فرقہ واریت کو بنیاد سے ختم کرنے کی ضرورت ہے

1512
0

حضرت امام حسنؓ نے کم سنی میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کہا کہ ’’آپ میرے باپ کے منبر پر بیٹھے ہیں‘‘ ۔ حضرت ابوبکرؓ بہت روئے، گود میں اٹھایا ، فرمایا کہ ’’ خدا کی قسم یہ تیرے باپ کا منبر ہے، یہ میرے باپ کا منبر نہیں ‘‘۔ حضرت حسینؓ نے کم سنی میں یہی بات حضرت عمرؓ سے کی ، فاروق اعظمؓ نے پیار کیا اور پوچھا کہ ’’ کس نے یہ بات سمجھائی ہے‘‘۔ حضرت حسینؓ نے کہا کہ ’’کسی نے نہیں خود سے یہ سمجھ رہا ہوں‘‘۔ خلافت پر شروع سے اختلاف تھا کہ انصار ومہاجرین، قریش و اہلبیت میں سے کون حقدار تھا، انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ نے کبھی حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے پیچھے نماز نہ پڑھی، تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاسؒ کے بیٹے مولانا یوسف حضرت جیؒ نے اپنی وفات سے تین دن پہلے اپنی آخری تقریر امت کے اتحاد پر کی تھی، جس میں سعد بن عبادہؓ کو جنات کی طرف سے بطورِ سزاقتل کی بات ہے۔ تبلیغی نصاب یا فضائل اعمال میں موجود کتابچہ’’موجودہ پستی کا واحد علاج‘‘ کے مصنف مولانا احتشام الحسن کاندھلویؒ کی ایک کتاب میں حضرت حسنؓ وحسینؓ کی طرف سے بچپن میں حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے سامنے منبر کی حقداری کا ذکرہے۔
کربلا میں حضرت حسینؓ کیساتھ جو سلوک ہوا، اگر یزید اور اسکے لشکر کی حمایت کو ترجیح دینے کیلئے یہ سبق دیا جائے کہ حضرت حسنؓ و حسینؓ نے بچپن سے جو رویہ اختیار کیا تھا، کربلا میں بھی ان کی اپنی غلطی تھی، یزید برحق تھا اور مسندِ خلافت کیخلاف سازش کرنیوالا غلط تھاتو اہل تشیع کے تعصب میں یہ ممکن ہے مگر افراط و تفریط سے امت کو منزل پر نہیں پہنچایا جاسکتا۔ میں اہل تشیع کے مؤقف سے ایک فیصد بھی اتفاق نہیں کرتا اور خلافت کیلئے حضرت علیؓ اور آل علیؓ سے زیادہ کسی اکابر صحابیؓ اور انکی اولاد کو مستحق اور اہل نہ سمجھنے کے باوجود سو فیصد خلافت راشدہؓ کے ڈھانچے کو قرآن و سنت اور منشائے الٰہی کے عین مطابق سمجھتاہوں۔ حضرت ابوبکرؓ کے بعدصدیق اکبرؓ کے صاحبزے کا کوئی سوال بھی پیدا نہ ہوا۔ حضرت عمرؓ کے بعد عبداللہ بن عمرؓ کو خلافت کی مسند پر بٹھانے کی تجویز آئی تو فاروق اعظمؓ نے یکسر مسترد کردی اور فرمایا کہ ’’ جو بیوی کو طلاق دینے کا طریقہ نہیں سمجھتا، وہ خلافت کے امور کو کیسے چلائے گا؟ اسلئے خلافت کی مسند پر بیٹھنے والوں کی فہرست سے یہ باہر ہے‘‘۔ حضرت عثمانؓ پر تو اقرباپروری کے الزامات لگے مگرخلافت کو موروثی بنانے کا کوئی الزام نہ لگا،ورنہ مورثی خلافت عثمانیہ بنی امیہ کی امارت سے پہلے شروع ہوجاتی،البتہ حضرت علیؓ نبی ﷺ کے چچازاد اور داماد تھے، ان کو خلیفہ اول نامزد کردیا جاتا توخلافتِ راشدہ عوام کی رائے سے نہیں شروع سے موروثیت میں بدل جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت علیؓ میں جو صلاحیت رکھی تھی وہ کسی اورصحابیؓ میں ہرگز نہ تھی، حضرت ابوبکرؓ سے تو حضرت عمرؓ میں زیادہ صلاحیت تھی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: لولا علی لھک عمر ’’اگر علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہوجاتا‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ کے مقام کو حضرت عمرؓ سے اونچا اسلئے سمجھتا ہوں کہ اللہ نے اہلیت اور صلاحیت حضرت عمرؓ میں زیادہ رکھی تھی لیکن حضرت ابوبکرؓ اپنے خلوص کی وجہ سے آگے بڑھ گئے، اللہ نے دکھادیا کہ فضیلت کی بنیاد صلاحیت کی محتاج نہیں، ورنہ کم صلاحیت والے اللہ کی بارگاہ میں اپنا عذر پیش کردیتے۔صلاحیت توابوجہل میں بھی ابوسفیان سے زیادہ تھی۔
بلاشبہ حضرت علیؓ میں وہ صلاحیت نہ تھی جو حضرت ابوطالب میں تھی۔صلح حدیبیہ کے موقع پر سارے صحابہؓ جذبات میں تھے، حضرت علیؓ نے رسول اللہ کا لفظ کاٹنے پر نبی ﷺ کے حکم کے باوجود انکار کیا۔حضرت ابوطالب ہوتے تو اپنے ہاتھ سے رسول اللہ کے لفظ کو کاٹ کر کہتے کہ اگر لفظ کاٹنے سے نبوت ختم ہوتی ہے تو بھتیجے کی نبوت بالکل ختم ہوجائے، یہ منصب مصلحتوں کا تقاضہ کرتاہے، لڑائی کا ماحول پیدا کرنے کا نہیں۔ اور یہ کریڈٹ لیتے کہ اپنے بھتیجے کی ایسی تربیت کی ہے جس میں مصالحت کو آخری حد تک لیجانے کی اہمیت شامل ہے۔ انسان پر ماحول کا گہرا اثر ہوتا ہے، بیت اللہ میں حجرِ اسود کا معاملہ آیا تو نبیﷺ پر وحی نازل نہ ہوئی تھی، یہ گھریلوماحول کا نتیجہ تھا کہ اتحادو اتفاق اور قبائل میں قومی وحدت قائم فرمائی۔ نبیﷺ نے حضرت ابوطالب سے صاحبزادی ام ہانیؓ کا رشتہ مانگا مگر ابوطالبؓ نے غربت کا لحاظ رکھا، نبوت کا لحاظ نہ کیا، دو غریب میاں ﷺبیوی رضی اللہ عنہاایک گھرمیں اکٹھے ہوجاتے تو نبوت کی تحریک چلانے میں مشکل پیش آتی۔ اسلئے نبیﷺ کیلئے ایک مالدار خاتون حضرت خدیجہؓ کارشتہ لیا۔حضرت عمرؓ نے نسبت کیلئے حضرت علیؓ سے بیٹی کا رشتہ مانگا، حضرت علیؓ نے انکار نہیں کیا۔ ابوطالب کا رسول اللہﷺ کیلئے انکار اور حضرت علیؓ کا حضرت عمرؓ کو رشتہ دینے سے انکار نہ کرنے میں کم ازکم اہل تشیع کو حضرت ابوطالب کی صلاحیت کا اعتراف کرنا پڑیگا۔حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہﷺ کو اپنی صاحبزادی کا رشتہ دیا۔ ام ہانیؓ نے فتح مکہ کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کے رشتے کی پیشکش قبول نہ کی اور اللہ نے نبیﷺ کو پھر ان سے رشتہ منع کردیا تھا۔
مولانا طارق جمیل کا ٹی پر بیان تھا جو نبیﷺ کا نیک نیتی سے دفاع کر رہا تھا کہ پچیس سال کے جوان نے چالیس سال کی خاتون سے شادی کرکے یہ ثابت کردیا کہ ’’آپﷺ نے نفسانی خواہشات کیلئے شادیاں نہیں کیں‘‘۔ حالانکہ یہ غلط بات ہے، پھر نبیﷺ پر غیرمسلموں کے اس اعتراض کا کوئی دفاع نہیں ہوسکتا کہ عمر کا لحاظ کئے بغیر ایک بڑی عمر کے شخص نے ایک چھوٹی بچی حضرت عائشہؓ سے شادی کیوں کی؟۔ سوال 9سال کے بجائے 18سال کی عمر پر بھی ختم نہیں ہوتا، اسلئے معتقدین کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے مخالفین کو مخالفت کا موقع فراہم کیا جائے تو بڑی حماقت ہے؟۔ جنید جمشید کے طرزِ تکلم اور مولانا طارق جمیل کے طرزِ استدال میں کوئی فرق نہیں ۔ 25سالہ جوان 40سال کی عمر والی سے شادی کرے یا 53سال کی عمر میں چھوٹی عمر والی لڑکی سے شادی کی جائے تو یہ انسانی فطرت کا تقاضہ ہے۔ مسئلہ عمر میں فرق کا نہیں بلکہ بات اتنی ہے کہ جبری شادی نہ ہو۔ حضرت عائشہؓ نے حضرت یوسف علیہ السلام سے زیادہ اذیت اٹھائی تھی اور حضرت یوسف علیہ السلام سے حضرت زلیخا کو جتنی محبت تھی اس سے زیادہ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے نبیﷺ سے محبت کی تھی۔ طعن و تشنیع کا محل دونوں طرف سے نہیں ہونا چاہیے۔ اگر حضرت عائشہؓ کی اولاد ہوتی تو حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے زیادہ معزز ان کو سمجھا جاناتھا۔ مغرب کوزلیخا کی اولاد پر فخرہے تو ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی اولاد پر مسلمان کیوں فخر نہ کرتے؟۔ لونڈی ماریہ قبطیہؓ سے اولاد زندہ رہتی توبھی انصارومہاجر، قریش واہلبیت،عباسی واہلبیت کا جھگڑا چلنے کی نوبت نہ آتی۔
اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ موروثی نظام قائم نہیں کرنا تھا۔ نبیﷺ کی ایک لونڈی حضرت ماریہ قبطیہؓ کے صاحبزادے کو اللہ تعالیٰ نے بچپن میں اٹھالیا۔ ہماری صحاح ستہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے فرزند کے بارے میں فرمایاکہ ’’اگر زندہ رہتے تو نبی اور صدیق ہوتے‘‘۔ جس سے قادیانی ختم نبوت کے انکار کا عقیدہ پیش کرتے ہیں۔ جب غلو کرنے والے حضرت علیؓ کو بھی خدا کے درجہ پر پہچاکر چھوڑتے ہیں تو فرزندِ نبی کو نبوت کے درجہ پر ضرور پہنچاتے ۔ورنہ خلافت کا موروثی نظام تو اسلام کے گلے میں پڑ ہی جاتا۔ احادیث کی کتب میں وہ روایات بھی ہیں جس سے قرآن کی حفاظت کا قرآنی عقیدہ بھی قائم نہیں رہتا۔ رضاعت کبیر کے مسئلہ پر بھی من گھڑت احادیث صحاح ستہ کی زینت ہیں۔ جس میں نبیﷺ کے وصال کے وقت چارپائی کے نیچے دس آیات بکری کے کھا جانے سے ضائع ہونے کا ذکرہے۔ حضرت ابوبکرؓاور حضرت علیؓ کے حوالہ سے بھی وہ احادیث موجود ہیں جن کی وجہ سے امت مسلمہ کا افتراق وانتشار یقینی ہے۔ اتنی وضاحتوں کا مسئلہ ہوتا تو پھر انصارؓ وقریشؓ اور اہلبیتؓ و خلفاء راشدینؓ میں اختلاف کیوں ہوتا؟۔
ابوطالب نے حضرت ام ہانیؓ کی شادی مشرک سے کرادی جو فتح کے بعدمکہ چھوڑ کر عیسائی بن گیا۔ حضرت علیؓ نے قتل کرنا چاہا، اپنی بہن سے مشرک کا نکاح ناجائز سمجھا تھا، نبیﷺ نے روک دیا، حضرت ام ہانیؓ کے کہنے پرامان دیدی۔ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا تعلق وحی سے تھا، ایک خاتون کو مروجہ قول کیمطابق ظہار پر فتویٰ دیا تو اللہ نے سورۂ مجادلہ میں اس منکر قول کی اصلاح فرمائی ۔ صحابہؓ نے اکثریت سے غزوہ بدر کے قیدیوں پر فدیہ کا مشورہ دیا اور آپﷺ نے قبول فرمایا تو اللہ نے نامناسب قرار دیا، جب صلح حدیبیہ سے متعلق صحابہؓ نے اختلاف کیا تو اللہ نے نبی ﷺ کے فیصلے کو فتح مبین قرار دیا۔ اگر حضرت علیؓ خلیفہ نامزد ہوجاتے، ان سے اختلاف کی گنجائش نہ ہوتی اور وحی کا سلسلہ بھی بند ہوتا تواسلام اور امت کوناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا۔مولانا الیاسؒ کے خلیفۂ مجاز مولانا احتشام الحسنؒ تھے مگر تبلیغی جماعت نے مولانا الیاسؒ کا بیٹا جانشین بنایا۔مولانا احتشام الحسنؒ امیر بنتے توتبلیغی جماعت اپنی پٹری سے نہ اُترتی۔انہوں نے سب سے پہلے تبلیغی جماعت کو فتنہ قرار دیا تھا۔
نبیﷺ نے غدیر خم کے موقع پر فرمایا: من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ ’’جسکا میں مولا ہوں ، یہ علی اسکا مولا ہے‘‘۔ جس سے دوست نہیں ،سرپرست مراد تھا۔ نبیﷺ حضرت علیؓ کوؓ اپنے بعد خلیفہ بنانا چاہتے تھے ، حدیث قرطاس میں بھی اس کی تحریری چاہت تھی، حضرت عمرؓ نے روکا کہ ’’ہمارے لئے اللہ کی کتاب ہی کافی ہے‘‘ تو یہ منشائے الٰہی کیمطابق تھا۔ اس میں شک نہیں کہ حضرت علیؓ میں خداد صلاحیت اور اہلیت تھی، نبی ﷺ کی طرح ان کی آل پر بھی زکوٰۃ حرام تھی۔ جب انصارؓ وقریشؓجھگڑا کررہے تھے توقریش کی بنیاد سے زیادہ احادیث کی بنیاد پر حضرت علیؓ اور اہلبیت کا حق مقدم تھا۔ نبیﷺ کے جانثارانصارؓ نے خود کواسلئے خلافت کا حق دار سمجھا کہ جس حدیث کو حضرت ابوبکرؓ نے پیش کیا وہ خبرواحد تھی۔ علماء نے لکھا کہ الائمۃ من القریش’’ امام قریش میں سے ہونگے‘‘ حدیث پربعد میں اجماع ہوا، اگر اصولی طور پر نبیﷺ نے لوگوں کو یہی تلقین کرنی ہوتی تو بھی انفرادی مجلس کا اظہار حقائق کے منافی تھا۔ پھر کھل کر اجتماع عام میں کہہ دیا جاتا کہ ’’میرے بعد امام قریش میں سے ہونگے‘‘۔ وضاحت کے بعد انصارؓ خلافت کے حقدارنہ بنتے۔ اسکے مقابلہ میں حضرت علیؓ کی ولایت زیادہ خلافت کے استحقاق کیلئے مناسب دعویٰ تھا۔
شیعہ نے بارہ سے مراد اپنے امام سمجھے ،خلافت وامامت کے حوالہ سے انکا مؤقف کمزور نہیں ، خصوصاً جب بنو امیہ اور بنوعباس نے موروثی بنیادوں پر استحقاق جمانے کی روایت قائم کی اور پھر ترک کی موروثی خلافت عثمانیہ قائم ہوئی۔ مدارس، خانقاہوں سے لیکرمذہبی و سیاسی جماعتوں کو بھی موروثی بنایا گیا تو شیعہ کو کیوں موردِ الزام ٹھہرایا جائے؟۔ حقائق کیلئے مدارس ، خانقاہوں، سیاسی ومذہبی جماعتوں اور بادشاہتوں کا بھی خاتمہ کرنا پڑیگا۔ ایران میں بادشاہت نہیں عرب میں موروثی نظام ہے۔ سعودیہ میں اہلیت کے بجائے وراثت سے اہل تشیع کے عقیدے کو تقویت ملتی ہے اور ایران کی جمہوریت سے اہلسنت کے مؤقف کو تقویت ملتی ہے، بجائے اہلیت کے جمہوری بنیاد پر حکمرانوں کی تقرری مقبول ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی سے فرقہ واریت کا گھپ اندھیرا اجالے میں بدلے گا، مذہبی طبقے روشنی کا فائدہ اُٹھانے کے بجائے دن دھاڑے ہاتھ میں موم بتیاں لیکر بارود کے ڈھیر سے کھیل رہے ہیں، ملاعمراور ابوبکرالبغدادی پر اختلاف کی طرح شیعہ سنی اختلاف کا حل بھی موجودہ دور کی اہم ترین ضرورت ہے ورنہ عراق وشام اور افغانستان جیسا حال ہوگا۔
ایران اور سعودیہ کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کیلئے فرقہ وارانہ لٹریچر میں اعتدال ضروری ہے۔ اگر حضرت علیؓ پہلے خلیفہ بنتے تو وراثت کی مہلک ترین بیماری کا سارا الزام اسلام کی گردن میں آتا۔ حضرت عمرؓنے اپنی وفات سے پہلے تین چیزوں پر افسوس کا اظہار کیا کہ کاش رسول اللہﷺ سے پوچھتے کہ’’ 1: آپﷺ کے بعد خلیفہ کون ہو۔ 2: زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف قتال سے متعلق 3: کلالہ کی میراث کے بارے میں‘‘۔ حضرت عمرؓ نے خلیفہ مقرر کرنے کی فکر کی۔ حضرت ابوبکرؓ نے بھی اپنا جانشین مقرر کیا۔ نبیﷺ نے بھی حجۃ الوداع میں فرمایا کہ ’’ دوبھاری چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک قرآن اور دوسری میری عترت، دونوں کو مضبوط پکڑوگے تو گمراہ نہ ہوگے‘‘۔ حدیث کی سند پرتسلیم شدہ محقق علامہ البانی نے اس حدیث کو درست قرار دیا اور نبیﷺ نے غدیر خم کے موقع پر حضرت علیؓ کو اپنے بعد سرپرست بنانے کا حکم دیا۔ حدیث قرطاس میں اہل تشیع کے بارہ اماموں کا شجرہ لکھ دیتے لیکن حضرت عمرؓ نے رکاوٹ ڈال دی۔ کیا یہ مان لینے سے تاریخ بدل جائے گی؟۔
صلح حدیبیہ میں حضرت علیؓ کا رسول اللہ کے لفظ کو کاٹنے سے انکار ایک کنفرم اور بنیادی غلطی اسلئے تھی کہ اللہ نے اسی معاہدے کی قرآن میں تائید کردی۔ حضرت عمرؓ نے بدر کے قیدیوں پر جو مشورہ دیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس رائے کے برعکس ان صحابہؓ کی رائے پر فیصلہ فرمادیا جس میں حضرت ابوبکرؓ، حضرت علیؓ اور دوسرے اکابرؓ صحابہؓ شامل تھے۔اللہ نے اکثر کی مشاورت کے باوجود رسول اللہﷺ کا فیصلہ نامناسب قرار دیا۔ جب نبی ﷺ نے مشاورت کے بغیر حضرت علیؓ کو نامزد کیاتھا تو بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے سے زیادہ حضرت عمرؓ کی رائے کو اللہ پسندیدہ قرار دے سکتا تھا۔ نبیﷺ کو قرآن میں اللہ نے مشاورت کا حکم دیااور امیرالمؤمنین کی تقرری اس کا تقاضہ کرتی ہے۔
اہلسنت نے حماقت سے واقعات کی غلط تعبیر وتشریح کی۔ مولا اور ولی دوست کے معنیٰ میں بھی ہے لیکن دوست کیلئے اعلان غیرضروری تھا۔ ایک طرف فرقوں کے مولانا ہیں تو دوسری طرف آیات میں یہودونصاری اور مشرکین کو اپنا سرپرست بنانا منع ہے جس سے دوست مراد لیا گیا، جب یہودونصاریٰ کی خواتین سے شادی جائز ہے تویہ دوستی سے بڑھ کر دوستی ہے۔ آیت میں سرپرست ہی مراد ہے مگر احمق طبقہ سمجھ رہا ہے کہ امریکہ وبرطانیہ کو سرپرست بنانا جائز ہے، دوستی جائز نہیں ۔ موجودہ دور میں دہشت گردوں، فرقہ پرستوں اور شدت پسندوں کو ذرائع ابلاغ کے ذریعہ سمجھانا مشکل نہیں۔ شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث اختلاف کا خاتمہ بہت آسان ہے۔ عوام وخواص، حکمران و علماء ، سیاسی قیادت اور مجاہدین کی ترجیحات اپنے غلط مفادات کی تابع ہیں،ماتمی جلوس اور شاتمی رویہ کو ختم کرنے میں بالکل بھی دیر نہ لگے گی ۔حضرت امام حسنؓ نے حضرت علیؓ سے خلافت کا منصب سنبھالنے پر کھل کر اختلاف کیا،پھرمنصب سے دستبرداری بھی اختیار کرلی ۔ اگر اسکا خلاصہ سمجھ میں آیا تو قرآن وسنت پر اتفاق ہوگا اور صحابہؓ پر اختلاف کی شدت نہ رہے گی۔
اصل بات یہ ہے کہ حضرت عمرؓ کے اندر حضرت ابوبکرؓ سے زیادہ صلاحیت تھی مگر تقدیرالٰہی نے کمال کرکے دکھایا۔ اگر حضرت عمرؓ پہلے خلیفہ بنتے تو زکوٰۃ کے مسئلہ پر امت مسلمہ کا اختلاف نہ بنتا۔ اختلاف کی سنت قرآن اور نبیﷺ کے دور میں بھی جاری تھی۔ اللہ نے اس کو شدومد سے مسلم امہ میں جاری رکھنا تھا۔ قرآن میں جبری زکوٰۃ لینے کاحکم نہ تھا، نبیﷺ کو لینے کا حکم اسلئے دیاکہ صحابہؓ کی خواہش تھی کہ آپﷺ کو زکوٰۃ دی جائے۔ نبیﷺ نے اللہ کا حکم ماننے کیساتھ اپنے اہل عیال اور اقرباء پر بھی زکوٰۃ حرام کردی تاکہ مستحق لوگوں کی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ حضرت ابوبکرؓ سے شروع میں بھی جبری زکوٰۃ لینے کے مسئلہ پر حضرت عمرؓ نے اختلاف کیا اور جب مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اس کی خوبصورت بیگم سے حضرت خالد بن ولیدؓ نے جبری شادی کی تو بھی حضرت عمرؓ نے سنگسارکرنا مناسب قرار دیامگر حضرت ابوبکرؓ نے تحمل سے کام لیکر تنبیہ پر اکتفاء کیا۔ نبی ﷺ نے بھی ایک موقع پر حضرت خالدؓ کی طرف سے بے دریغ قتل وغارت گری سے اپنی برأت کا اعلان فرمانے پر اکتفاء کیا تھا۔اللہ تعالیٰ بھی انسان کو زندگی میں غلطیوں پر توبہ کرنے کا بار بار موقع فراہم کرتا ہے۔ ہم نے مانا کہ حضرت علیؓ سے غلطیاں نہ ہوتیں اور مہدی غائب بھی کوئی غلطی نہ کرینگے لیکن اللہ کی سنت یہ رہی ہے کہ قبطی کو قتل کرنے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ظاہری منصبِ خلافت پر فائز کرتاہے ، جس نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی داڑھی اور سر کے بالوں سے پکڑلیا تھا۔ حضرت خضرؑ جیسے ولایت کے حقداروں کو ظاہری منصب سے اللہ نہیں نوازتا ہے۔ جو بچے کو بھی قتل کرے تو ایک نبی کوبھی اپنے سے اختلاف کی گنجائش رکھنے کا حقدار نہ سمجھے بلکہ راستہ الگ کردے۔
حضرت ابوبکرؓ نے جبری زکوٰۃ وصول کی مگراہلسنت کے چاروں فقہی امام متفق ہوئے کہ زکوٰۃ کیلئے قتال جائز نہیں،اختلاف کی رحمت جاری رکھنے کا یہ وسیلہ بن گیا ،مسلکوں کی مت ماری گئی کہ نماز کیلئے قتل پر اختلاف کیا، حالانکہ جب زکوٰۃ کیلئے قتل جائز نہ ہو تو نمازپرقتل کے حوالہ سے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے تھی۔ امام مالکؒ وامام شافعیؒ نے وقت کی حکومتوں کا تشدد برداشت کیالیکن اگر یہ برسرِ اقتدار آتے اور بے نمازیوں کو قتل کرنا شروع کرتے تو عوام کو اسلام سے نفرت ہوجاتی۔ حکمران ان فرشتہ صفت انسانوں کے مقابلہ فاسق فاجر تھے لیکن منشائے الٰہی میں ان پاکبازائمہ سے وہ حکمران بھی اسلام اور امت مسلمہ کیلئے بہتر تھے۔ قیامِ پاکستان کے وقت بھی مذہبی طبقات اپنے اختلافات میں الجھے تھے اور واجبی مسلمان قائدین نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ سعودیہ میں بھی مذہبی طبقے سے بہتر خادم الحرمین کیلئے شاہی خاندان ہے۔نجدی مذہبی شدت پسندوں کا اقتدار ہوتا توپھر رسول اللہﷺ کے روضہ مبارک کے نشانات مٹادیتے، قبر کو سجدہ گاہ بنانے والوں کو نبیﷺ کی دعا سے وہاں کا اقتدار نہیں مل سکتا ،ورنہ وہ قبرمبارک کو سجدہ گاہ بنالیں۔ علامہ شاہ تراب الحق قادریؒ کے مدرسہ کے مہتمم نے بھی اس کا اظہار کیاتھا۔ مذہبی طبقے کو اقتدار میں آنے سے قبل اجنبیت کے ان غلافوں سے نکلنا پڑے گا جن میں لپٹے ہوئے یہ اسلام سے بہت ہی دور ہیں۔عتیق الرھمٰن گیلانی