موجودہ دور میں خیر اور شرکا تصور

510
0

نبی ﷺ نے قرون اولیٰ میں خیر کے بعد جس شر کا ذکر فرمایا تھا، وہ حضرت عثمانؓ کے آخری دور اور حضرت علیؓ کے دور میں ظاہر ہوا۔ حضرت علیؓ نے نہج البلاغہ میں حضرت عمرؓ کی وفات کے بعد ان کی صلاحیتوں کا جن الفاظ میں اعتراف کیا ہے، اس سے زیادہ اہلسنت بھی حضرت عمرؓ سے عقیدت و احترام کے تعلق کے قائل نہیں۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت پر جوافواہ پھیلائی گئی تھی اس کیلئے بیعت رضوان کی آیات سے صحابہؓ نے رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ کی سندحاصل کی تھی۔آج نہ تو قاتلین عثمانؓ سے بدلہ لینا ممکن ہے اور نہ ہی حضرت علیؓ اور آپ کی آل کو مسند اقتدار کے استحقاق کو تسلیم کرنے سے کوئی تاریخی حقیقت بدل سکتی ہے۔ قرآن میں نبیﷺ سے اختلاف کرنے والے منافقین اور مؤمنین کا واضح فرق ہے۔ مؤمنین پر منافقین کی آیات کا فٹ کرنا قرآن کی روح کے منافی ہے۔
حضرت عمرؓ نے حدیث قرطاس کے معاملہ میں نبیﷺ سے اختلاف کیا کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ اس کی تعلیم وتربیت قرآن وسنت کا تقاضہ تھا اسلئے کہ بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے اور ہجرت نہ کرنے کے باوجود نبیﷺ کا حضرت علیؓ کی بہن سے نکاح کی خواہش پر اللہ نے نبیﷺ کے مقابلہ میں آیات نازل کیں۔ حضرت علیؓ سے حضرت عثمانؓ کی شہادت کا معاملہ اختلاف جنگ وفساد اور شر وفتنہ تک اسلئے پہنچا کہ وحی کا سلسلہ بند ہوچکا تھا۔ مسلمانوں کیلئے حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد اتفاق واتحاد اور وحدت کا راستہ حضرت امام حسنؓ کے کردار کے طفیل باعث تقلید رہا ہے۔ حضرت علیؓ سے اختلاف کرنے سے زیادہ یزید کیخلاف حضرت امام حسینؓ کی طرف سے حزبِ اختلاف کا کردار قابلِ تقلید ہے۔ بنی امیہ کے بعد بنو عباس کے دور میں اہل تشیع کے بارہ اماموں میں سے ایک امام تو ایک خلیفہ کے ولی عہد بھی تھے۔ ان سے زیادہ خلافتِ راشدہ کے دور میں ائمہ اہلبیت سے اکابر تین خلفاء کے تعلقات بہتر رہے۔ تاریخی باتوں میں بہت کچھ مسخ ہوچکاہے اور ایسے تاریخی واقعات پر یقین نہ کرنا بہتر ہے جن سے اہلبیتؓ اور صحابہؓ دونوں کے حوالہ سے بدتر تأثر قائم ہوتا ہو۔ حضرت علیؓ نے قرآن وسنت کی تعلیمات کی وجہ سے ہی حدیث قرطاس کے معاملے کو برداشت کیا،ورنہ تو حضرت عمرؓ جب ننگی تلوار لارہے تھے تو حضرت امیر حمزہؓ نے کہا تھا کہ ’’ اگر غلط ارادے سے آرہا ہو تو اس کو اس کی اپنی تلوار سے قتل کردوں گا‘‘۔
خلافت راشدہ کے بعد حضرت امام حسنؓ نے صلح کا کردار ادا کیا تو خیر میں دھواں بھی شامل ہوا۔سنت اور خلفاء راشدین مہدیین کے علاوہ راستہ اختیار کیا گیا جس میں نیک و بدسب طرح کے لوگ آئے۔ یہ دھویں والا خیر اب پھر اس شر میں بدل گیا ہے جہاں داعی اسلام کے لبادے میں اسلام کی زباں میں جہنم کے دروازے پر کھڑے ہوکر فرقہ واریت کی دعوت دے رہے ہیں۔ کل حزب بمالدیھم فرحون کا مظاہرہ ہورہاہے۔ تمام فرقوں اور جماعتوں نے اپنی طرف بلانا شروع کیا ہے اور دوسروں کو برا بھلا اور غلط کہتے ہیں۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اہل بیت سے محبت نجات کا راستہ ہے باقی جو بھی کرو، خیر ہے۔ کوئی توحید کو نجات کا واحد ذریعہ سمجھتا ہے، کوئی رسول اللہ ﷺ سے محبت کے جذبے کو کافی قرار دیتا ہے، کوئی اسلاف کی طرف سے بنائی ہوئی سنت اور ہدایت کے طریقۂ کار کو کافی سمجھتا ہے۔ کوئی ذکر کرنے کو نجات کا پہلا اور آخری وسیلہ قرار دیتا ہے، کوئی نماز کے بارے میں فرض ادا کرنے کو کافی خیال کرتاہے۔ کوئی نبوت والے کام کے نام پر اپنے طریقۂ کار سے مطمئن ہے،کوئی فرقہ واریت کو نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے لیکن خانہ سب کا خراب ہے۔
فرقے ، مذہبی جماعتیں اور مذہبی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی ڈگر پر چل رہی ہیں مگر اس کے نتائج کیا نکلیں گے؟۔ کوئی حکومت سے چمٹ کر اپنے مفادات حاصل کرتاہے ۔ کوئی مذہب کو اپنا الو سیدھا کرنے کا ذریعہ سمجھتاہے لیکن اندھے ہوکر مذہب کو بے دریغ استعمال کیا جارہاہے۔ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر منظور احمد امریکہ میں بھی پروفیسر رہے ہیں۔ بہت قابلِ احترام شخصیت ہیں۔ طالب علمی کے دور میں جماعت اسلامی کے اسلامی جمعیت طلبہ کے مرکزی ناظم اعلیٰ رہے ہیں۔ عربی پر پورا عبور حاصل کیا ہے اور اصول فقہ کی تعلیمات کو درست معنیٰ میں سمجھ لیاہے لیکن اسلام کے نام پر خلوص کیساتھ اسلام کی حمایت میں ایسی کتاب لکھ ڈالی جو اسلام کی بنیادوں کو ہلاکر رکھ دینے کیلئے کافی ہے۔ علماء ومفتیان حضرات مدارس میں اصول فقہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر اس تعلیم کی روح سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں ورنہ دو باتوں میں ایک بات ضرور ہوتی یا تو ڈاکٹر منظور احمد صاحب کی طرح اسلام سے جان چھڑانے کی بات کرتے اور یا پھر ہماری تحریک میں شامل ہوکر اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد ڈالتے۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک شر کا ذکر قرون اولیٰ کے دور میں کیا تھا ، اس سے پہلے جب خواتین پر مساجد میں آنے سے روکنے کا عمل شروع کیا گیا تو اس میں اجتہادی غلطی شامل تھی۔ اب ایک طرف اسکول کالج، یونیورسٹیوں ، کاروباری مراکز اور دفاتر میں مخلوط نظام رائج ہوتا جارہا ہے۔ یورپ و مغربی دنیا کی طرح اسکے نتائج کھلے عام فحاشی کی صورت میں نکلیں گے تو دوسری طرف فرقہ وارانہ ذہنیت کی وجہ سے مساجد خوف و دہشت اور نفرتوں کی آماجگاہیں بنی ہوئی ہیں۔ حج کا عظیم اجتماع آج بھی خواتین و حضرات کا مخلوط ہوتا ہے، جو مذہبی سیاسی جماعتیں خواتین کے کردار کی مخالفت کرتی تھیں جونہی پرویز مشرف نے خواتین کو خصوصی نشستیں دیں تو اپنی بیگمات ، بیٹیوں اور سالیوں کو اسمبلیوں میں لایا گیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر اسمبلی میں جانے کیلئے مساجد میں جانا بھی ضروری قرار دیا جائے تو اللہ کیلئے نہ سہی پارلیمنٹ کیلئے مساجد بھی آباد ہوجائیں گی۔ اگر کوئی اپنی بیگم ، بیٹی، ماں اور بہن کیساتھ پانچوں وقت باجماعت مسجد میں نماز پڑھنا شروع کردے تو اس سے بڑھ کر کیا ولایت اور شرافت ہوسکتی ہے؟۔ مساجد کردار سازی کے اہم ترین مراکز ہیں لیکن اسکا فائدہ نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ جدید دنیا میں داخل ہوتے ہوئے اگر شہر گاؤں محلے کی مساجد کو کردار سازی کیلئے بنیادی ماحول کے طور پر استعمال کیا جائے تو اسلامی معاشرہ پوری دنیا میں جلد سے جلد غالب آجائیگا۔ مکہ مکرمہ کے مسجد حرام میں خواتین و حضرات ایک ساتھ ہی طواف کرتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔ جہاں ایک نماز کا ثواب لاکھ کے برابر ہے، مگر 49 او ر 89کروڑ کے برابر ثواب کمانے والوں کو بھی زبردست کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔