Home اداریہ اسلامی نظریاتی کونسل طلاق کے حوالے سے علم اور عقل سے عاری...

اسلامی نظریاتی کونسل طلاق کے حوالے سے علم اور عقل سے عاری ہے: سید عتیق الرحمن گیلانی

621
0

sheerani-islami-nazaryati-council-teen-talaq-doctor-amir-taseen-maulana-yousuf-ludhianvi- qibla-maqamat-al-hariri-atiq-gilani-mufti-naeem-anp-shia- lady-diana-prince-charles- human-rights- binori-town-fatwa

اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے ایک ساتھ تین طلاق پر سزا کی تجویز کم علمی کے علاوہ کم عقلی کی بھی ہے۔اگر سزا سے ایک ساتھ تین طلاق کا مسئلہ رکنے والا ہوتا تو حلالہ سے بڑھ کر اور کیا سزا ہوسکتی ہے؟۔ وزیراعظم عمران خان نے جب مسیج بھیج دیا کہ طلاق طلاق طلاق تو اس پر عمران خان کو کیا سزا دی جائے گی؟۔ ریحام خان مسلمان تھی اسلئے طلاق طلاق طلاق کا مسیج بھیج دیا اور جمائمایہودن تھی اسلئے طلاق کے الفاظ نہیں بلکہ طلاق کو معاملے کی طرح باقاعدہ ڈھیل اور افہام وتفہیم سے اپنے منطقی انجام تک پہنچایا۔دنیا میں طلاق کا یہ طریقۂ کار اسلام نے ہی متعارف کرایاتھا۔ اسلام اسی لئے دنیا میں بہت تیز رفتاری کیساتھ پھیل گیامگر بعد میں رفتہ رفتہ مذہبی طبقے نے فرقے، مسلکی وکالت، کاروباری اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کاذریعہ اسلام کو بنالیا، جس کی جھلکیاں درسِ نظامی کی ’’ مقامات الحریری‘‘میں ابوزید سروجی کے تخیل سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔ تفسیر کے امام صاحبِ کشاف علامہ جاراللہ زمحشریؒ نے لکھا : اقسم باللہ وآیاتہ ومشعر الحج ومیقاتہ بان الحریری حری ان یکتب بالتبر مقاماتہ ’’میں اللہ اور اسکی آیات کی قسم کھاتا ہوں،اور شعارحج اور اسکے مقات کی کہ حریری کی مقامات سونے کے ٹکڑوں سے لکھنے کے قابل ہے‘‘
جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی میں ہمیں مفتی محمد نعیم صاحب مدظلہ العالی نے ہی عربی ادب کی کتاب ’’مقامات الحریری‘‘ پڑھائی تھی۔ مفتی محمدنعیم صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ ’’ بعض شرمناک مقامات پر میری آنکھیں بھی جھکی ہونگی اور آپ لوگ بھی شرم کے مارے آنکھ نہیں اُٹھا سکیں گے۔ ہماری مجبوری ہے کہ نصاب کی اس کتاب کو پڑھنا اور پڑھانا پڑتا ہے‘‘۔ اس کتاب میں سب سے زیادہ شرمناک مقالہ جوزر علیہ شوزر ’’لڑکا تھا جس پر رومال تھا‘‘والا ہے۔ابوزید سروجی کی طرف سے اس پر دعویٰ ہوتا ہے کہ اس نے اسکے بیٹے کو قتل کیا۔ قاضی کی عدالت میں پیشی ہوتی ہے تو ابوزید کے پاس گواہ نہیں ہوتا۔ قاضی لڑکے سے قسم کھانے کا کہتا ہے توابوزید کہتا ہے کہ میری مرضی سے میرے الفاظ کے مطابق قسم کھائے گا اور قسم کے شرمناک الفاظ میں خوبصورت آنکھوں، پھڑکنے والے گالوں سے لیکر دواتی بالاقلام میری دوات(پشت کی شرمگاہ) اقلام ( اعضائے تناسل )سے یہ ہوجائے تک بات پہنچ جاتی ہے تو لڑکا شرماتا ہے اور قسم کھانے سے انکار کرتاہے جبکہ قاضی کے جذبات بھی برانگیختہ ہوچکے ہوتے ہیں۔ ابوزید قاضی کو مشرکہ طور پر اس لڑکے کو بدفعلی کیلئے شکار کرنے کی دعوت دیتا ہے اور قاضی سے رقم بھی ہتھیا لیتا ہے۔ پھر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابوزید سروجی کا اپنا بیٹا تھا اور اس طرح وہ اسکے ذریعے لوگوں کو شکار کرنے کیلئے استعمال کرتا رہتا ہے‘‘۔مقامات الحریری
میرے بھائی پیر نثار احمد شاہ پہلے اے این پی کے دلدادہ تھے،جب اس نے ایک عالم دین کے بارے میں کہا کہ ’’ وہ اپنے بیٹے کو اس طرح استعمال کررہاہے تو اپنے دل میں پروگرام بنایا کہ رات کو اپنے بھائی کو بندوق سے قتل کرودں گا مگر شاید اسے میری دل آزاری کا احساس ہوا، رات کو مجھ سے معافی مانگ لی ورنہ میں نے طے کرلیا تھا کہ سوتے میں اسکا کام تمام کردوں گا‘‘۔ شدت پسندی کے ناسور کا جذبہ میں نے ہی اس خطے میں پھونکا تھا۔ منکرات کیخلاف آواز اُٹھانے سے لیکر ہاتھ سے روکنے تک کا کردار ہم نے ادا کیا۔ پھر شعور وآگہی کے بعد کچھ سیکھنے کو ملاہے۔ ملاعمر رحمۃ اللہ علیہ ایک مخلص انسان تھا لیکن شعور وآگہی نہ ہونے کی وجہ سے اس نے خراسان کے دجال کا کردار غیرشعوری طور پر ادا کیا۔ اگر ان سے پہلے مَیں پاکستان کا امیرالمؤمنین بن جاتا تو ان سے بھی بڑے دجال کا کردار میرا ہوتا۔ ٹی وی ، تصویر، داڑھی، پردے اور فرائض وسنت پر عمل کرنے کی کوشش میں شاید ہی میرا کوئی ثانی ہوتا ۔ میری زندگی کے ابواب ایک کھلی کتاب کی طرح ہیں۔اگر ضرورت پڑی تو ایک ایک بات کو اجاگر کردوں گا۔ انشاء اللہ
پچھلے شمارے میں اجتہاد پر تھوڑی بہت روشنی ڈالی تھی جس کو اہل علم ودانش کی طرف سے بہت پذیرائی مل گئی ہے۔ اجتہاد کے حوالے سے ابھی بہت کچھ باقی ہے جس سے شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث کے اختلافات بالکل ختم ہوجائیں گے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک ساتھ تین طلاق پر سزاکی تجویزکا مسئلہ اٹھایا ہے اور اجتہادی مسائل پر اختلافات کی بنیاد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حضرت عثمانؓ نے ایک ساتھ حج و عمرہ کے احرام کو روکنے کا اعلان فرمایا تو حضرت علیؓ نے مزاحمت کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ میں ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھ رہا ہوں ،تم روکنے والے کون ہو؟ نبی کریمﷺ نے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھا تھا۔(صحیح بخاری)صحیح مسلم کی کئی احادیث ہیں کہ حضرت عمرؓ نے اپنی رائے سے حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھنے سے روکا تھا، جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حج وعمرے کی ایک ساتھ اجازت دی اور نبیﷺ نے اپنی زندگی میں ایک حج کیا اور حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا۔ پہلے اس حکم پر عمل ہوتا تھا تو فرشتے ہم سے گلی کوچوں میں مصافحے کرتے تھے اور اب یہ سنت ترک کردی گئی تو ہمارے ایمان کی حالت وہ نہ رہی جو پہلے تھی۔( مسلم)
اس اختلاف کا پسِ منظر یہ تھا کہ دورِ جاہلیت میں لوگ عمرہ کرتے تھے جو بھی عمرے کی منت مان لیتا تھا ، اس کو پورا کرتا تھا، اہل مکہ کا مفاد اسی میں تھا کہ لوگ حج کیساتھ عمرہ نہ کریں، رفتہ رفتہ یہ مذہبی شعار کی صورت اختیار کرگیا کہ زمانہ حج میں عمرہ کرنا جائز نہیں ہے۔ قریشِ مکہ کی تجارت میں حج و عمرے کا مذہبی تہوار بڑا منافع بخش کاروبار بھی تھا۔ سیروسیاحت کی طرح اس سفر میں آنے جانے والوں سے کاروباری فائدے بھی اُٹھائے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حج و عمرے کو ایک ساتھ کرنے کا جواز بتایا۔ نبیﷺ نے ایک احرام باندھ کر اس پر عمل کیا، ایک ہی موقع ملاتھا ،اسلئے الگ الگ احرام باندھنے کی نوبت نہیں آئی۔ مذہبی ذہنیت بڑا حساس معاملہ تھا، لوگوں نے سمجھا کہ یہی نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ حضرت عمرؓ کو واقعی فاروق اعظم کا خطاب بجا ملا تھا،آپؓ نے ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھنے پر سخت پابندی لگادی۔ اس میں بہت بڑی اور واضح حکمت یہ تھی کہ جب ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھا جاتا تھا تو حج سے چند دن پہلے پہنچنے والوں کا جمع غفیر پسینوں سے شرابور ہوکر فضاء کو متعفن کردیتا تھا۔ رسول اللہﷺ کا پسینہ تو خوشبودار تھا۔ عام لوگوں کا پسینہ اتنے بڑے پیمانے پر مشکل پیدا کررہا تھا۔
جب حضرت عمرؓ کے بعد حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح خلافت کے معاملات چلائیں گے۔ حضرت عثمانؓ نے کہا کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے اقدامات کو برقرار رکھوں گا۔ حضرت علیؓ نے کہا کہ میں سارے معاملات کو نبیﷺ کے وقت کی طرف لوٹاؤں گا۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھا : ’’ نبیﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے بھی معاملات کو جوں کے توں رکھا حضرت عمرؓ نے اپنے دور میں فرقِ مراتب کے لحاظ سے وظائف مقرر کردئیے مگر پوری طرح سرمایہ دارانہ نظام نے جڑیں نہیں پکڑیں تھیں۔حضرت عثمانؓ کے دور میں خاندانی قرابت اور سرمایہ دارانہ نظام نے جڑیں پکڑ لیں جسکو حضرت امیر معاویہؓ نے پوری طرح عملی جامہ پہنایا‘‘۔ حج و عمرے کا احرام ایک ساتھ باندھنے پر حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان جھڑپ بھی اندرونی رنجش کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا اور مذہبی طبقات نے اسکو احادیث وفقہ کی کتابوں میں بھرپور طور پر باقی رکھا۔
کچھ رافضی اس اختلاف کو وہ رنگ دے رہے تھے کہ حضرت عثمانؓ نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے قرآن وسنت سے ہٹ کر مشرکینِ مکہ کا مذہب مسلط کرنا چاہا جو حضرت عمرؓ کا بھی مشن تھا۔ کچھ لوگوں نے حضرت علیؓ کی مخالفت میں تیزوتند جملے استعمال کئے، ایک محدث ضحاکؒ تھے جو بڑے پرہیزگار تھے ، دوسرے حکمرانوں کے ٹولے سے تعلق رکھنے والا ضحاک تھا جس نے کہا کہ ’’ حج وعمرے کا احرام ایک ساتھ باندھنا بہت بڑی جہالت ہے‘‘۔ جس پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے کہا کہ ’’ ایسی بات نہ کرو، میں نے خود نبیﷺ کو حج وعمرے کا احرام ساتھ باندھتے ہوئے دیکھا ہے‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے کسی نے کہا کہ ’’تمہارا باپ تو ایک ساتھ حج وعمرے کا احرام باندھنے کی مخالفت کرتا تھا‘‘ تو آپؓ نے فرمایا کہ ’’ میں اپنے باپ کو نہیں رسول اللہ ﷺ کو رسول مانتا ہوں اسلئے آپﷺ کی بات ہی کو درست سمجھتا ہوں‘‘۔ حضرت عثمانؓ کے دورمیں خوارج کا جو ٹولہ پیدا ہوا جس نے آپؓ کو شہید کردیا، اس میں ان مذہبی اختلافات کا بھی بڑا عمل دخل تھا پھر یہ لوگ حضرت علیؓ اور امیرمعاویہؓ کے بھی دشمن بن گئے تھے۔
قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے اختلاف کا بھی ذکر ہے جو تفریق کا بھی باعث بن گیا، پھر حضرت خضرؑ نے اس اختلاف کی حقیقت بتائی ،یہ اختلاف پھر بھی برقرار رہا تھا اسلئے کہ بچے کا قتل انسانی حقوق کا مسئلہ تھا، جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی ایک پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام کی باکمال شخصیت ہونے اور ایک بڑے اللہ والے ہونے کی بھی نشاندہی کردی اور وعدہ بھی کیا تھا کہ میں کوئی سوال بھی نہیں پوچھوں گا مگر انسانی حقوق کے مسئلے پر پھر بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
اُمت مسلمہ کا اختلاف باعث رحمت اور وحی کا نعم البدل ہے۔حضرت عمرؓ کا کردار نبیﷺ کے دربار میں بھی حزبِ اختلاف کے قائد کا رہا تھا۔ مشکوٰۃ میں یہ حدیث ہے کہ ایک خاتون دونوں ہاتھوں اور پیروں سے ناچ رہی تھی ۔ صحابہؓ اس کا تماشہ دیکھ رہے تھے، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ بھی نظارہ دیکھ رہے تھے، نبیﷺ بھی دیکھنے کھڑے ہوگئے۔ جب حضرت عمرؓ کو آتے دیکھ لیا تو وہ عورت بھاگ کھڑی ہوئی۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ عمر سے شیطان بھی بھاگتا ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ لہوولعب کا یہ ماحول ایک طرف نبیﷺ کی وجہ سے قابلِ برداشت بن گیا اور دوسری طرف حضرت عمرؓ کی وجہ سے سنت بننے سے بچ گیا، ورنہ تو راگ وسرود کی محفلوں اور دنیا کی رنگ رنگینیوں کے مزے اڑانے کو بھی سنت کا نام دیا جاتا اور بہت سے لوگ نماز کا اہتمام کرنے کے بجائے اسی کو سنت قرار دیکر عمل کرتے۔ افراط وتفریط اور غلو سے بچنے کا نام سنت وصراط مستقیم ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہر نماز کی ہر رکعت میں مانگنے کے باوجود ہم غور نہیں کرتے۔
عورت کا ناچ گانا قابلِ برداشت تھا مگر سنت نہیں تھا۔ اسکے خلاف ڈنڈے اٹھانا بھی سنت نہیں مگر میں نے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نیو کراچی میں ایک طرف مشکوٰۃ شریف کی تعلیم حاصل کی تو دوسری طرف وہاں جمعرات کو کرایہ پر مدرسہ کے ارباب اہتمام ’’ وی سی آر‘‘ لاکر فحش فلمیں دیکھتے تھے۔ مجھے پتہ چلا تو ان کو ڈنڈے کے زور سے روک دیا۔ چاہت یہ تھی کہ ڈنڈے سے ان کی پٹائی بھی کردوں مگر اچانک کچھ شریف چہرے سامنے آئے تو ڈنڈا چلانے کا میراجذبہ ماند پڑگیا۔نبیﷺ نے سچ فرمایا کہ ’’میری امت گمراہی پر اکٹھی نہیں ہوسکتی ہے‘‘۔ اجتہادی مسائل میں کوئی ایسی گمراہی کی چیز نہیں، جس پر امت کا اجماع ہوا ہو۔ نورانوار اور اصولِ فقہ میں ’’اجماع‘‘ کی تعریف تبدیل کی گئی ۔ چنانچہ لکھا ہے کہ’’ اجماع سے مراد اہل مدینہ کا اجماع ہے، اہل سنت کا اجماع بھی ہے اور اہل بیت کا اجماع بھی ہے۔ یہ سب اجماع معتبر ہیں‘‘۔ (نورالانوار)
اسلامی نظریاتی کونسل میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء ومفتیان شامل ہیں، اب یہ متفقہ تجویز سامنے آئی ہے کہ’’ ایک ساتھ تین طلاق دینے پرایک سال قید کی سزا دی جائے گی‘‘۔ قومی اسمبلی اور سینٹ نے اس تجویز کو قانون بنالیا تو پاکستان کی سرزمین پر یہ ایک نیا اجتہادی مسئلہ ہوگا۔ بھارت میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔ یہ قرآن کی روح ہے کہ انسانی حقوق کا بھرپور خیال رکھا جائے۔ حضرت موسیؑ نے حضرت خضرؑ کے اقدامات کی توثیق نہیں فرمائی۔ حضرت سلیمان ؑ نے ملکہ سبا کے تخت کو اس شخص کے ذریعے حاضر کیا تھا جس کو قانون فطرت کی کتاب کا علم تھامگر اس کے ذریعے ملکہ سبا بلقیس کو نہیں لایا گیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا نالائق بیٹا بھی اسلئے طوفان کا شکار ہوا کہ اس نے کہا کہ پہاڑ پر چڑھ کر بچ جاؤں گا ۔ اگر وہ کشتی میں سوار ہوجاتا تو بچ سکتا تھا۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ میری امت پر اجتماعی عذاب نہیں آئیگا اور اپنے اہلبیت کو آپﷺ نے کشتی نوح ؑ قرار دیا ہے۔
نبیﷺ نے قرآن کو مضبوط تھامنے کی بڑی تلقین فرمائی تھی۔ اہل تشیع سے اہلبیت کا سلسلہ حالت غیبت میں ہے اور اہلسنت سے سنت غائب ہے مگر قرآن کی حفاطت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ نبیﷺ کو قیامت کے دن اُمت سے یہی شکایت ہوگی کہ ’’ اے میرے ربّ! میری قوم نے بیشک اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ (القرآن)۔عوام وخواص سب کٹہرے میں کھڑے ہونگے۔
طلاق کے مسئلہ پر اسلامی نظریاتی کونسل کے چےئرمین اور ارکان قرآن سے رجوع کرتے تو سزاکی تجویز یہ ہوتی کہ جو مفتی وعالم حلالے کا فتویٰ دیگا، اس کو یہ سزا دی جائے گی اسلئے کہ باہمی اصلاح و رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے۔

تین طلاق پر اسلامی نظریاتی کونسل کو صائب مشورہ ہے

پاکستان، اسلام اورعلماء پہلے سے عالمی قوتوں کے نشانے پر ہیں۔ جب تین طلاق پر ایک سال قید کی سزا سامنے آئیگی تو رہی سہی کسر بھی پوری ہوجائے گی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کو بھرپور طریقے سے دلائل سے آگاہ کیا تھا لیکن ان کا مقصد اسلام ، انسانیت اور پاکستان کی کوئی خدمت نہیں تھی بلکہ اپنی نوکری ، مفادات اور مراعات تھے ،اسلئے اس سعادت کی توفیق اسے نہیں مل سکی تھی، ورنہ ایک بڑے انقلاب کا موقع اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔
اسلام کا بنیادی مقصد انسانیت کی فطری رہنمائی ہے۔ طلاق سے متعلق جن احکام کی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی ہے، اس میں مقدمہ کے طورپر یہ وضاحت کی: ولاتجعل اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقوا وتصلحوا بین الناس ’’اور اللہ کو مت بناؤ، ڈھال کہ نیکی، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح کیلئے کردار ادا نہ کرسکو‘‘۔ (البقرہ آیت:224)اس آیت کے بعد کوئی ایسی صورت نہیں ہوسکتی ہے کہ میاں بیوی صلح کرنا چاہتے ہوں اور مولوی فتویٰ دے کہ جب تک حلالہ کی لعنت پر مجبور نہ ہوں ،انکے درمیان اللہ تعالیٰ صلح میں رکاوٹ ہے اور اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے تو پھر اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید میں بڑا تضادہے۔ علامہ اقبال کے اشعار ،مسلکوں کی وکالت اوردیگر انسانوں کے خیالات میں تضادات ہوسکتے ہیں مگر اللہ کا کلام تضادات سے پاک ہے۔ و لو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا’’اگر یہ قرآن اللہ کے علاوہ کسی غیر کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف (تضادات) پاتے‘‘
میاں بیوی کے درمیان طلاق کا معاملہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے عدت رکھی اور اس میں باہمی رضامندی اور اصلاح کیساتھ رجوع کی گنجائش ہے۔ شوہر کو حکم ہے کہ عدت میں عورت کو گھر سے نہ نکالے اور بیوی کو حکم ہے کہ وہ گھر سے نہ نکلے۔ سورہ البقرہ آیت:228 اور سورۂ طلاق آیت:1میں عدت کے دوران صلح کی بھرپور وضاحت ہے۔سورۂ طلاق آیت :2سورۂ البقرہ آیت 229، 231 اور 232 میں بھی عدت میں اور عدت کی تکمیل پر اور عدت کے بعدصلح کی بھرپور وضاحت ہے البتہ جس طرح البقرہ آیت:228اور229 میں اصلاح کی شرط اور معروف طریقے سے عدت میں رجوع کی گنجائش ہے اور صلح کے بغیر منکر طریقے سے کوئی رجوع نہیں ہوسکتا ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ جب ان دونوں کا پروگرام ایکدوسرے سے جدائی کا ہو اور معاشرہ بھی انکے درمیان کسی قسم کا رابطہ نہ رکھنے پر متفق ہو تو پھر اس شوہر کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ عورت کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے۔ (البقرہ آیت:229،230)۔
چونکہ دنیا میں انسان کے اندربھی یہ حیوانیت بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر ماحول موجود ہے کہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد بھی اس کی مرضی سے کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہیں کرنے دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ رحمۃ للعالمین تھے اور قرآن میں اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی ازاوج مطہراتؓ کو مومنین کی مائیں قرار دیا ہے اور یہ وضاحت کردی ہے کہ آپﷺ کی ازواجؓ سے کبھی نکاح نہ کریں اسلئے کہ آپؐ کو اس سے اذیت ہوتی ہے۔ تاکہ کوئی انسان یہ نہ کہہ سکے کہ غیرتمند ہوکر بھی اسے اذیت نہیں ہوتی ہے۔لیڈی ڈیانا کو شہزادہ چارلس نے طلاق دی اور برطانیہ نہیں فرانس کے شہر پیرس میں ایکسیڈنٹ سے مر گئی یا ماری گئی مگر اس پر مقدمہ دائر کیا گیا کہ ’’ شاہی خاندان اس قتل کے پیچھے ہے‘‘۔ حیوانوں کی طرح انسانوں میں بھی یہ غیرت ہوتی ہے کہ اس کی جوڑی دار کیساتھ کوئی اور جوڑی دار نہ بنے لیکن اسلام نے محض انسانی حقوق کی خاطر یہ قانون رائج کردیا کہ ’’ ایسی صورت میں جب میاں بیوی عدت کے تین ادوار میں دو مرتبہ طلاق اور پھر تیسرے مرحلہ میں بھی جدائی کے فیصلے پر نہ صرف قائم ہوں بلکہ ایکدوسرے سے کوئی رابطہ رکھنے کا ذریعہ بھی نہ چھوڑتے ہوں تو اس صورت میں سوال یہ پیدا نہیں ہوتا ہے کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ بلکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلا شوہر اس عورت کو دوسرے سے عورت کی مرضی کیمطابق نکاح کرنے دیتا ہے یا نہیں؟۔ اس مسئلے کے حوالے سے اصول فقہ کی کتاب ’’ نورالانوار‘‘ میں حنفی مسلک بھی واضح ہے اور علامہ ابن قیمؒ نے اپنی کتاب ’’ زاد المعاد‘‘ میں حضرت ابن عباسؓ کا بھی یہی مؤقف نقل کیا ہے۔ میں نے اپنی کتابوں ’’ ابر رحمت، تین طلاق کی درست تعبیر اور تین طلاق سے رجوع کا خوشگوار حل ‘‘ کے علاوہ اپنے اس اخبار کے مضامین اور ادارئیے میں بھی اور اس سے پہلے ماہنامہ ضرب حق کراچی میں بھی تفصیل سے لکھ دیا تھا۔
تمام مکاتبِ کے علماء ومفتیان کھل کر اور چھپ کر ہمارے مؤقف کی بھرپور حمایت کررہے ہیں۔ عوام الناس اور دانشوروں تک حقیقت کسی حد تک پہنچ چکی ہے۔مولانا سیدمحمدیوسف بنوریؒ کے نواسے ڈاکٹر عامر طاسین سابق چیئرمین مدرسہ بورڈسے قبلہ ایاز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کی بہت تعریف سنی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق کا مسئلہ سزا دینے سے حل ہونیوالا ہرگز نہیں ہے۔ حلالہ سے بڑھ کر کسی کو کیا سزا دی جاسکتی ہے؟۔ اس مسئلہ میں کسی اجتہاد کی ضرورت پہلے بھی نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے۔ قرآن میں واضح ہے کہ باہمی اصلاح کے بغیر رجوع نہیں اور معروف طریقے سے رجوع کی گنجائش واضح ہے۔حضرت فاروق اعظمؓ نے قرآن کی روح کے مطابق تنازعہ کی صورت میں ٹھیک فیصلہ دیا کہ ایک ساتھ تین طلاق پر رجوع کی گنجائش نہیں ہے، اگر تنازعہ کی صورت نہ ہوتی تو معاملہ حضرت عمرفاروق اعظمؓ کے دربار تک بھی نہ پہنچ سکتا تھا۔
اگر ایک طلاق کے بعد بھی تنازعہ حضرت عمرؓ کے دربار میں پہنچتا تو یہ فیصلہ ہوتا کہ ’’ باہمی اصلاح کے بغیر رجوع کی گنجائش نہیں‘‘۔کیونکہ قرآن میں بالکل واضح ہے، دنیا کی کوئی عدالت بھی تنازعہ کی صورت میں یہی فیصلہ دیتی ہے۔ اگر میاں بیوی راضی ہوں تو قاضی کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ اسلام رفتہ رفتہ ہی اجنبیت کا ایسا شکار ہوگیا کہ میاں بیوی عدت میں بھی باہمی اصلاح کی شرط کے باوجود رجوع سے محروم کئے گئے اور حلالے والوں نے لعنتوں سے دنیاوی مفاد اٹھایا۔
علماء ومفتیان کے مدارس حدیث صحیحہ کے مطابق گمراہی کے قلعے بنے ہیں۔ مولانا محمدیوسف لدھیانویؒ نے اپنی کتاب ’’ عصر حاضر حدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘ مساجد کے ائمہ، نمازیوں اور مدارس کے مفتیوں کے بارے میں بہت کچھ متفق علیہ اور احادیث صحیحہ سے واضح کیا ہے۔ پہلے نام کے بغیر فتویٰ دیا جاتا تھا، پھر شناختی کارڈ اور میاں بیوی کو حاضر کرکے فتویٰ دیا جاتا ہے تاکہ خاتون کے خدوخال اور شوہر کی مالداری کودیکھ کر اس کو شکارکرنے والے ابوزید سروجی اپنے داؤ وپیج کے گھوڑے دوڑائیں۔ افسوس کیساتھ کہہ رہا ہوں کہ میری تائید کرنیوالا ایک مفتی و مولانا بھی طلاق کے مسئلے پر فتویٰ کیلئے متاثرہ شخص کی مالی کیفیت پوچھ رہا تھا اور خوش آئند بات یہ ہے کہ بڑے مدارس سے اہلحدیث کے ہاں فتوؤں کیلئے لوگوں کو بھیجا جارہا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اگر جرأت سے کام لیا تو سرکاری خزانے کا کما حقہ فرض ادا ہوگا ، قبلہ ایاز سے اُمید ہے۔ سید عتیق گیلانی۔