پوسٹ تلاش کریں

اداریہ نوشتہ دیوار

دہشتگردی، ڈان کی خبر اور سیاسی واقعات و حالات
اوبامہ نے 10سال تک دہشت گردی جاری رہنے کا بیان اسوقت دیا، جب جنرل راحیل نے 2016ء کو دہشت گردی کے خاتمے کا سال قرار دیا۔ سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کا معاملہ اور ڈان کی خبر پر حکومت اور کورکمانڈرز کانفرنس کے درمیان تنازع ہے ۔ کرپشن کے الزام پر شہباز شریف نے عمران خان کیخلاف تقریراور 26ارب ہرجانہ کاعلان کردیا۔ میڈیااور لواحقین نے پولیس سینٹر میں دہشت گردی کانشانہ بننے والوں پر سوال اٹھایا تھا۔ محمود اچکزئی خاموش ہیں، مولانا فضل الرحمن کو انڈیا کی بارڈر پر خلاف ورزی نظر آئی۔ واقعہ دنیا میں کہیں بھی ہوسکتا ہے مگر سازش کا سوال پولیس وحکومت پر اُٹھ رہا ہے جسمیں ن لیگ اور اچکزئی شامل ہیں تو پھر کھل کر بات کیوں نہیں کی جاتی؟۔گرتی ہوئی لاشوں کا بھی کوئی ہوش ہے یا نہیں؟، اگر شہبازشریف اپنے ہتک عزت کا دعویٰ کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ڈان نیوز کی خبر پریہ سنجیدگی اورکھل کروضاحت کرنے میں کیارکاوٹ تھی؟۔عدلیہ کے ذریعے الزامات ثابت کرنے ہیں توصد رزرداری کو 11سال جیل میں رکھنے کے باوجود کیوں گالیاں دیں؟۔ سویئس اکاونٹ اور پانامہ لیکس دونوں قومی دولت ہیں۔ شرافت اور عدالت کا تقاضہ ہے کہ قومی قیادت کو قومی دولت لانے کا پابند بنایاجائے۔مریم نواز نے ایک کھرب روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا کہ ڈان کی خبر میں ملوث ہونے کا الزام لگایا مگر جب پوری فوج کی مٹی پلید کرنے کی خبر بناکر شائع کی گئی تو حکومت اپنی فوج کیلئے ازخود کھڑی نہ ہوئی، کیوں؟۔
اگر جھوٹی خبر بدنیتی سے فیڈ کی گئی توپاک فوج کی عزت برائے فروخت نہ ہوگی جس کی قیمت عدالتوں کے ذریعہ شہباز شریف سے وصول کی جائے بلکہ اس پر قرار واقعی سزا بھی ملنی چاہیے۔ اے آر وای پر عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا کہ ’’یہ حکومت نوازشریف کو جنرل کیانی کے وقت میں فوج نے عطاء کی ‘‘۔ دھاندلی کا الزام سب جماعتوں نے لگایا۔جیوپر حامد میر نے ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘‘ پشاور کے حلقہ سے عمران خان کیلئے بھی دھاندلی کے کھلے ثبوت پیش کئے تھے۔ موسمی پرندے پی ٹی آئی کے ایاز صادق وغیرہ اور ق لیگ والے ن لیگ کی طرف پرواز کررہے تھے تو سمجھدار لوگ تبصرہ کررہے تھے کہ ن لیگ کو حکومت دینے کا فیصلہ ہواہے، ہارون الرشید نے کہا کہ ’’عمران خان بروقت امریکہ اور برطانیہ کو اعتماد میں لیتا۔۔۔ ‘‘۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے ایماء پر اسٹیبلشمنٹ سلیکشن کرتی ہے، جمہوریت کاخوامخواہ میں ڈھونگ رچایا جاتا ہے۔
ہمارے حکمران جمہوری ہوں یا فوجی امریکی اور برطانوی ایجنڈے کو لیکر چلتے رہے ۔ یہ دیکھا جائے کہ جنرل کیانی کے دور میں پاکستان سب سے زیادہ دہشتگردی کا نشانہ بنا۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف سب سے زیادہ دہشت گردوں کے حامی رہے ، الیکشن میں انکے علاوہ سب کیلئے مشکلات تھیں۔ بے نظیر بھٹو دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں اور پھر پیپلزپارٹی کے پیچھے نوازشریف اور عمران خان ہاتھ دھوکر پڑگئے۔جنرل راحیل نے پچھلی باریوم دفاع کے موقع پر جی ایچ کیو میں چےئرمین سینٹ رضاربانی اور امسال اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کو ساتھ بٹھالیا۔جس سے حکومت کے وزراء کے چہرے اترے تھے ۔ ہارون الرشید کوکہنا پڑا کہ راحیل آرمی چیف کیلئے بالکل نااہل تھے۔
ڈاکٹر طاہر القادری کو شیخ رشید، عمران خان اور پارٹی کے کارکن اور رہنماؤں سے کھلے عام معافی مانگنی چاہیے کہ ایک یو ٹرن مشرق و مغرب یا شمال اور جنوب کا ہوتا ہے، یہ تو بلندی سے پرواز کا رخ موڑ کر اپنی شخصیت ، جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو پاتال میں گھسیڑ دینا تھا۔ شیخ رشید نے کہا کہ ’’جہاں علامہ طاہرالقادری جائے،میں بھی وہاں جاؤں گا‘‘۔ طاہرالقادری نے عوام سے رائے مانگی ،عوام اسلام آباد کادھرنا دیکھ چکے تھے، اسلئے شریف برادران پر زیادہ دباؤ ڈالنا مناسب سمجھا، رائے آئی کہ اسلام آباد نہیں رائیونڈ جانا ہے۔ شیخ الاسلام نے رائیونڈ کا اعلان دبنگ انداز میں کیا۔یعنی اب علامہ طاہرالقادری کیلئے واپسی کی گنجائش نہ رہی۔ شیخ رشید، جمعیت علماء پاکستان کے ڈاکٹر زبیر الخیری و دیگر بھی تھے۔اتنی قلابازی کھانے پر رقم لینے تک کے الزام لگ گئے ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کی ذوقِ تقریر مثالی ہے، کوئی اہم اعلان کرنے سے پہلے اپنی لاش پر مرثیہ پڑھنے کی حد تک جاتے ہیں،جلسۂ گاہ میں سامعین اور ٹی وی پر دیکھنے والوں کا علان کرتے کرتے خون خشک کردیتے ہیں، دماغ کی دہی بنادیتے ہیں، عمران خان نے کوفت اٹھاکر اپنے فسٹ کزن کے اعلان کا انتظار کیا جب اس نے اعلان کیا تو عمران خان نے بھی رائیونڈ کا اعلان کردیا۔ پھر علامہ طاہرالقادری نے پریس کانفرنس کرکے اپنے بیٹوں کو ساتھ میں بٹھاکرقائد کی حیثیت سے اعلان کیا کہ ’’ رائیونڈ جانا تو دور کی بات ہے اس راستہ پر جانا بھی شریعت میں جائز نہیں اور میں اس کو شریعت اور جمہوریت کیخلاف سمجھتا ہوں‘‘۔ اتنا بڑا یوٹرن لینے سے علامہ کی شخصیت کے سارے بھیدکھل گئے۔ علامہ نے بڑی متضاد قسم کی قلابازی کھائی۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’مشاورت کرلو، جب عزم کرلو تو پھر اللہ پر توکل کرو‘‘۔ علامہ نے مشاورت اور اللہ پر توکل کا اعلان کیا مگر پھر جانے کو ناجائز قرار دیا، جیسے شیخ الاسلام نہ ہوں بلکہ نئے نئے مسلمان بن گئے ہوں۔ پھر پینترے بدلتا رہا کہ نیاماڈل ٹاؤں کا واقعہ کروایا جارہا تھا، اپنے بندوں کو خود مار کر ہم پر مقدمات بنانے تھے؟۔
جب اس طرف کا رخ کرنے کو بھی اسلام اور جمہوریت کے منافی قرار دیاتو یہ اپنے کارکنوں کو ہی نہیں ، عوام اور شیخ رشید و دیگر کو بھی روکنے کے مترادف تھا، پیپلز پارٹی والے تو اخلاقیات کے منافی قرار دیتے تھے ، اس نے تو عمران خان اور شیخ رشید کے عزائم پر بھی سوالیہ نشان بنادیا،عوام کو جمہوریت اور اسلام کا فتویٰ بتادیا۔ عمران خان نے اسلئے سوچا ہوگا کہ یہ آدمی ہے یا پاجامہ؟۔ شیخ رشید تو ایک بار نہیں بار بار منجھا ہوا ہے۔ نوازشریف، مولانا فضل الرحمن، پرویز مشرف اور ہرقسم کے لوگوں کا دفاع کرنے میں حالات کے مطابق مگن رہتاہے، دھلے دھلائے ہانڈی کی طرح وسیع ظرف اور بڑا تجربہ ہے۔ اس کی کوشش پہلے عمران خان کو نرمی دکھانے میں ناکام رہی۔ عمران خان نے خود یہ بھی کہا تھا کہ میں تو شیخ رشید جیسے گندے آدمی کو چپڑاسی بھی نہ رکھوں۔ پھر طاہرالقادری نے یورپی یونین سے مدد لینے کا بہانہ بنایا اور شاہ دولہ کے چوہے کے دماغ میں یہ بات نہ رہی کہ میں نے راحیل شریف سے بھیک نہ مانگنے کا فیصلہ کیا تھا ، یورپ کوئی خدا تو نہیں ۔عمران خان نے پیپلزپارٹی کے سعید غنی کو کہنے کاموقع دیا :’’ ایک اور نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے‘‘۔
ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ جنرل راحیل جارہا تھا مگر کمال کمینگی سے شریف برادران نے داؤ پیچ کھیل کر اپنے دامِ فریب کا خود ہی شکار ہوگئے۔ اگر فوج کا ارادہ خراب ہوتا تو طاہرالقادری یورپی یونین کیلئے فرار ہونے کے بجائے راحیل شریف پر اعتماد کا اظہار کرتا۔ اسکا اتنا بڑا یوٹرن لیناکہ اگر جہاز ہوتا تو پرخچے اڑ جاتے مگر علامہ بڑے مستقل مزاج یا ڈھیٹ ہیں کہ پرواہی نہیں کرتے۔ عمران خان نے ٹالنے کی بڑی کوشش کی مگر بالاخر30اگست کو جلسہ کیا۔نوازشریف نے اپنے رہنماؤں اور کارکنوں کے ذریعہ کھلے عام دھمکیاں دیکر واپس لیں۔ علامہ طاہر القادری کو ڈرانے کیلئے ماڈل ٹاؤن کا واقعہ کرایاتھا، 14شہداء کی لاشوں کے باوجود طاہرالقادری کو خطرہ تھایا فوج کو ملوث کرنا چاہتے تھے کہ امارات ائرلائن یرغمال بن گئی؟۔ عمران خان کا دل اور دماغ ایک ہے، جیسے پچھلے دھرنے میں شادی کا اعلان کیا، اس طرح 30اگست کے جلسے میں پھر تاریخ دیدی۔ یہ تو نوازشریف اور شہباشریف کی غلطی سے 6اکتوبرمیں ڈان کی خبر سے ماحول بدل گیا۔ورنہ اسلام آباد کا اعلان دوسری جماعتوں سے شرکت کی توقع پر کیا تھا۔ پیپلزپارٹی کیلئے یہ نوازشریف کے گھر پر مظاہرہ نہ تھا۔ بلاول بھٹو نے 27دسمبر کا اعلان کیا لیکن جب ماحول کی تبدیلی دیکھ لی تو کہا کہ ’’7نومبر کو احتجاج کرنے کیلئے اپنا فیصلہ بدل سکتے ہیں‘‘۔ سب سیاسی جماعتوں میں قلابازی کھانے میں عمران خان اور طاہرالقادری کو کوئی دیر نہیں لگتی ہے۔

اسلام دین فطرت ہے غیرفطری اختلاف سے جان چھڑانی چاہیے

وضووغسل سے معاشرتی نکاح و طلاق triple talaq اور معاشی احکام تک اسلامی شعائر رائج ہیں جو قرآن وسنت میں موجودہیں مگران احکام کے غیرفطری تضادات سے علماء بھی آگاہ نہیں،بوقتِ ضرورت مطالعہ کرکے دیکھ لیتے ہیں، حالانکہ اسلام میں انکی بھی قطعی کوئی ضرورت نہ تھی مگر مذہبی طبقات کے ذاتی مفادات ہیں جس سے ان پیچھا چھڑانے کی ضرورتہے۔عربی میں غسل نہانے کو کہتے ہیں، انسانوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کو بھی نہانا آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنابت کی حالت میں نماز پڑھنے سے پہلے نہانے کا حکم دیا ہے اور دوسری جگہ وضو کا حکم دیتے ہوئے حالتِ جنابت میں اچھی طرح سے پاکی کا حکم دیا ، جس سے نہانا ہی مراد ہے لیکن کم عقل مذہبی طبقات نے اس پر انواع واقسام کے اختلافات کا بیج بودیا، جو مدارس کے علاوہ تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی کی مجالس میں عوام کو رٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔ بے نمازی کیلئے قرآن و سنت میں کسی سزا کا حکم نہیں، فقہی مسالک میں قتل، قید اور کوڑوں کی سزاؤں کے احکام پر اختلافات پڑھائے جاتے ہیں، نوجوان طبقہ ان احکام کی وجہ سے داعش، طالبان ، حزب التحریر اور دیگر تنظیموں میں شامل ہوکر اسلام کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر ان نوجوانوں کو پتہ چل جائے کہ ان بکواسات کا اسلام محض علماء ومفتیان کی تجارت اور فقہاء کے پیٹ کا غبار ہے تو یہی نوجوان طبقہ محنت کا رخ موڑ کر اپنے اپنے ممالک میں ظلم و جبر کے خلاف عدل وانصاف کا نظام قائم کرنے کی کوشش میں لگ جائے گا ۔ میرے دوست مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید مذہب کے نام بغاوت کے علمبردار نہیں بلکہ ریاست کے آلۂ کار ہیں۔ ریاست ان باغیوں کیخلاف اقدامات اٹھاتی ہے جن میں اسلامی نظام کیلئے بغاوت کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ مذہب کے قدرِ مشترک میں باغی گروہوں اور ان گروہوں میں جو ریاست کے وفادار ہیں ، باہمی طور سے ہمدردیاں ہیں۔ غسل اور وضو فطری ہیں، نماز فطری ہے مگر ان پر اختلاف اور سزاؤں کا نفاذ غیرفطری ہے۔ ہماری ریاست ، حکومت اور سیاستدانوں کا سب سے بڑا فرض تھا کہ مدارس کے نصاب پر سینٹ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مثبت اقدامات اٹھاتے اور کور کمانڈز کانفرنس ، عدلیہ اور حکومت اس پر بہتر تجاویز اور احکام جاری کرتے۔
ایک بچہ بھی کتاب، قلم ، غسل، وضو، نماز، ماں باپ اور رشتہ داروں کے مضبوط تعلق نکاح اور طلاق triple talaq، علیحدگی اور ناراضگی سے لیکر زکوٰۃ، حج اور عمدہ حکومت کے معاملات کو سمجھتا ہے۔ اسلام کے دینِ فطرت ہونے کی یہ سب سے بڑی خوبی ہے کہ جس معاملہ کو بھی اس کی حقیقی صورت میں پیش کیا جائے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ دنیا میں کسی معقول انسان کو اسکے قبول کرنے میں تھوڑا بھی تأمل ہو۔ نکاح وطلاق کے اسلامی احکام بالکل فطری تھے لیکن مذہبی طبقات نے اس کا وہ حلیہ بگاڑ دیا ہے کہ غیرمسلم تو درکنار، دوسرے فرقوں کے لوگوں کا معاملہ بھی چھوڑدو، اپنے مسلک اور خود پڑھنے پڑھانے والا طبقہ بھی اس کو سمجھنے کی کوشش کرے تو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے میں ہرگز تھوڑی دیر بھی نہ لگائے۔ اسلام ہرقوم، ملک اور مذہب کے قانونی جوڑ ے کا نکاح قبول کرتاہے، قانونی علیحدگی کو طلاق قرار دیتا ہے اور اپنے نکاح و طلاق کیلئے ایسے قوانین پیش کرتاہے کہ دنیا کے کسی قوم ومذہب، ملک وملت اور رسم ورواج کے اندر اس کا درست تصور پیش کیا جائے تو پوری دنیا اسی بنیاد پر بھی اسلامی نظام کو سمجھنے اور اس کو نافذ کرنے اور رائج کرنے پر برضا ورغبت آمادہ ہوجائے گی، اور اسلام نہ بھی قبول کریں لیکن نہ صرف عالمی اسلامی خلافت کی تمنا کرنا شروع ہوجائیں گے بلکہ عملی طور پر اپنے اپنے ممالک میں اس کی جدوجہد کا بھی آغاز کردینگے۔
کتاب’’ابر رحمت‘‘ میں نہ صرف طلاق triple talaq کا مسئلہ ہے بلکہ درسِ نظامی کی بنیادی خامی کو بھی اُجاگر کیا گیاہے، اختصار کیساتھ عدالتی معاملات، فرقہ وارانہ مسائل کا حل اور نظریاتی اور سیاسی معاملات کو بھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ triple talaq کے مختصر سے کتابچہ میں فرقوں اور مسالک سے بالاتر قرآن وسنت کا ایسا نقشہ پیش کیا گیاہے جس کے اعتراف میں سب یک زباں ہیں لیکن بہت سی مقتدر شخصیات اپنی عزت بچانے کی خاطر اپنے ارادتمندوں اور عقیدتمندوں کی عزتوں سے کھیلنے کا دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جن لوگوں کو خود کش حملہ آوروں، سرعام دہشت گردانہ کاروائیوں ،فتنہ وفساد ، کشت و خون کی ہولی کھیلنے اور پرتشدد کاروائیوں میں ملک وقوم کی تباہی سے مسئلہ نہ تھا اور نہ کبھی وہ اپنی زباں پر حرفِ شکایت لائے ہیں ، ان کو مسلمانوں کے گھر برباد ہونے اور عزتیں لٹنے سے بچانے میں ہمارے الفاظ کا لہجہ سخت لگتا ہے، تب بھی ہم اپنے رویہ پر نظر ثانی کرسکتے ہیں جس کا ہم نے بار بار اس شرط پر اعلان بھی کیا ہے کہ علماء و مفتیان قرآن و سنت اور عقل وشریعت کے منافی اپنی طرف سے جاری وساری گھروں کو تباہ کرنے اور حلالہ کی لعنتوں کا فتویٰ ترک کردیں۔ نصاب میں غیرفطری اختلافات کو چھوڑ کر اسلام کی درست تعلیمات سے مدارس کے طلبہ کو روشناس کرائیں جس سے مسلم قوم کا رخ فرقہ واریت، دہشگردی اور منفی رحجانات کی بجائے اسلام دینِ فطرت کی طرف ہوجانے میں کوئی دیر نہ لگے۔
triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq
triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq
triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq، triple talaq

حضرت مولانا مفتی حافظ محمد حسام اللہ شریفی صاحب کی طرف سے سید عتیق گیلانی کی تازہ تصنیف ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘پر تاثرات

بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ وحدہ و الصلوٰۃ و السلام علیٰ من لا نبی بعدہ ، اللہ رب العزت نے اپنے پاکیزہ کلام میں اپنے خصوصی فرمانبردار بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے سورۃ الفرقان میں ارشاد فرمایا :

Ayat_Quranl_sep2016

ترجمہ: اور وہ لوگ کہ جب ان کو ان کے رب کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ ان پر اندھے اور بہرے ہوکر نہیں گرپڑتے ۔ (بلکہ تدبر ، تفکر اور غور و فکر سے کام لیتے ہیں)
یعنی جس طرح وہ اپنے دنیاوی معاملات میں اپنی عقل سلیم استعمال کرتے ہیں وہ دینی معاملات میں بھی اپنے سلیم الفطرت ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
وہ اللہ تعالیٰ کے دربار میں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکیں گے کہ ہمیں فلاں مولوی صاحب نے یہ بتایا تھا ہم اس پر عمل کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہم نے تمہیں بھی عقل سلیم عطا فرمائی تھی۔
تم دنیاوی معاملات میں تو اس سے کام لیتے رہے حتیٰ کہ تم سبزی بھی خریدنے گئے تو یہ دیکھتے رہے کہ سبزی تازہ بھی ہے اور صاف ستھری اور اچھی بھی ہے کہ نہیں۔ کپڑا خریدتے وقت بھی تم اسکی اچھائی دیکھتے رہے
بیٹی کا رشتہ کرتے وقت بھی اپنے ہونے والے داماد میں تمام اچھائیاں ڈھونڈتے رہے پھر تم نے دین کے معاملے میں ان سب باتوں کو کیوں نظر انداز کردیا ؟ اب اس کا نتیجہ بھگتو۔
محترم گیلانی صاحب نے زندگی کے ایک انتہائی اہم معاملے ’’طلاق‘‘ پر عام روش سے ہٹ کر قرآن و سنت کے احکام پر تدبر اور تفکر سے کام لیا اور اس اہم مسئلہ پر جدید انداز میں روشنی ڈالی
اللہ تعالیٰ ان کی مساعی میں برکت عطا فرمائے اور عامۃ المسلمین کو ان سے فیضیاب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ خادم علوم قرآن و سنت محمد حسام اللہ شریفی (28 اگست 2016 ء)

رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن و سنت رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ
مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان مشیر شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان
کتاب و سنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی(جنگ گروپ)
ایڈیٹر ماہنامہ قرآن الہدیٰ کراچی (اردو انگریزی میں شائع ہونیوالا بین الاقوامی جریدہ)
رجسٹرڈ پروف ریڈر برائے قرآن حکیم مقرر کردہ وزارت امور مذہبی حکومت پاکستان
خطیب جامع مسجد قیادت کراچی پورٹ ٹرسٹ ہیڈ آفس بلڈنگ کراچی

اسلام کا مذہبی طبقہ نے بیڑہ غرق کردیا،ڈاکٹر سید وقار حیدر شاہ سیالکوٹی

فوجی، سیاستدان، عام آدمی، پڑھالکھا،ان پڑھ، ڈاکٹر،انجینئر، سائنسدان، بینکار اور مذہبی طبقہ سے تعلق رکھنے والا بالکل عام وہ شخص جو مولوی نہ ہو یہ تصور بھی نہیں کرسکتا ہے کہ اسلام فطری دین ہے جسے ہر فرد بخوبی سمجھ سکتا ہے مگرمولوی کے دل پر اللہ نے تالا لگا دیا ہے ۔غیر مسلم سکھ، ہندو، یہودی، عیسائی، بدھ مت ، مجوسی اور دنیا کے کونے کونے میں رہنے والے انسانوں کو اسلام پوری آب وتاب کیساتھ سمجھ میں آجائیگا مگرعلماء ومفتیان کی اکثریت زنگ آلودہ دل، ضد، ہٹ دھرمی، کوتاہ ذہنی،قاصر دماغی ، مفادپرستی، فرقہ وارنہ عصبیت ، طبقاتی عناد ، کورنگاہی اور معصومانہ حماقت کے سبب اسلام کو سمجھنے میں دیرلگادیگی، جانور تو سب ہی جانور ہیں لیکن گدھا ضرب المثل ہوتاہے، اللہ نے یہود ی علماء کو گدھے سے تشبیہ دی اور نبیﷺ نے انکے نقش قدم پر چلنے کی پیشگوئی فرمائی تھی جو بالکل درست ثابت ہورہی ہے اور آج تمام طبقے اپنے احوال میں علماء سمیت زیادہ مختلف نہیں ہیں۔
عورت صنفِ نازک اور مرد طاقتورہے، دونوں میں لڑائی ہوتو عورت زبان کی تیز اور مرد ہاتھ چھوڑہوگا۔ یہ ایک غیرمعمولی کیفیت ہوتی ہے کہ زبان درازی کے مقابلہ میں ہاتھ چلنے اور مارکٹائی تک بات پہنچ جاتی ہے۔اگراللہ شوہر پر پابندی لگادیتا کہ بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے تو باتونی لڑائی کا بازار گرم ہوتا اور زندگی اجیرن بن جاتی،چرب زبانی کا مقابلہ ہاتھ سے ہوتا ہے، اللہ نے شوہر کو اجازت دیدی واضربوھن ’’اور انکو مارو‘‘۔ ایک عام انسان سوچتا ہے کہ نعوذباللہ یہ کتنا ظلم ہے کہ اللہ نے شوہر کو ٹھنڈا کرنے کی تعلیم دینے کی بجائے الٹا بیوی کو مارنے کا حکم دیا ، مذہب سے زیادہ سیکولر و سوشلسٹ نظام میں عافیت ہے لیکن کیا وہاں عورت پر تشدد نہیں کیا جاتا ہے؟۔ اسلئے تویہ قوانین بھی بنائے گئے ہیں کہ ’’عورت مار کھانے کی بجائے فوری طور سے پولیس کو اطلاع کردے‘‘۔
قرآن نے حکمت اور فطری تقاضوں کو پورا کرکے عورت کو شوہر کی مار سے بچانے کا نسخۂ کیمیا بتادیا۔ شوہر کی بیوی سے دشمنی نہیں ہوتی ،مارکٹائی اور تشدد کی عادت فطری تعلیم سے جہالت کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے پہلے مرحلے میں شوہر کو پابند بنایا کہ وہ بیوی کو سمجھائے۔ پھر دوسرے مرحلہ میں بستر الگ کرلے، پھر تیسرے مرحلہ میں مارنے کی بات ہے۔یہ مارنا سزا نہیں بلکہ عورت کی توہین ہے۔کوئی معزز انسان اپنی توہین و اہانت برداشت نہیں کرسکتا۔ہلکی ماربھی رسوائی ہے۔ بدکاری پر100کوڑے کی سزا میں مؤمنوں کے ایک گروہ کوگواہ بنانے کا حکم جسمانی سزا سے زیادہ روحانی اذیت اور شرمندگی کا احساس ہے۔ عورت کی سرکشی کا خطرہ ہو اور مار سے اطاعت کرلے توفرمایا:’’ ان کیلئے (مارکٹائی ، باتیں سنانے کی) راہیں تلاش نہ کرو‘‘۔اللہ نے یہ بھی فرمایاہے کہ ’’اگر ان دونوں میں جدا ہونے کا خوف ہو تو دونوں طرف سے ایک ایک رشتہ دار کو فیصلے کیلئے حَکم بنایا جائے۔۔۔‘‘
فوج کی حکمرانی اسلئے غلط ہے کہ انکی تربیت دشمن کیلئے ہوتی ہے ،انکا عوام سے برتاؤ اچھا نہیں ہوسکتا ، البتہ سیاسی قائدین آمریت کی پیداوارہیں۔ ریاست ماں جیسی مگرماں انسان نہیں کتیا جیسی ہے ، ریاست کے اہلکاروں کا اپنی عوام سے سلوک کتوں کے بچوں کا ہوتاہے،اگرہم قرآن کیمطابق مہذب بن کر ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو انکے حقوق دینگے تو ہماری ریاستی اداروں کا رویہ بھی درست ہوگا، کشمیر وفلسطین اور سب ہی آزاد ہونگے۔
بیوی کوشوہر کی شکل ،کرداراور سلوک پسند نہ ہواورچھوڑنے کی اجازت ہوتو شوہر ایسا سلوک روانہ رکھے گا کہ عورت اسکو چھوڑ کر جائے،رویہ کی وجہ سے شکل بھی بری لگتی ہے۔ یہ اسلام نہیں کہ شوہر کے ہرطرح کے ناروا رویے کے باوجود لفظِ طلاق کا پابند بنایا گیا ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ نکاح کا عقدہ بہت مضبوط اور شوہر کا اختیار ہے لیکن اس دائرہ اختیار کے بھی حدود ہیں۔ طلاق کی ایک صورت الفاظ کی ہے، دوسری صورت عمل سے طلاق کی ہے ، پہلے اللہ نے طلاق کی عملی صورت کو واضح کیا اور پھر طلاق کے اظہار کو واضح کیا ۔پہلے اللہ نے عورت کی طرف سے شوہر کو چھوڑنے کی وضاحت کی پھر شوہر کی طرف سے بیوی کو چھوڑنے کے اختیار کی وضاحت کی۔ ہاں ہاں! مولوی سمجھے گا نہ مانے گا۔مذہبی طبقہ تو قرآن وسنت کیخلاف ایک طلاق کے بعددوطلاقوں کے باقی رہنے کا تصور دوسری شادی کے بعد بھی رکھتا ہے حالانکہ دو مرتبہ طلاق کاتعلق طہروحیض کے ادوار سے واضح ہے۔
قرآن گنجلک،الجھی ہوئی اور بھول بھلیوں کی کتاب نہیں بلکہ اسکی آیات بینات کی فصاحت و بلاغت اتنی واضح ہے کہ عام انسان بھی بات کی تہہ تک پہنچ جاتا ہے فرمایا: عورتوں کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھو!،اور اسلئے ان کو نہ روکو، کہ جو تم نے انکو دیااس میں سے بعض واپس لے لو، الایہ کہ وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں۔ انکے ساتھ اچھا معاملہ کرو، اگر وہ تمہیں بری لگیں تو ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کو تم برا سمجھو اور اللہ اس میں تمہارے لئے بہت سارا خیر رکھ دے‘‘(سورۂ النساء آیت19)۔ ہٹ دھرم اورغیرت وحسِ انسانی سے عاری علماء کی اکثریت کے علاوہ اس آیت کے افہام وتفہیم کا ادراک ہر بنی نوع انسان بخوبی کر سکتا ہے۔ پہلے واضح فرمایا: عورت کے زبردستی مالک نہ بن بیٹھو، بیوی کی ملکیت کا تصور باطل قرار دیا، پھر وہ چھوڑ کر جانا چاہیں تو اسلئے نہ روکو ،کہ دی ہوئی چیزمیں سے بعض واپس لے لو مگر فحاشی کی صورت مستثنیٰ ہے۔ عورت کھلی فحاشی کی مرتکب نہ ہو تو شوہر کی طرف سے بعض دی ہوئی چیزوں سے محروم کرنے کے اقدام کو بھی غلط قرار دیا ہے۔ ایسے موقع پر بیوی پر غصہ و بدسلوکی کا اندیشہ ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ وہ بری بھی لگیں مگر اللہ نے پوری صورتحال کا زبردست طریقے سے احاطہ کرکے تمام پہلوؤں کو واضح کردیاہے کہ ’’پھر بھی انکے ساتھ اچھا برتاؤ کرو، وہ تمہیں بری لگ رہی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں بری لگے اور اللہ تمہارے لئے بہت سارا خیر رکھ دے‘‘۔ بالفرض عورت شوہر سے نباہ نہیں کرنا چاہ رہی ہے، چھوڑ کر جانا چاہ رہی ہے تو اس کو انا کا مسئلہ بناکر بدسلوکی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ٹھنڈا پانی پی کر برداشت کرنا چاہیے۔ اگر وہ اس طرح چھوڑ کر نہ جائے یا اس کیلئے رکاوٹ پیدا کی جائے اور کل کلاں عزت تارتار ہوجائے، زندگی اجیرن رہے، بدمزگی کی صورتحال دائمی طور سے رہے تو اس کی بجائے ان کو حسنِ سلوک سے چھوڑنے کی بات میں بہت سارا خیرپنہاں اور چھپا ہوا نہیں بلکہ عیاں اور واضح ہے۔
غیرت یہ ہے کہ عورت کی وفاداری مشکوک ہوجائے تو بھی چھوڑنے میں لمحے کی دیر نہ لگائی جائے لیکن جب عورت چھوڑ کر جانا چاہتی ہو اور شوہر اس کو رکنے پر مجبور کرے تویہ شوہر کی غیرت نہیں حد درجہ بے غیرتی بھی ہے، اللہ نے اس آیت میں غیرت ہی کی تعلیم دی ہے مگر بے غیرت قسم کے معاشرے میں بے غیرتی کو ہی بڑی غیرت سمجھ لیا جاتاہے ۔ مذہبی طبقہ کی اکثریت کو چھوڑ دو، یہ قرآن سمجھنے کی صلاحیت سے ہی خود کو عاری کرکے دل اور دماغ پر زنگ چڑھا چکی ہے، کسی حسنی اور حسینی مہدی اور امام برحق کے انتظار میں ان کو بیٹھے رہنے دو،جو گمراہی کے قلعے مدارس اور ان زنگ آلودہ دلوں کو فتح کرے گا۔
اگلی آیت میں اللہ نے شوہر کو بیوی چھوڑنے کی اجازت دی فرمایا : ’’اگرکوئی بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہے تو اگر کسی ایک کو بہت سارا مال دیا ہو تو بھی اس میں سے کچھ لینا جائز نہیں ۔کیا تم بہتان اور کھلے ہوئے گناہ کے ذریعہ سے بعض مال واپس لوگے؟‘‘۔ (آیت20سورۂ النساء)۔ عورت چھوڑ کر جانا چاہے تو بھی دیے ہوئے مال میں بعض کی واپسی کو صرف فحاشی کی صورت میں مستثنیٰ قرار دیا ، اسی آیت کے ذیل میں خلع کی احادیث کو درج کرنا تھا، عورت چھوڑ کر جانا چاہتی ہوتو اس کو خلع کہتے ہیں۔شوہر چھوڑ نا چاہتا ہوتو بہتان لگاکر عورت کو بعض چیزوں سے محروم کرنے کے کھلے گناہ سے روکا گیا ہے۔ فرمایا: کیا تم ان پر بہتان لگاؤگے اور وہ تم سے لے چکیں میثاق غلیظ پکا عہدوپیمان۔ آیت21
اللہ تعالیٰ نے انبیاء سے میثاقِ غلیظ لینے کا ذکر کیا ہے اور بیوی کا شوہر کو امانت سونپ کر رازداری کے مقدس عمل کو بھی میثاقِ غلیظ قرار دیا ہے۔ کم عقل علماء و مفتیان نے نکاح کے اس مقدس عہدوپیمان کی ضد کو طلاق مغلظہ کا نام دیکر اسکے مفہوم کا بھی ستایاناس کردیا ہے۔ یہ بیوقوف ہٹ دھرم اورانتہائی معصوم احمق طبقہ کہتا ہے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا عورتوں کو مغلظہ یعنی اپنے اوپر غلیظہ بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق نہیں نکاح میں مباشرت کے مقدس عمل کو ہی میثاقِ غلیظ (پکا عہدوپیمان) قرار دیا تھا۔ جو اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اس کی مثال دینی بھی مشکل ہے۔ عدت تک قائم رہتا ہے، عدت حمل کی صورت میں ہو وضع حمل تک اور طہرو حیض کی شکل میں ہو تو تینوں مراحل میں تین مرتبہ طلاق کے باوجود عدت کے خاتمے تک باہمی رضامندی اور صلح سے معروف طریقے پر اللہ نے بار بار روجوع کی وضاحت کی ہے۔ سورۂ البقرہ،النساء، المائدہ، الاحزاب، المجادلہ اور سورہ طلاق کی آیات کو دیکھا جائے تو عالم انسانیت قرآن کی عظیم انسانی منشور کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیگی۔
امام ابوحنیفہؒ کا مسلک اقرب الی الحق اسلئے ہے کہ اللہ نے ایلاء پر چار ماہ کے انتظار کا حکم دیا اور طلاق کے عزم کے باوجود اظہار نہ کرنے پر مواخذے کی وضاحت کی ۔ علامہ ابن قیم اور جمہورائمہ و محدثین کے نزدیک نعوذباللہ چار ماہ کا انتظارمحض ایک شوشہ، فضول اور بکواس ہے، جبتک شوہر طلاق نہ دے عورت چارماہ کیا زندگی بھر انتظار کریگی۔ جبکہ امام ابوحنیفہؒ نے کہا’’ چارماہ تک انتظار عزم کا اظہار ہے اسلئے طلاق ہوجائیگی‘‘۔ قرآن میں اختلاف کی گنجائش نہیں، عورت کے حق کابیان ہے کہ طلاق کے اظہار کی صورت میں تین مراحل یا تین ماہ انتظار کرنے کی پابند ہے اور عزم کا اظہار نہ کرنے پر ایک ماہ کا اضافہ ہے اگر عورت کاحق ملحوظِ خاطر رہتا توآیت میں اختلاف کی گنجائش نہ رہتی۔مرد طلاق دے اور عورت انتظارکی پابندہو تو اس سے بڑھ کر درجہ کیاہوسکتاہے؟۔ حقوق نسواں کی بحالی سے مغرب اسلام کی طرف راغب ہوگا اورہر قسم کا غلام آزادی پر آمادہ ہوگا۔

معراج محمد خانؒ کی شخصیت سے سیاست بے نقاب ہوتی ہے ذوالفقار علی بھٹوؒ ، جنرل ضیاءؒ اور عمران خان کا پتہ چلتا ہے

معراج محمد خان بائیں بازو کے ،جاویدہاشمی دائیں بازوکے اچھے کردار وں کی علامت ہیں، تھے اور آئندہ بھی رہیں گے۔ دونوں کی فکر ونظر میں اختلاف ہوسکتا تھا لیکن خلوص وکردار پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔ معراج محمد خان خود کو علماء حق کے پاؤں کی خاک کہنے پرفخر محسوس کرتے تھے اور جاوید ہاشمی نے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی سے معذرت کرلی تھی کہ میں جماعتِ اسلامی جیسی مذہبی جماعت نہیں مسلم لیگ جیسی سیکولر جماعت کے ساتھ ہی چل سکتا ہوں۔ معراج محمد خان کمیونسٹ مسلمان تھے اور جاویدہاشمی سیکولر مسلمان ہیں، ایک کادائیں اور دوسرے کا بائیں باز وسے تعلق اس بات کا ثبوت نہیں کہ انہوں نے اسلام سے رو گردانی کا ارتکاب کیا۔
یہ معراج محمد خان کا قصور نہ تھا جو کیمونسٹوں کی صفوں میں کھڑا ہوا، بلکہ یہ علماء سوء کا قصور تھا جنہوں نے مذہب کو پیشہ بنالیا۔ جس دن اسلام کا حقیقی تصور قائم کرلیاگیا اور اس پر عمل کیا گیا تو کمیونسٹ اور سیکولر لوگ اسلام کی آغوش میں ہی پناہ لیں گے۔ اسلام خلوص کا نام ہے، اسلام پیشہ نہیں دین ہے اور اسلام نے ہی دین میں جبر کومنع کیا ہے۔ جس دن مذہبی طبقات نے یہ تأثر ختم کردیا کہ اسلام کوئی پیشہ ہے تو دنیا کی ساری کمیونسٹ پارٹیاں اسلام کے دامن میں پناہ لیں گی اور جس دن مذہبی طبقات نے یہ تأثر قائم کرلیا کہ دین میں جبر نہیں تو دنیا کی ساری سیکولر قوتیں اسلام کی آغوش میں پناہ لیں گی۔ معراج محمد خان ؒ کے نام پر آرٹ کونسل میں ایک پروگرام رکھا گیاجو تقریروں اور اچھے جذبات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما سینٹر کامریڈ تاج حیدر نے کہا کہ ’’معراج محمد خان کے حوالہ سے میں نے جومضمون لکھا ، کسی بھی نامور اخبار نے اس کو شائع کرنے سے انکار کردیا۔ حالانکہ جب کسی کا نام آجائے تو ادارہ اس کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتا ہے‘‘۔
سنیٹر تاج حیدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جوگٹھ جوڑ تھا اس کا خاتمہ ہوا ہے ، اس صورتحال سے کمیونسٹ نظریات رکھنے والوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مولا بخش چانڈیو نے ایک بڑا اچھا شعر بھی سنادیا کہ ’’حسینؓ کی عزاداری کاعشرہ ضرور مناؤ مگر وقت کے یزید کی طرفداری بھی مت کرو‘‘ اور سب مقررین نے اپنے خیالات اور جذبات کا اپنے اپنے انداز میں اظہارِ خیال کیا۔ معراج محمد خان ؒ کے نام کیساتھ ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کے لفظ کا اشارہ نا مانوس لگتاہے لیکن اللہ کی رحمت کی دعا کی اجاراداری ان لوگوں سے ختم کرنے کی ضرورت ہے جو صرف مذہبی ماحول سے تعلق رکھتے ہوں۔ مذہبی طبقات صرف اپنے اپنے اکابر کے ساتھ یہ علامت لگاتے ہیں، ان کی یہ بھی مہربانی ہے کہ مخالفین کیساتھ زحمت اللہ علیہ (زح) نہیں لگاتے۔ عوام کو ان مذہبی جہالتوں سے نکالنا بھی بہت بڑی جدوجہد اور جہاد ہے جن میں نامعقول مذہبی طبقات کی وجہ سے جاہل عوام مبتلا ہیں۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولاناشاہ احمدنورانیؒ بڑے اور اچھے لوگ تھے لیکن معراج محمد خانؒ بھی کسی سے کم تر نہ تھے۔ جنرل ایوب خانؒ کے دور میں ذوالفقار علی بھٹوؒ جب جنرل صاحب کیساتھ تھے تو معراج محمد خانؒ نے ان کا مقابلہ کیا، جب بھٹو نے جنرل ایوب کا ساتھ چھوڑدیا تو اپنے سخت ترین مخالف بھٹو کا استقبال کیا اور اپنے کارکن بھٹو کے حوالہ کردئیے کہ اب ہمارا اختلاف نہ رہا ، راستہ درست چن لیا ہے تو ہم آپکے ساتھی ہیں۔ بھٹو کے دورِ حکومت میں معراج محمد خان کو وزارت ملی لیکن حکومت اور اپنی وزارت کے خلاف عوام کے حقوق کیلئے احتجاج میں شامل ہوگئے۔ بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ جو راہ ورسم بنالی تھی اس کو نباہ رہے تھے مگر معراج محمد خان نے اپنے اصولوں سے وفا کی۔ پھر جب بھٹو نے سیاسی قائدین پر جیلوں میں بغاوت کے مقدمات چلائے تو معراج محمد خان بھی حکومت کی صف میں نہ تھا بلکہ اپوزیشن جماعتوں کیساتھ جیل میں بندتھے۔
جنرل ضیاء کا مارشل لاء لگا تو معراج محمد خان نے بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ ہونے کے بعد بھٹو کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولا۔ معراج محمد خان کو جعلی سیاستدان بننے کی پیشکش ہوئی مگر معراج محمد خان نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اگر معراج جنرل ضیاء کی پیشکش کو قبول کرلیتا تو جنرل ضیاء کو مذہبی طبقے اور اسلام کاسہارہ لینے کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔ جب ایم آر ڈی کی تحریک چلی تو معراج محمد خان بھی اس جدوجہد کا حصہ تھے بلکہ ساری جماعتوں نے معراج محمد خان کا نظریہ قبول کرکے ہی ایک مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا تھاجس میں جنرل ضیاء اتفاقی حادثے کا شکار نہ ہوتے توزیادہ عرصہ تک صرف تحریک ہی چلانی پڑتی۔ بھٹو نے بھی ایک آمر جنرل ایوب کی صحبت اُٹھائی تھی اسلئے آمرانہ سیاست ان کے دل ودماغ پر چھائی تھی جس کا ساتھ معراج محمد خان نہیں دے سکتے تھے، نوازشریف اصغرخان کی تحریک استقلال کا فائدہ اٹھاکر سیاست میں ڈالے گئے اور امیرالمؤمنین جنرل ضیاء الحق کے سپاہی بن گئے، جنرل ضیاء کی برسیوں پر بھی جنرل ضیاء کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے حلف اٹھایا کرتے تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعہ سے برسرِ اقتدار آنے والا نوازشریف اصغر خان کیس میں ملزم نہیں بلکہ مجرم ہے، جس طرح کالا کوٹ پہن کر سابق وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کیخلاف جنرل اشفاق کیانی کے ہمراہ کورٹ میں گئے، اسکے بعد وزیراعظم ایک ناکردہ گناہ کی وجہ سے مجرم بن کر نااہل قرار دئیے گئے یہ ہمارے اصحاب حل وعقد ، ریاستی اداروں، عدالتوں اور جمہوری نظام پر ایک بدنما داغ ہے کہ نوازشریف کو سزا کیوں نہیں سنائی جارہی ہے۔
معراج محمد خان کو پہلی مرتبہ ایم آر ڈی کے جلسہ میں ’’نشتر پارک کراچی‘‘ میں دیکھا تھا، مدرسہ جامعہ بنوری ٹاؤن کا طالب علم تھا، مولانا فضل الرحمن کی وجہ سے ہم نے جمعہ کی نماز بھی نشتر پارک میں قبضہ کی نیت سے پڑھی، زیادہ تر مقررین کو بولنے تک نہ دیا، شاید معراج محمد خان کو مولانا فضل الرحمن سے کہنا پڑا، کہ اپنے ورکروں کو خاموش کردو۔ جب کسی کا بولنا گوارہ نہ ہو تو اس کا سننا بھی کوئی معنیٰ نہیں رکھتا ہے۔ البتہ مولانا فضل الرحمن پر کفر کے فتوے لگانے والے مخلص نہ تھے اسلئے انکے فتوؤں کو کبھی اہمیت نہ دی، پیپلزپارٹی سے اتحاد پر جو مذہبی طبقات مولانا فضل الرحمن سے ناراض تھے ،انہوں نے پیپلزپارٹی کی طرف سے ایم آر ڈی کی قیادت کرنے والے غلام مصطفی جتوئی کو پھر اسلامی اتحاد کا سربراہ بنایا۔ چونکہ مذہبی طبقے اور موسم لیگیوں کا اتنا بڑا دم نہ تھا کہ وہ جنرل ضیاء کے باقیات کا حق ادا کرلیتے، اسلئے عوام کو دھوکہ دینا ناگزیر سمجھا گیا اور غلام مصطفی جتوئی کو قیادت سونپ دی گئی مگر جتوئی مرحوم پرا عتماد نہ تھا اسلئے اسٹیبلشمنٹ نے ان کو ناکام بناکرہٹایا اور نوازشریف کو وزیراعظم بنایا گیا۔
نوازشریف نے پیپلزپارٹی کے خلاف صدر غلام اسحاق خان کا ساتھ دیا تھااور پھر اسی صدر کی وجہ سے خود بھی جانا پڑا،محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ نے صدارتی امیدوار کیلئے ایم آر ڈی (تحریک بحالئ جمہوریت) کے دیرینہ ساتھی بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خانؒ کے مقابلہ میں غلام اسحاق خان کا ساتھ دیا تھا۔ فضل الرحمن کو ایک اصولی سیاست کا امین سمجھا جاتا تھا۔ اب تحریکِ انصاف کے قائد عمران خان کا مقابلہ کرنے کیلئے نوازشریف کی اوٹ میں پناہ لینا شاید ایک مجبوری ہو ، بڑے لوگوں کی غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں، معراج محمد خان تنہائی کے شکار تھے اور تحریک انصاف کو ایک جماعت بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ میری پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی تو عرض کیا کہ کہاں آپ اور کہاں عمران خان؟، یہ جوڑ بنتا نہیں ہے۔ معراج محمد خان نے اعتراف کیا کہ واقعی یہ اتفاق وقت کا بہت بڑا جبر ہے۔ عمران خان جب پرویز مشرف کے ریفرینڈم کا ساتھ دے رہا تھا تو معراج محمد خان پارٹی کے جنرل سیکرٹری ہونے کے باوجود مخالفت کررہے تھے۔ عمران خان نے معراج محمد خان کو برطرف کیا اور پھر قوم سے معافی مانگ لی کہ ریفرینڈم کی حمایت میری غلطی ہے۔
جس طرح عمران خان نے کھل کر قوم سے معافی مانگی لیکن معراج محمد خان سے راستہ الگ کرنے پر اپنے کارکنوں کو آگاہ نہ کیا کہ اتنی بڑی غلطی میں نے کی تھی اور سزا شریف انسان کو دی تھی اور یہ بڑی خیانت ہے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی اگر اپنے غلطیوں کا اعتراف کرکے معراج محمد خان کو منالیتی توپھر پیپلزپارٹی کی قیادت معراج محمد خان کے ہاتھ میں ہوتی اور قائدین کی وفات کے بعد پیپلزپارٹی کے نظریاتی بڑے قدآور رہنماؤں کا اجلاس ہوتا کہ کون سا نیا قائد منتخب کیا جائے؟۔ آج عمران خان کے چاہنے والوں کا یہ دعویٰ ہے کہ بھٹو کے بعد عمران خان عوامی قیادت کا حق اداکررہے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ معراج محمد خان بھٹو اور عمران خان سے بذاتِ خود بڑے اور حقیقی قائد تھے، جب اہل قائد کو کارکن اور نااہل کوقائد بنایا جائے تو ایسی پارٹی کبھی اعتماد کے قابل نہیں ہوتی ۔ معراج قائدتھے مگر ان کوقائد کا درجہ نہ دیا گیا۔
معراج محمد خان کی یاد میں ہونیوالے پروگرام میں کامریڈوں کا غلبہ تھا،جناب میرحاصل بزنجو اور دیگر رہنماؤں نے معراج محمد خان کو خراج تحسین پیش کیا مگر اتنی بات وہ بھول گئے کہ روس کے نظام کی تعریف کرنے اور امریکہ کی مزاحمت کرنے والے معراج محمد خان نے طالبان کو سراہا تھا جنہوں نے ایک واحد قوت کے طور پر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو چیلنج کیا۔ جماعتِ اسلامی کے سابقہ امیر سید منور حسن پہلے کمیونسٹ کی بیج بونے والی تنظیم این ایس ایف میں تھے، جب سلیم صافی کو انٹریو دیا کہ ’’ امریکہ کے فوجی اگر طالبان کے خلاف لڑنے پر شہید نہیں ہوتے تو ان کے اتحادی پاکستانی فوج کو کیسے شہید کہا جاسکتا ہے؟‘‘۔ جس پر انکو جماعتِ اسلامی کی امارت سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔ اگر معراج محمد خان نے طالبان کی حمایت کی تھی تو جماعتِ اسلامی کے امیر نے ایک ہاتھ بڑھ کر حمایت کی تھی۔
سید منور حسن اور معراج پرانے ساتھی اور پھر حریف رہے لیکن اس بات پر متفق ہوگئے کہ طالبان نے سامراج کو چیلنج کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ۔ جماعتِ اسلامی سے میرحاصل بزنجو نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ تاج محل مکھن کا بناہوا نہیں ہوسکتا، یہ درست ہے لیکن غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے تو حقوقِ انسانی کے حوالہ سے متضاد و متفرق قوتوں کے درمیان مفاہمت کی راہ بنائی جائے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ مولوی اور طالب سرمایہ دار کا مکھن کھاکر کمیونسٹوں پر فتوے لگارہے ہیں ، اب تو پتہ چلا ہے کہ مکھن کھانے کی وجہ سے نمک حلال کرنے کا الزام غلط ہے، سرمایہ دارانہ نظام پر لرزہ طاری ہے، مرنے مارنے سے سلسلہ بڑھ رہا ہے۔ یورپ و امریکہ اور مغرب ومشرق میں ایک خوف کی فضا ء گنتی کے چند افراد نے طاری کر رکھی ہے۔
روس کے خاتمہ سے کمیونسٹوں میں وہ دم خم نہیں رہا ہے اور یہ بات درست ہے کہ مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان غیرفطری اتحاد ختم ہوگیا ہے، کہاوت ہے پشتو کی کہ ’’بارش سے بھاگا اور پرنالے کے نیچے میری رات ہوگئی‘‘۔ معراج محمد خان اگر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف لڑنے میں پیپلزپارٹی اور تحریکِ انصاف کے بجائے جماعتِ اسلامی یا جمعیت علماء اسلام میں جاتے تو شاید وہ بھی ان جماعتوں کا قائد بنتے اور خلوص وکردار کے مرقع معراج محمد خان کے جنازے میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ کی طرح تمام فرقوں اور جماعتوں کے لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی۔ کمیونسٹوں سے معذرت کیساتھ وہ مذہب کو نشہ قرار دیتے ہیں لیکن چرس کا نشہ کرنے والے پھر بھی کچھ کام کاج کے قابل رہتے ہیں کمیونسٹ تو ہیروئن پینے والوں کی طرح بالکل ہی ناکارہ بن جاتے ہیں اور کسی کام کاج کے قابل نہیں رہتے۔
عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری یورپ و مغربی ممالک کے انصاف کی بات کرتے ہیں حالانکہ یہ لعنت تو مغرب سے ہی آئی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سزا نہ ہونے دی اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو80سال قید کی سزا دی۔ افغانستان، عراق، لیبیا، شام ، سوڈان اور کتنے سارے مسلم ممالک تباہ کردئیے گئے اور پھر صرف اعتراف جرم کیا حالانکہ سزا بھی ہونی چاہیے۔ پرویزمشرف کے ریفرینڈم کی حمایت پر معذرت کافی نہ تھی، برطانیہ کی طرح عراق کے معاملہ پر اعترافِ جرم کوکافی نہ سمجھنا چاہیے تھا بلکہ معراج محمد خان کو قیادت سونپ دینی چاہیے تھی۔ برطانیہ کو بھی چاہیے کہ اپنے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کو باقاعدہ سزا بھی دے، ورنہ عراق میں تباہ ہونیوالے خاندان نسل درنسل اپنا انتقام لینے کیلئے برطانیہ کی عوام کو نہ چھوڑیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جس طرح اسلام آباد میں ایک پولیس افسرایس ایس پی کو پٹوایا تھا ،اسی طرح دھرنے کے دوران خود کو سزا کیلئے پیش کردیں اور اسلام آبادایئرپورٹ پر جس طرح کارکنوں نے پولیس والوں کی ناک وغیرہ توڑ کر پٹائی لگائی تھی، اسی طرح ان کے رہنماؤں سے بھی ان زخموں کا بدلہ لینے کیلئے پیش کیا جائے تو شاید انکے برگشتہ مرید شریف برادران کا ضمیر بھی جاگ جائے اور وہ خود کو قصاص کیلئے پیش کریں۔
قوم طبقاتی تقسیم کو مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی ہے، کراچی میں اگر معراج محمد خان کیخلاف مذہبی طبقات اور اسٹیبلشمنٹ مل کر میدان نہ مارتے تو آج قوم پرستی کی بنیاد پر کراچی میں خون خرابے کے بعد شریف لوگوں کی بجائے گھٹیا قسم کا ماحول نہ بنتا۔ اسلامی جمعیت طلبہ، پختون سٹوڈنٹ فیڈریشن، پنجابی سٹوڈنٹ فیدریشن، سندھی سٹودنٹ فیڈریشن اور بلوچ سٹوڈنٹ فیڈریشن ایک تعصب کے ماحول میں نہ پلتے تو مہاجر سٹوڈنٹ فیڈریشن کی ضرورت بھی نہ پڑتی۔قوم پرستی کی سیاست نے انسانیت اور اسلام دونوں کو نقصان پہنچایا، آرٹ کونسل میں ایک مقرر نے کہا کہ ’’ معراج محمدخان کی وجہ سے قوم پرستی کی طلبہ تنظیمیں بنی تھیں، وہ ہر قوم سے محبت رکھتے تھے، جئے سندھ، پختون،بلوچ اور پنجابی طلبہ تنظیموں کیلئے NSFبنیاد تھی‘‘۔ ترقی پسند تحریکوں کے رہنما کو ایک شکایت یہ بھی تھی کہ موجودہ نوجوان طبقہ بڑا اچھا ہے لیکن ہمارے اندر ایسی صلاحیت نہیں جو ان کو پیغام پہنچاسکیں۔
اصل بات یہ ہے کہ پہلے روس اور امریکہ سے فنڈز آتے تھے، باصلاحیت لوگ اپنا حصہ وصول کرکے سادہ لوح لوگوں کو قربانیوں کا بکرا بنادیتے تھے، اب وہ فنڈز تو بند ہوگئے ہیں،ایک سوکھا سا نظریہ رہ گیا ہے، وہ سویت یونین جو ان لوگوں کو ترنوالہ دیتا تھا،اب خود اپنا وجود بھی کھو گیا ہے۔ اگر وہ ایندھن ملنا شروع ہوجائے تو پھر سے افراد، قربانی کے بکرے اور بہت کچھ مل جائیگا،خان عبدالغفار خان ؒ اور عبدالصمدخان شہید اچکزئیؒ پاکستان بننے سے پہلے کے قوم پرست تھے، عاصم جمال مرحوم پنجاب سے تعلق رکھتے تھے ،ایک مخلص کمیونسٹ تھے، آخری عمر میں نماز پڑھنے پر بھی آگئے۔ ولی خان ؒ کی پارٹی میں رہ چکے تھے، حبیب جالبؒ کے ساتھی تھے۔ وہ بتاتے تھے کہ ’’غوث بخش بزنجوؒ کے پاس پیسہ نہیں تھا اسلئے ان کو قیادت نہیں کرنے دی جاتی تھی، جبکہ ولی خانؒ کے پاس پیسہ تھا اگر وہ یہ قربانی دیدیتے کہ مہمانوں پر پیسہ خرچ کرتے اور قیادت غوث بخش بزنجوؒ کو سونپ دیتے، تو مشرقی پاکستان بھی نہ ٹوٹتا‘‘۔
قوم پرستی کا شوشہ تو معراج محمد خان سے پہلے کا تھا، متحدہ ہندوستان کی قومیت کا علمبردار طبقہ قوم پرست تھا۔ مولانا آزادؒ اور مولانا مدنیؒ نے اسلئے گالیوں اور اسلام سے خارج ہونے کا سامنا کیا کہ وہ مسلمان ہندی قوم پرست تھے، علامہ اقبالؒ نے بھی ہندی قومیت پر نظمیں لکھیں، خود کو سومناتی کہاہے۔ صحابہؓ کے انصارؓ و مہاجرینؓ ، قریش وغیرقریش، اہلبیت وقریش،کالا گورا، عرب وعجم، عرب وموالی اور اسرائیلی واسماعیلی کا شوشہ پرانا ہے۔ معراج کمیونسٹ اچھے انسان، پاکستانی اور مسلمان تھے۔ اچھا نظریہ اور حب الوطنی مختلف العقائد مسلمانوں کو آج بھی ایک کرسکتا ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

طلاق کے مسئلے کا بہترین حل

سید عتیق گیلانی نے ایک تسلسل کیساتھ طلاق کے مسئلے پر بہترین مضامین لکھے ، عوام و خواص کی سمجھ میں بھی بات آرہی ہے ، اکابرین کا بھی کچھ نہیں بگڑ رہا اور کوئی خاتون اپنی ناکردہ گناہ کی انتہائی بیہودہ سزا بھگتے یہ بھی انتہائی ظلم ہے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید قرآن کی آیات میں اس پر مجبور کیا گیا ہے اور احادیث میں اسکی وضاحت ہے اسلئے اس پر غیب کے ایمان کی طرح سوچے سمجھے بغیر عمل درآمد ہورہا تھا۔ اللہ نے قرآن میں بار بار عقل ، تدبر اور عدل کی بات کی ہے۔ قرآنی آیات پر تدبر کیا جاتا ، عقل سے کام لیا جاتا اور عدل کے تقاضے پورے کئے جاتے تو بہت اچھاتھا ، لیکن اُمت مسلمہ قرآن و سنت کی طرف توجہ کئے بغیر بھول بھلیوں میں پھنستی گئی اور اسلام بھی بہت قریب کے دور سے ہی رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق اجنبیت کا شکار ہوتا گیا ہے۔
طلاق یکطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ میاں بیوی کے درمیان ایک باقاعدہ معاملہ ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو نصف حق مہر اور عدت کے ادوار نہیں جن کی گنتی ہو۔ ازدواجی تعلق کے بعد طلاق دی جائے تو عورت باقاعدہ عدت بھی گزاریگی۔حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش تک عدت ہے، حیض آنے کی صورت میں طہرو حیض کے حوالہ سے عدت کے 3 ادوار ہیں، حیض نہ آتا ہو یا اس میں ارتیاب(کمی وبیشی کا شک )ہو، تو3ماہ کی عدت ہے۔ اللہ نے قرآن میں وضاحت کردی کہ عدت کے دوران شوہر صلح کی شرط پر رجوع کرسکتا ہے اور پھر اس حکم کو بار بار دہرایا بھی۔ فقہاء نے لکھا کہ ’’عورت کا بچہ اگر آدھے سے زیادہ نکل آیا تو رجوع نہیں ہوسکتااور کم نکلا تھا تو پھر رجوع درست ہوگا لیکن آدھوں آدھ ہوگاتو مولوی کو خود بھی پتہ نہیں۔اگر یہ مسئلہ یکطرفہ ہو تو معاملہ حل نہ ہوگا لیکن اگر بیوی کی رضامندی شرط ہو تو بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ عورت اور مرد کے جنازے کی ایک ہی دعاہے لیکن یہ مشکل خنسیٰ پر لڑتے رہے ہیں۔
نبیﷺ نے وضاحت فرمادی کہ دومرتبہ طلاق کا تعلق دوطہرو حیض کیساتھ ہے، حضرت عمرؓ کا یہ کردار واضح ہے کہ پہلے ایک مرتبہ کی تین طلاق کو بھی ایک سمجھا جاتا تھا، جب شوہر طلاق دیتا تھا تو مصالحت کیلئے عدت کا وقت ہوتا تھا۔ اسلئے اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہ تھی کہ رجوع ہوسکتا ہے یا نہیں؟۔ شوہر کی بالادستی مسلمہ تھی اور عورت کی ضرورت تھی کہ شوہر رجوع کرلے اورمسئلہ نہیں بنتا تھا۔ جب حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ شوہر اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتاہے، طلاق دیکر رجوع کرلیتاہے اور عورت بے بس ہوتی ہے تو فیصلہ کردیا کہ آئندہ اس طرح کا معاملہ ہوگا تو ایک ساتھ تین طلاق کے بعد شوہر کو رجوع کا حق نہ ہوگا۔ قرآن میں طلاق کے بعد ویسے بھی شوہر کو یکطرفہ رجوع کا حق نہ تھا، حضرت عمرؓ کا فیصلہ قرآن کی روح کے مطابق اس وقت بھی درست تھا جب شوہر ایک طلاق دیتا اور عورت رجوع پر راضی نہ ہوتی، جبکہ میاں بیوی راضی تو کیا کریگاقاضی وہ آوازِ خلق تھی جس کو واقعی نقارۂ خدا سمجھ لیا گیا تھا۔ معاملہ بعد کے فقہاء اور مفتیوں نے خراب کیا۔
چاروں امام کا فتویٰ درست تھا کہ عدت کے بعد عورت شادی کرسکتی ہے اسلئے کہ تین طلاق یا صرف طلاق کے بعد عدت شروع نہ ہوتو زندگی بھر عورت دوسری جگہ شادی نہ کرسکے گی۔حضرت علیؓ اور دیگر صحابہؓ نے حضرت عمرؓ کی رائے سے صرف اسلئے اختلاف کیا کہ رجوع کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے لیکن مرد نے طلاق دی ہو اور عورت رجوع نہ کرنا چاہے تو طلاق واقع ہونے کا فتویٰ وہ بھی اسلئے دیتے تھے تاکہ عدت کے بعد عورت کی دوسری جگہ شادی ہوسکے۔ دارالعلوم کراچی نے حضرت عمرؓ کے حوالہ سے تین طلاق کی غلط توجیہ کی ہے کہ پہلے طلاق طلاق طلاق میں شوہر کی نیت کا اعتبار کیا جاتا تھا،پھر لوگ غلط بیانی کرنے لگے،اسلئے حضرت عمرؓ نے تین طلاق کو نافذ کردیا، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہشتی زیور، بہارشریعت میں حنفی فقہاء کی یہ توجیہ نہ مانی گئی اور فتویٰ دیا گیا کہ ’’طلاق طلاق طلاق پرشوہراپنی نیت پر رجوع کرسکتاہے اور عورت پھر بھی سمجھے کہ اسکو 3طلاق ہوچکی ہیں‘‘۔ قرآن میں طلاق سے رجوع کا تعلق عدت سے بتایا گیا ہے، حدیث میں دومرتبہ کی طلاق کوطہروحیض سے واضح کیا گیا ہے۔ یہ مفتیان قرآن کو مانتے ہیں نہ سنت کو اور نہ ہی حضرت عمرؓ کو مانتے ہیں ، یہ حلالہ کی لعنت کیلئے اسکے جواز کا راستہ ڈھونڈنے میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے مظفر علی شجرہ نے سورۂ طلاق کے حوالہ سے اپنی باتیں ڈالدیں، سیاسی رہنما کو فرصت نہیں، مذہبی لوگ اپنا الو سیدھا کرتے ہیں، اصحاب حل وعقد کو اپنی پڑی ہے ، امت مسلمہ کا مسئلہ کیسے حل ہوگا، قابل احترام شخصیت شاہد علی نے کہا کہ ’’ جرم تین طلاق ایک ساتھ دینے کا شوہر کرتا ہے تو سزا بیوی کو کیوں ملے؟۔شوہر کو ہی مولوی کے پاس لے جاکر اسکا حلالہ کروایا جائے ‘‘۔ یہ تجویز اسوقت پسند آئیگی جب مسئلہ سمجھ میں آئیگا لیکن مولوی اس پر بھی خوش ہوگا کہ معاشرے کو اپنے ہاتھ میں رکھ سکے گا۔ جب یہ فیصلہ ہوجائے کہ ناجائز حلالہ کا ناجائزفتویٰ دینے والے علماء کو پکڑ کر ان کا ناجائز حلالہ کروایا جائے تو مساجد، مدارس، مذہبی جماعتوں اور طبقات کی طرف سے محشر کا شور اُٹھے گا کہ ’’اللہ واسطے ! قرآن کی آیات کو دیکھو، ایک ساتھ نہیں الگ الگ تین مرتبہ طلاق کے باوجود بھی حلالہ کی ضرورت نہیں ہے، ہم پر خدا رااتنا ظلم نہ کرو ۔ سید ارشادعلی نقوی

حضرت مولانا مفتی حافظ محمد حسام اللہ شریفی دامت برکاتہم العالیہ

رکن مجلس تحقیقات علوم قرآن و سنت، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ۔
مشیر وفاقی شرعی عدالت حکومت پاکستان ، مشیر شریعت بنچ سپریم کورٹ حکومت پاکستان۔
کتاب و سنت کی روشنی میں ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی (جنگ گروپ)
ایڈیٹر ماہنامہ ’’قرآن الہدیٰ‘‘ کراچی۔ اردو انگریزی میں شائع ہونیوالا بین الاقوامی جریدہ
رجسٹرڈ پروف ریڈر برائے قرآن حکیم ، مقرر کردہ وزارت امور مذہبی حکومت پاکستان
خطیب جامع مسجد قیادت ، کراچی پورٹ ٹرسٹ ہیڈ آفس بلڈنگ کراچی

تحریر فرماتے ہیں : بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ وحدہ و الصلوٰۃ و السلام علی من لا نبی بعدہ
عائلی معاملات میں طلاق ایک بہت اہم مسئلہ ہے جس سے خاندانوں کے بناؤ اور بگاڑ پر بہت اثر پڑتا ہے ۔ محترم سید عتیق الرحمن گیلانی نے اس مسئلہ پر بہت تحقیق کی ہے اور اس پر ایک تفصیلی کتاب ’’ابر رحمت‘‘ کے نام سے بھی مرتب کی ہے ۔ زیر نظر مسئلہ میں بھی سید صاحب نے بہت تحقیق سے کام لیا ہے اور مدلل و مفصل جواب عنایت فرمایا ہے۔ سید صاحب کے اس جواب کی میں پوری طرح تصدیق کرتا ہوں اور اس سے پوری طرح متفق ہوں۔ ھذا ما عندی و العلم عند اللہ سبحان اللہ تعالیٰ اعلم و اتم راقم محمد حسام اللہ شریفی ۲۰ شعبان المعظم ۱۴۳۷ھ ، 28 مئی 2016ء ،

اظہار تشکر

حضرت مولانا مفتی حافظ محمد حسام اللہ شریفی دامت برکاتہم العالیہ کا نام شیخ العرب و العجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ العزیز شیخ الحدیث دار العلوم دیوبند و صدر جمعیت علماء ہند نے رکھا تھا۔ حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری قدس سرہ العزیز سے بیعت تھے اور شیخ القرآن حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس سرہ العزیز نے آپ کو1962 ء میں اپنے نام کے ساتھ شرعی مسائل کا جواب لکھنے کا فرمایا تھا۔ حضرت مفتی شریفی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کو قرآن کریم سے خاص محبت ہے اور اس حوالہ سے ایک بہترین کتاب بھی تحریر فرمائی ہے۔ زمانہ طالب علمی میں جب ساتویں آٹھویں جماعت گورنمنٹ ہائی اسکول لیہ پنجاب میں پڑھتا تھا تو لائن سپرڈنٹ فیض محمد شاہین مرحوم نے خدام الدین کے مجلد رسالے دئیے تھے جس میں مولانا احمد علی لاہوریؒ کے بیانات مجلس ذکر سے میں نے استفادہ کیا تھا۔ فیض محمد شاہین مرحوم علامہ سید عبد المجید ندیم دامت برکاتہم کے خاص ساتھی تھے۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہید ؒ کے ساتھ بھی ایک ہتھکڑی میں گرفتارکئے گئے تھے۔
ہم نے تحریک شروع کی تو مولانا عبد الکریمؒ بیر شریف امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان ، حضرت مولانا سرفراز خانؒ صفدر گکھڑمنڈی گجرانوالہ اور حضرت مولانا خان محمد ؒ کندیاں امیر تحریک ختم نبوت پاکستان ، حضرت مولانا محمد مراد ہالیجویؒ منزل گاہ سکھر اور دیگر بزرگوں سے حمایت اور دعائیں لی تھیں۔ آج اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بقیۃ السلف حضرت مولانا مفتی حافظ محمد حسام اللہ شریفی دامت برکاتہم العالیہ تائیدسے نوازرہے ہیں،توگویا حضرت مولانا احمد علی لاہوری ؒ کی بھی تائید مل رہی ہے جن کا انتقال 1964ء میں ہوا تھا جو میری پیدائش کا سال ہے۔ حضرت مفتی شریفی صاحب مدظلہ العالی میری پیدائش سے پہلے شرعی مسائل کے حوالہ سے جس مؤقف کا اظہار فرماتے آئے ہیں دنیا بھر سے سوال کے مروجہ فقہی جوابات کے باوجود یہ ان کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ تحقیق پر اپنا مؤقف تبدیل کردیا ہے۔ اہل حق کی یہ زندہ اور تابندہ نشانی ہیں۔ یہ دُور نظر نہیں آتا کہ زمانہ بدل جائیگا لیکن یہ قابل فخر ہے کہ بقیۃ السلف حضرت شریفی مدظلہ العالی نے تائید فرمائی جو حضرت لاہوریؒ کی براہِ راست تائید ہے۔عتیق گیلانی

بہشتی زیور اور بہار شریعت میں طلاق کے مسئلہ پر روگردانی

جن علماء ومفتیان کے نصاب تعلیم درسِ نظامی میں اللہ کی کتاب کا حلیہ بگاڑ کر رکھا گیا، وہ سود، طلاق اور دوسرے معاملات کی درست تشریح وتعبیر کرنے کی کوئی صلاحیت رکھتے ہیں؟۔ علماء ومفتیان کی شکل میں جو جاہل طبقہ اللہ والوں کا گزرا ہے ان کو میں عالم ومفتی کی حیثیت سے نہیں مانتا، البتہ صالحین سمجھ کر ان لوگوں سے ضرور محبت کرتا ہوں۔ان سے بغض وعناد رکھ کر اذیت دوں تو اللہ کیساتھ اعلانِ جنگ ہوگا
احب الصالحین ولست منہم لعل اللہ یرزقنی صلاحا
میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں مگر ان میں سے نہیں ، ہوسکتا ہے کہ اللہ میری اصلاح فرمادے۔ حاجی محمد عثمانؒ سے حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ اور مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ سے شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ تک اولیاء اللہ کا جوسلسلہ فقہ کے امام حضرت امام اعظم ابوحنیفہؒ اور دیگر اماموں اور تابعین میں مدینہ کے سات فقہاء اور صحابہ کرامؓ حضرت فاروق اعظمؓ اور صدیق اکبرؓکے توسل سے جو سلسلہ رسول ﷺ سے ملتا ہے، میں حق چار یارخلفاء راشدینؓکو حفظ مراتب کیساتھ ،چاروں فقہی امام کو برحق سمجھتے ہوئے خود کو انکے فیضان سے استفادے کا محتاج سمجھتا ہوں۔
تبلیغی جماعت اور دعوتِ اسلامی والے دیوبندی بریلوی سے تعلق رکھتے ہیں۔ مخلص ہونے کے باوجود علم سمجھ کر جہالتوں کے دلدل میں پھنسے رہتے ہیں، حضرت مولانا الیاسؒ نے خلوص کیساتھ تبلیغ کا کام شروع کرکے اخلاص کا ایک شجرہ طیبہ لگایا اور آج اس بیج کے پھل کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایاتھا کہ ’’دین خیرخواہی کا نام ہے‘‘۔ فرمایا کہ ’’ایمان اخلاص ہے‘‘۔ متقدمین علماء چاروں امام کے نزدیک قرآن سکھانے اور عبادت پرمعاوضہ جائز نہ تھا، متأخرین نے جائز قرار دیا مگر ہردور میں تاریخ کے وہ درخشندہ ستارے رہے ہیں جنہوں نے معاوضہ وصول کرنے کی بجائے بہت تکالیف اور مصیبتیں برداشت کرکے دین کی تبلیغ کی تھی اور ان میں چاروں فقہی امام، محدثین ، ائمہ اہلبیت، امام غزالی، مجدد الف ثانی ، شاہ ولی اللہ اور بہت بڑی تعداد میں غیرمعروف اجنبی ہستیاں بھی شامل ہیں۔
جہاں فتویٰ فروشان اسلام اور مذہب کو دھندہ بنانے والوں کی کمی نہ تھی وہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے ٹمٹماتے ہوئے شمعوں کو دلوں کی کڑہن سے سینہ بہ سینہ منتقل کرنے والا سلسلہ حق ہردور میں موجود رہا ہے، یہ بحث کرنے کی ضرورت نہیں کہ صحابیؓ کا ذاتی کردار کیا رہا ہے مگر جن آنکھوں نے نبیﷺ کی زیارت کی تھی، ان کی عقیدت واحترام کیلئے صاحبِ ایمان ہونا کافی ہے، اگر ذوالخویصرہ جیسے کسی گستاخ سے عقیدت ومحبت نہیں ہوسکتی تو جن کی نظر میں کسی کا کردار ذوالخویصرہ کی طرح یا اس سے بھی بدتر ہو، ان پر عقیدت و احترام کو لازم قرار دینا کوئی فرض نہیں۔
حضرت عمرؓ کی طرف علماء ومفتیان نے یہ منسوب کیا ہے کہ پہلے کوئی بیوی سے تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہتاتو اگر اس کی نیت ایک طلاق کی ہوتی تو اس کی بات قبول کرلی جاتی اور اس کو بیوی سے رجوع کی اجازت مل جاتی مگر پھر حضرت عمرؓ کے دور میں لوگ خائن ہوگئے، تین طلاق کی نیت ہوتی تب بھی کہتے کہ ایک طلاق کی نیت تھی، اسلئے حضرت عمرؓ نے اپنے دور کے دوسال بعد حکم جاری کردیا کہ ’’جو ایک مجلس میں طلاق طلاق طلاق کہے گا، اس کو رجوع کی اجازت نہ ہوگی‘‘۔ اگر واقعی یہی معاملہ تھا ۔اس پر صحابہ کرامؓ، چاروں امام بالخصوص حضرت امام ابوحنیفہؒ اور تمام دیوبندی بریلوی اکابر کا اجماع ہوچکا ہے تو بسم اللہ مجھے بھی کسی اختلافِ رائے اور تنازعہ کھڑا کرنے کا شوق نہیں ہے اور نہ ایسی حیثیت کہ لوگ میری مان لیں۔
لیکن اگر اس سے دیوبندی مکتبۂ فکر کی مشہور کتاب مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ’’بہشتی زیور‘‘ اور بریلوی مکتبۂ فکر کی مشہور کتاب’’بہار شریعت‘‘ کو اتفاق نہ ہو تو پھر مجھے حضرت عمرؓ اور اسلاف کو بدظنی سے بچانے میں کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں ؟۔ یہ مسئلہ ان دونوں مشہور کتابوں میں ہے کہ ’’ اگر شوہر نے طلاق طلاق طلاق کہہ دیا تو بیوی کو تین طلاقیں ہوجائیں گی لیکن اگر نیت ایک طلاق کی ہوگی تو پھر ایک طلاق واقع ہوگی، شوہر کو رجوع کا حق ہے مگر بیوی پھر بھی سمجھے کہ تین طلاق ہوچکی ہیں‘‘۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس بات پر حضرت عمرؓ نے فیصلہ کردیا، اجماع کا تصور بھی قائم ہوگیا، پھر اللہ کے ولیوں کو انحراف کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟، کیا چاروں امامؒ اور سلف صالحینؒ یہ تصور بھی کرسکتے تھے کہ شوہر کو طلاق سے رجوع و نکاح کے برقرار رکھنے کا فتویٰ دیا جائے اور بیوی کو تین طلاق کا فتویٰ دیا جائے؟۔
اس قدر حماقت و بیوقوفی تو گاؤں دیہاتوں میں رہنے والے ان پڑھ چرواہے بھی نہ کریں گے۔ 1000سال پہلے ابوالعلاء معریٰ ایک عربی عالم گزرے ہیں کہتے ہیں کہ’’ لوگوں کی دوقسمیں ہیں ایک وہ جن کے پاس عقل ہے مگر انکا کوئی دین نہیں،دوسرے وہ جنکا دین ہے مگر انکے پاس کوئی عقل نہیں‘‘۔ جب اسلامی علوم پر زوال اور انحطاط کا دور آیا تو مولانا ابوالکلام آزادؒ کے بقول ’’ اس دور کی تعلیمات کو نصاب کا حصہ بنایا گیا، جو عقلمند لوگوں کو بھی کوڑھ دماغ بنانے کیلئے کافی ہے‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام میں طلاق کے ہر پہلو کو قرآن میں واضح کردیااور پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیث سے اس کی وضاحت بھی فرمادی جسکے بعد عقل کیلئے کوئی بھٹکنے کی گنجائش نہ تھی مگر نہ جانے کہاں کہاں غیرفطری طور سے کم عقلی اور بیوقوفی کے گھوڑے نہیں ڈھینچو ڈھینچوکی انتہائی خراب آوازیں نکال کرگدھے دوڑائے گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ’’ جتے دی کھوتی اتے ان کھلوتی‘‘ جہاں کی گدھی تھی اس جگہ آکر کھڑی ہوگئی۔ امت مسلمہ کو جن جہالت کے اندھیروں سے اسلام نے نکالا تھا، قریب کے دور میں اسلام کو پھر اجنبی بنادیا گیا اور امت اسی اندھیر نگری کا شکار ہوئی۔
حضرت عمرؓ نے ایک ایسے دور میں جب خواتین پر غلامی کی زنجیریں دوبارہ کسنا شروع کردی گئیں، قرآن و سنت کی روح کے عین مطابق عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا تھا۔ مشہور مقولہ ہے کہ میاں بیوی راضی تو کیا کریگا قاضی۔ میاں بیوی میں جھگڑا ہو تو قرآن و سنت میں اس کا حل موجود ہے۔ شوہر نے کہہ دیا کہ تجھے تین طلاق یایہ کہ تجھے طلاق طلاق طلاق، پھر بیوی ساتھ میں رہنے کیلئے راضی نہیں تو شریعت میں کیا تصور ہے اور عقل وفطرت کا کیا تقاضہ ہے کہ کیا فیصلہ ہونا چاہیے؟۔ حضرت عمرؓ کا فیصلہ 100،200نہیں بلکہ 300فیصد درست تھا، اسلئے کہ محض طلاق دینے کے بعد بھی عورت راضی نہ ہو تو شوہر کو قرآن نے رجوع کا کوئی حق نہیں دیا ہے۔
وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحا ’’اورانکے شوہروں ہی کو اس عدت میں لوٹانے کا حق ہے بشرط یہ کہ صلح کا پروگرام ہو‘‘۔یہ بڑا المیہ ہے کہ عدت میں صلح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا حقدار قرار دیاگیا لیکن علماء و مفتیان اور فقہاء و محدثین نے صلح کی شرط بھوسہ سمجھ کر کھالی،صلح کے بغیر بھی رجوع کا حق دیا۔ حضرت عمرؓ کی عظمت کو دنیا سلام کرتی ہے، شیعہ بھی انشاء اللہ ضرورکریں گے۔حضرت عمرؓ کا یہ اقدام قرآن کی روح کے مطابق عورت کے حق کا تحفظ تھا۔
حضرت علیؓ اور حضرت ابن عباسؓ کا اس بات سے اتفاق نہ تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد صلح پر بھی پابندی لگائی جائے، مگر عورت راضی نہ ہوتی تھی تو انہوں نے بھی یہی فیصلہ اور فتویٰ دیا کہ ’’شوہر ایک ساتھ تین طلاق دینے کے بعد عورت کو نہیں لوٹا سکتا، اسلئے کہ حکومت عورت کیساتھ کھڑی تھی‘‘۔ یہ کسی مجبوری کا فتویٰ نہیں تھا بلکہ قرآن وسنت کی روح کے مطابق تھا، اسلئے کہ عدت میں صلح نہ ہوسکے تو عورت پھر دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے، ائمہ مجتہدینؒ اور امام ابوحنیفہؒ نے بھی اسی وجہ سے طلاق واقع ہونے کا فتویٰ دیا مگر یہ تو وہم وگمان میں بھی نہ ہوگا کہ میاں بیوی کے راضی ہونے کے باجود بھی عدت میں رجوع کی اجازت نہ ہو گی اور حلالہ پر مجبور کیاجائیگا۔

دارلعلوم کراچی کے علماء ومفتیان اور عثمانی برادری کی قابلیت

عوام سمجھتے ہونگے کہ شاہی خاندانوں کی طرح علم کی مسند پر بیٹھنے والے مشہورو معرف علمی خانوادے بھی علم وسمجھ کے بہت بڑے پہاڑ تھے۔انکو معلوم نہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنی وراثت خاندان واہلبیت ، درہم ودینار اور بادشاہت وگدی نشین کی روایت کو قرار دینے کی بجائے ’’علم‘‘ کوہی اپنی وراثت اور انبیاء کرام کی وراثت قرار دیا۔لوگوں کو کیا معلوم ہے کہ خاندانی بادشاہت سے زیادہ اپنا بدترین دھندہ اور کاروباربناکر اسلامی علوم کا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ علم کاروبار اور وراثت نہیں بلکہ اس کے ذریعہ سے انسانی معاشرہ اپنا فرض پورا کرتا ہے، فرض کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے۔ قرآن وسنت اور فقہ وفتویٰ کمرشل ہوا تو دنیا کی ہر چیز کمرشل کردی گئی۔ یہ سیاستدانوں اور این جی اوز کا کمرشل ہونا بھی غلط ہے مگر جس قوم نے دین ومذہب کو کمرشل کردیا ہو ، اسکے اندر اخلاقی قدریں کہاں سے پنپ سکیں گی؟، منبر ومحراب کے بعد جہاد اور خود کش حملے بھی کمرشل کردئیے گئے۔
میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ شیعہ واہلحدیث بھی راہوں سے ہٹے ہوئے ہیں لیکن دیوبندی بریلوی جس مسلکِ حنفی اور حضرت عمر فاروقؓ کے حوالہ سے تین طلاق کے دعویدار ہیں، یہ لوگ نہ صرف قرآن وسنت سے اس معاملہ میں ہٹ گئے ہیں بلکہ حضرت عمرؓ، اجماعِ امت اور حضرت امام ا بوحنیفہؒ کے علاوہ مسلک سے بھی دھیرے دھیرے ہٹ کر گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ گئے ہیں، میں خود بھی پہلے اس کا شکار تھا اور اب دوسروں کو بھی سمجھانے کی صلاحیت قرآن و سنت اور فقہ و فہم کی برکت سے رکھتا ہوں، اہل تشیع اور اہل حدیث ہمارے پیچھے چلیں گے انشاء اللہ۔
مولانا مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ’’ زبردستی کی طلاق‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ’’ ہر عاقل بالغ شوہر کی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، خواہ وہ غلام ہو یا اس پر زبردستی کی جائے،اس کی طلاق صحیح ہے۔ نہ کہ اس کا صرف اقرار طلاق، اور بحر الرائق میں ہے کہ زبردستی سے مراد زبان سے طلاق کی ادائیگی ہے، اگر اس پر مجبور کیا جائے کہ اپنی عورت کو طلاق لکھے اور اس نے لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی(ردالمختار، کتاب طلاق)
ایک شخص کو پٹائی اور قید کے ذریعہ طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا، اس نے طلاق لکھ دی تو اس کی عورت پر طلاق نہ ہوگی۔(عالمگیری ، باب الطلاق باب الکتابت)۔
طلاق میں بنیادی چیز مرد کا اپنے اختیار کا مختارانہ استعمال ہے۔اگر کوئی شخص ریوالورکی نوک پرطلاق دلواتا ہے تو مرد اپنی جان بچانے کیلئے بڑے نقصان کے مقابلہ میں چھوٹے نقصان ۔۔۔طلاق۔۔۔کو اختیار کرتا ہے، ا سکی اگرچہ مرضی شامل نہیں ہے مگر اختیار شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں صرف تحریر جو اقرار طلاق ہے ، اس سے طلاق واقع نہ ہوگی۔
اسلامی قانون (نکاح ، طلاق، وراثت ،صفحہ:210,211) مولانا مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی۔ ناشردارالاشاعت کراچی ۔ملنے کے پتے، دارالاشاعت اردو بازار کراچی، مکتبہ دارالعلوم کورنگی کراچی۔ ادارہ معارف کورنگی ، ادارہ اسلامیات انار کلی لا ہور۔ کتاب کاتعارف، مصنف کا علمی مقام، خاندانی پسِ منظر اور اساتذہ و سرپرتوں کی فہرست علمی خدمات ، عوام وخواص میں شہرت درج ہے۔سوال یہ ہے کہ تحریری طلاق کو زبردستی کی صورت میں اقرار قرار دینا اور اس کا غیرمؤثر ہونا اس وجہ سے درست ہے کہ فتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ عالمگیریہ کا حوالہ دیا گیا ہے؟۔
اللہ نے معاہدے کو معتبر قرار دینے کیلئے فلیکتب لکھنے کا حکم دیا ہے مگر یہ گدھے کی اولاداپنے درسِ نظامی میں بیوقوفی کایہ درس دیتے ہیں کہ لکھی ہوئی اللہ کی کتاب قرآن، اللہ کی کتاب نہیں۔ المکتوب فی المصاحف سے مراد سات قاریوں کے قرآن ہیں، کیونکہ لکھائی محض نقوش ہیں جو لفظ ہے نہ معنیٰ۔ عربی میں کتاب کا لفظ لکھائی سے مأخوذ ہے ، اردو میں کتابت کا لفظ بھی عربی سے لیاگیا ہے۔ جیسے اردو میں لکھائی کی وجہ سے کتاب کا نام’’ لکھت‘‘ ہوتا اور کوئی بیوقوف اور گدھے کا بچہ کہتا کہ لکھت کتاب نہیں کیونکہ لکھائی لفظ ہے نہ معنیٰ۔ یہ علماء و مفتیان کا کہنا ہے کہ اللہ کی کتاب پر ہاتھ رکھ قسم کھائی جائے تو قسم نہیں ہوتی البتہ زباں سے کہا جائے کہ’’ اللہ کی کتاب کی قسم‘‘ تو قسم منعقد ہوگی اور کفارہ بھی ادا کرنا پڑیگا۔
قرآن میں کتاب کی تعریف ہے الذین یکتبوں الکتاب بایدیھم ثم یقولوں ھذا من عنداللہ’’ جو لوگ اپنے ہاتھوں سے کتاب کو لکھ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔ اللہ نے پہلی وحی میں علم بالقلم قلم کے ذریعہ علم سکھانے کی بات ہے۔ اللہ نے قلم اور سطروں لکھے کی قسم کھائی ہے والقلم ومایسطرون ۔جاہل مشرک بھی کتاب کو سمجھتے تھے،اکتتبھا بکرۃ واصیلا کہتے تھے،یہ علماء ومفتیان اُلوکے پٹھے دنیا بھر کے چندے کھاکھاکر قرآن ہی کا نہیں انسانی عقل وفطرت کا انکار کرتے ہوئے انتہائی ہٹ دھرمی وڈھٹائی کیساتھ اس کفریہ تعلیم اور بیوقوفی پر قائم ہیں۔ مولانا فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے زبردستی کی طلاق میں تحریر کو اقرارلکھ کر مغالطہ کھایا ہے، نقش قرار دیکر الفاظ ومعانی کی نفی کرتا تو زبردستی کیا رضامندی میں بھی معتبر نہ ہوتی، اسلئے کہ جب قرآن کے الفاظ یہ گدھے لفظ ومعنیٰ نہیں مانتے تو پھر کونسی تحریر کی کوئی شرعی حیثیت ہوسکتی ہے؟۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی فقہ کی کتابوں میں سب سے معتبر نام ’ہدایہ‘ کے مصنف کی طرف سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے اس شرط پر جائز قرار دینے کا حوالہ دیا تھا کہ یقین ہوکہ علاج ہوجائیگا۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے اس پر اضافہ کیا کہ حرام سے علاج میںیقین کی شرط کے حوالہ سے احقر(گدھے سے زیادہ بدترحقیر) نے امام ابویوسفؒ کی کتابوں کامطالعہ کیا مگر’’ مجھے کہیں یہ یقین کی شرط نہیں ملی‘‘۔
ہماری طرف سے اخبار ضربِ حق کراچی میں اس پر بھرپور احتجاج کے بعد مفتی محمدتقی عثمانی نے روزنامہ اسلام اور ہفت روزہ ضرب مؤمن میں اعلانیہ طورسے اپنی کتابوں’’ تکملہ فتح الملہم‘‘ اور ’’ فقہی مقالات جلد چہارم‘‘ سے یہ عبارت شکریہ سے نکالنے کا اعلان کردیا مگر پھر فتاویٰ شامیہ سے یہ عبارت کون نکالے گا؟۔ اور اصل بات یہ ہے کہ صاحبِ ھدایہ نے سورۂ فاتحہ کو ناک سے نکلنے والی نکسیرخون اور پیشاب سے علاج کیلئے یقین کی شرط پر جائز کیسے قرار دیا؟۔ صاحب ہدایہ مفتی تقی عثمانی کی طرح نالائق نہ تھاکہ لگام سے چلتا اور ڈنڈے سے راہ بدلتا، وہ فقہ واصولِ فقہ کو سمجھتا تھا، جب قرآن پر تحریری شکل میں اللہ کے کلام کا اطلاق نہ ہوتو سورۂ فاتحہ بھی تحریری شکل میں لفظ ہوگی نہ معنیٰ ۔ پھر علاج میں یقین کی شرط پر اسکے نزدیک لکھنے میں حرج نہ تھا۔ دم تعویذ والے ہندؤ کی اولاد بھی یہ بات سمجھتے ہیں کہ مندروں میں بت پرستی کے علاج کے یقین اور انگریزی ادویات کے یقین کا کوئی جوڑ آپس میں نہیں مگر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے تعویذ کے یقین اور دواکے یقین کے درمیان اتنابڑا فرق بھی نہ سمجھا،امام ابویوسفؒ نے حرام سے علاج کیلئے دواؤں میں ظاہر ہے کہ یقین کی شرط کا ذکر نہ کیا تھا،تعویذات کی دنیا تو یقین و گمان کے تخمینے پر ہی چلتی ہے۔ جس مفتی تقی عثمانی کی موٹی عقل اتنا کام نہ کرتی ہو، وہ اس قابل ہے کہ سودی نظام کو اس کے ڈھینچو ڈھینچو پر جائز قرار دیا جائے؟۔
آج حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے پاس اقتدار ہوتا تو ان علماء ومفتیان کے چوتڑوں کو لوہے کے سریہ گرم کرکے داغا جاتا کہ خبردار اگر تمہیں اسلام کا نام استعمال کرنے کی جرأت ہو ئی۔ بقول علامہ اقبالؒ کے کہ
انہوں کے نام قبروں کی تجارت کرکے کیا نہ بیچوگے صنم مل جائیں گر پتھرکے
یہ تو ہندؤں سے بھی بدتر ہیں۔ انقلابی طالبان کو حقائق کا پتہ چلتا تومجھے مارنے کی بجائے ناجائز حلالہ پر عزتیں لوٹنے والوں کو عدالتیں لگاکر الٹا ذبح کردیتے۔