مذہبی سیاسی جماعت کے منشور کی ضرورت کیوں ہے؟ پہلے ایک مختصر سا جائزہ لینا مناسب ہے ۔

736
0

siyasi-mazhabi-jamat-ka-manshoor-maulana-fazlur-rahman-imam-abu-hanifa-imam-malik-imam-shafai-imam-hanbal-halala-teen-talaq-triple-talaq
پاکستان میں مذہبی و سیاسی جماعتیں ایک ہی طرح کے ملتے جلتے منشور صرف رجسٹریشن کیلئے بناتی ہیں، عوام تو بہت دور کی بات ہے جماعتوں کے قائدین اور بڑے رہنما بھی اس سے واقف نہیں ہوتے۔ برسرا قتدار آنے کے بعد منشور زیرِ بحث نہیں آتا۔ ایسے منشور کا خاکہ تیار کرنا ضروری ہے کہ اقتدار سے پہلے بھی عوام اور پسے ہوئے طبقات تک اس کا فائدہ پہنچے اور اقتدار میں آنے کے بعد اس پر عمل نہ ہو تو عوام کے اندر شعور بیدار ہوکہ یہ جماعت امین ہے نہ صادق بلکہ منافق ،اسلئے دوبارہ وہ عوام کی طرف سے ووٹ لینے کا رخ کرنے پر زندہ وتابندہ نہیں بلکہ شرمندہ رہے۔
قرآن کی آیات یا اس کا ترجمہ حوالہ جات کیساتھ ایک نصاب کی طرح پوری قوم کو سمجھانے کی ضرورت ہے ۔محرم رشتوں کی وضاحت ہے کہ ’’ ان کیساتھ نکاح مت کرو جنکے ساتھ تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے مگر جو پہلے گزر چکا۔ تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں اور بیٹی، بہن، بھائی وبہن کی بیٹی، خالہ، پھوپی، دودھ پلانے والی ماں،وہ سوتیلی بیٹی جو تمہارے گھر میں پلی بڑھی جس کی ماں میں تم نے ڈالا ہے ، اگر اسکی ماں میں نہیں ڈالاہے تو تمہارے لئے جائز ہے۔ تمہارے بیٹے کی بیوی اور یہ کہ دوبہنوں کو جمع کرو اور عورتوں میں سے محصنات مگر جن کے معاہدے کے تم مالک بن جاؤ‘‘۔
چوتھے پارے کا آخر میں پانچویں پارے کے ابتدائی جملے تک محرمات ایک فہرست ہے ،ان کا سمجھنا سمجھانا ہرمسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔ محرمات کا معلوم نہ ہونا بڑی جہالت ہے۔ عام طور پر ان پڑھ لوگ بھی محرمات جانتے ہیں۔ یہ دورِ جاہلیت کی بات تھی کہ باپ کی لونڈی اور سوتیلی ماں سے بھی نکاح کیا جاتا تھا ،بڑی بات تھی کہ اللہ نے پہلے کے معاملے سے درگزر کی وضاحت کردی۔ حقیقی بیٹے کی بیوی کو بھی محرم قرار دیا۔ منہ بولے بیٹے کی سورۂ احزاب میں بھرپور وضاحت ہے کہ وہ حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوسکتے۔ اتنی وضاحتوں کے باوجود مولانا آزاد جمیل نے سماء ٹی وی پر 15 رمضان المبارک کو افطار کے پروگرام میں کہا کہ ’’ بہو کی سسر سے شادی ہوسکتی ہے۔ تفصیل سے اس پربات بھی ہوئی‘‘۔ پروگرام سحری کے نشرِ مقرر میں بھی چلا۔ مولانا آزادجمیل آخری سحری تک’’ بول ٹی وی ‘‘ پر جلوہ افروز رہے۔ تعجب صرف مولانا آزاد جمیل کی جہالت پر نہیں تھا بلکہ سید بلال قطب اور ساتھ میں بیٹھے ہوئے شیعہ علامہ پر بھی تھا کہ انہوں نے بھی فوری طور سے لقمہ نہیں دیا کہ قرآن وسنت، فطرت وانسانیت اور عقل وفہم کیخلاف کیا بکواس کررہے ہو؟۔ اسلامی اسکالروں اور علامہ کہلانے والوں کی جہالت کا یہ عالم ہو تو عام تعلیم یافتہ اور ان پڑھوں میں کتنی جہالت ہوگی؟۔
یااہل الکتاب لا تغلوا فی دینکم ’’ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو مت کرو‘‘۔اللہ کا یہ حکم مان لیتے اور دین میں ہم اہل کتاب کی طرح غلو افراط وتفریط میں مبتلاء نہ ہوتے تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ میں جب جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کا طالب علم تھا تو ترجمہ پڑھانے والے استاذ مفتی محمدولی خانؒ نے بتایا کہ ’’ خواتین فتویٰ پوچھنے آتی ہیں کہ داماد سے ناجائز تعلق کے بعد بیٹی کا داماد سے رشتہ قائم رہتاہے؟‘‘۔حنفی مسلک میں جائز وناجائز دونوں صورتوں میں حرمت مصاہرت قائم ہوجاتی ہے۔ ناجائز تعلق توبہت دور کی بات غفلت، نیند اور وہم وگمان میں بھی نہ ہو تب بھی اگر شہوت سے ہاتھ لگ گیا تو رشتہ ختم ہوجاتاہے، نصاب میں پڑھایا جاتاہے کہ ساس کی شرمگاہ اگر شہوت سے باہر سے دیکھ لی تو عذر ہوگا لیکن اس کی شرمگاہ کو اندسے شہوت کیساتھ دیکھا تو حرمت قائم ہوجائے گی۔ بیوی کیساتھ مباشرت اور ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد اصولی طور سے میاں بیوی میں بھی اولاد کے ناطے رشتہ ازدواج کا تعلق ناجائز بن جاتاہے لیکن ضرورت کی وجہ سے جائز قرار دیا گیاہے۔ یہ انواع واقسام کی بکواس اصولِ فقہ کی کتابوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ ٹانک شہر کے بہت بڑے عالم مولانافتح خانؒ کے پاس اس مسئلہ پر بات کرنے کیلئے ملک مظفر شاہ کانیگرم کی جانی پہچانی شخصیت کو بٹھایا تو مولانافتح خانؒ نے فرمایا کہ’’ پیر صاحب زورآور آدمی ہے، میں کیا کہہ سکتا ہوں‘‘۔ ملک مظفر شاہ کو یہ مغالطہ ملا کہ حقیقت کے خلاف شاید میں اپنی من مانی کررہا ہوں۔
فقہ حنفی میں اس قدر غلو کہاں سے آئی؟۔ حقیقت ومجاز کے اصول میں ہے کہ نکاح کا لفظ میل میلاپ کے معنی میں حقیقی ہے، مباشرت جائز ہو یازناہو حقیقی نکاح ہے۔اور شرعی عقدمیں نکاح کا لفظ مجازی ہے۔ حقیقت کی موجودگی میں مجازی معنی مراد نہیں لیا جاسکتاہے۔ حقیقی ومجازی معنی میں یہ فرق ہے کہ حقیقت کی نفی نہیں ہوسکتی ہے، مجازی کی نفی ہوسکتی ہے۔ شیر حقیقت میں جانور ہے تو نہیں کہا جاسکتاہے کہ شیر شیر نہیں ہے۔ بہادر آدمی کو شیر مجازی طور پر کہا جاتاہے تو نفی ہوسکتی ہے کہ بہادر آدمی شیر ہے کہ بہادر ہے اور شیر نہیں ہے کہ جنگلی نہیں۔ فقہ حنفی کو مزید تقویت دینے کی میرے اندر اللہ کے فضل سے صلاحیت ہے ۔ قرآن کہتاہے کہ جو سوتیلی بیٹیاں تمہارے گھر میں پلی بڑھی ہیں ، ان کی ماؤں میں اگر تم نے ڈالا ہے تو تم پر حرام ہیں اوراگر ان میں نہیں ڈالا ہے تو جائز ہیں۔ کہا جاسکتاہے کہ مجازی معنیٰ نکاح سے زیادہ حقیقی معنی میں حرمت کی صلاحیت ہے،اسلئے کہ مجازی معنیٰ عقد سے حرمت کی نفی اور حقیقی معنیٰ داخل کرنے سے حرمت کا ثبوت قرآن میں موجود ہے۔ جبکہ امام شافعیؒ کے نزدیک ناجائز تعلق سے حرمت مصاہرت زنا سے بھی ثابت نہیں ہوتی۔
فقہ میں آسمان زمین کا فرق اور اصولِ فقہ میں سمجھنے کا فقدان بہت بڑا مسئلہ ہے۔کیا شریعت میں ایسی تفریق ہوسکتی ہے کہ عورت فتویٰ لیکر آئے کہ داماد پر ناجائز نیند، غفلت یا نشہ میں ہاتھ لگ گیا تو بیٹی کارشتہ حرام ہوگیا۔ اور دوسرے مسلک والا کہے کہ نہیں ناجائز مباشرت سے بھی رشتے پر اثر نہیں پڑتا ہے؟۔ علماء کرام اور مفتیان عظام اپنی ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر نصاب کو درست کریں۔ قرآن میں عفوو درگزر ہے ، جائز وناجائز کی حقیقت بھی ہے اور اخلاقیات کا درس بھی ہے۔ جب صحابہ کرامؓ کو آبا کی منکوحہ سے پہلے کے نکاح کا درگزر فرمایاتو نصاب کی غلطی پر بھی درگزر فرمائے گا۔ یہ تمہاری بہت بڑی کم عقلی ہے کہ تم یہ پڑھاؤ کے آبا کی موجودگی میں دادا کی منکوحہ مراد نہیں لی جاسکتی ہے تو ہم اس کو قرآن کی آیت سے نہیں اجماع سے ثابت کرتے ہیں۔ باپ دادا میں کوئی فرق نہیں اور تمہارا عقدنکاح کو مجازی اور مباشرت کو حقیقی نکاح قرار دینا بھی انتہائی جہالت ہے۔ لغت کا تعلق معاشرتی زباں سے ہوتا ہے۔ حضرت آدم ؑ و حواءؑ ، ہابیل قابیل سے لیکر ہردور میں نکاح و زنا کا الگ الگ تصور ہرمعاشرے میں موجود ہے۔مباشرت کو حقیقی اور عقدِ نکاح کو مجازی کہنے کا نصاب تلف کرنا پڑے گا۔ ہاتھ لگانے سے کے نکاح و طلاق اور ہاتھ لگانے کے بعد کے نکاح و طلاق میں فرق قرآن نے خود واضح کیا ہے۔ ابنۃ الجونؓ کا واقعہ بخاری میں ہے مگر جس حدیث میں رسول اللہﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام سے بھی زیادہ ایک خاتون کیساتھ حسنِ سلوک اور خواتین کی آزادی کیلئے انتہا درجہ کی عملی قربانی دینے کی مثال قائم فرمائی اس پر جس طرح انتہاء درجہ کی غلط تشریح کو وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خانؒ اور علامہ غلام رسول سعیدیؒ نے اپنی معتبر شرح میں نقل کیا ہے جو علامہ ابن حجرؒ کے حوالہ سے ہے تو اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کے محمدی بیگم کاقصہ بھی پیچھے چھوڑ دیاہے۔ عائشہ گلالئی نے جو عمران خان پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایاہے جس پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بن گئی ہے تو احادیث صحیحہ کی غلط تشریحات کا آئینہ بھی عوام کو دکھایا جائے جس کا اثر نہ صرف پاکستان کے ملحد طبقے پر پڑے گا بلکہ دنیا میں اسلام کا مذاق اڑانے والے بھی سیدھی راہ پر آجائیں گے۔جب تک ہمارے دینی مدارس کے نصاب کی اصلاح نہ ہوگی کوئی مسئلہ حل نہ ہوگا۔
وہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
بیہودہ اور انتہائی فحش قسم کے اشتہارات میں گزر بسر کرنے والی قوم کہے گی کہ قرآن کی زباں میں محرمات کی آیات کو نصاب میں کیسے شامل کیا جاسکتاہے؟۔ سوتیلے بچوں کی ماں میں ڈالنے والی بات اخلاقی قدروں کی معیار پرپورا نہیں اُترسکتی ہے۔ جن بچوں میں پرندوں، جانوروں ،انسانوں اور ٹی وی فلموں ڈراموں کے جنسی رحجانات اور حقائق کا شعور ہوتاہے ،ان کیلئے بچیوں کی سوتیلی ماں کی کھلی وضاحت اخلاقی اقدار کے مثبت رحجانات کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ نے کھلے لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے زنا کے قریب نہ جانے کا حکم دیا ۔چونکہ ایک مؤمن ومسلمان کیلئے انتہائی بداخلاقی کی کیفیت ہے کہ اس نے کسی بیوہ یا طلاق شدہ سے شادی کی ہو اور اس کی چھوٹی بچیاں بھی ہوں جو اس کے گھر میں پل کر جوان ہوئی ہوں۔اور پھر اس کا ارادہ خراب ہوجائے کہ وہ اس کی اپنی بیٹیاں تو نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے غلیظ خیالات کے دماغ پر زور دار ضرب لگانے کیلئے فرمایا کہ’’ جن کی ماؤں سے نکاح کرنے کے بعد ان میں ڈالا ہے اور اگر نہیں ڈالا ہے تو جائز ہیں‘‘۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص کسی بیوہ یا طلاق شدہ سے نکاح کرے اور اس کی بیٹیاں جوان ہونے تک اس کیساتھ ازدواجی تعلقات قائم نہ کرے۔ یہ صرف اخلاقی طور سے چوٹ مارنے والی بات ہے، مگر فقہاء نے یہ مسئلہ نکال دیا کہ ماں سے نکاح کرنے کے بعد اگر ہاتھ نہیں لگایا ہو تو اس کو چھوڑ کر بیٹی سے نکاح کیا جاسکتاہے اور بیٹی سے نکاح کے بعد ہاتھ لگانے سے پہلے چھوڑ دیا جائے تب بھی اس کیساتھ نکاح جائز نہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتاہے کہ بیٹی سے نکاح کے بعد بیٹی کو چھوڑ کر اس کی ماں سے نکاح کیا جائے۔ قرآن کے پاس الفاظ کی کمی نہیں تھی لیکن مذمت کیلئے اللہ نے دخول کے الفاظ کو استعمال کیا ہے ورنہ دوسری جگہ اللہ نے مشرک جوڑے کے بارے میں کس قدر اچھے الفاظ میں میاں بیوی کے تعلق کا نقشہ کھینچا ہے۔ فرمایا:’’جب اس نے اس کو ڈھانپ لیا تو اس کو حمل ہوا خفیف سا حمل،پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو دونوں میاں بیوی نے دعا کی کہ ہمارے رب ہمیں تندرست بچہ عطا فرما، جب اللہ نے تندرست بچہ دیا تو وہ اللہ کیساتھ شریک ٹھہرانے لگے‘‘۔
قرآن وسنت سے فقہی مسائل کے اختلافات کا متفقہ حل نکالنے میں بالکل دیر نہیں لگے گی مگر نیت اور عملی کردار کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ مدارس کو چاہیے تھا کہ یہ اخبار طلبہ کو خریدکر دیتے اور سب کو اپنی اپنی مطلب کی چیز اور علم کا خزانہ سمجھاتے۔ مغرب کی یونیورسٹیوں کی طرح مجھے درس کیلئے بلاتے ، تاکہ دماغی کاوش کی صلاحیتیں ان میں منتقل کرنے میں کوئی دیر نہ لگتی ۔ جب تک اپنے فریضہ کیلئے اپنی جدوجہد نہ کرلوں تو قبر کی مٹی میں نہ علمی جواہرات میرے کام کی ہیں نہ کسی اور کی۔ طلبہ کرام!، میں نے تمہاری طرح مدرسہ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ نصاب کو سمجھنے کیلئے شروحات کے سہارے لئے ، اساتذۂ کرام سے سوال وجواب کئے، نصاب پر تنقید کرنے کے حوالہ سے حوصلہ شکنی کا کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مدارس کی محبت میرے دل اور میری روح میں بسی ہوئی ہے۔ مجھ پران مادر علمیہ کا احسان نہ ہوتا تو میں اسلام کی خدمت کرنے کا تصور نہیں کرسکتا تھا۔ اللہ نے فرمایا: انمایخشی اللہ من عبادہ العلماء ’’ بیشک اللہ سے اسکے بندوں میں سے علماء ڈرتے ہیں‘‘۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ علماء کا خوف معتبر ہے۔ جو جاہل اللہ سے ڈرتا ہو لیکن حلال کی جگہ حرام اور حرام کی جگہ حلال سمجھ کر عمل وکردار ادا کررہا ہو تو اس کا خوف اللہ کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔ سمت درست نہ ہو توحج پر جانیوالا مکہ مکرمہ خانہ کعبہ کے بجائے ایران کے جعلی کعبہ پہنچ جائیگا جو ابھی نقلی طور پر بنایا گیاہے اور پھر اس کی پوزیشن جاہل عوام میں بالکل تبدیل بھی ہوسکتی ہے اسلئے کہ جہاں شبیہ کو تقدس کا درجہ حاصل ہووہاں بڑی مشابہت کا معاملہ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پچھلے محرم میں یہ تقریر سامنے آئی تھی کہ یہ جھوٹ ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ۔ بلکہ پاکستان ذوالجناح نے بنایا تھا۔ قائداعظم کے داد ا نے ذوالجناح کی منت مانگی تھی ، جس کو ذوالجناح نے بیٹا دیا،اسلئے اس کا نام پونجا جناح رکھ دیا۔ بعض کراچی والے جس طرح کراچی کو کرانچی کہتے ہیں ،اس طرح پوجا کو پونجا کردیا گیا تھا۔ ہم نے پچھلے محرم میں تبصرہ لکھ دیا تھا کہ پاکستان بھارت کے 22 صوبوں میں کسی ایک صوبے کے برابر بھی نہیں اور کشمیر کی آازدی بھی ادھوری ہے۔تو بھارت کے ہندو بھی کہہ سکتے ہیں کہ ذوالجناح کے مقابلے میں ہماری گاؤ ماتا نے بڑا بھارت دیدیا ہے اور کل ایران کا جاہل طبقہ نہیں بلکہ پاکستان کے مقبول ذاکر بھی کہیں گے کہ ایران کعبے کی شبیہ کیلئے وجود میں آیاتھا ، وجہ اس کی یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امریکہ سعودیہ کیساتھ ہے اسلئے امام مہدی غائب کے ظہور کیلئے ایک ایسا کعبہ ضروری تھا جس میں خروج کیلئے کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
قرآن وسنت حقائق کے ادراک کیلئے بہت بڑا معیار ہیں۔ حرمت مصاہرت پر فقہی اختلاف کا یکسر خاتمہ ہوسکتاہے۔ اصول سے غلط نتائج نکالنے کے بجائے درست مسائل کا استنباط کیا جائے جس کا خلاصہ عوام کے سامنے رکھا جائے تو معاشرے پر اسکے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ نکاح کا معاہدہ جب تک نتیجہ خیز حد تک پہنچ کر ازدواجی تعلقات قائم کرنے کی حد تک نہیں پہنچے تو وہ ادھورا ہی رہے گا۔ اس کامقرر کردہ حق مہر نصف ہوگا اور عورت پر عدت نہیں ۔ عدت نہ ہو تو اس پر نکاح کی تکمیل پر پہنچنے کا اطلاق بھی نہیں ہوتا۔ عربی میں بعل اس شوہر کو ہی کہتے ہیں کہ جس نے بیوی سے ازداوجی تعلق بھی قائم کرلیا ہو، صرف نکاح والے کو بعل نہیں کہتے۔ ہماری اصطلاح میں جس کو منگنی کہا جاتاہے ،وہی درحقیقت شرعی اور زبانی نکاح ہے ۔رخصتی کے بعد ازدواجی تعلق کے قیام پر ہی ہاتھ لگانے کا اطلاق ہوتاہے۔ ازدواجی تعلق کے بعد پورے حق مہر اور عدت گزارنے کا معاملہ بھی آتاہے۔ حضرت ابنۃ الجونؓ سے رسول اللہﷺ نے نکاح ، حق مہر اور معاملات طے کیے، خلوت صحیحہ کے بعد ہاتھ لگائے بغیر رخصت فرمایا تو حضرت عمرؓ کو پتہ چلا کہ اس نے دوسری شادی کی ہے تو بہت ناراض ہوکر پہنچے۔ ابنۃ الجونؓ نے کہا کہ مجھ پر اُمّ المؤمنین کا اطلاق نہیں ہوتا اور نہ میں رسول ﷺ کے حرم میں داخل ہوئی ہوں۔ جس پر حضرت عمرؓ نے چھوڑ دیا۔ قرآن و سنت کا آئینہ مسلکی اختلافات کو ختم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ حرمت مصاہرت کیلئے نکاح اور دخول کا مجموعہ بنیاد بنے تو کسی مسلک کا اختلاف بھی نہیں رہے گا اور غیر فطری مسائل سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ جب قرآن میں نکاح کیساتھ دخول کا مسئلہ بھی واضح ہے تو اس سے زیادہ وضاحت نہیں ہوسکتی ہے۔ فقہی مسائل کو معاشرہ سمجھ کر عمل کرے توبہت مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ بیوی شوہر سے لڑ پڑے اور کہہ دے کہ میرا ہاتھ غلطی سے شیر خوار بچے کیساتھ شہوت سے لگ گیا تو میاں بیوی کا نکاح نہ رہے گا۔اسی طرح بیٹا باپ سے لڑ ے اور کہے کہ میں نے شہوت کیساتھ بہن یا ماں کو ہاتھ لگادیا تو ماں باپ کا نکاح نہیں رہے گا۔ مجھے خوشی ہے کہ ایک مدرسہ کے مفتی نے مجھ سے کہا : ’’حرمت مصاہرت کے مسائل پر بڑے علماء میں تشویش ہے ، وہ اس مشکل سے نکلنے کی راہ دیکھ رہے ہیں‘‘۔ وہ مفتی صاحب خودکو مفتی تقی عثمانی کا ہم پلہ اسلئے سمجھتے ہیں کہ دارالافتاء کے رئیس ہیں۔درسِ نظامی اور فتاویٰ کی کتابوں کا ترجمہ موجودہے، کوئی بھی معمولی تعلیم والا کہیں سے عبارت تلاش کرلے گا۔
اصل مسئلہ صلاحیت کا ہوتاہے، اگر کوئی اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے موجودہ سودی نظام کو جواز بخشے گا تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پہلے بھی یہ مختلف ادوار میں اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کیلئے ہوتا رہاہے۔اصل بات یہ ہے کہ کوئی اجنبیت کے سیاہ ترین بادلوں کے باوجود نصاب پر توجہ دے اور اسلام کا روشن چہرہ دنیا کے سامنے پیش کردے۔ پہلے کوئی محنت کرتا تھا تو کاتب کے ذریعے حق کا پیغام نہیں پہنچ پاتا تھا۔ پریس اور موجودہ میڈیا کا دور بعد کی پیداوار ہے۔ شاہی درباروں میں حق اور اہل حق کی جگہ نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ پابند سلاسل رہتے ۔ آج کمپیوٹر کی کتابت ، پریس اور سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ ورنہ ہمارے لئے بھی کلمۂ حق بلند کرنا آسان نہ تھا۔ مہدی، نبوت اور خدائی کے دعویدار بناکر مار دئیے جاتے اور قبر پر تختی لگادی جاتی کہ مہدی اور نبوت کا دعویٰ کرنیوالا اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ تبلیغی جماعت کا پروپیگنڈہ سیل متحرک ہوکر گلی کوچوں اور کونے کونے میں پیغام پہنچادیتا کہ ہماے ا ایک برگشتہ جادوگر ، ستمگر، گمراہ اور انتہائی دھوکہ باز فراڈی انسان حاجی عثمان نے پیری کے لبادے میں لوگوں سے فراڈ کیا اور یہ عتیق الرحمن اسی کا چیلہ تھا ۔اہل حق کا دشمن، علماء کرام کا گستاخ، اکابرین کی عظمتوں کا منکر اور نئے دین کا مدعی انتہائی خطرناک بدمعاش تھا۔ اپنی ساری صلاحیت شیطانی قوتوں میں خراب کردی، داڑھی اور دینی لبادے سے بھی آخر محروم ہوگیا تھا۔
بعض لوگ سمجھتے ہونگے کہ یہ عتیق گیلانی ہے تو بہت اچھا انسان ، اسکے ایسے جانثار ساتھی ہیں جو بہادری اور جوانمردی میں ایک تاریخ رقم کررہے ہیں۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر مشکل اوقات میں جو قربانیاں دے رہے ہیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ لیکن یہ ملامتی صوفی کی علامات ہے جس میں ہروقت کوئی نہ کوئی ایسی بات، ایسا جملہ اور ایسے معاملات اٹھائے جاتے ہیں کہ لوگ ملامت کی گردان ہی جاری رکھتے ہیں۔ میں ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ ملامتی صوفی کو چھوڑئیے ،حقائق کی طرف دیکھئے۔ ایک انسان کی جان بچانا انسانیت کو زندہ کرنا ہے۔ حلالہ کی لعنت سے ایک خاتون کی عزت بچانا ساری دنیا کی عزت بچانا ہے ۔ قرآنی آیات کے احیاء سے مردہ قوم کے جسم میں پھر زندگی کی روح دوڑنا شروع ہوجائے گی ۔ ہمارا ہدف پاکستان اور اسلامی دنیاہی نہیں بلکہ ہم دنیا بھر میں اس خلافت علی طرزِ نبوت کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں جس سے آسمان اور زمیں والے دونوں کے دونوں خوش ہونگے۔تقریباً 27سال کا عرصہ ہوا، نقشِ انقلاب شائع کرتے کرتے۔ اور اب یوٹیوب پرپہلی تقریر دی ہے ،جو اوکاڑہ کی مختصر تقریب میں کی ہے۔اس میں میرا ٹھنڈا اور دھیمہ لہجہ مت دیکھو بلکہ قرآن وسنت کی ترویج اور فرقہ واریت کے خاتمہ کا انداز دیکھ لو۔
زمانہ جاہلیت میں ایک طرف باپ کی منکوحہ سے نکاح کرلیتے تو دوسری طرف منہ بولے بیٹے کی بیوہ سے نکاح ناجائز سمجھتے۔ یہ قصے نہیں قرآنی آیات ہیں جن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کی کئی ریاستوں میں کم عمر لڑکیوں کے نکاح پرپابندیوں کے باوجود مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ جہاں جنسی آزادی ہو، 12، 13سال کی لڑکیاں ماں بننے کامعمول ہو وہاں 16،18اور20سال کی عمر تک شادی پر پابندی دورِ جاہلیت سے بڑی جہالت ہے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا صدر غلام مصطفی جتوئی الیکشن ہارگیا اورسینئر نائب صدر کی بنیاد پر مولانا سمیع الحق وزیراعظم بننے کے حقدارتھے مگر پھر صوبائی رہنما نوازشریف وزیر اعظم بن گئے۔ مولانا سمیع الحق پر میڈم طاہرہ کا سکینڈل بنا۔ اصغر خان کیس کے حقائق کو سامنے لایا جائے تاکہ نوجوں نسل نظریاتی بن جائے۔ پھانسی کے بعد ذو الفقار علی بھٹو کے ختنہ کی بھی تلاشی لی اور اگر شریف النفس سرائیکی جنرل باجوہ اور نواز شریف کے ہمدرد چیف جسٹس ثاقب نثار کی موجودگی میں لاہوری وزیر اعظم کی تلاشی نہ لی گئی تو لاہور ی سپوت اور جیو کے حامد میر یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ پاکستان تخت لاہور ہے۔ مذہبی وسیاسی مسائل نے قوم کو گھیرے میں لیا ہے۔ اس منشور کی ضرورت ہے جو درست راہ پر لگادے۔ منشورکی قرآنی آیات کی تلاوت مساجد میں خوش الحان قاریوں سے کروائی جائے۔ جید علماء سلیس ترجمہ کریں۔ سحر بیان خطیب عوام کو سمجھائیں۔ دانشوراس کی حکمتوں کو عوام میں منتقل کریں۔ مدارس علماء اور طلبہ کو بھیج دیا کریں، تبلیغی جماعت ، دعوت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، جمعیت علماء پاکستان اور دیگر چھوٹی بڑی تنظیمیں اپنی اپنی خدمات موثر طریقہ سے انجام دیں۔