عدالتی نظام کی اصلاح

399
0

پاکستان اسلام کے نام پر بنا ، آئین میں قرآن وسنت کو بالادستی حاصل ہے اسلام ہی نہیں ہر ریاست کا بنیادی فریضہ عدل وانصاف کا قیام ہوتاہے۔ اسلام کا ایک پہلو یہ ہے کہ توحید کے عقیدے کے مطابق نبیﷺ کی سنت کو لائحہ عمل بناکر بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکالا جائے۔ دین میں جبر وزبردستی نہیں ۔ مشرک وکافر مسلمان پر جبروظلم کرکے اسکے ایمان میں رکاوٹ ڈالے تو اللہ نے قرآن میں زبردستی کے کلمۂ کفر کو بھی معاف کیاہے،اسلام جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دیتا کہ وہ مسلم کو زبردستی سے کافر بنائیں تو تم بھی زبردستی کرکے ان کا مذہب بدل ڈالو۔ صلح حدیبیہ رسول اللہﷺ کی مجبوری نہ تھی بلکہ یہ معاہدہ اسلام کی روح کے مطابق تھا کہ ’’کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مکہ جائے تو اس کو واپس نہ کیا جائے اور کوئی مشرک مسلمان ہوجائے اور مدینہ میں مسلمانوں کے آغوش میں آجائے تو اس کو پھر واپس لوٹا دیا جائے‘‘۔ جو دل سے مسلمان ہوں اور ان کو پابند کیا جائے کہ والدین کی آغوش میں رہو تو یہ اسلام کی خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ تلقین ہونی چاہیے کہ اسلام نے والدین سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بچپن، جوانی ادھیڑ عمر اور ایک حد تک بڑھاپا بھی اپنے مشرک باپ آزر کے سایہ میں گزارا، بت فروش باپ سے تلخ بات کی نوبت بھی نہ آئی، باپ کے آنجہانی ہونے کے بعد اس کی مغفرت کیلئے دعا بھی کی۔
مولانا منیراحمد قادری نے پچھلابیان دیا کہ ’’رسول اللہﷺ کو گالی دینے پر حضرت ابوبکرؓ نے اپنے باپ کے منہ پر تھپڑ مارا تھا‘‘۔ ہوسکتاہے مگر عائشہ صدیقہؓ پر جو بہتان لگا تو نبیﷺ کیلئے اس سے زیادہ اذیتناک واقعہ نہیں تھا، اللہ نے فرمایا کہ ’’مؤمنوں کی یہ شان نہیں کہ جنکو اللہ نے مالامال کیا ہو، وہ قسم کھائیں کہ مستحق لوگوں سے ہم مالی تعان نہ کرینگے، اپنا احسان جاری رکھو‘‘۔ کیونکہ ابوبکرؓ نے قسم کھالی تھی کہ وہ حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے والوں کیساتھ احسان نہ کرینگے، جن میں اپنا قریبی رشتہ دار حضرت مسطحؓ اور معروف نعت خواں حضرت حسانؓ بھی شامل تھے۔ابن ماجہؓکی روایت ہے کہ ’’نبیﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کے والد حضرت ابوقحافہؓ کو خضاب لگانے کا حکم دیا تھا‘‘۔
اسلام کے عادلانہ نظام کی اس سے بڑی کیا مثال ہوسکتی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ پر بہتان لگانے اور ایک عام عورت پر بہتان لگانے کی سزا ایک ہی ہے۔ عدالت میں کس اسلام کے قانون کے تحت امیر کی ہتک عزت اربوں اور کھربوں میں ہے اور غریب کی عزت ٹکے کی نہیں؟۔ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دوواقعے قرآن و حدیث میں موجود ہیں جن میں عدالت عظمیٰ سے انصاف میں غلطی ہوئی اور نچلی عدالت نے انصاف کا تقاضہ پورا کیا۔ اگر انور ظہیر جمالی کو پانامہ لیکس پر انصاف کی سمجھ نہ آتی تو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ یا بلوچستان کے جسٹس فائز عیسیٰ کو معاملہ سپرد کردیتے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے دو فریقوں کے درمیان فیصلہ کیا ، ایک کے جانور نے دوسرے کی فصل کو نقصان پہنچایا ۔ فصل و جانور کی قیمت ایک جتنی تھی اسلئے حضرت داؤد علیہ السلام نے فصل والوں کو نقصان میں جانور دیدئیے، حضر ت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اس طرح سے ایک قوم محروم ہوجائے گی، اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں۔ چنانچہ فصل کو اپنی جگہ تک پہنچانے کی ذمہ داری جانور والوں کے ذمہ لگادی اور جانور انکے حوالہ کئے جن کی فصل کو نقصان پہنچا تھا کہ جب تک اس کا فائدہ اٹھائیں، ایک پر محنت ڈال دی اور دوسری کے نقصان کا ازالہ کردیا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے سوفیصد درست کہا کہ ’’نیب کرپشن کی سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے‘‘ لیکن اگر عدالتی نظام جلد انصاف فراہم کرتا تو نیب کی ضرورت نہ ہوتی۔ عدالت کا کام قانون کے مطابق طاقتور اور مجرم کو تحفظ فراہم کرنا بن جائے تو اس سے ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے سامنے دو خواتین نے مقدمہ پیش کیا جن کا ایک بچے پر دعویٰ تھا، حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنی صوابدید و ضمیر کیمطابق فیصلہ کیا جو غلط مگر قابلِ گرفت نہ تھا حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ اس کا فیصلہ میں کرتا ہوں۔دونوں کی بات سن کر فیصلہ کیا کہ ’’بچے کو دو ٹکڑے کرتا ہوں‘‘ ، جو مقدمہ جیت چکی تھی کہہ رہی تھی کہ بچے کو دو ٹکڑے کردو، مجھے قبول ہے اور جو خاتون مقدمہ ہار چکی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ ’’میں دستبردار ہوں بچہ سلامت رہے، میں نے جھوٹ بولا تھا، یہ میرا بچہ نہیں، اسکا ہے جو اس کو ٹکڑے کرنیکی بات کررہی ہے‘‘۔ فیصلہ اسکے حق میں ہوا، جو دستبردار ہوئی۔ قانون کیاہے، وزیراعظم اپنے باپ اور بچوں سے انصاف کی خاطر دستبردار ہیں یا معاملہ کچھ اورہے؟۔نوازشریف نے عمران خان کا باپ نہیں مارا ، عدالت عمران خان کا وکیل ہی بھگادے، اگر عدالت کو خوف ہو تو دہشت گردوں کی طرح فوجی عدالت قائم کی جائے اور عدالت کو خوف نہ ہوتو پوری قوم کی خاطر نوازشریف سے ابتداء کرکے کسی کو بھی نہ چھوڑے۔