شیعہ پر کفر کے فتوؤں کے دلائل اور انکے محرکات کی حقیقت

1014
0

shai-per-kufur-k-fatwon-k-dalail-aur-un-k-muhharekaat

ایران کے قائد امام خمینی محتاج تعارف نہیں اور مولانا محمد منظور نعمانی بھی بھارت کے مشہور عالم دین تھے۔ معارف الحدیث اور اسلام کیا ہے؟،وغیرہ انکی کتابیں ہیں۔ مولانا مودوی سے علیحدگی کے وجوہات بھی مولانا منظور نعمانی نے یہ لکھے ہیں کہ ’’جماعتِ اسلامی کے بانی کا الہ کا تصور عقیدے کی بنیاد پر غلط تھا‘‘۔
شیعہ مخالف تنظیم اہلسنت والجماعۃاور حقوق اہلسنت والجماعۃ کے خطیب اور مناظر میدان میں تھے۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید نے پھر ’’انجمن سپاہ صحابہ‘‘ بنائی تو ایرانی لٹریچر کا بہت زور تھا۔ پھر کراچی میں سواداعظم اہلسنت نے بھی شیعہ کے خلاف تحریک شروع کردی تھی۔
سپاہِ صحابہ نے مولانا حق نواز جھنگوی شہید کی تقریر شائع کی، اس میں وضاحت ہے کہ ’’شیعہ سے اختلاف قرآن کی بنیاد پر نہیں ، صحابہؓ کی بنیاد پر بھی نہیں، ہمارا اصل اختلاف شیعوں سے عقیدۂ امامت پر ہے‘‘۔
اس میں شبہ نہیں کہ مولانا حق نواز جھنگویؒ کا مؤقف 100فیصد درست تھا۔ سپاہ صحابہ نے بہت قربانیاں دیں، قیادت اور کارکن شہادت اور جیلوں سے نہ گھبرائے۔ کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ ہر دہلیز، چوکٹ، چوہراہا، ہرقیمت پر لگایا۔
شیعہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ اصل اختلاف یہی تھا، علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے حضرت صالحؑ کی اونٹنی ناقۃ اللہ اور علیؓ کے ہاتھ، پیر، اعضاء کو اہل اللہ اور اہل رسول قرار دیکر کہا کہ ’’یاعلی مدد اللہ ورسول سے مدد ہے۔ بدبخت ترین علیؓ اور صالح کے قاتل تھے‘‘۔ میری تقریر نیٹ پر ہے جس میں کہا کہ’’اللہ مظلوم نہیں ہوتا‘‘۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ مذکر و مؤنث کے عضوء سے پاک ہے، اسے کسی نے جناہے اور نہ اس نے کسی کوجناہے۔مظہرِ نور خداداتا گنج بخشؒ کو بھی سمجھا جاتاہے۔ کعبہ 360 بتوں سے بھرا تھااور داتا کی نگری میں ہیرہ منڈی ہے۔ دین میں زبردستی نہیں۔ اربابِ اقتدار کا کام نظام کی درستگی ہے ۔ اچھی فضاء بہت ضروری ہے۔
نہ تیرا خدا کوئی اور ہے نہ میرا خدا کوئی اور ہے
یہ جو راستے ہیں جدا جدا یہ معاملہ کوئی اور ہے
سواد اعظم اہلسنت کی ابتداء ہوئی تو کراچی کے اکابر علماء مولانا سلیم اللہ خان، مولانا اسفند یار خان ، مفتی احمد الرحمن ، مولانا زکریا تحریک کی قیادت کررہے تھے۔ مولانا زکریا کی مولانا سلیم اللہ اور مولانا اسفندیار نے پٹائی لگادی۔ مولانا زکریا لنگڑے جامعہ انوار العلوم گلبرک کراچی کے مہتمم معذور ڈنڈے سے پٹے تو کیا کرتے؟۔ البتہ اخبارات میں رازوں سے پردہ اٹھادیا کہ مولانا سلیم اللہ خان و مولانا اسفندیارخان نے سواداعظم کے نام پر رقوم، جائیداد ومفادات لئے ہیں۔ وہی مولانا زکریا صاحب سپاہ صحابہ کے مستقبل کے قائد مولانا اعظم طارق کے سوتیلے باپ تھے۔
سواداعظم کی قیادت میں لالو کھیت کے اندر اہل تشیع کی دکانیں جلائی جا چکی تھیں، پختون ایمانی جذبے میں پیش پیش تھے، جس کا خمیازہ مہاجر پختون فسادات میں بھگتنا پڑا ۔ میں نے جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ لیا تو سواد اعظم کے تحت مزیدفسادات اُڑان کی موڈ میں تھے، مولانا زکریا چند ماہ پہلے علیحدہ ہوچکے تھے۔ 10محرم کے جلوس کو روکنے کیلئے مولانا سلیم اللہ خان، مولانا اسفندیار خان اوردیگرمدارس کے علماء و طلبہ جامعہ بنوری ٹاؤن پہنچے تھے۔ تقریروں میں کہہ رہے تھے کہ ہم شیعوں کو اس مدرسہ مادر علمی کے دروازے کے سامنے جلوس گزارنے نہیں دینگے۔ پولیس کی ذمہ داری تھی کہ وہ مقررہ راستے سے جلوس گزارتی۔جب سواد اعظم و پولیس میں مذاکرات ناکام ہوگئے تو خوف اور تشویش کی فضاء پیدا ہوگئی۔
جامعہ بنوری ٹاؤن کے علماء ومفتیان نہیں چاہتے تھے کہ فساد ہو، جامعہ بنوری ٹاؤن کے اندر تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری تھا، علماء کے علاوہ ایڈوکیٹ عبدالعزیز خلجی بھی پیش پیش تھا ہم طلبہ بڑوں کے معاملے سے واقف نہ تھے۔ جامعہ کے ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر اسوقت ناظم تعلیمات تھے جواب پرنسپل ہیں۔ آپ نے ہمیں درس دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’باہر فسادی آئے ہیں۔ ان کی باتوں میں نہ آؤ، انکا مقصد فساد پھیلانا ہے۔ شیعہ کے جلوس یہاں سے گزرتا تھا تو مولانا بنوریؒ مسجد نیوٹاؤ ن کے مٹکے صاف ستھرے کرکے بھروا کر رکھتے تھے۔ مسجد کامین گیٹ کھلا رہتا تھا۔ جلوس کے شرکاء پانی پیا کرتے اور واش روم استعمال کرتے‘‘۔
پھر جب جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کے طلبہ نے جلوس پر پتھراؤکیا اور پولیس نے آنسو گیس کی سخت شیلنگ کی تو کئی بیہوش ہوگئے۔ میں نے بھی زخمیوں کی مدد میں حصہ لیا۔ درسگاہ میں دوسرے دن استاذ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے مجھے خصو صی طور پر مخاطب کرکے فرمایا کہ ’’ تمہیں احساس نہیں، ہمارے بال بچے ہیں، آنسو گیس کی جس مصیبت کا سامنا کیا، وہ ہم اور ہمارے بچے جانتے ہیں۔تمہیں کیا ہے‘‘۔ مجھے شدید احساس ہوا کہ استاذ کی بات میں وزن ہے مگر مجھ سے یہ غلطی نہیں ہوئی تھی اسلئے معافی مانگنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی ۔
ایک گھمبیر صورتحال میں مولانا منظور نعمانی کا استفتاء اور مفتی ولی حسن ٹونکی مفتی اعظم کے جوابات شائع کردئیے گئے۔ استفتاء میں تین سوالات تھے جنکا جواب دینے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ سوالات جوابات بھی خود ہی تھے۔
پہلا سوال تھا کہ شیعہ قرآن میں تحریف کا عقیدہ رکھتے ہیں۔کئی سارے حوالہ جات سے ثابت کیا کہ شیعہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے اور اگر شیعہ قرآن کو مانتے ہیں تو یہ تقیہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جسکا قرآن پر ایمان نہیں ہو تو اس سے بڑا کافر کون ہوسکتا ہے؟۔سوال کا جواب دینا بھی محض ایک خوامخواہ کا تکلف ہی تھا۔
دوسرا سوال تھا کہ اہل تشیع صحابہؓ کے بارے میں یہ اعقتاد رکھتے ہیں کہ وہ کافر ہیں، حضرت ابوبکرؓ کی صحابیت قرآن سے ثابت ہے اور باقی صحابہؓ سنت اور اجماع سے ثابت ہیں اسکا انکار کرنے کی بنیاد پر اہل تشیع بذاتِ خود کافر ہیں، ان کے کفر کے ثبوتوں کے حوالہ جات کے انبار ہیں جس کی کوئی تردید نہیں کرسکتا ہے۔
تیسرا سوال تھا کہ شیعہ کا عقیدۂ امامت در ا صل ختم نبوت کا انکار ہے، وہ اپنے ائمہ کو انبیاء سے بڑھ کر سمجھتے ہیں، ڈھیر ساری کتابوں کے حوالہ جات موجود ہیں ، جس کی تردید کوئی نہیں کرسکتا اور اس وجہ سے بھی اہل تشیع اسلام سے خارج ہیں اور ان پر کفر کا فتویٰ لگتاہے۔
3 سوالات کی تفصیل پھرمزید حوالہ جات جوابات میں درج ہیں جو شیعہ کے کفر کو یقینی بناتے ہیں۔ پھر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ڈھیر علماء و مفتیان اور بہت سارے معروف مدارس کی تصدیقی تحریرو مہر تھے، البتہ جامعہ بنوری ٹاؤن کے اس فتوے کی تائید مفتی تقی، مفتی رفیع عثمانی دارالعلوم کراچی کورنگی کے ایریا نے نہ کی۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ’’وہ عذر پیش کررہے ہیں کہ ہم سرکاری تانگے ہیں،اگر ریاست کا اشارہ نہ ملے تو ہم شیعہ کو کافر نہیں قرار دے سکتے ‘‘۔ اس فتویٰ میں واضح طورپر لکھا گیا کہ ’’قادیانی ختم نبوت کی آیت میں تأویل کرتے ہیں مگر نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر تمام معاملات اہلسنت کے عین مطابق ہیں، قرآن و سنت اور صحابہؓ ،اسماعیل شہیدوا کابر دیوبند اور فقہی مسائل بھی ایک ہیں اور شیعہ کا ہر چیز میں اہلسنت سے عقیدت اور عقیدے کے مسئلے پر شدیداختلاف ہے۔لہٰذا شیعہ قادیانیوں سے بدتر کافر ہیں‘‘۔
یہ کتاب اور اس طرح کی دیگر کتابیں بازار میں دستیاب ہیں۔ سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار نے سلیم صافی کو انٹرویو دیا کہ ’’ علماء کرام کا معاشرے میں بہت اہم مقام ہے، ایک چھوٹا سا اقلیتی فرقہ ہے جو علماء کا نام سن کر آگ بگولہ ہوجاتا ہے ، ہم اسکے اس رویہ کی وجہ سے علماء کرام کی قدر کم نہیں کرسکتے۔ کالعدم تنظیم کے مولانا احمد لدھیانوی ملتے تھے تو کیا حرج تھا؟، میں سب کا وزیر داخلہ تھا اور سب کیساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ کالعدم تنظیمیں الیکشن میں بھی حصہ لیتی ہیں، تمام پارٹیوں کے اہم رہنما ان سے ملتے ہیں۔ علماء کرام نے بہت تعاون بھی کیا اور انہوں نے میری بات کافی حد تک مان لی۔ اس کا مجھے کریڈٹ بھی ملنا چاہیے تھا‘‘۔
وہ وقت بھی آیا کہ علماء ومفتیان نے بھی سپاہِ صحابہ سے اعراض کیا۔ ایم کیوایم کا دباؤ کافی بڑھ گیا، مولانا سلیم اللہ خان نے بنوری ٹاؤن کے ایک اجلاس میں مولانا اعظم طارق سے کہا کہ شیعہ پر کفر کا فتویٰ غلط ہے، یہ مشن چھوڑ دو، کوئی دوسرا راستہ اختیار کرلو۔ متحدہ مجلس عمل بنی تو شیعہ سنی کی اتحادتنظیمات المدارس بھی بنی۔ جامعہ بنوری ٹاؤن نے اتحاد کیلئے فتویٰ جاری کیا تو ہم نے اپنے اخبار ضرب حق میں بات اٹھائی کہ یہ بھی بتایا جائے کہ شیعہ تائب ہوگئے یا تم نے غلط فہمی کی بنیاد پر فتویٰ دیا تھا؟۔
ایک طرف شیعوں پر فتویٰ تو دوسری طرف اتحادالمدارس شیعہ سنی اتحاد ہے ، آخر کیوں؟۔ تحریف قرآن کی بنیاد پر شیعہ کو کافر قرار دیا تو علامہ انورشاہ کشمیری نے بھی ’’فیض الباری‘‘ میں لکھا کہ ’’قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی، بلکہ لفظی تحریف بھی ہوئی ، مغالطہ سے یہ کیا ہے یا پھر جان بوجھ کر ‘‘۔ مولانا عبدالکریم کلاچوی نے مفتی فرید اکوڑہ سے جواب مانگا۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے دارالعلوم کراچی سے حوالہ دئیے بغیر اس عبارت پر فتویٰ مانگا تو مفتی تقی عثمانی نے کفر کا فتویٰ لگادیا تھا۔ میرا خلیفہ عبدالقیوم و سپاہ صحابہ کے کارکنوں سے یہ طے ہوا تھا کہ مدارس کے نصاب پر بات ہوگی لیکن علماء نے ایسی فضاء بنادی کہ حکومت نے 16ایم پی او کے تحت گرفتاری کا حکم دیا تھا۔