جواسلامی اجتہادات پہلے کئے گئے وہ بھی ناگفتہ ہیں! اداریہ

539
0

shah-waliullah-bahar-e-shariat-ahmed-raza-khan-barelvi-hussam-ul-haramain-al-muhannad-alal- mafannad-shah-waliullah-ahraf-ali-thanwi-prophet-noor-or-bashar-tablighi-jamaat-dawateislami-ghusal-ka-tariqa

لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں اجتہاد کا دروازہ بند ہے یا نہیں؟۔ شاہ ولی اللہؒ کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے لکھا کہ ’’ خیر القرون کا زمانہ تیسری صدی ہجری تک تھا۔ چوتھی صدی ہجری میں تقلید کی عملی بدعت آئی۔ جس کو ختم کرنا ہوگا‘‘۔ اکابرِ دیوبند شاہ اسماعیل شہیدؒ کے حامی تھے مگر مولانا احمد رضا بریلویؒ نے ’’ حسام الحرمین‘‘ فتویٰ شائع کیا تو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ ’’ المہند علی المفند‘‘ کے نام سے خود کو حنفی مقلد اور تمام مسالک کو برحق، اسی طرح تمام سلاسل تصوف کو برحق اور خود کو چشتی مشرب سے تعلق رکھنے والا قرار دیا۔ علامہ یوسف بنوریؒ نے ایک طرف ’’بدعت کی حقیقت: مصنف شاہ اسماعیل شہید‘‘ پر تقریظ لکھ دی اور دوسری طرف مولانا یوسف بنوریؒ کے والد مولانا زکریا بنوریؒ نے مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کو حنفی مسلک بچانے کا ہندوستان میں سب سے بڑا کریڈٹ دیا۔ یہ تضادات تدریس سے سمجھا ئے جاسکتے ہیں۔ المہند علی المفند عربی کتاب پر اکابر دیوبندؒ کے دستخط تھے۔ شاہ اسماعیل شہیدؒ نے تقلید کو عملی بدعت قرار دیکر واضح کیا کہ عقیدے کی بدعت اور عملی بدعت میں فرق ہے، عقیدے کا منافق کافر اور عمل کا منافق مسلمان ہوتا ہے جس میں تین علامات پائی جاتی ہیں۔ جھوٹ ، وعدہ خلافی اور گالی بکنا۔ حدیث میں اسے منافق قرار دیا گیا، عملی منافق کے ساتھ رشتہ داری، معاشرتی معاملات اور اسکا جنازہ پڑھنا وغیرہ جائز ہے لیکن عقیدے کا منافق کافر ہے اوراسکے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ بالکل جائز نہیں ۔
المہند علی المفند پر علماء دیوبند کے سابقہ اکابرینؒ کے دستخط تھے، انہوں نے شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب سے مکمل طور پر برأت کا اعلان کیا اور جسے عملی بدعت قرار دیا، اس میں خود کو ملوث قرار دیدیا۔ اس وقت شریفِ مکہ کی حکومت تھی اور حرمین شریفین کے ائمہ مقلد تھے اسلئے مولانا احمد رضا بریلویؒ کے فتویٰ ’’ حسام الحرمین‘‘ نے اپنا کام دکھا دیا ۔ کافی عرصہ بعد دوسرے درجے کے اکابر دیوبند نے المہند علی المفند کا اردو ترجمہ کرکے دستخط کئے اور ’’ عقائد علماء دیوبند‘‘ کا نام دیا۔ گویا جس کو شاہ اسماعیل شہیدؒ نے عملی بدعت قرار دیا تھا تو اس سے ایک طبق مزید بڑھ کراپنا عقیدہ بھی قرار دے دیا تھا۔ گوجرانوالہ کے بریلوی مفتی مجددی نے مجھ سے کہا کہ ’’ بریلوی قبر پرست ہیں اور دیوبندی اکابرپرست ہیں‘‘۔
عام طور پر یہ سمجھا جارہاہے کہ بریلوی نبی کریم ﷺ کی بشریت کا انکار کرتے ہیں اور دیوبندی نبی کریم ﷺ کے نور ہونے کے منکر ہیں ۔ حالانکہ دونوں الزام غلط اور عبث ہیں۔ بریلوی مکتبۂ فکر کی سب سے مشہور کتاب ’’ بہار شریعت‘‘ ہے اور اس میں بنیادی عقیدہ لکھا ہے کہ ’’ انبیاء کرامؑ بشر ہوتے ہیں‘‘۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی کتاب ’’ نشر طیب فی ذکر حبیبﷺ‘‘ میں پہلا فصل نبیﷺ کے نور کے حوالہ سے لکھا ہے کہ’’ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کے نور کو اپنے نور (فیض ) سے پیدا کیا ‘‘۔ (حدیث)بالکل فضول کی فرقہ واریت ہے۔
تقلید اجتہاد کی ہوتی ہے۔ اللہ نے اپنادین رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ میں مکمل فرمایا۔ صحابہ کرامؓ اور مدینہ کے سات فقہاء ؒ میں غسل اور نماز وغیرہ کے فرائض اور ان پر اختلاف کا کوئی تصور نہ تھا۔کیا ائمہ اربعہ کو اجازت تھی کہ غسل ، وضو اور نماز میں فرائض ایجاد کرکے ان پر اختلافات کی ایک عظیم المرتبت بلڈنگ کھڑی کردیں؟۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کے بزرگ ، ادھیڑ عمر، جوان اور بچے مرے جارہے ہیں کہ دنیا کے کونے کونے کو ان فرائض، واجبات، سنن، مستحبات اور آداب سے آگاہ کریں جو اسلام کی اصل ،جڑ اوربہترین بنیاد ہیں۔
علماء کتابیں پڑھ کر بھول جاتے ہیں کہ کس چیز میں کیا فرائض، کیا اختلافات ہیں۔ البتہ تبلیغی جماعت یا دعوتِ اسلامی کے علماء جاہلوں سے تکرار کی وجہ سے ان فرائض، واجبات، سنن، مستحبات اور آداب کو خوب یاد رکھتے ہیں اور اس کی وجہ سے وہ ان جماعتوں میں وقت لگانے کی افادیت کو بھی بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’ نماز کے قریب نہ جاؤ، جب تم نشے کی حالت میں ہو، یہانتک کہ تم سمجھو، جو کہتے ہو اور نہ حالتِ جنابت میں نماز کے قریب جاؤ مگر یہ کہ کوئی مسافر یہانتک کہ تم نہالو‘‘۔ اس آیت سے حالت جنابت سے نہانا ضروری قرار پایا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نہانے کا کوئی خصوصی طریقہ نہیں بتایا بلکہ جس طرح اسلام سے پہلے لوگ نہاتے تھے ، اسی طرح نہانے کا حکم دیا۔ نہانا مشرک، یہودی، عیسائی اور دنیا کے تمام انسان سمجھتے ہیں بلکہ جانور، پرندے اور جاندار چیزیں بھی نہانا جانتے ہیں۔ دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا کہ’’ جب تم نماز کیلئے کھڑے ہوجاؤ، تو اپنے چہروں کو دھو لو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھولو اور مسح کرو اپنے سروں کا اور اپنے پاؤں کو (دھولو) اگر تم حالت جنابت میں ہو تو پھر اچھی طرح سے پاکی حاصل کرلو‘‘۔ اچھی طرح پاکی حاصل کرنا کے معانی صحابہ کرامؓ نے نبیﷺ سے معلوم کرنے کی ضرورت اسلئے محسوس نہیں کی کہ وضو کے مقابلے میں نہانا اچھی طرح پاکی حاصل کرنا تھا، یہ گزشتہ آیت سے معلوم تھا۔
امام ابوحنیفہؒ نے غسل کے تین فرائض دریافت کئے۔1: کلی کرنا۔2: ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا۔3: پورے جسم پر ایک بار پانی بہانا۔ امام شافعیؒ کے نزدیک کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو کی طرح غسل میں بھی فرض نہیں ۔ تین فرائض میں سے پہلے دوفرائض پر اتفاق نہیں۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک وضو کے مقابلے میں غسل میں مبالغہ ہے اسلئے ناک اور منہ پانی ڈالنا غسل میں فرض ہے تاکہ اچھی طہارت کے حکم پر عمل ہوجائے۔ رہ گیا تیسرا فرض کہ پورے جسم پر ایک مرتبہ پانی بہایا جائے۔ تو امام مالکؒ کے نزدیک اس سے فرض ادا نہ ہوگا، جب تک کہ مَل مَل کر پورے جسم کو نہ دھویا جائے۔ ایک فرض پر بھی ائمہ کرام کا اتفاق نہ تھا اور خود ساختہ فرائض کی کوئی ضرورت اسلئے نہیں تھی کہ صحابہ کرامؓ کے دور میں ایسی مغزماری کا وجود نہیں تھا۔لایعنی مسائل کو فرائض کا نام دینا غلط ہے۔
نشہ کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے روکا گیا، نماز میں سورۂ فاتحہ، سورتیں، تسبیحات، التحیات، دورد شریف اور دعا کے معانی سمجھنے ہونگے اسلئے کہ سمجھے بغیر کی نماز پر نشے کی حالت کا اطلاق ہوتا ہے۔ سات سال سے ستر سال کی عمر تک پابندی سے پانچ وقت کی کئی رکعتوں میں بار بار دھرائے جانے والے الفاظ کے معانی نہ آئے تو ویسے بھی قابلِ افسوس ہے۔ ہندو جن بتوں سے مانگتے ہیں ، ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ نہیں سنتے لیکن وہ بتوں سے اپنی ضروریات مانگتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ کیا مانگ رہے ہیں، ہمارا المیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں عقیدہ ہے کہ وہ سنتا اور سمجھتا ہے، سمیع و علیم ہے مگر ہم خود نہیں سمجھتے ہیں کہ سمیع و علیم سے ہم کیاکیا مانگتے ہیں؟،کیاکیا کہتے ہیں؟۔مسلمان و ہندو کا معاملہ برابرہے۔
آیت میں اللہ نے نشے میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا اور پھر جنابت کی حالت میں بھی منع کیا مگر مسافر کو مستثنیٰ قرار دیا یہاں تک کہ نہالیا جائے۔ اس آیت کا واضح مطلب یہ ہے کہ نماز سمجھ کر پڑھی جائے اور جب جنابت کی حالت ہو تو نماز کے قریب جانے کی اجازت نہیں مگر مسافر کو یہانتک کہ نہالیا جائے۔ یعنی مسافر کو نہائے بغیر تیمم کیساتھ بھی نماز پڑھنے کا حکم نہیں بلکہ اجازت ہے۔ کیونکہ جنابت میں نماز پڑھنے سے منع ہے مگر مسافر کو صرف اجازت ہے۔ حکم اور اجازت میں واضح فرق ہے جواس جملے سے سمجھ میں آتا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر باغ سے پھل کھانے کو منع کیا جائے اور پھر کسی مخصوص فرد کو اجازت دی جائے تو اس پر پھل کھانے کے حکم کا نہیں بلکہ اجازت کا اطلاق ہوتا ہے۔