Home اداریہ امریکہ کی سعودیہ عربیہ کو دھمکی اور پاکستان کی صورتحال

امریکہ کی سعودیہ عربیہ کو دھمکی اور پاکستان کی صورتحال

438
0

امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے شاہ سلیمان کو ہتک آمیزلہجے میں دھمکی دی ہے کہ ’’ ہمارے بغیر تمہاری حکومت دوہفتے بھی نہیں چل سکتی ہے۔ فوجی اخراجات ہمیں دو، ورنہ ہم تمہاری مدد نہیں کرینگے‘‘۔ یورپی یونین امریکہ کا ساتھ ایران کے معاملے میں نہیں دے رہا ہے۔پہلے جرمنی، ترکی اور جاپان آپس میں متحد تھے۔ برطانیہ، امریکہ، فرانس نے اس اتحاد کو پارہ پارہ کرکے تہس نہس کردیا اور برصغیر کی تقسیم میں بھی انگریز کو اسلئے دلچسپی تھی کہ روس، چین، ایران، برصغیر پاک وہند، ترکی ، جرمنی، جاپان وغیرہ ایک پیج پر جمع ہوکر مغرب کی امامت کوکبھی کسی طرح سے چیلنج نہ کرسکیں۔ مشرقی ممالک کے اتحاد میں پاکستان و مسئلہ کشمیر مخل رہے اور عرب ممالک کیخلاف اسرائیل کا خودکاشتہ پودا کام جاری رکھے۔
عراق اور لیبیا کی تباہی کے بعد ترکی ، ایران ، سعودیہ اور پاکستان کو شکنجے کی نذر کرنے میں باری کا انتظار کیا جارہاہے کہ پہلے کس کو نشانہ بنایا جائے۔ بھارت بھی محفوظ نہیں رہے گا اور چین وروس کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔ مغل بادشاہ ٹیپو سلطان کی بات ٹھیک ہے کہ ’’ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے‘‘۔ غزوہ بدر و اُحد کے بعد صلح حدیبیہ کرنے میں بھی حرج نہیں ہے مگر ہم اپنی تقدیر بدلنے کی صلاحیت خود رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جھوٹ نہیں بولا ہے کہ ’’ اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا ہے جو اپنی حالت خود نہ بدلے‘‘۔
سعودیہ کو امریکی دھمکی سے آزاد کرنے کیلئے پاکستان ایران اور بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔ دشمنی نہیں دوستی میں بھی کشمیر ہمیں مل جائیگا۔ جب بھارت اور پاکستان کو بڑے پیمانے پر ایران سے تیل وگیس کی سپلائی شروع ہو تو پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل بن جائیگا۔ بیرون ملک قرضوں سے نجات مل جائے گی تو یہ قوم سودی قرضوں کی ادائیگی کیلئے بھاری بھرکم ٹیکسوں کے نیچے نہیں مرے گی۔ امداد لینے کے بجائے امداد دینے والا ملک ہم بن جائیں گے اور بھارت ہمیں گیس وتیل کی رائلٹی دیگا۔ بھارت سے گائے کا گوشت روس اور نوآزاد مسلم ممالک وافغانستان سپلائی کرینگے تو بھی ہمارا بہت سا قرضہ اُترجائیگا۔ بھارت کو ایران اور افغانستان کی راہداری مل جائے گی تو کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل کرنے میں بخل سے کام نہیں لے گا۔ دشمنی کی فضاء نہیں رہے گی تو دفاعی بجٹ دونوں ممالک اپنے غریب باسیوں پر خرچ کرینگے۔ برصغیر پاک وہند کا وسیع تر میدانی اور افغانستان سے روس تک پہاڑی علاقہ ایکدوسرے کی ضروریات پورا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ ایران ،ترکی کے راستے یورپ تک تیز رفتار ٹرین کے ذریعے بھارت،بنگلہ دیش اور مشرقی ممالک تک سفر وتجارت کا سلسلہ شروع ہوگا تو دنیا کی تقدیر بدل جائے گی۔ پاکستان اس کیلئے شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان خطے کی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرے گا تو اسرائیل خود مسلم ممالک کو دعوت دیگا کہ قبلہ اول پر تمہارا حق ہے لیکن مسلم فتح کے جھنڈے گاڑھ لینے کے بعد بیت المقدس کو قتل گاہ نہیں بنائیں گے بلکہ یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کو پوری آزادی حاصل ہوگی کہ اس میں اپنے اپنے دن مکمل عبادت کریں۔ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو ایک ہی عبادتگاہ باری باری سب کے حوالے ہوگی تو مذہبی شدت پسندی کا ناسور دنیا سے خود بخود ختم ہوجائیگا جسکے پیچھے اسلحہ بیچنے اور ہیروئن کا کاروبار کرنے والا مافیا ہے۔ پاکستانی قوم کو شعور کون دیتا ؟۔ جبکہ قائداعظم کی زبان اور علامہ سر محمد اقبال کے اشعار ونظریات سمجھنے سے بھی یہ قوم قاصر تھی۔
قرآن وسنت آئین کا حصہ ہے اور اسلام کے نام پر یہ مملکتِ خداد اد وجود میں لائی گئی ہے لیکن اسلام کا نام لینے والے مذہبی طبقات ، مدارس ومساجد نے ہی قرآن وسنت کی تعلیمات کو سب سے زیادہ زیروزبر کرکے رکھ دیا ہے۔ دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ سودی نظام نے عالم انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے مگر ہمارا شیوخ الاسلام طبقہ سودی نظام کو بھی اسلامی قرار دینے کی جسارت کررہاہے جسکے نتیجے میں عام بینکوں میں بھی قرآنی آیت احل اللہ البیع وحرّم الربوٰ ’’اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے‘‘ جلی حروف سے لکھنے کی زحمت کی گئی ہے۔ معیشت، سیاست، معاشرت اور ہرچیز میں اسلام کے نام پر دھوکہ کیا جارہاہے۔ بقول اقبال : ؂ تم مسلمان ہو جسے دیکھ کر شرمائے یہود؟۔
ایرانی تیل کی سملنگ میں سیاستدان، سول وملٹری بیوروکریٹ اور سمگلرسب ملوث ہیں۔ اگر اس کی جگہ پر قانونی ٹیکس وصول کرکے حکومت کا بوجھ کم کیا جائے تو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی عوام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔ لوگوں کو کم قیمت میں تیل وگیس کی فراہمی اور حکومت کو ضرورت سے زیادہ ٹیکس ملے گا اور پاکستان میں زندگی کی طاقت دوڑ جائے گی۔ پاکستان کے ائرپورٹوں پر سستا تیل بین الاقوامی جہازوں کو فراہم کیا جائیگا تو مسافروں اور سیاحوں کی ریل پیل شروع ہوگی۔ ائرپورٹ دنیا بھر کے جہازوں سے آباد ہوجائیں گے۔ پاکستان کو دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جائیگا۔ پاکستان کی کرنسی ڈالر سے کئی گنا بڑھ جائے گی۔ پاکستان میں تجارت اور کاروبارِ زندگی سے اعلیٰ اخلاقی معیار اور اقدار دنیا کے سامنے آجائیں گے۔ پھر عرب اور یورپی ممالک کے لوگ روزگار کیلئے پاکستان آئیں گے، پاکستانیوں کو روزگار کیلئے کہیں جانا نہیں پڑے گا۔ جھوٹے و بے بنیاد افواہوں اور پروپیگنڈوں کی ایکدوسرے کیخلاف ضرورت نہ پڑیگی۔
سعودی عرب کو امریکہ دھمکی نہیں دے سکے گا۔ ایران اور سعودیہ شیعہ سنی کی منافرت بھی نہیں رہے گی۔ خانہ کعبہ کو مسلم ممالک جدید سے جدید تر انداز میں وہ مرکز بنائیں گے کہ تیز رفتار روشنی کی مدد سے خانہ کعبہ رات کے وقت آسمان کو چھو رہا ہوگا۔ جدید ترین نظام سے فاصلے پر بھی قریبی مسافت کی طرح طواف کیا جاسکے گا۔ خانہ کعبہ ،مدینہ منورہ اور بیت المقدس کی عبادتگاہوں میں سہولت اور آسانی سے رسائی ممکن بنائی جائے گی۔ تمام انسان قرآن کے مخاطب ہیں اور ہر زبان میں قرآن کا سلیس ترجمہ کرکے مذہبی طبقات کی خرافات کو عقلی ونقلی دلائل سے ملیامیٹ کردیا جائیگا تاکہ قیامت کے دن رسولﷺ نے امت کے خلاف جس شکایت کا اظہار کرنا ہے کہ یارب ان قومی اتخذوا ہذالقراٰن مھجورًا ’’اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ سے اسکا ازالہ پاکستان سے شروع کردیا جائے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، سود اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے ، سودی نظام سے جتنی رقم دوسروں کے حوالے کردی جاتی ہے اس سے زیادہ کرپشن بھی نہیں ہوتی ہے۔ پہلے ایک احمق نوازشریف نے بے تحاشا قرضے لیکر ملک کو ڈبویا اور اب دوسرے احمق نے مزید بے تحاشا رقم حاصل کرنے کیلئے ٹیکسوں کی بھرمار سے پوری قوم کی غریب وامیر عوام کا جینا دوبھر کرنے کیلئے اقدامات شروع کئے ہیں۔ پاکستان کو ایٹم نہیں بچاسکتا ہے لیکن غربت اس کو مارے بغیر بھی موت کی نیند سلادے گا۔ دنیا بھر کی سازشیں پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف نبرد آزما ہیں اور ہمارے اقتدار والا طبقہ جھوٹی تسلیاں دے رہاہے۔ سید عتیق گیلانی