؐ نہیں جاسکے تو نبیﷺ تشریف لائے اور آپﷺ نے حجرے میں ظہر کی نماز شیخ الحدیث کو باجماعت پڑھائی۔ (بھجۃ القلوب: صوفی اقبال)
مولانا بدر عالم مہاجر مدنیؒ نے لکھ دیا ہے کہ ’’ تصوف کے شیخ فرماتے تھے کہ اگرمیں لمحہ بھر بھی نبیﷺ کو نہ دیکھوں تو خود کو زمرہ مسلمین میں شمار نہ کروں‘‘۔( ترجمان السنۃ)
مولانا نورالبشر اور مولانا عدنان نقشبندی میں تھوڑی سی بھی ایمانی غیرت ، دینی حمیت ہوتی تو ان کابرین کے نام پر چندے بٹورنے کے بجائے جنکے مشاہدات ان کو گمراہی اور کفر لگتے ہیں ، مسعود الدین عثمانی کیساتھ کھل کر مل جاتے۔ ان کو یہ پتہ نہیں کہ جس وقت حاجی عثمانؒ نے یہ بشارت لکھوائی تو کراچی کے سارے مدارس کے علماء ومفتیان حاجی عثمانؒ سے عقیدت ومحبت کا اظہار کرتے تھے۔ مفتی محمدتقی عثمانی کے استاذ مولانا عبدالحق فاضل دارالعلوم دیوبند بھی حاجی عثمانؒ کے خلیفہ اور مرید تھے۔ مشاہدات کی حیثیت خوابوں کی طرح ہوتی ہے لیکن اس کی کیفیت جیتے جاگتے کی صورت میں ہوتی ہے۔ اگر یہ کفر وگمراہی اور شرک وجہالت ہے تو تمام اکابرین پر بھی فتویٰ لگانا پڑیگا جن کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ رسول اللہﷺ نے مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کرامؑ کی امامت کی تھی، ابوجہلوں نے آپﷺ پر فتوے لگائے تھے، اب علماء ومفتیان خود کوحق پرست ثابت نہ کرسکیں تو ان کو انبیاء کرام کا جانشین کہلانے کا کوئی حق نہیں ۔جامعہ فاروقیہ کے شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خانؒ خود تھے اور مولانا نور البشر نے خود کووہاں کا جعلی شیخ الحدیث مشہور کررکھا ہے۔ اگر اتنی بڑی خدمت مل گئی تھی جو اپنے منہ میاں مٹھو کو نصیب نہیں تھی تو چھوڑ کیوں دی؟۔
مولانا نورالبشر کو چاہیے کہ ہر چند دنوں کے بعد کسی برمی کا مسئلہ آتا ہے جو حلالہ سے متعلق ہوتا ہے کہ طلاق کے حوالہ سے غیرت کا مظاہرہ کرکے اپنی جاہل عوام کی عزتوں کو تحفظ فراہم کر دے۔ اکابرینؒ کی بشارتوں کا معاملہ اور حقائق کتابوں میں لکھنا جائز تھے تو دیوار پر بھی کوئی قباحت نہیں تھی۔ مولانا عبدالحقؒ نے دارالعلوم کراچی کے طالبعلم مولانا زین العابدین سے اس وقت کہا تھا جب عتیق گیلانی طالب علم تھے کہ’’ حاجی عثمانؒ سب سے زیادہ اسی کو چاہتے ہیں لیکن ہمیں راز کا پتہ نہیں‘‘ ۔