سورہ بقرہ میں طلاق کے بعد حلال نہ ہونے کا مشروط ذکر …..

618
0

surah-talaq-me-iddat-k-khatmey-per-2-gawah-or-hamishah-ruju-ki-wazahat

سورۂ بقرہ میں آیت 224سے232تک پورا پورا زور دیا گیاہے کہ طلاق کے بعدباہمی صلح سے رجوع ہے۔

اکٹھی تین طلاق پر دورِ جاہلیت میں حلالہ کا تصور سورۂ بقرہ کی ان آیات سے حرفِ غلط کی طرح بالکل مٹ گیا

سورۂ بقرہ کی آیات 224سے 232تک جس مقصد کیلئے اللہ نے نازل کیں تھیں وہ مقصد ہی فقہ وتفسیراور احادیث کی کتابوں کے اندر بالکل فوت نظر آتاہے۔ بخاری کی ایک روایت کا عنوان ’’ برتنوں کا استعمال‘‘ ہے۔ جس میں دولہا دلہن نے نبیﷺ اور صحابہ کرامؓ کی دعوت ولیمہ میں خدمت کی تھی۔ حقیقت کی مناسبت سے عنوان’’ دولہا اور دلہن کی خدمت‘‘ ہونا چاہیے تھا۔ آج کہیں اس حدیث پر عمل ہوتو مذہبی لوگ حیرت سے نڈھال ہوجائیں کہ یہ بھی اسلام ہے؟۔ جس طرح حدیث کا عنوان بالکل غلط اور لایعنی درج کیا گیاہے اسی طرح قرآنی آیات کے مفہوم کو بھی عوام سے بالکل دور کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مفہوم: ’’اندھے پر حرج نہیں ، اور نہ لنگڑے اور مریض پر اور نہ تم پر کہ کھانا کھاؤ اپنے گھر میں …باپ ، بھائی، بہن، ماموں، خالہ،چاچا وغیرہ اور جن کی چابیاں تمہارے لئے کھلی ہیں اور جو تمہارے دوست ہیں کہ اکھٹے کھانا کھاؤ یا الگ الگ…سورہ نور: آیت61‘‘۔ لیکن تفسیرعثمانی جس کو علامہ یوسف بنوریؒ نے بھی بہترین قرار دیا ہے، اس میں لکھا ہے کہ ’’معذوروں اور مریضوں کو جہاد کرنے سے استثناء دیا گیاہے‘‘۔ بات کیاہے اور تفسیر کیا لکھ دی گئی ہے؟۔ دوسرے معاملات میں بھی ایساہی ہے۔ قرآن کا متن چھوڑ کرکیا تفسیر ہوسکتی ہے؟ ۔ البتہ جہاں تفسیر کی ضرورت ہو تو وہاں کرنی چاہئے۔
سورۂ جمعہ کی آیات میں نبیﷺ کی بعثت سے صحابہؓ کے سامنے تلاوت آیات، ان کا تزکیہ اور کتاب و حکمت کی تعلیم کے بعد وآخرین منہم لمایلحقوابہم ’’اور ان میں سے آخرین جو پہلوں سے ابھی نہیں ملے ہیں‘‘ کے بارے صحابہؓ نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟۔ نبیﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓ کے کندھے پر اپنادست مبارک رکھ کر فرمایا کہ’’ اس کی قوم کا ایک شخص یا افراد ہیں اگر علم(دین، ایمان) ثریا پر پہنچ جائے تب بھی وہاں سے یہ لوگ واپس لائیں گے‘‘۔ (بخاری ومسلم وغیرہ)
نبیﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا: ایمان کے اعتبار سے زیادہ عجیب قوم کون ہے؟ توصحابہؓ نے عرض کیا کہ فرشتے۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ کیوں عجیب ہیں جبکہ سب کچھ وہ دیکھتے ہیں، عرض کیا گیا: پھر انبیاء ہیں۔ فرمایا: ان پر تو وحی نازل ہوتی ہے۔ عرض کیا گیا: پھر ہم ہیں یارسول اللہ!۔ فرمایا: تم کیسے ہوجبکہ میں تمہارے درمیان میں موجود ہوں۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ پھر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کو علم ہے۔ فرمایا: ایمان کے اعتبار سے سب سے زیادہ عجیب وہ ہیں ، جن کے پاس قرآن کی آیات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوگا مگر ان کا قرآن پر ایسا ہی ایمان ہوگا جیسا تمہاراہے۔ان میں سے ایک کو 50افرد کے برابر اجر ملے گا۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ ان میں سے 50 افراد کے برابریا ہم میں سے؟، نبی ﷺ نے فرمایا کہ انمیں سے نہیں بلکہ تم میں سے 50افراد کے برابر ایک کو ثواب ملے گا۔
کعبہ کی المسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہے، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب 50 ہزار کے برابر ہے۔ تبلیغی جماعت و دعوت اسلامی کے مراکز اور ذیلی شاخوں49اور79کروڑ کی خوشخبری سنائی جاتی ہے۔
سورۂ بقرہ کی آیات کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ کو صلح کے درمیان رکاوٹ کیلئے ڈھال کے طور پر استعمال مت کرو۔ منع کرنے کیلئے اَیمانکم کے تمام اقسام میں لغو الفاظ پر کوئی پکڑنہیں، دلوں کے گناہ پر اللہ پکرتاہے۔ طلاق کا اظہار نہ کرنے کی صورت پر عورت کی عدت 4ماہ ہے اور اظہار کی صورت میں 3ادوار یا 3ماہ ہے۔ عدت کے دوران اور عدت کے بعد باہمی رضامندی سے اللہ نے رجوع کا دروازہ کھلا رکھ دیا ہے اور عدت کے دوران صلح واصلاح کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ طلاق کا تعلق بھی عدت کے ادوار سے ہے۔ پہلی اور دوسری مرتبہ کی طلاق کے بعد تیسرے فیصلہ کن مرحلے کا ذکر صرف اسلئے ہے کہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے اور اس میں بھی معروف رجوع کا مطلب باہمی رضامندی سے رجوع ہے۔ علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا تو شوہر کیلئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی اس کو دیا ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لے۔ البتہ دونوں اور معاشرہ میں فیصلہ کرنے والوں کویہ خوف ہو کہ اس کے بغیر دونوں اللہ کے حدود کو پامال کردینگے تو پھر وہ چیز فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ یہ معاشرے کی روایت تھی اور آج بھی ہے کہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد اپنی مرضی سے کسی اور سے شادی کی اجازت نہیں دیتے ۔ اسلئے اللہ نے یہ وضاحت بھی کردی کہ ’’اگر پھر طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح کرلے‘‘۔ آیت230سے پہلے 229میں دی گئی صورتحال کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور خطرہ تھا کہ علماء وفقہاء کہیں گے کہ 228اور229کے احکام منسوخ ہوگئے، اسلئے اللہ نے 231اور232آیات میں پھر وضاحت کردی کہ عدت کی تکمیل کے بعد بھی اللہ نے معروف طریقے سے باہمی رضامندی سے صلح کا راستہ نہیں روکا اور کسی کو بھی ان کی راہ میں روکاٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہے۔
رسول اللہﷺ کے وصال فرمانے کے بعد ازواج مطہراتؓ سے نکاح کرنے کو اسلئے روکا گیا تھا کہ اس سے نبیﷺ کو اذیت ہوتی ہے۔ چرند، پرند اور انسانوں کے درمیان یہ قدرِ مشترک ہے کہ جوڑی بن جانے کے بعد نر نہیں چاہتا کہ اسکی مادہ کسی اور سے جفت ہو۔ حضرت علیؓ کی ہمشیرہ حضرت ام ہانیؓ کو فتح مکہ کے بعد اس کا شوہر چھوڑ کر چلا گیا تو نبیﷺ نے شرف زوجیت بخشنے کی پیشکش کردی۔ حضرت ام ہانیؓ نے اپنی نسوانی غیرت کی وجہ سے اس شرف کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس سے زیادہ انسانی فطرت کی مثال کیا ہوسکتی ہے؟۔ نبیﷺ سے پھر اللہ نے فرمایا: اگر اسکے بعد کوئی خاتون پسند آئے تب بھی اس سے نکاح نہ کریں۔ (القرآن)
مروجہ حلالہ کی لعنت کا قرآن وحدیث ، صحابہ کرامؓ اور ائمہ اربعہ کے ادوار میں کوئی وجود نہیں تھا۔ شوہر ایک ساتھ تین طلاق دے تو رجوع کا حق نہیں ہے بلکہ اگر ایک طلاق بھی دو تو رجوع کا حق نہیں ہے ورنہ حدیث بیکار ہے کہ طلاق سنجیدگی اور مذاق میں ہوجاتی ہے۔ اسلئے تین طلاق کے بعد شوہر کیلئے طلاق کا حق بالکل غلط تھا اور آج بھی ہے لیکن باہمی صلح سے رجوع کی گنجائش اور شوہر کے یکطرفہ حق میں بڑا فرق ہے اوریہ حقیقت نظر انداز ہوئی اسلئے قرآن پر ایمان واقعی بڑا عجیب ہے۔

سورۂ طلاق میں عدت کے خاتمے پر رجوع یاتفریق اور اس پر دو عادل گواہ اور ہمیشہ کیلئے رجوع کو واضح کیا گیا
قرآن کی آیات سے حلالہ کا بالکل غلط تصور پیش کیا جاتاہے تو احادیث صحیحہ سے بھی غلط ثبوت پیش کیا جاتاہے

جب اللہ تعالیٰ نے دیکھ لیا کہ امت مسلمہ کیلئے ایک طرف یہ ضروری ہے کہ جو خواتین کو طلاق دینے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کی اجازت نہیں دی جاتی اور خواتین خود بھی طلاق کے بعد دوسری جگہ شادی کرنے کو اپنی غیرت کیخلاف سمجھ لیتی ہیں اور اس غلط رسم وروایت اور انسانی فطرت کو معقول طریقے سے دھکیل دیا اور حلالہ کی رسم جاہلیت کو حرفِ غلط کی طرح مٹادیا۔ تو پھر سورۂ طلاق میں واضح طور سے سمجھایا کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو تو عدت کیلئے دو۔ عربی میں علیحدگی کیلئے طلاق کا لفظ استعمال ہوتاہے۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر عورت کو چھوڑنا ہو تو عدت تک کیلئے چھوڑ دو۔ مذہبی دنیا میں طلاق کا تصور اس قدر بگاڑ دیا گیا ہے کہ قرآن کی کسی آیت کا درست ترجمہ بھی مسلکی زبان میں نہیں ہوسکتا ہے۔
ایک طلاق دیدی تو یہ کسی وقت کیلئے نہیں ہوسکتی بلکہ ہمیشہ کیلئے ہوگی، پھر زندگی میں دو طلاق باقی رہیں گے۔ اگر رجوع نہیں کیا تو عورت دوسری جگہ شادی کرلے تب بھی باقی رہیں گے۔ پھر عورت نے دوسرے سے طلاق لے کر پہلے والے سے دوبارہ شادی کرلی تو مذہبی دنیا میں بڑے بڑوں کی طرف یہ اختلاف منسوب ہے کہ پہلا شوہر نئے سرے سے تین طلاق کا مالک ہوگا یا پہلے سے موجود 2 طلاق کا۔ جمہور کے نزدیک نئے سرے سے 3طلاق کا مالک نہیں ہوگا۔ امام ابو حنیفہؒ اور انکے شاگردوں کا بھی آپس میں اس بات پر اختلاف نقل کیا جاتا ہے کہ پہلے سے موجود طلاقوں کا مالک ہوگا یا نئے سرے سے 3طلاق کا؟۔ عورت دس آدمیوں سے شادی کرکے ایک ایک طلاق لے تو اس پر سب کے 2، 2طلاق کی ملکیت کا حق باقی ہوگا اور عورت پر مجموعی طور سے 20طلاقوں کی بلڈنگ بنی ہوئی ہوگی۔
شوہر نے کہہ دیا کہ 3طلاق اور عورت نے سن لیا تو شرعاً اس پر 3طلاق واقع ہوں گی لیکن اگر شوہر انکار کرے اور عورت کے پاس گواہ نہ ہو تو عورت خلع بھی لینا چاہے اور شوہر خلع نہ دے تو عورت حرامکاری پر مجبور ہوگی۔ طلاق کے حوالے سے جو عجیب و غریب مسائل اسلام کے نام پر گھڑے گئے ہیں انکے ہوتے ہوئے کوئی بھی معقول قوم ، معقول ملک اور معقول افراد اسلام کو قبول کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ جو مسلمان پیدائشی طور پر مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوتے ہیں اسلام کو وہ شعوری طور پر قبول نہیں کرتے بلکہ جس طرح ہندوؤں کے گھر میں پیدا ہونے والے افراد گاؤ ماتا کے پجاری اور گائے کے پیشاب پینے تک کو برا نہیں سمجھتے ، اسی طرح مسلمان بھی دیکھا دیکھی اندھی تقلید ، اندھی عقیدت اور اندھا لگاؤ رکھتے ہیں۔
اسلام دین فطرت ہے اور قرآن و سنت کے درست تصورات عالم انسانیت کی توجہ حاصل کرنے کیلئے زبردست ہیں ، یہی وجہ تھی کہ بہت کم وقت میں اس دور میں سپر طاقتیں روم اور ایران کو مسلمانوں نے فتح کرلیا۔ حالانکہ حضرت عثمانؓ ، حضرت علیؓ کی شہادتوں کے بعد مسلمانوں کو بڑی مشکل سے حضرت امام حسنؓ نے اکھٹا کیا تھا۔ احادیث صحیحہ میں 3طلاق کے حوالے سے صحابہؓ کے جتنے واقعات ہیں ان کی تفصیلات دیکھی جائیں تو ان میں الگ الگ 3طلاق دینا طہر و حیض کے حوالہ سے ہی مراد ہیں۔ حضرت رفاعہ القرظیؓ ، حضرت فاطمہ بنت قیسؓ وغیرہ کے حوالے سے احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ عدت میں قرآن و سنت کے لحاظ سے الگ الگ 3 طلاقیں دی گئیں مگر پھر بھی بعض لوگوں نے من گھڑت روایات بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ لفظ واحد سے حضرت فاطمہ بنت قیسؓ کو ایک ساتھ 3طلاقیں دی گئیں۔ احادیث کے پورے ذخیرے اور ائمہ اربعہؒ کے ہاں صرف 2 واقعات ہیں جن میں ایک ساتھ 3طلاق کا ذکر ہے۔ ایک حضرت عویمر عجلانیؓ جس نے لعان کرنے کے بعد ایک ساتھ3طلاق کا اظہار کیا۔ دوسری روایت حضرت محمود بن لبیدؓ کی ہے جس میں ایک ساتھ 3طلاق پر نبی ﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا۔
امام شافعیؒ عویمر عجلانیؓ کے واقعہ سے استدلال پیش کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا اسلئے ایک ساتھ تین طلاق دینا سنت ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک محمود بن لبیدؓ کی روایت سے ایک ساتھ 3طلاق دینا خلاف سنت اور گناہ ہے۔ قرآن میں فحاشی کی صورت پر عدت کے دوران بھی عورت کا نکالنا اور اس کا خود سے نکلنا جائز قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عویمر عجلانیؓ کی روایت کا تعلق بھی لعان سے تھا۔ حضرت محمود بن لبیدؓ کی روایت میں نبی ﷺ کی ناراضگی کا اظہار اس بات کیلئے کافی نہیں کہ رجوع نہیں ہوسکتا۔ اسلئے کہ اسی طرح سے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابن عمرؓ پر بھی حالت حیض میں طلاق دینے پر غضب کا اظہار فرمایا تھا۔ جس کا ذکر کتاب التفسیر سورۂ طلاق صحیح بخاری میں ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے رسم جاہلیت کی وجہ سے اللہ کی کتاب کو نہ سمجھنے پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا۔ جہاں تک رجوع کی گنجائش کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بار بار فرمایا ہے کہ عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر باہمی رضامندی سے معروف طریقے پر رجوع کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے کھلا رکھا ہے۔ اسلئے نبی ﷺ کوباقاعدہ طور پر یہ وضاحت پیش کرنے کی کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔
سورہ طلاق میں عدت کی تکمیل پر معروف طریقے پررجوع یا معروف طریقے پر الگ کرنے کی وضاحت اور دو عادل گواہوں کا تقررانتہائی جاہل سے جاہل اور کم عقل سے کم عقل انسان کیلئے بھی کافی ہے کہ ایک ساتھ 3طلاق پر اللہ تعالیٰ نے رجوع کا دروازہ بند نہیں کیا گیا۔ پھر سورۂ طلاق میں مزید یہانتک گنجائش کا ذکر ہے کہ جو اللہ سے ڈرا ، اس کیلئے اللہ تعالیٰ راستہ کھول دیگا۔ کاش علماء و مفتیان اپنے ذاتی خیالات کو چھوڑ کر قرآن کریم کی طرف متوجہ ہوجائیں اور مساجد میں عوام کو یہ آیات اور مسائل سمجھانا بھی شروع کردیں۔ اصل معاملہ قرآن و سنت میں حقوق کا ہے۔ شوہر طلاق دیتا ہے تو حقوق کا معاملہ کچھ بنتا ہے اور عورت خلع لے تو حقوق کا معاملہ کچھ اور بنتا ہے۔ جب دونوں آپس میں رہنے پر راضی ہوں تو حلالہ کی رسم کو زندہ رکھنے کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہے جنہوں نے اس لعنت کو کاروبار بنایا ہوا ہے۔ جب تک حکومت کو ان کو ڈنڈا نہ کرے اس وقت تک یہ جاہل عوام کی عزتوں سے کھیلنا بند نہیں کریں گے۔ قومی اسمبلی و سینٹ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔