فیروز چھیپا مہتتم ماہنامہ نوشتہ دیوار کا تبصرہ

324
0

نوشتۂ دیوار کے مہتمم فیروز چھیپا نے عدالتی نظام پر اپنا تجزیہ پیش کیا ہے کہ: وقت آگیا ہے کہ گھسے پٹے قوانین کااز سرِ نو جائزہ لیا جائے اعلیٰ عدلیہ نے کچھ دن پہلے جب مظہرحسین کو 19سال بعدبری کردیا تو وہ دوسال پہلے انتقال کرچکا تھا۔ دوسری خبریہ بھی سامنے آئی کہ سپریم کورٹ نے دو بھائیوں کو بری کردیامگر ان کو سزائے موت بھی دی جاچکی ۔یہ قوانین کے شاخسانے ہیں یا غفلت کے مے خانے ہیں ؟۔ نہیں کچھ نہیں،نقاب اٹھ چکاہے، یہ طاقت کے بہانے ہیں، کمزوری کے افسانے ہیں انگریزنے اپنی حکومت چلانے کیلئے جو عدالتی نظام بنایا ہے، اسکے ترازو میں کمزور اور طاقتور کا توازن برابر نہیں ۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کئی صفحات پر تحریری اقرارِجرم کرلیاپھرچھوٹ بھی گیا۔ غلام اسحاق خان اور اسحاق ڈار میں کتنا فرق ہے؟۔ کیاکوئی غریب بھی اقرارِ جرم کے بعد باعزت بری ہوجاتا؟ آصف زرداری نے اپوزیشن میں 11سال جیل میں بسر کئے، طاقت کا توازن بگڑنے کی دیر ہے پھر نوازشریف پر پانامہ لیکس کے علاوہ بہت سے دوسرے لیکس کے مقدمات بھی چلنے کے فیصلے ہونگے۔ ڈاکٹر عاصم ، میئر کراچی وسیم اختر و دیگر باعزت بری ہوکر سمجھوتہ ایکسپریس میں پاکستان کی بھارت میں نمائندگی کریں گے اور بھارت کے ’’را‘‘ ایجنٹ کے مقدمات نواز شریف اور اسکے شریک اقتدار بھگت رہے ہونگے۔کمزور اور طاقتور میں بڑا فرق ہے۔ ادنیٰ سے لیکر وزیراعظم و صدرمملکت کے منصب تک عدلیہ عوام کی اوٹ پٹانگ حرکتوں سے بے نیاز ہوکر اپنے نظام عدل کے ترازو میں جھول کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے اور جب آنکھ کھل جاتی ہے تو بے انصافی ، ظلم اور جبر کے خون میں ڈبکیاں لے لے کر کمزور اپنی جان سے گزر چکا ہوتا ہے اور محب وطنوں کی قبروں سے ہمارے عدالتی نظام پر آوازکسی جاتی ہے کہ
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہو ا
دہشت گردوں سے متعلق خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام پر چیئرمین سینٹ نے اپنا ووٹ پارٹی کی امانت قرار دیکر روتے ہوئے دیا تھا۔ دہشت گردوں سے بڑی طاقت وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو جمہوری نظام کا حصہ ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ سے غریب دہشتگردوں کیخلاف فیصلے کی توقع رکھی جاسکتی تھی مگر ن لیگ سمیت تمام جمہوری قوتوں کیخلاف عدلیہ سے انصاف کی توقع نہیں۔ ماڈل ٹاؤن لاہورمیں چودہ افرادکے قتل کا کیس رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دہشت گرد پہاڑوں سے چھپ کر حملہ کرتا تھا۔ پنجاب کا وزیر قانون رانا ثناء اللہ کھل کر مونچھ کوگلہری کی دُم بناکر ہلاتا ہے۔ کراچی میں ایم کیوایم کی جمہوریت پاکستان کی کسی سیاسی جماعت سے کم تر نہ تھی لیکن کراچی میں قتل و غارت پر کبھی عدلیہ کی طرف سے اس وقت سزاؤں کا امکان نہ تھا، جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے ایم کیوایم کے خلاف کھل کر میدان میں نہ آئے۔
ن لیگ کیخلاف پرویزمشرف برسرِ پیکار تھے تو دنیال عزیزنے نوازشریف پرمحلات میں رہنے کے باوجود 400اور600روپے ٹیکس دینے کی بات حامد میرکے پروگرام میں اسحاق ڈار کے سامنے کی تھی جسکے کلپ دوسرے ٹی وی چینل پر دکھائے جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ طاقت کامرکز ہے تو دانیال عزیز سے سب کے سامنے بیان جاری کروایا جائے کہ ’’پہلے اس نے کس مجبوری کے تحت یہ بیانات دئیے تھے؟‘‘۔ اسطرح سے چوہدری نثار، حسین نواز، حسن نواز، مریم نواز، کلثوم نواز اورنوازشریف کے درمیان جو متضاد بیانات میڈیا پر چل رہے ہیں ، ان کا پارلیمنٹ میں صاف ستھرا جواب دیا جائے۔ نہیں تو عدالت اپنے چہرے پر کالک ملنے کیلئے تو نہیں بلکہ کالک صاف کرنے کیلئے وزیراعظم سے کہہ دے کہ ’’پہلے ایک وزیراعظم خط نہ بھیجنے کے مسئلہ پر نااہل قرار دیا جاچکاہے، جو اس کا ذاتی مسئلہ نہیں تھا بلکہ صدر مملکت کو آئینی تحفظ دینے کا معاملہ تھا۔ یہ تمہارا نہیں تو تمہارے بچوں کا معاملہ ضرور ہے، پانامہ کو اپنے بچوں کے خلاف خط لکھنے کے مسئلہ پر تم سے کوئی توقع نہیں، اسلئے خط لکھنے کیلئے اپنے منصب کو چھوڑ دو،جان کی امان ہو تو نیب والے جائیداد میں نام کا لحاظ نہیں کرتے۔ تم خود کو اپنے بچوں سے جدا نہیں کرسکتے، یہ کوئی نوکری ، چوری، دہشت گردی یا دوسرا معاملہ نہیں بلکہ کاروبار کا معاملہ ہے اور خاندانی کاروبار میں کسی کی خود مختاری کا مسئلہ نہیں ہوتا ۔ جدی پشتی کاروبار میں بچے باپ سے الگ کیسے ہوسکتے ہیں؟۔ ارشد شریف نے اے آر وائی نیوز پر نیب کے آفسر کے سامنے پورا ریکارڈ پیش کیا ہے جو نیب میں بھی موجود ہے جس میں جاوید کیانی کا بھی اہم کردار ہے‘‘۔
ہمارے عدالتی نظام میں دوسرے ریاستی اداروں کی طرح بہت سی خامیاں ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کی افادیت سب سے زیادہ ہے، دوسرے تمام ریاستی اداروں سے زیادہ عدالتوں سے انصاف کی توقع ہوتی ہے، جج کے ہاتھ قانون کیساتھ بندھے ہوتے ہیں، بعض اوقات وہ انصاف دے سکنے کے باوجود انصاف نہیں دے پاتا، پانامہ لیکس پر عدلیہ نے وزیراعظم کے خط کایہ جواب دیاتھا کہ ’’ اختیارات کے بغیر اس کو عدلیہ میں لانے کی ضرورت نہیں‘‘۔ تحریک انصاف کے کیس پر رجسٹرار نے جواب دیا کہ ’’یہ مضحکہ خیزہے‘‘۔ پھر اس کو سماعت کیلئے منظور بھی کیا، نوازشریف کا خیر مقدم کرنے باوجودیہ کہنا کہ ’’ عدالت نے نوٹس بھیجا ہے طلب نہیں کیا ہے‘‘۔ اس بات کی غمازی ہے کہ کن حالات میں وزیراعظم کا رویہ عدلیہ سے کچھ بھی ہوسکتاہے؟۔بسا اوقات عدلیہ ایک کمزورو غریب انسان کے سامنے بھی قانون کی وجہ سے بے بس ہوتی ہے اور کسی طاقتور کو بھی چاہت کے باوجود انصاف فراہم نہیں کرسکتی جو قابلِ غور ہے۔یہ بات قابلِ تعریف ہونے کے باوجود انتہائی قابل مذمت بھی ہے کہ ’’طاقتور کی طرح کمزور بھی قانون کا فائدہ اٹھاکر اپنے جرائم کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے‘‘۔ دہشت گردوں کیخلاف اسی لئے خصوصی عدالت کا قیام عمل میں آیا، سیاستدان اپنے خلاف کبھی بھی متفق نہ ہونگے البتہ عدلیہ نے نظریۂ ضرورت کے تحت جو فوجی مارشل لاؤں کو جواز بخشا تھا، اب نظریۂ ضرورت کے تحت سیاستدانوں کیخلاف انصاف کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات کرنے ہونگے۔ شہباشریف نے علیم خان اور جہانگیر ترین کیخلاف الزام نہیں ثبوت فراہم کرنے کا دعویٰ کیاہے۔ عدالت کو عوام کے سامنے ان سارے مسخروں کو سدھارنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ پھر وہ غریب جن کی عزتیں تک پنجاب و سندھ میں محفوظ نہیں، خود کش حملہ آورں کی صفوں میں شامل ہوکر سب کوختم کردینگے۔
عدالتوں پر پہلے بھی ن لیگ والے حملہ آور ہوچکے ہیں۔ فوج کے ساتھ متنازع خبر کی بنیاد پر حکومت کا کمزور ہونا عدالت کیلئے انصاف فراہم کرنے کا سنہری موقع ہے جسکا عدالت کو بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انصاف کرنا چاہیے۔ نوازشریف نے کھل گلہ کیا تھا کہ پانامہ لیکس پر فوج کرپشن کے خلاف بات کرنے کے بجائے مجھے تحفظ کیوں نہیں دے رہی ہے۔ اگر عدالت نے انصاف نہیں کیا تو پھر فوج اپنی خبر کا بدلہ لینے میں مارشل لاء بھی لگاسکتی ہے۔ پھر جمہوریت کے علمبرداروں نے بھی مٹھائیاں ہی بانٹنی ہیں۔ فیروز چھیپا