وزیر اعظم اور چیف جسٹس ناجائز دو گھنٹے خلوت صحیحہ پر مستعفی ہوجائیں: فیروز چھیپا

295
0

supreme-court-nawaz-sharif-panama-leaks-imran-khan-dawn-leaks-saqib-nisar-memo-gate-hussain-haqqani-khalwat-e-sahiha-haq-mehr-

ڈائریکٹر فائنانس نوشتۂ دیوار محمد فیروز چھیپا نے کہا ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے میمو گیٹ پر حسین حقانی کو امریکہ سے طلب کرلیا اور کہا کہ ’’سپریم کورٹ کی عزت کا مسئلہ ہے ‘‘ جبکہ نواز شریف نے کہا کہ ’’میمو گیٹ میں پیش ہونا میری غلطی تھی‘‘۔ نواز شریف کا کھلے عام میمو گیٹ میں پیش ہونا اتنی بڑی غلطی نہیں تھی جتنی وزیر اعظم عباسی کا چیف جسٹس سے ملنا ہے۔ اس ملاقات کی حیثیت خلوت صحیحہ کی تھی جس کا فقہی مطلب یہ ہے کہ نکاح کے بعد اگر شوہر سے بیوی ایسی خلوت میں ملے کہ سب کچھ یہ آپس میں کرسکیں اس پر خلوت صحیحہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ نکاح کے بعد طلاق دی جائے اور خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو تو قرآن میں آدھا حق مہر اور عورت پر عدت فرض نہیں ہوتی۔ خلوت صحیحہ کے بعد عورت پر عدت شوہر پر پورا حق مہر فرض ہوتا ہے۔ یہ فقہ حنفی کا مسئلہ ہے جس پر زیادہ ترلوگ پاکستان میں عمل پیرا ہیں، اس خلوت صحیحہ سے اختلاف بھی ہوسکتا ہے لیکن چیف جسٹس اور وزیر اعظم کی خفیہ ملاقات کا کسی صورت میں کوئی جواز نہیں تھا۔ وزیر اعظم کھلے عام میڈیا پر نواز شریف کے کیسوں کے حوالے سے چیف جسٹس اور عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا اور کسی چیف جسٹس ، جج ، مجسٹریٹ تو دور کی بات ہے گاؤں کے پنچایت کے کسی رکن و سربراہ کو بھی اس طرح سے متاثرہ فریق سے خلوت صحیحہ میں ملنے کے بعد اس کی ثالثی پر اعتماد نہیں رہ سکتا۔ چیف جسٹس نا اہل نواز شریف کے وکیل رہ چکے ہیں۔ عمران خان کو گھسیٹنے کے بعد ریلیف دینا اور جہانگیر ترین کو سزا دینا ایک منصوبہ بندی لگتی تھی۔ پھر اپنے کیس چھوڑ کر سندھ حکومت کے معاملات میں مداخلت اور پھر پنجاب کے ہسپتالوں کا رُخ کرنا عدالت نہیں سیاست لگتی ہے جو اپنے سابقہ کلائنٹ نواز شریف کو بچانے اور حقائق سے توجہ ہٹانے کی بظاہر منصوبہ بندی لگتی ہے۔ حدیبیہ پیپر ملز میں ریلیف کے بعد چیف جسٹس کے ان ریمارکس کا نتیجہ بھی یہی نکلتا ہے کہ جو آپ نے نواز شریف کے حوالے سے میڈیا پر کھلے عام ذکر کئے کہ ہم تمہاری وجہ سے جن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں وہ ہمیں پتہ لیکن یہ مشکلات وہی لگتے ہیں جو چیف جسٹس ثاقب نثار بابا رحمت بن کر اپنے سابقہ کلائنٹ کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر برداشت کررہے ہیں، وزیر اعظم سے اس خفیہ ملاقات کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیں تو یہ ملک و قوم کیلئے اچھی مثال قائم ہوگی۔ وزیر اعظم کیلئے بھی استعفیٰ دینا زیادہ مناسب اسلئے ہے کہ جسکے کہنے پر ملنے گیا تھا وہ میمو گیٹ پر بھی اپنی غلطی کا اظہار کررہا ہے۔ عمران خان کی طرف سے جب چوہدری افتخار سے معافی مانگی گئی تھی پھر انکار کیا تھا تو اسکے وکیل حامد خان نے غیرت کا مظاہرہ کرکے کہا تھا کہ آئندہ عمران خان کا کیس نہیں لڑوں گا۔ اگروکیل سے زیادہ وزیر اعظم میں عزت نہ ہو تو یہ تاریخ کا سب سے بڑا الیمہ ہے۔ عمران خان کو تو بابر اعوان مل گیا جو آصف زرداری کے تقدس کی قسمیں کھاتا تھا۔ اب وہ عمران خان کی صفائی پیش کریگا۔