خلافت،اسلام ، جمہوریت، اقدار اور شدت پسندیاں

1079
0

such-tv-tehreek-e-khilafat-maulana-abul-kalam-azad-liaquat-ali-khan-shaykh-ul-islam-ptm-ahle-bait-fatawa-alamgiri-khilafat-e-usmania-ameer-muawiya-maulana-fazal-ur-rehman-fatawa-alamgiri

ایک مذہبی شدت پسندی ہے اور دوسری لسانی شدت پسندی ہے۔پختون خواہ میں مذہبی اور بلوچستان میں لسانی شدت پسندی کا بیج کس نے بویا؟۔ اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ بے اصولی اور محرومی شدت پسندانہ جذبوں کو فروغ دیتے ہیں۔ مفتی محمود ؒ اگر سرحد کے وزیراعلیٰ بننے کے بجائے ولی خان کو ہی وزیراعلیٰ بننے دیتے توپختون خواہ میں باچا خان کا نظریہ عوام پر غالب رہتا۔ اس طرح بلوچستان کا وزیراعلیٰ عطاء اللہ مینگل کے بجائے کوئی عالم دین ہوتا تو اب بلوچستان میں پختون اور بلوچ دونوں بیلٹوں میں مذہبی طبقہ حکمرانی کرتا۔ ایک طرف ناجائز حکومت دینے سے بلوچوں کے اندر شدت پسند پیدا ہوگئے ،دوسری طرف پختونوں میں طالب دہشت گرد پیدا ہوگئے۔ خاندانوں کو فائدہ پہنچالیکن عوام شدت پسندوں کے ناجائز نرغوں اور پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے۔ علماء کرام بلوچستان میں اپنے مینڈیٹ کیساتھ حکومت کرتے اور سرحد میں قوم پرست اپنے مینڈیٹ کیساتھ حکومت کرتے تو ذوالفقار علی بھٹو کو عوامی حکومت کیساتھ کھیلنے کی اجازت بھی کوئی نہ دیتا۔ اصولوں کی دعویدار بے اصول لوگوں کی اولادیں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنا جانشین نامزد کرنا چاہا تو حدیث قرطاس کی وجہ سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے جمہوریت کے ذریعہ انسانیت پر رحم کرنا تھا اسلئے رسول اللہ ﷺ کو مردوں میں سے کسی کا باپ نہ بنایا۔ نرینہ اولاد کو بچپن میں اٹھالیا ۔پہلی خلافت کیلئے انصارؓ و مہاجرینؓ کے درمیان چپقلش ہوئی ۔جمہور انصارؓ پھر قریشؓ کے حق میں دستبردارہوئے۔ حضرت ابوبکرؓ کیلئے پہل ہوئی تو جمہور نے تائید کی تھی اور اہلبیتؓ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ پھر حضرت عمرؓ جب نامزد ہوئے تو جمہور صحابہؓ نے تائید کردی، چاہتے تو حدیث قرطاس کیطرح راستہ روکا جاسکتا تھا اور حضرت عمرؓ نے چھ افراد کی شوریٰ مقرر کردی۔ دو تین دن تک نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا کہ مجھے اختیار دیدو تو مسئلہ حل کردونگا، سب نے اتفاق کیا تو آپؓ نے فرمایا کہ تین افراد اپنے ساتھیوں کیلئے دستبردار ہوجاؤ تو مسئلہ آسان ہوگا۔ ایک فوراً حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے حق میں دستبردار ہوا، دوسرا حضرت علیؓ ،تیسرا حضرت عثمانؓ کے حق میں دستبردار ہوا۔ حضرت ابن عوفؓ خود حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ دونوں میں انتخاب ہوا تو حضرت عثمانؓ کے حق میں زیادہ ووٹ پڑے ،اسلئے منتخب ہوگئے۔
جمہوری نظام ہوتا تو اکثریت کی بنیاد پر منتخب ہونیوالے حضرت عثمانؓمطالبہ پر الیکشن کراتے اور شہید نہ ہوتے۔ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان جنگیں ہوئیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓنے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ مجھے غیرجانبدار ہونے کے بجائے حضرت علیؓ کا ساتھ دینا چاہیے تھا، جبکہ حضرت عمرؓکے ایک بیٹے حضرت معاویہؓ کے ساتھ تھے۔ حضرت امام حسنؓ نے صلح کرکے معاہدہ کیا کہ جانشین مجھے بنایا جائیگا۔ حضرت حسنؓ کی وفات ہوئی ۔ حضرت معاویہؓ نے یزید کو جانشین نامزد کردیا۔ حکومت مضبوط تھی ۔حکومت کے زور پر یزید نے خود کو مستحکم کیا۔ حضرت حسینؓ نے کوفہ والوں کے اعتماد پرکربلا کا سفر کیا جس کو آج بھی ماتم زنی کے ذریعے سے یادگار بنایا جارہا ہے۔
یزیدکی وفات کے بعد اس کا بیٹا معاویہ تخت پر بیٹھامگرضمیر نے گورا نہیں کیا۔ چالیس دن کے اندر استعفیٰ دیدیا۔ جماعتیں عوام کی امانت ہوتی ہیں لیکن موروثی جماعتوں کی حیثیت یزید کے بیٹے حضرت معاویہؒ کے مقابلے میں کتنی خستہ حال دکھائی دیتی ہیں؟۔ خانقاہوں کے سجادہ نشین ، مدارس کے ارباب اہتمام ، مذہبی جماعتوں کے خانوادے یزید کے بیٹے معاویہؒ کے سامنے آخرت میں شرمندہ اپنا سر اٹھانے کے قابل نہ ہونگے،سیاست ومذہب کو منافع بخش تجارت بنالیاہے۔
بنی امیہ، بنی عباس کے بعد خلافت عثمانیہ نے بھی خاندانی اقتدار کو قائم رکھا۔ اسلام کو بھکشو قسم کے لوگوں کے حوالے کیا گیا۔ قرآن میں حکومت سے متعلق بہت واضح احکام ہیں۔ فتاویٰ عالمگیریہ کو 5 سو علماء کرام نے مرتب کیا تھا، حضرت شاہ ولی اللہؒ کے والد شاہ عبدالرحیمؒ بھی ان میں شریک تھے۔ فتویٰ عالمگیریہ میں بادشاہ کیلئے چوری، قتل، زنا، ڈکیتی اور کسی بھی طرح کی کوئی حد نہیں ہے اسلئے کہ بادشاہ تو خود یہ کام کرتا ہے کوئی دوسرا یہ حد اس پر کیسے جاری کریگا؟۔ خلافت راشدہؓ میں حضرت علیؓ نے یہودی کیخلاف عدالت کے دروازے پر دستک دی ۔ فیصلہ آپؓ کیخلاف آگیا تھا۔ دہشت گردوں نے حضرت علیؓ کوپھر بھی شہید کردیا تھا۔
ایک ایسی بنیادی جمہوری جماعت کی ضرورت ہے جو دنیا میں اسلامی نظام کو بحال کردے، اسرائیل اور کشمیر سمیت دنیا بھر کے مظالم کو روک دے۔ اس کیلئے تین تین افراد اور چھ چھ افراد کے گروپ تشکیل دئیے جائیں۔ صوبائی اسمبلی کیلئے تین تین اور قومی اسمبلی کیلئے چھ چھ افراد سے رکن سازی کی جائے۔مثلاً صوبائی میں 3افراد کا ایک امیر ہوگا اور پھر9افراد کا ایک امیر ہوگا، پھر27افراد کا ایک امیر ہوگا۔ پھر81افراد کا ایک امیر ہوگا۔ پھر 243کا ایک امیر ہوگا۔ ہر عدد کو 3سے ضرب دیتے ہوئے ایک صوبائی اسمبلی میں کامیابی کیلئے زیادہ سے زیادہ افراد کی رکن سازی، تنظیم سازی اور تربیت پر بھرپور توجہ دے جائے۔ قومی اسمبلی کی نشست کیلئے 6افراد کا ایک امیر ہوگا۔ پھر36افراد کا ایک امیر ہوگا۔216 افراد کا ایک امیر ہوگا۔ پھر1296کا ایک امیر ہوگا۔ ہر گروپ کو3اور6سے ایک ایک مرتبہ ضرب دے کر مطلوبہ تعداد تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔
بنیادی افراد سے استصوابِ رائے کے بعد قیادت آئیگی توبھی وزیراعظم کی حیثیت ایک وزیر کی ہوگی اور براہِ راست عوام کے ووٹوں سے صدر کا انتخاب ہوگااور اختیارات کا آخری منبع بھی وہی ہوگا۔ مقصد عالمی سطح پرنظام خلافت ہے اور پوری دنیا کے مسلمان اپنے اپنے ممالک میں قانون وآئین کا احترام کرتے ہوئے دنیا کو ایکدوسرے قریب لانے میں اپنا خوشگوار کردار ادا کرینگے۔ شدت پسندوں کو بھی یہ سمجھا دینگے کہ اسلام قانون سازی کا سبق دیتا ہے، قانون شکنی نہیں سکھاتا ہے۔اولی الامر سے مراد بھی قانون شناس ، قانون دان اور قانون کے پاسدار ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح کو کامیابی اسلئے ملی کہ وہ قانون دان تھے۔ قانون شناسوں نے ساتھ دیا اور قانون کے پاسدار وں نے کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی۔اسلام کا مستقبل روشن ہے ،قانون کی حکمرانی سے دنیاکو فتح کرینگے۔
منشور کے نکات واضح اور دو ٹوک ہونگے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم سے قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ مرتب کرکے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بھرپور کوشش ہوگی اور فرقہ وارانہ منافرت، شدت پسندی، قوم پرستی، علاقہ پرستی ، لسان پرستی اور ہر قسم کے تعصبات سے عوام کو نکالا جائیگا۔ آئین میں رہ کر وہ قانون سازی کی جائے گی کہ موجودہ ریاست کایہ بوسیدہ ڈھانچہ معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرے۔ پانی،بجلی، تعلیم، صحت، بیروزگاری ، غربت اورتمام بنیادی اور ضروری مسائل کے حل کیلئے عوام کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرکے ایک مفید معاشرہ تشکیل دیا جائیگا۔ جس کی روشنی پاکستان سے نکل کر پوری دنیا میں پھیلے گی۔ انشاء اللہ العزیز عتیق گیلانی