اسلام قتل و غارت نہیں امن و سلامتی کا دین ہے: عتیق گیلانی

کراچی (نمائندہ خصوصی) سید عتیق الرحمن گیلانی نے دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کے بعد کوئٹہ میں ہزارہ برادری اور سری لنکا میں چرچوں پر بدترین دہشتگردی بہت قابلِ مذمت ہے لیکن مذمتوں سے کام نہیں چلتا۔ امریکہ نے 9/11میں جو اپنی نااہلی کی سزا مسلم ممالک کو دی اور پھر دہشتگردوں کی ترویج اور سرپرسرستی بھی کی۔ بلیک واٹر کا ڈرامہ چاک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکمرانوں نے اپنے اقتدار کیلئے بلیک واٹر کا پردہ چاک نہیں کرنا۔ اسلام امن وسلامتی کا دین ہے، دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔امریکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو لے گیا مگر مولانا مسعود اظہر کو کیوں معاف کردیاتھا؟ مولانا مسعود اظہر نے میڈیا پر واضح اعلانات کئے کہ جیش محمد کا اعلان ہوتے ہی الحمدللہ میرے 40 افراد اسامہ بن لادن نے ذاتی باڈی گارڈ کیلئے قبول کئے ہیں۔ پرویز مشرف کو بھی مولانا مسعود اظہر سے کوئی ہمدردی نہ تھی بلکہ وہ اس کی تنظیم کو سازش اور دہشتگرد قرار دیتا تھا۔ جس نے پرویز مشرف پر بھی حملہ کیا تھا۔ ڈان لیکس کا اصل معاملہ یہ تھا کہ پاک فوج چاہتی تھی کہ لشکر جھنگوی کی طرح نوازشریف اور شہبازشریف جیش محمد کے خلاف بھی ایکشن لے لیکن انہوں نے خودساختہ بیان کے ذریعے پاک فوج کو بدنام کیا۔یہ حقیقت ہے کہ حقانی نیٹ ورک، طالبان اورجیش محمد وغیرہ سب بلیک واٹر کی ذیلی شاخیں ہیں۔ امریکہ کی امداد ایسی تنظیموں کو ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ پروموٹ کرنے کیلئے دی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں اسلام کا اصلی چہرہ بدنام کرنے کا مؤثر ذریعہ اسلام کے نام پر بہت بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور ان سب کو جانے انجانے میں امریکی سی آئی اے کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے۔ اسامہ بن لادن کے نام پر افغانستان کے بعد عراق و لیبیا اور شام کو بھی تباہ کیا گیا۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ جب القاعدہ کا کوئی ذکر بھی نہیں تھا تو عراق پر پھر بھی امریکہ نے حملہ کیا تھا اور پھر دہشت گردی کے ذریعے مسلم اُمہ کو آپس میں تباہ کیا گیا۔ یہ کونسی بات ہے کہ جو امریکہ مسلم ممالک کو اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر تباہ کرتا ہے، وہ جہادی تنظیموں کے اکاونٹ منجمد کرنے کیلئے اقوام متحدہ سے اجازت لیتا ہے؟ ایک طرف چین مسلمانوں پر سب سے زیادہ مظالم کے پہاڑ توڑے تودوسری طرف پاکستان کی ریاست کو دہشتگردوں کا پشتی بان ثابت کرنے کیلئے امریکہ وبھارت کے مقابلے میں ہماری حمایت کرے؟۔ یہ سب سی آئی اے کا وہ گیم ہے جس نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رکھی ہے۔
مولانا مسعود اظہر میرے دوست تھے اور ان سے جن لوگوں نے کام لیا ہے وہ قائد کی نہیں چمچہ گیری کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب سے ایک بزرگ کے کہنے پر انڈیا جانا، تہاڑ جیل میں پاکستان سے بھی زیادہ ذرائع ابلاغ تک رسائی اور پھر ڈرامائی طور پر اس کی رہائی کے بعد اپنے جہادی استاذ مولانا فضل الرحمن خلیل اور حرکۃ المجاہدین سے بیوفائی اور دفاتر پر قبضہ کرنا اور مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ کے دشمن ایک سی آئی اے کے ایجنٹ مفتی رشید احمد لدھیانوی کے ہاتھوں استعمال ہونے کی مکمل داستان میں بڑے تضادات تھے۔ جو لوگ خواب وخیال میں بھی طالبان اور القاعدہ کو نہیں جانتے تھے،امریکہ ان کو پکڑ کر لے گیا اور گوانتا ناموبے میں قید کی سزا دی گئی لیکن جہاد کے سرپرست ضرب مؤمن اور اسلام اخبار کا بال تک بھی بیکا نہیں ہوسکا۔ مفتی طارق مسعود نے کہا کہ 70 سال کی عمر تک مفتی رشید احمد لدھیانوی نے دال روٹی کھائی ہے لیکن 70سال کے بعد دولت کی فراوانی کاحساب کسی نے ان سے مانگا ہے؟۔ یہ اچانک ان پر کون مہربان ہوگیا کہ جامعۃ الرشید نے تمام مدارس سے دنیاوی اعتبارسے بازی جیت لی ہے؟۔
جہادی خطابت کے زور پر نہیں بلکہ اسلحہ اور توانائی کے بل بوتے پر ہوسکتا ہے۔ امریکہ کی چاہت ہے کہ پاک بھارت جنگ کروز میزائل کی مدد سے شروع ہو اور اسکا اسلحہ فروخت ہوجائے۔ پاک فوج کے سمجھ دار افسران امریکہ کے کھیل کو ناکام بنانے کیلئے بڑا کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوری نظام کی ناکامی کے بعد افراتفری کی فضاء بن سکتی ہے۔ہماری ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا بڑا فقدان ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے بھی ہمیشہ عوام کو بیوقوف بناکر مفاد حاصل کیا۔ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کایہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ عوام اور غریب سرکاری ملازمین سب کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور پُر تعیش لوگوں کو لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑے اور کسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہ رہے۔ اللہ نہ کرے کہ پاکستان یہ دن دیکھ لے۔
ڈانواں ڈول عمران خانی حکومت کیساتھ ساتھ یہ ریاست بھی ڈولتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ کسی بھی ہمدردکو اس لائق نہیں چھوڑا گیا کہ وہ ہمدردبھی رہے۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا جینا حرام کردیا گیا۔ علامہ جواد نقوی صاحب نے ایک بیان میں کہا کہ”شیعہ قرآن کے حکم کے مطابق اسلحہ اٹھاکر اپنی حفاظت خود کریں، جن دہشت گردوں کو شکاریوں نے شکار کیلئے پال رکھا ہے،ان سے یہ توقع رکھنا غلط ہے کہ دہشت گردوں سے روکنے کیلئے وہ شکاری کتوں کے سامنے ان کو بچانے کیلئے کھڑے ہونگے۔ جو اہل تشیع تعویذ بیچتے ہیں کہ خود کش حملوں میں رکاوٹ ہوگی تو پہلے ان تعویذات بیچنے والوں کو خود کش کے سامنے کھڑا کردیا جائے۔ اماموں کے نام پر پتھر کی انگوٹھیاں ہمیں نہیں بچاسکتی ہیں“۔اس میں شک نہیں کہ ریاست نے بھی نہ صرف غفلت کا مظاہرہ کیا بلکہ عوامی جذبات یا اپنے مفادات اور بین الاقوامی قوتوں کے سامنے ہم ہمیشہ سر نگوں رہے ہیں۔ ہم کوئی جواز پیش نہیں کرسکتے ہیں لیکن دنیا بھر میں سب ممالک نے اپنے اپنے طور پر دہشت گرد پال رکھے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملے کئے تو مسلمانوں میں ہی ان کو اتحادی مل گئے تھے۔ آج امریکہ پاکستان یا ایران کیخلاف حملہ کردے اور کسی ایک کی حمایت کردے تو نہیں کہا جا سکتا ہے کہ کس کی کیا پوزیشن ہوگی؟۔ ہم ہوش میں نہ آئے تو تباہی وبربادی کا سلسلہ جاری رہے گا۔
پختون اور بلوچ قوم پرستوں کو شکایت ہے کہ ان سے ریاست زیادتی کرتی ہے۔ پختون قومی جلوسوں میں آزادانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ کوئٹہ کے جلسے میں PTMکے پلیٹ فارم سے ہزارہ برادری کی رہنما جلیلہ حیدر نے بھی خطاب کیا تھا۔ کیا بلوچ اور پختون ہزارہ برداری کیلئے کھڑے نہیں ہوسکتے؟۔ کچھ محنت کی جائے تو جیش محمد، سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی کے رہنما بھی ہزارہ برادری کے تحفظ کیلئے کھڑے ہونگے۔ اس وقت دہشت گردی پر قابو نہیں پایا گیا تو مذہبی طبقات کے ہاتھوں سے موقع نکل جائیگا۔ نفرتوں کو ختم کرنا ہی سب کیلئے یکساں فائدہ مند ہے۔ اورماڑہ بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت اور پشاور میں رنگے ہاتھوں دہشت گردوں کا قتل نئی لہر کی خبر دے رہا ہے۔ پاکستان، سعودیہ،ایران، افغانستان اور بھارت مل جل کر اس خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں اپنا مثبت اور پر خلوص کردار دا کرسکتے ہیں۔
لوگ اسلام کو دین فروش طبقے کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑیں۔ مذہبی طبقے فرقوں سے ہٹ کر قرآن و سنت کی خدمت کریں۔ کوئٹہ، پشاور، لاہور اور کراچی میں معروف علماء و سیاسی رہنما درست اسلام کی تبلیغ کیلئے کھڑے ہوں۔ ایک واضح ایجنڈے کے تحت دنیا کو اسلام کا حقیقی چہرہ دکھائیں۔اسلام بہترین معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام کا نام ہے۔ احادیث صحیحہ میں مزارعت کو سود اورناجائز قرار دیا۔ امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒاور امام مالکؒ نے مزارعت کو ناجائز قرار دیا۔ اگر علماء حیلے بہانے سے مزارعت کو جائز نہ قرار دیتے تو روس و چین کے انقلاب کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔ اسلام دنیا میں معاشی انقلاب برپا کرنے کی صلا حیت رکھتا ہے لیکن ہمارے شیخ الاسلام اور مفتی اعظم نے تو سودی نظام کو ہی معاوضہ لیکر جائز قرار دیا ہے۔
نکاح وطلاق، عدالت اور رفاعی ریاست میں ہم نے اسلام کا چہرہ مسخ کردیا ہے۔ دنیا کے سامنے ایک مرتبہ درست تصویر آجائے تو ایک رات میں انقلاب کا آنا یقینی ہے۔ دہشتگردی کے ذریعے دنیا کو اسلام سے متنفر کرنے میں امریکی سی آئی اے کا کردار ہے۔ پاکستان کی بقاء حقیقی اسلام کے نفاذ میں ہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں