مولانا طارق جمیل اور سوشل میڈیا کی یہ تصویر: حنیف عباسی

729
0

tablighi-jamaat-haji-muhammad-usman-molana-tariq-jameel-hajre-aswad-muslim-khwateen-ragra-jannat-ki-hoor

صحابہ کرامؓ کے دور میں خواتین مساجد میں نماز پڑھتی تھیں۔ بیت اللہ میں آج بھی پنج وقتہ نماز میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ حجر اسود کو چومنے کیلئے جم گھٹا لگتا ہے تو خواتین و حضرات مذہبی جذبات میں اجنبیت کے حدود کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ صحابہؓ کے دور میں لونڈی کا پردہ نہیں ہوتا تھا اور لباس بھی بہت مختصر ہوتا تھا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اسلام کو بھی اپنے ماحول کے نرغے میں ہی ڈھالنا چاہتے ہیں۔ میڈیا ٹاک شوز میں خواتین کا نمایاں کردار ہے اور علماء و مفتیان بھی خواتین اینکر پرسن کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں لیکن اسکے عادی ہوچکے ہیں اور سوشل میڈیا یا کسی اخبار میں کوئی تصویر چھپ جاتی ہے تو مذہبی جذبات کا تلاطم خیز طوفان اٹھتا نظر آتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا الیاس قدس سرہ العزیز ایک بڑی شخصیت تھی جس نے اس عظیم کام کے ذریعے سے لاکھوں کروڑوں عوام کے دلوں میں کسی معاوضہ کے بغیر دینی اور روحانی جذبہ بیدار کیا۔ آج مساجد و مدارس اور خانقاہیں اسی کام کے دم سے آباد ہیں۔ تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاسؒ کے انتقال کے بعد صاحبزادہ مولانا یوسفؒ کو امیر بنا دیا گیا۔ جس کا تبلیغی جماعت سے کوئی واسطہ نہیں تھا لیکن بڑے اچھے عالم دین ہونے کیوجہ سے کام کو چار چاند لگادئیے۔ پھر ایک بزرگ شخصیت مولانا انعام الحسن ؒ کو امیر بنایاگیا کیونکہ مولانا یوسفؒ کے بیٹے مولانا ہارون کی عمر بہت کم تھی۔ مولانا احتشام الحسن کاندھلویؒ مولانا الیاسؒ کے ہی قریبی ساتھی تھے جس نے ’’موجودہ پستی کا واحد علاج‘‘ کتابچہ لکھا تھا جو تبلیغی نصاب میں شامل تھا۔ مولانا احتشام الحسنؒ آخر میں اس کام کے سخت مخالف ہوگئے تھے کہ اب یہ فتنہ بن چکا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت میں جو غلط لوگ شامل ہوئے ہیں انکی وجہ سے جماعت بدنام ہے لیکن اس ماحول کی یہ خامی ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن کی ایسی تصویر دیکھتے تو استغفار کرتے اور اپنے بزرگ کو دیکھا تو اس کو اللہ کی طرف سے حکمت قرار دیا یہ روش غلط ہے۔