Home Dars-e-Nizami پروفیسر ارمان لونی شہید معروضی حقائق کے تناظر میں

پروفیسر ارمان لونی شہید معروضی حقائق کے تناظر میں

335
0

پروفیسر ابراہیم لونی شہید عظیم انسان تھے۔ ان کی شہادت سے بڑا خلاء پیدا ہوا، جس کو پورا کرنے کیلئے پی ٹی ایم کے پاس متبادل نہیں۔ پی ٹی ایم کی قیادت کو چاہیے کہ چترال سے لیکر زیارت تک ماتمی ریلی نکالیں جیسے اہل تشیع محرم کے دنوں میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت پر ماتم کرتے ہیں۔ حضرت امام حسینؓ نے یزید کیخلاف قربانی دی تو آپکی ہمشیرہ حضرت زینبؓ نے آپ کی تحریک کو اپنے بیانات سے زندہ رکھا۔ پروفیسر ابراہیم لونی شہید کی ہمشیرہ وژانگہ محترمہ اس ورثے کی واحد علمبردار ہیں۔ پی ٹی ایم کے قائدین و رہنماؤں میں کوئی بھی ایسا نہیں جو جواں سال ہمشیرہ کو اپنے ساتھ میدان میں نکالنے کی جرأت کرے۔
پروفیسر ابراہیم لونی نے کوئٹہ پریس کلب میں اپنے ساتھ پختون اور بلوچ خواتین و حضرات کو مشعال خان کے حق میں مظاہرے کیلئے کھڑا کیا اور کہا کہ ’’ہم سب مشعال ہیں۔ کوئی آئے اور ہمیں قتل کردے۔ پیچھے سے وار کرنا مردانگی نہیں بلکہ جس کو قتل کرنا ہے سامنے آئے۔ مشعال خان پر گستاخی ثابت نہ تھی اور جنہوں نے ان کو شہید کیا وہ اگر مرد ہیں تو عدالت میں کہہ دیں کہ ہم نے قتل کیا ۔ مشعال خان کی فیس بک آئی ڈی قتل ہوئی اس کا کمرہ قتل ہوا، جو بے گناہی کے نشانات تھے۔ عدالت تین دن توبہ کرنے کا موقع دیتی ہے۔ مشعال کو تین گھنٹہ کا موقع دیا ، ایک گھنٹہ کا موقع دیا ، ایک منٹ کا موقع دیا اور آدھے منٹ کا موقع دیا ؟‘‘۔ یہ تقریر کوئٹہ پریس کلب میں جرأت کا مظاہرہ کرکے پروفیسر ارمان لونی نے کی ۔ یہ پی ٹی ایم کی قیادت کا فرض بنتا کہ مردان اور صوابی میں مشعال کے حق میں مظاہرہ کرتے، جہاں انکے والدین، بہن بھائی بے یار و مددگار تنہا کھڑے تھے۔ اسلئے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ پروفیسر ابراہیم لونی شہید کا متبادل موجود نہیں ۔
پروفیسر ابراہیم لونی شہید کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے تھا کہ مردان کی اس یونیورسٹی میں کوئی پنجابی نہیں تھا۔ پنجابی غیرتمند قوم ہے ، وہ کسی مجرم کو بھی اس طرح تنہائی میں سزا نہ دیتی۔ غازی علم الدین شہید اور ممتاز قادری شہید نے اپنا جذبہ استعمال کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانی دی اور اپنے اقدام سے مکرنے کا مکروہ کام بھی نہیں کیا۔ یہ وہ بے غیرت پٹھان تھے جنہوں نے ایک بیگناہ کو کسی دلیل اور ثبوت کے بغیر انتہائی غلیظ حرکت کی اور پھر اقرار جرم سے بھی گریز کیا۔ پروفیسر ابرہیم ارمان لونی شہید اگر پنجاب میں پیدا ہوتے تو عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی طرح زندگی بھر اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھتے اور کوئی ان کو شہید نہ کرتا۔ یہی مناسب ہوگا کہ پی ٹی ایم والے اہل تشیع کی طرح ماتمی جلوسوں سے ارمان شہید کو اب زندہ رکھیں۔ علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے اپنے خطاب میں پاکستان کو امریکہ کے سامنے سرنڈر ہونے کا اچھا طعنہ دیا ہے اور اچھا کیا ہے کہ امام خمینی کو خراج عقیدت پیش کیا ہے لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ عراق میں امریکیوں کا استقبال کرنے والے میر جعفر میر صادق کا کردار اہل تشیع نے ادا کیا تھا۔
اے این پی کے اندر دوقسم کے لوگ ہیں ایک مذہبی اقدار کے بہت پابند اور دوسرا طبقہ کمیونزم کے خیالات سے متاثر۔ افراسیاب خٹک اور بشریٰ گوہر پہلے کسی دوسری پارٹی میں کام کررہے تھے اور پھر اے این پی کا حصہ بن گئے۔ ان کو مذہب سے دور طبقہ کہا جاسکتا ہے۔ مشعال خان کے والد اقبال خان بھی اسی طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اقبال خان ایک روشن خیال اور ترقی پسند پشتو شاعر بھی ہیں اور ان کی خوبی یہی ہے کہ لسانی تعصبات پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ وہ بالکل ٹھیک سمجھتے ہیں کہ سوال اٹھانے کا راستہ جاری رکھنا چاہیے۔ وہ ایک محب وطن پاکستانی اور اچھے انسان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے پیچھے نماز پڑھی۔ مجھے یہ سن کر بڑا افسوس ہوا کہ مشعال خان کی شہادت پر بھی انکے گھر کے دروازے کے قریب مسجد میں اشتعال انگیز آوازوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اگرچہ اقبال خان اور ان کے گھرانے کے افراد کا مسجد سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن مسجد کے امام کو پھر بھی شریک غم ہونا چاہیے تھا۔
وزیرستان میں زام پبلک اسکول کے پرنسپل عارف خان محسود نے جلسہ عام میں اللہ کی ذات پر سوالات اٹھائے تھے لیکن کسی نے ان کا گریبان تک نہیں پکڑا تھا۔ بعد میں فالج کا شکار ہوئے تو سچے پکے مسلمان بن گئے۔ یوسف نسکندی سے ملاقات کے بعد سیلم اختر اور پھر ایک 75سالہ عاصم جمال سے ملاقات ہوئی تھی۔ عاصم جمال مذہب کی مخالفت میں تمام حدوں سے گزر جاتے تھے۔ لیکن پھر مکالمے کے بعد اس بات پر آئے کہ نماز پڑھنے کی خواہش کرنے لگے اور بتایا کہ وہ پہلے 22 پارے کے حافظ بھی تھے۔ مکالمہ جاری رکھنے، سوالات اٹھانے سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اللہ کے سامنے سوالات اٹھائے تھے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خضر کے سامنے بھی سوالات اٹھائے تھے۔ یہ ایک باطل اور فرسودہ جملہ تھا کہ ’’اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں ، اور کسی کا عقیدہ چھیڑو نہیں‘‘۔ ایسے میں تو سوالات کا سلسلہ دفن ہوجاتا ہے۔ یہ اس وقت کہا جاسکتا ہے کہ جب انسان کو اپنے مسلک اور عقیدے پر اعتماد نہ ہو۔
ساہیوال میں پنجابیوں کے ہاتھوں پنجابیوں کا قتل ایک حادثہ تھا۔ کراچی اور سندھ میں رحیم شاہ کے ہاتھوں ایک سندھی اور باجوڑ کے پختونوں کا قتل بھی ایک حادثہ تھا۔ ہر بات کو وردی سے جوڑنے کی بات ہوگی اور پنجابیوں سے تعصبات کو ہوا دی جائے گی تو یہ دال گلے کی نہیں۔ پاکستان کی ریاست کو چاہیے کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کرکے مجرموں کو قرار واقعی سزا بھی دے، ایک وقت تھا کہ لیاری پر بھتہ خوروں کی ریاست چل رہی تھی جب آپریشن کی بات ہوتی تو عوام کا ایک سیلاب نام نہاد سرداروں کے تحفظ کیلئے سامنے آجاتا تھا۔ یہ بدمعاش ہر دور میں ہر کہیں ہوتے ہیں لیکن جب ان کو سیاستدانوں کی پشت پناہی اسلئے حاصل ہوتی ہے کہ عوام میں اپنی ساکھ قائم رکھ سکیں تو معاشرہ برباد ہوجاتا ہے۔ طالبان کے فکر و عمل سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن جوانوں نے جس طرح اپنی جانوں پر بارود باندھ کر قربانیاں دیں اور نہ صرف پورے خطے کو بلکہ مشرق و مغرب کو ہلا ڈالا اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ محمود غزنویؒ اور ابدالیؒ کے باپ دادوں اور پردادوں میں بھی اتنی ہمت نہ تھی لیکن جب وقت کے ساتھ جوش ہوش میں بدل گیا تو آج طالبان سرنڈر گھومتے پھر رہے ہیں جن کو سلنڈر کہا جاتا ہے۔ دین کے نام پر آخرت میں حوریں پانے کیلئے خود کو بارود سے اڑانا زیادہ مشکل نہیں لیکن دنیا بنانے کیلئے اپنی زندگی قربان کرنا مشکل کام ہے۔ کمیونسٹ انسان دوست ہوتے ہیں لیکن آخرت کی امید نہ رکھنے کی وجہ سے دنیا کی بزدل ترین مخلوق دیکھنی ہو تو یہ کامریڈ نظر آئیں گے۔ مجھے ذاتی طور پر علماء سے زیادہ کامریڈ اسلئے اچھے لگتے ہیں کہ اگر علماء کی طرح کامریڈوں کے بس میں ہوتا تو یہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے اسلام کے نام پر حلالوں کی لعنت میں ملوث نہ ہوتے۔ محسود اور پختون قوم سے طلاق کی حقیقت دنیا کے سامنے لائیں۔ انڈیا کی پارلیمنٹ میں ہندو خاتون نے قرآن کا طلاق فطری اور دنیا کیلئے قابل قبول قرار دیا ہے۔