قرون اولیٰ میں خیر اور شرکا تصور

489
0

نبوت و رحمتﷺ کے بعد خلافت راشدہ کا تیس سالہ دور بھی مثالی تھا۔ حضرت عمرؓ کے دور میں ترقی و عروج کی منزلیں طے ہوئیں ، حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ کادور مسلمانوں کی آپس میں لڑائی ، جھگڑے اور فتنے فساد کا دور تھا۔ حضرت حسنؓ نے مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں کے درمیان صلح کا کرائی، جسکی پیشگوئی نبیﷺ نے فرمائی تھی۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے وقت چالیس دن تک انکے گھر کا محاصرہ رہا ۔ حضرت عثمانؓ کی داڑھی میں ہاتھ ڈالنے والے پہلے شخص حضرت ابوبکرؓ کے بیٹے تھے۔ خوارج پہلے حضرت علیؓ کیساتھ تھے مگر بعد میں مخالف ہوگئے اور جب خلافت کا مرکز مدینہ سے کوفہ و شام منتقل ہوا تو مسجدوں کے جمعہ خطبات میں ایک دوسرے پر لعن طعن کے معاملات بھی شروع ہوئے، ان تلخ تاریخی حقائق کواگر دیکھا جائے تو جن صحابہؓ کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ آپس میں ایکدوسرے پر رحیم اور کافروں پر سخت ہیں مگر عشرہ مبشرہ کے صحابہؓ نے ایکدوسرے سے قتال کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کے خیر کے بعد جس شر کی پیش گوئی فرمائی تھی وہ جنگ صفین اور جنگ جمل وغیرہ میں پوری ہوئی تھی۔ قرآن میں یہود و نصاریٰ کے حوالے سے تنبیہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ دوسروں کے جنت میں داخل ہونے کے قائل نہ تھے اور پھر خود بھی ایک دوسرے کی مذمت کرتے تھے۔
اسلامی تاریخ اور خلافت راشدہ کے آخری دور میں جس شر کا نبی ﷺ نے ذکر فرمایا وہ پورا ہوکر رہا۔ اگر امت مسلمہ حقائق کی طرف دیکھنے کے بجائے جانبداری اور وکالت کا سلسلہ جاری رکھے تو قیامت تک بھی مسلم اُمہ متحد و متفق اور وحدت کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتی ہے۔ اہل تشیع کے نزدیک ایک گروہ حق پر اور دوسرا باطل پر تھا۔ آغا خانی اسماعیلیہ فرقہ کے شیعہ امام حسنؓ کو اسلئے نہیں مانتے کہ صلح میں بنیادی کردار ادا کیا، اثنا عشری امامیہ فرقہ جو اہل تشیع کا اکثریتی فرقہ ہے حضرت امام حسنؓ کا کردار قابلِ تحسین سمجھتا ہے ۔ اہل سنت یزید کے مقابلے میں حضرت امام حسینؓ کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ سنی شیعہ کو قریب لانے کیلئے ضروری ہے کہ جن غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکتاہے ان کو جلد از جلد دور کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے۔ باطل قوتیں شیعہ سنی کو لڑا کر دنیا میں اسلحہ کے فروغ اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے چکر میں ہیں۔ایران و سعودی عرب کے درمیان فتنہ و فساد کا مرکز پاکستان بنے تو دنیا کی واحد مسلم ایٹمی قوت کا بھی خاتمہ ہوجائیگا۔ کوئٹہ میں قتل و غارت گری کے شکار ہزارہ برادری کے باشعور لوگ ایران اور سعودی عرب دونوں کو برا بھلا کہہ رہے تھے کہ انکی وجہ سے پھر سے شیعہ سنی کے درمیان منافرت کا بازار گرم ہوگا ۔ اللہ نے بار بار اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور اولی الامر کے ساتھ اختلاف کی گنجائش رکھی ہے۔حضرت علیؓ اور یزید کی اولی الامری میں بڑا واضح فرق تھا۔
مسلم اُمہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود خلافت و امامت کے مسئلے کو اتنی اہمیت دی ہے کہ قرآن و حدیث کی طرف توجہ نہیں دی گئی اور تاریخی اختلافات کو اچھالتے اچھالتے فرقہ واریت کو اسلام سمجھ لیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے فرقہ وارانہ ذہنیت کی بھی بیخ کنی فرمائی ہے اور عبادتگاہوں کی آبادی کو قرآن میں اہمیت دی ہے۔ تمام مذاہب یہود ، نصاریٰ، مجوس اور مسلمانوں کی مساجد کو اللہ کے نام کی وجہ سے قائم دائم رہنے کی قرآن میں وضاحت ہے۔ جب خلافت راشدہ کے دور میں اللہ کے حکم کے برعکس مسلمان خواتین کو مساجد میں آنے سے روکا گیا تو اسمیں ان کی نیت خراب نہ تھی لیکن یہ قرآن و سنت کے بالکل منافی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے نماز میں اجتماعیت کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اپنی بیگمات کو مساجد میں آنے دو، ان کو مساجد میں آنے سے نہ روکو۔ اسی طرح سے جن کی بیگمات یہود و نصاریٰ تھیں ان کو بھی ان کی عبادتگاہوں میں جانے دینے کا حکم تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج سے فرمایا تھا کہ میرے ساتھ جو حج کرلیا وہ کافی ہے ، میرے بعد حج نہیں کرنا۔ کچھ ازواجؓ نے اس حکم کی پابندی کی ، اُم المومنین حضرت میمونہؓ مکہ مکرمہ کی رہائشی تھیں لیکن حج نہیں کیا۔ اوراُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ مدینہ منورہ سے حج کیلئے نکلیں اور پھر سیاسی و جہادی لشکر کی قیادت فرمائی۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا تھا کہ’’ اگر اس زمانے میں نبی ﷺ حیات ہوتے تو خواتین پر مساجد میں جانے کی پابندی لگاتے‘‘۔ اجتہادی معاملہ میں خطاء کی گنجائش ہوتی ہے ۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے اور اولی الامر سے جن کو اختلاف ہوتا ہے ان سے بھی یقیناًاختلاف کی گنجائش رہتی ہے۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت پر قرآن میں بیعت رضوان کا ذکر ہے ، جو صلح حدیبیہ سے پہلے حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ پر لی گئی تھی۔ حضرت علیؓ کو شہید کرنے والے کو سزا دی گئی مگر حضرت عثمانؓ کو شہید کرنے والے ہجوم کو سزا دینا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ جو ہوا سو اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔
قرون اولیٰ کے دور میں جب مسلمانوں نے خواتین کو اجتہادی بنیاد پر مساجد میں نہ آنے دیا تو خوف و ہراس کی فضا بن گئی۔ حضرت علیؓ کو مسجد میں جاتے ہوئے شہید کیا گیا۔ حضرت عبد اللہ ابن زبیرؓ کے وقت میں بیت اللہ کا مطاف منجنیق کے ذریعے پتھروں سے بھر دیا گیا۔ بنو اُمیہ کے دور میں جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ اور دیگر سورتوں سے پہلے بسم اللہ کو جہری پڑھنے کی پابندی لگائی گئی۔ حضرت امام شافعیؒ کو نماز میں جہری بسم اللہ پڑھنے کو ضروری قرار دینے پر رافضی قرار دیا گیا۔ ان کا منہ کالا کرکے گدھے پر گھمایا گیا۔ آج نئی صورتحال ہے ، اگراس رمضان میں سورہ فاتحہ اور دیگر سورتوں سے پہلے بسم اللہ کو جہری پڑھنے کی ابتداء کی گئی تو یہ بہت بڑا انقلاب ہوگا۔ اہل تشیع ماتم کو سنت اور تراویح کو بدعت سمجھتے ہیں تو علمی بنیادوں پر عملی طور سے حقائق کو سامنے لانا ہوگا۔ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر اہل سنت جہری نمازوں میں جہری بسم اللہ پڑھنی شروع کریں گے تو اہل تشیع بھی ماتم کی زحمت سے باز آنے میں امسال دیر نہیں لگائیں گے۔ بعض قرآنی آیات میں واضح رہا کہ صحابہؓ نے نبیﷺ سے اختلاف کیااور بعض اوقات وحی بھی نبیﷺ کے برعکس مخالف کی تائید میں نازل ہوئی جیسے بدرکے قیدیوں پر فدیہ، سورۂ مجادلہ، رئیس المنافقین کا جنازہ اور حضرت علیؓ کی بہن سے فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ کرنے کے باوجود نکاح کی پیشکش۔