سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ کیلئے طلاق کے مسئلے کا حل! اداریہ شمارہ جنوری 2019

428
0

پاکستان کے سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ سے اگر اسلام ، حقوق نسواں اور کسی طور پر انسانیت کیلئے کچھ نہیں ہوتا تو وہ ہندوستان دشمنی میں ہی سہی لیکن مسلمانوں پر رحم کرے۔ طلا ق کا مسئلہ ہم اپنی کتابوں ’’ابر رحمت ‘‘ ، ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ اور ’’ تین طلاق سے رجوع کا خوشگوار حل‘‘ میں پیش کرچکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت 228میں طلاق شدہ خواتین کیلئے عدت کے تین مراحل تک انتظار کا حکم فرمایا اور عدت کے دوران باہمی صلح سے رجوع کی بھی وضاحت کردی۔ قرآن میں ایسا تضاد ممکن نہیں کہ اگلی آیت میں ہی دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسری مرتبہ کی طلاق سے رجوع کا دروازہ بند کیا جائے۔ یہ حافظہ تو چوہے کا بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آیت 229البقرہ میں مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں معروف طریقے سے رجوع یااحسان کے ساتھ رخصت کرنے کی وضاحت فرمائی ہے۔ اگر تیسرے مرحلے میں معروف رجوع کرلیا تو رات گئی بات گئی لیکن اگر تیسرے مرحلے میں احسان کیساتھ چھوڑنا ہوا تو پھر اللہ نے مزید وضاحت کردی ہے کہ اس صورت میں تمہارے لئے حلال نہیں ہے کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی واپس لو ، مگر یہ کہ دونوں کا اس بات پر اتفاق ہو کہ اگر وہ چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے۔ اوراگر( اے فیصلہ کرنے والو ! ) تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو دونوں پر کوئی حرج نہیں کہ وہ چیز عورت کی طرف سے فدیہ کیا جائے۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو، جو اللہ کے حدود سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (البقرہ: آیت 229)
اس آیت میں خلع کا کوئی تصور بھی نہیں ہوسکتا لیکن نصاب اور تفسیر کی کتابوں میں بدقسمتی سے اس سے خلع مراد لیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ طلاق کی وہ صورت ہے کہ جب میاں بیوی دونوں اور فیصلہ کرنے والے اس نتیجے پر پہنچیں کہ ان دونوں میں نہ صرف جدائی ناگزیر ہے بلکہ آئندہ رابطے کا بھی کوئی راستہ نہ چھوڑا جائے۔ اس طلاق کے بعد سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ رجوع کرلیا جائے تو ہوسکتا ہے یا نہیں بلکہ مردانہ مزاج کا یہ فطری تقاضہ ہوتا ہے کہ کسی صورت میں بھی طلاق کے بعد وہ اپنی سابقہ بیگم کو کسی دوسرے کیساتھ ازدواجی تعلق میں برداشت نہیں کرسکتا۔ اس معاشرتی برائی کے خاتمے کیلئے اللہ تعالیٰ نے متصل آیت 230البقرہ میں یہ واضح کردیا کہ فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ ’’پھر اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کرلے‘‘۔ اس کا معنیٰ مروجہ حلالہ اور دورِ جاہلیت کی لعنت نہیں بلکہ یہ اس رسم بد کا خاتمہ ہے کہ شوہر خود بسانا بھی نہ چاہے اور دوسرے سے بھی نکاح نہ کرنے دے۔ دوسری صورت اس کی یہ ہے کہ عورت پہلے شوہر سے ازدواجی تعلق پر راضی نہ ہو تو اس کیلئے یہ حکم زبردست نسخہ کیمیا ہے۔ یہ بہت بڑی عجیب سی بات ہے کہ حلالہ کی لعنت کے رسیہ علماء و فقہا نے تمام حدود و قیود کو توڑ کر حلالہ کی رسم بد کو رائج کرنے کیلئے قرآنی آیات کا کوئی لحاظ نہیں رکھا۔ نہ تو عدت میں آیت کو دیکھا کہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ مرحلہ وار طلاقوں کی آیت کو دیکھا اور نہ ہی یہ دیکھا کہ باہوش و حواس جدائی کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کا اطلاق ہوتا ہے۔
قرآن میں بنیادی بات باہمی رضامندی سے رجوع کی وضاحت ہے لیکن بدقسمت اُمت مسلمہ نے باہمی رضامندی کی آیت کو ایک گالی بنادیا ہے۔ جسے معاشرے میں ’’میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی‘‘کی پھبتی سے متعارف کیا گیا ہے۔ دوسری طرف ایک ساتھ تین طلاق کو اپنی تہذیب و تمدن کا ایسا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ اس سے رجوع کا کوئی دور دور تک بھی امکان نظر نہیں آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اُمت قرآن سے دور ہوگئی ہے اور ہندوستان میں پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے علاوہ ٹی وی کے ہر چینل اور پبلک مقامات پر گالیاں ہی گالیاں کھارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کوانسانیت سربلند کرنے کیلئے نازل فرمایا تھا مگر مسلمانوں نے اسلام کی حقیقت کو چھوڑ کر خود کو دنیا میں ذلت سے دوچار کیا۔
شوہر و بیوی میں جدائی کے تین طریقے ہوسکتے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ دونوں کو جدائی مقصود ہو۔ اس کی وضاحت سورہ بقرہ کی آیت 230میں موجود ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بیوی جدائی نہ چاہتی ہو اور شوہر نے طلاق دی ہو تو عدت کی تکمیل پر بھی اللہ نے سورہ بقرہ آیت 231میں شوہر کو معروف طریقے سے جدا یا معروف طریقے سے چھوڑنے کی وضاحت کردی ہے۔ اگر بیوی صلح نہ کرنا چاہتی ہو تو شوہر عدت میں بھی رجوع نہیں کرسکتا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ بیوی نے ناراض ہوکر طلاق لی ہو لیکن عدت کی تکمیل کے کافی عرصہ بعد پھر اپنے شوہر سے رجوع کرنا چاہتی ہو تو اللہ نے سورہ بقرہ آیت 232میں رجوع کی وضاحت کی ہے ۔ جب دونوں باہمی رضامندی سے رجوع کرنا چاہتے ہوں ۔
سورہ بقرہ کی اس تفصیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورہ طلاق کی دو آیات میں بھی یہی وضاحت فرمائی ہے۔ مسلمانوں نے قرآن کی قدر نہیں کی اور اس کی وجہ سے آج بھارت میں مودی سرکار اور ہندوؤں کے ہاتھوں بھی ذلت سے دوچار ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کو چاہیے کہ اس اہم ترین مسئلے پر خود نوٹس لیکر پاکستانیوں اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے گھروں کو ٹوٹنے سے بچائیں ۔ اسلام میں حلالے کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عدت میں رجوع ہوسکتا ہے ، مولوی نے دجال سے بدتر ہوکر دونوں آنکھیں بند کرلیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے نبی ﷺ کی حدیث اپنی کتاب ’’علامات قیامت اور نزول مسیح‘‘ میں نقل کی جس میں حکمرانوں اور رہنماؤں کو دجال سے زیادہ بدتر اور خطرناک قرار دیا ہے۔دجال کی جو خاصیات بیان کی گئی ہیں ان میں گھروں کو اس طرح تباہ اور عزتوں کو اس طرح پامال کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی کتاب ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺ کے آئینہ میں‘‘ جو تفصیلات مساجد کے ائمہ اور مدارس کے مفتیان کے حوالے سے موجود ہیں وہ بڑا لمحہ فکریہ ہیں۔ اگر پاکستان کے حکمرانوں نے مسلمانوں کے گھر اور عزتوں کو نہیں بچایا تو ان کی کسی شرافت ، دیانت ، امانت اور صداقت کا جھوٹا پروپیگنڈہ کام نہیں آئیگا۔ یہ اپنی ساکھ کھوچکے ہیں اور لوگوں نے ان کی کسی خوشی پر خوش نہیں ہونا ہے اور نہ ان کے کسی غم کا کوئی غم کھانا ہے۔ بدلے ہوئے پاکستان میں آرمی کا کردار اس وقت نمایاں حیثیت سے یاد رکھا جائے گا کہ جب اس اہم مسئلے پر پاکستان کی عوام کو اس مشکل سے نکالیں گے جس مشکل میں مذہبی طبقے نے ڈالا ہے۔ اگر یہ کٹھ پتلی علماء و مفتیان سے بھی خوف کھائیں گے تو ان کی بہادری ملک کو کسی بھی آزمائش میں کام نہیں آئے گی۔ سپریم کورٹ مسلمانوں اور انسانوں کے حقوق کا پاس رکھتی ہے تو قرآن کے واضح احکام کی روشنی میں از خود نوٹس کے ذریعے ایک لارجر بنچ تشکیل دے۔ چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل محترم قبلہ ایاز صاحب بھی اپنے ایمان کو بچانے کیلئے کردار ادا کریں ورنہ تمہاری داستاں تک نہ ہوگی….