Home نوشتہ دیوار شمارہ اگست طلاق کے مسئلے کا بہترین حل

طلاق کے مسئلے کا بہترین حل

760
0

سید عتیق گیلانی نے ایک تسلسل کیساتھ طلاق کے مسئلے پر بہترین مضامین لکھے ، عوام و خواص کی سمجھ میں بھی بات آرہی ہے ، اکابرین کا بھی کچھ نہیں بگڑ رہا اور کوئی خاتون اپنی ناکردہ گناہ کی انتہائی بیہودہ سزا بھگتے یہ بھی انتہائی ظلم ہے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید قرآن کی آیات میں اس پر مجبور کیا گیا ہے اور احادیث میں اسکی وضاحت ہے اسلئے اس پر غیب کے ایمان کی طرح سوچے سمجھے بغیر عمل درآمد ہورہا تھا۔ اللہ نے قرآن میں بار بار عقل ، تدبر اور عدل کی بات کی ہے۔ قرآنی آیات پر تدبر کیا جاتا ، عقل سے کام لیا جاتا اور عدل کے تقاضے پورے کئے جاتے تو بہت اچھاتھا ، لیکن اُمت مسلمہ قرآن و سنت کی طرف توجہ کئے بغیر بھول بھلیوں میں پھنستی گئی اور اسلام بھی بہت قریب کے دور سے ہی رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق اجنبیت کا شکار ہوتا گیا ہے۔
طلاق یکطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ میاں بیوی کے درمیان ایک باقاعدہ معاملہ ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو نصف حق مہر اور عدت کے ادوار نہیں جن کی گنتی ہو۔ ازدواجی تعلق کے بعد طلاق دی جائے تو عورت باقاعدہ عدت بھی گزاریگی۔حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش تک عدت ہے، حیض آنے کی صورت میں طہرو حیض کے حوالہ سے عدت کے 3 ادوار ہیں، حیض نہ آتا ہو یا اس میں ارتیاب(کمی وبیشی کا شک )ہو، تو3ماہ کی عدت ہے۔ اللہ نے قرآن میں وضاحت کردی کہ عدت کے دوران شوہر صلح کی شرط پر رجوع کرسکتا ہے اور پھر اس حکم کو بار بار دہرایا بھی۔ فقہاء نے لکھا کہ ’’عورت کا بچہ اگر آدھے سے زیادہ نکل آیا تو رجوع نہیں ہوسکتااور کم نکلا تھا تو پھر رجوع درست ہوگا لیکن آدھوں آدھ ہوگاتو مولوی کو خود بھی پتہ نہیں۔اگر یہ مسئلہ یکطرفہ ہو تو معاملہ حل نہ ہوگا لیکن اگر بیوی کی رضامندی شرط ہو تو بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ عورت اور مرد کے جنازے کی ایک ہی دعاہے لیکن یہ مشکل خنسیٰ پر لڑتے رہے ہیں۔
نبیﷺ نے وضاحت فرمادی کہ دومرتبہ طلاق کا تعلق دوطہرو حیض کیساتھ ہے، حضرت عمرؓ کا یہ کردار واضح ہے کہ پہلے ایک مرتبہ کی تین طلاق کو بھی ایک سمجھا جاتا تھا، جب شوہر طلاق دیتا تھا تو مصالحت کیلئے عدت کا وقت ہوتا تھا۔ اسلئے اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہ تھی کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ شوہر کی بالادستی مسلمہ تھی اور عورت کی ضرورت تھی کہ شوہر رجوع کرلے اورمسئلہ نہیں بنتا تھا۔ جب حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ شوہر اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتاہے، طلاق دیکر رجوع کرلیتاہے اور عورت بے بس ہوتی ہے تو فیصلہ کردیا کہ آئندہ اس طرح کا معاملہ ہوگا تو ایک ساتھ تین طلاق کے بعد شوہر کو رجوع کا حق نہ ہوگا۔ قرآن میں طلاق کے بعد ویسے بھی شوہر کو یکطرفہ رجوع کا حق نہ تھا، حضرت عمرؓ کا فیصلہ قرآن کی روح کے مطابق اس وقت بھی درست تھا جب شوہر ایک طلاق دیتا اور عورت رجوع پر راضی نہ ہوتی، جبکہ میاں بیوی راضی تو کیا کریگاقاضی وہ آوازِ خلق تھی جس کو واقعی نقارۂ خدا سمجھ لیا گیا تھا۔ معاملہ بعد کے فقہاء اور مفتیوں نے خراب کیا۔
چاروں امام کا فتویٰ درست تھا کہ عدت کے بعد عورت شادی کرسکتی ہے اسلئے کہ تین طلاق یا صرف طلاق کے بعد عدت شروع نہ ہوتو زندگی بھر عورت دوسری جگہ شادی نہ کرسکے گی۔حضرت علیؓ اور دیگر صحابہؓ نے حضرت عمرؓ کی رائے سے صرف اسلئے اختلاف کیا کہ رجوع کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے لیکن مرد نے طلاق دی ہو اور عورت رجوع نہ کرنا چاہے تو طلاق واقع ہونے کا فتویٰ وہ بھی اسلئے دیتے تھے تاکہ عدت کے بعد عورت کی دوسری جگہ شادی ہوسکے۔ دارالعلوم کراچی نے حضرت عمرؓ کے حوالہ سے تین طلاق کی غلط توجیہ کی ہے کہ پہلے طلاق طلاق طلاق میں شوہر کی نیت کا اعتبار کیا جاتا تھا،پھر لوگ غلط بیانی کرنے لگے،اسلئے حضرت عمرؓ نے تین طلاق کو نافذ کردیا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہشتی زیور، بہارشریعت میں حنفی فقہاء کی یہ توجیہ نہ مانی گئی اور فتویٰ دیا گیا کہ ’’طلاق طلاق طلاق پرشوہراپنی نیت پر رجوع کرسکتاہے اور عورت پھر بھی سمجھے کہ اسکو 3طلاق ہوچکی ہیں‘‘۔ قرآن میں طلاق سے رجوع کا تعلق عدت سے بتایا گیا ہے، حدیث میں دومرتبہ کی طلاق کوطہروحیض سے واضح کیا گیا ہے۔ یہ مفتیان قرآن کو مانتے ہیں نہ سنت کو اور نہ ہی حضرت عمرؓ کو مانتے ہیں ، یہ حلالہ کی لعنت کیلئے اسکے جواز کا راستہ ڈھونڈنے میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے مظفر علی شجرہ نے سورۂ طلاق کے حوالہ سے اپنی باتیں ڈالدیں، سیاسی رہنما کو فرصت نہیں، مذہبی لوگ اپنا الو سیدھا کرتے ہیں، اصحاب حل وعقد کو اپنی پڑی ہے ، امت مسلمہ کا مسئلہ کیسے حل ہوگا، قابل احترام شخصیت شاہد علی نے کہا کہ ’’ جرم تین طلاق ایک ساتھ دینے کا شوہر کرتا ہے تو سزا بیوی کو کیوں ملے؟۔شوہر کو ہی مولوی کے پاس لے جاکر اسکا حلالہ کروایا جائے ‘‘۔ یہ تجویز اسوقت پسند آئیگی جب مسئلہ سمجھ میں آئیگا لیکن مولوی اس پر بھی خوش ہوگا کہ معاشرے کو اپنے ہاتھ میں رکھ سکے گا۔ جب یہ فیصلہ ہوجائے کہ ناجائز حلالہ کا ناجائزفتویٰ دینے والے علماء کو پکڑ کر ان کا ناجائز حلالہ کروایا جائے تو مساجد، مدارس، مذہبی جماعتوں اور طبقات کی طرف سے محشر کا شور اُٹھے گا کہ ’’اللہ واسطے ! قرآن کی آیات کو دیکھو، ایک ساتھ نہیں الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے باوجود بھی حلالہ کی ضرورت نہیں ہے، ہم پر خدا رااتنا ظلم نہ کرو ۔ سید ارشادعلی نقوی