علماء کرام ، مفتیان عظام اور طلبہ اسلام نمونہ کے طور پر طلاق کے حوالہ سے یہ مختصر نصاب دیکھ لو!

740
0

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سورۂ بقرہ کے اندر بڑی وضاحت سے طلاق کے احکام بیان کئے۔ مدارس نصاب میں قرآنی آیات اصول فقہ کی روح کے مطابق پڑھانا شروع کرینگے تو نہ صرف علماء و مفتیان بلکہ عوام الناس اور پوری دنیا کے لوگوں کیلئے قرآن مشعل راہ بن جائیگا۔ آئیے حنفی مسلک کے عین مطابق طلاق کے حوالہ سے قرآنی نصاب تعلیم کو پہلے سمجھیں۔
افلا یتدبرون القرآن ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراًO (النساء: 82 ) ’’کیا وہ قرآن پر غور نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا رے اختلافات ( تضادات) ان کوملتے۔‘‘اس آیت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہوئی کہ فقہ کی کتابوں میں طلاق کے حرام و حلال کے اختلافی مسائل اللہ کے نہیں ، یہ انسانی اختراعات ہیں اور من گھڑت ہیں ،اللہ کی طرف سے ہوتے تو اختلافات نہ ہوتے۔
و نزلنا علیک الکتٰب تبیاناً لکل شیء و ھدیً و رحمۃً و بشریٰ للمسلمین (اوراتاری ہم نے تجھ پر کتاب جو ہر چیز کو واضح کرنے والی ہے، ہدایت، رحمت اور خوشخبری ہے ماننے والوں کیلئے(سورہ النحل: 89 )‘‘ ۔ جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہر چیز کو واضح کردینے والا قرار دیا، تو کیا طلاق کے مسائل کی وضاحت اور خواتین وحضرات کے حقوق کو واضح نہیں کیا ہے؟۔ ہدایت، رحمت اور بشارت کیلئے علماء ومفتیان کو حلالہ کی لعنت کا فتویٰ ہی دکھائی دیتا ہے؟ اور کوئی یہ بڑی خوشخبری ہے؟۔ کیا رجوع کے حوالہ سے ڈھیر ساری آیات کیلئے اندھے پن کا مظاہرہ کرنا ضروری ہوتاہے؟۔ وضاحت کیلئے قرآن کا سہارا لینے کے بجائے فتاویٰ عالمگیری سے استدلال لینا بڑا کارنامہ ہے؟۔ اورنگزیب بادشاہ نے اپنے تمام بھائیوں کو قتل کردیا۔ فتاویٰ عالمگیری میں بادشاہ سے قتل، زنا، چوری اور تمام حدود وتعزیرات کوساقط کردیا ہے۔ کیا اسکے حوالہ جات کو معتبر قرار دیکر قرآن کریم، سنت نبویﷺ اور خلافتِ راشدہ سے انحراف نہیں ہے؟۔
مشکوٰۃ شریف کی حدیث ہے کہ نبی کریمﷺ کی نظر ایک خاتون پر پڑگئی، آپﷺ گھر گئے اور گھر والی سے حاجت پوری کی اورفرمایا :’ جس کو اس طرح اشتعال آجائے تووہ بیوی کے پاس جائے، اسلئے کہ جو اسکے پاس ہے وہ بیوی کے پاس بھی ہے‘‘۔سیرۃ النبیﷺ بہترین نمونہ ہے، صحابہ کرامؓ سے زنا سرزد ہوا ہے اور اپنے اوپر حد بھی جاری کروائی ۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے زکوٰۃ کے جہاد میں مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اس کی خوبصورت بیگم سے شادی کرلی تو حضرت عمرؓ نے سنگسار کرنے کی تجویز رکھ دی، کوئی بیگم کو کسی مفتی کے پاس لاکر طلاق کا مسئلہ پوچھے تو حلالہ کیلئے ایسا راستہ تلاش کیا جاتاہے جیسے ٹریفک پولیس کسی طرح مال بٹورنے کے چکر میں رہتی ہے۔ علماء کرام و مفتیان عظام اور طلبہ اسلام کو عوام کے حال پر رحم کھانے کی ضرورت ہے۔ ذیل میں تفصیل کیساتھ بترتیب طلاق کے حوالہ سے حقائق کی نشاندہی سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش ہے۔
و لا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبرّواوتتقوا وتصلحوا بین الناس واللہ سمیع علیمOلا یؤخذکم اللہ بالغو فی ایمانکم ولکن یؤخذکم بما کسبت قلوبکم واللہ غفور حلیمO للذین یؤلون من نساءھم تربص اربعۃ اشھر فان فاؤٓ فان اللہ غفور رحیمO و ان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمO (البقرہ: 224-25-26-27) ’’اور اللہ کو مت بناؤ اپنی قسموں کیلئے ڈھال یہ کہ تم نیکی کرو، تقویٰ اختیار کرو اور لوگوں کے درمیان مصالحت کرو۔ اللہ سننے جاننے والا ہے۔ تمہیں اللہ لغو قسموں پر نہیں پکڑتا مگر وہ تمہیں پکڑتا ہے جو تمہارے دلوں نے کمایا ہے۔ اور اللہ معاف کرنے والا نرمی کا برتاؤ کرنے والا ہے۔ اور جو لوگ اپنی عورتوں سے قسم کھالیں تو ان کیلئے چار ماہ کا انتظار ہے۔ پس اگر وہ آپس میں مل گئے تو اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے (میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی ہوجائے تواللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا مہربان ہے) اور اگر انہوں نے طلاق کا ارادہ کر رکھا ہو تو اللہ تعالیٰ سننے اور جاننے والا ہے ( طلاق کے عزم کا اظہار نہ کرنے پر مواخذہ ہوگا)‘‘۔
عربی میں ایمن دائیں جانب کو کہتے ہیں، دایاں ہاتھ پختہ عہدو پیمان کیلئے استعمال ہوتاتھا، پشتو کی اصطلاح بھی یہی ہے۔عہد، ایمن، حلف اورقسم مترادف استعمال ہوتے ہیں،البتہ ایلاء بیوی سے ناراض ہونیکی صورت سے خاص ہے،عام حلف کو ایلاء نہیں کہتے ۔ایلاء میں واضح طلاق نہیں ہوتی اسلئے اللہ نے طلاق سے ایک ماہ زیادہ اسکی عدت رکھی لیکن اگر طلاق کا عزم ہو اور اسکا اظہار نہ ہو تو یہ دل کا گناہ اوراس پر پکڑ ہے ، طلاق کااظہار نہ کیا توعدت چار ماہ ہے اور یہ عورت کی حق تلفی ہے۔
و المطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروءٍ ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن ان کن یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر و بعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاً و لھن مثل الذین علیھن بالمعروف و للرجال علیھن درجۃ و اللہ عزیز حکیمO (البقرہ: آیت 228 )اور طلاق والی عورتیں انتظار میں رکھیں خود کو تین ادوار (طہر و حیض) تک اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو پیدا کیا، اللہ نے انکے پیٹ میں اگر وہ ایمان رکھتی ہیں اللہ پر اورآخرت کے دن پر، اور انکے خاوندہی انکے لوٹانے کا حق رکھتے ہیں اس مدت میں بشرطیکہ صلح کرنا چاہیں اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا عورتوں پر ہے معروف طریقے سے اور مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ حاصل ہے اور اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے‘‘۔
ایلاء کی صورت میں چارماہ تک رجوع بلکہ صلح کیلئے ضروری مدت اوراظہارِ طلاق میں بھی صلح کی شرط پر شوہر کیلئے رجوع بلکہ ضروری مدت ہے۔ کیا اس میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے؟ ۔ شوہر طلاق دے اور عورت انتظار کی پابند ہو تو کیا یہ ایک درجہ کی فضیلت نہیں؟۔ البتہ رجوع کیلئے اللہ نے عدت میں بھی باہمی رضامندی اور صلح کو شرط قرار دیاہے ورنہ پھر مساوی حقوق کی بات غلط ہے، اصلاح سے مراد صلح ہے جسکی دوسری آیت میں وضاحت ہے، صلح کا ٹھیکہ مفتی کونہ دیا، جدائی کا خطرہ ہو تو ایک ایک فرد کو دونوں طرف سے صلح کی کوشش کا کہا گیا۔فاروق اعظمؓ نے عورت کے حق کیلئے لڑائی کی صورت میں شوہر کو رجوع کا حق نہ دینے کا فیصلہ درست اور قرآنی روح کیمطابق کیا، شوہر کی طرف سے عدت میں رجوع اور نکاح برقراررکھنے کا دعویٰ بے بنیادہے،صحابہؓ اور فقہاءؒ کی تائید قرآن وسنت سے انحراف نہ تھا، امام ابوحنیفہؒ نے طلاق کے اظہار کے بغیر ناراضگی کی مدت پر عورت کو طلاق قرار دیکر ٹھیک کیا، بات عزم سے طلاق کی نہیں بلکہ عورت کاحق ہی اصل بنیادہے۔ عدت میں طہرو حیض کے تین مراحل اور حیض نہ آنے کی صورت میں تین ماہ کی عدت اس وقت ہے جب حمل نہ ہو، شوہر کا طلاق دینا اور عورت کا عدت گزارنا ہی ایک درجہ مردوں کی فضیلت ہے ۔
الطلاق مرتٰن فامساک بمعرف او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأ خذوا مما اٰتیتمو ھن شیئاً الا ان یخافاالا یقیما حدوداللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہٖ تلک حدود اللہ فلا تعتدوھا ومن یتعد حدود اللہ فاولٰئک ھم الظٰلمون(البقرہ:229) طلاق دو مرتبہ ہے، پھر معروف طریقے سے روکنا یا احسان کیساتھ چھوڑنا ہے اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ واپس لے لو جو بھی تم نے ان کو دیا ہے ا س میں سے کچھ بھی، مگر جب دونوں کو خوف ہو کہ اسکے بغیر اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے ، پھر اگر تم ڈرو کہ دونوں اللہ کے حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو کچھ حرج نہیں دونوں پر جو عورت کی طرف سے مرد کو (دئیے مال سے)کچھ فدیہ کیا جائے۔ یہ اللہ کی حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو اللہ کے حدود سے بڑھ جائے ،یہی لوگ ظالم ہیں‘‘۔جب اللہ نے طلاق کی عدت کے تین مراحل بیان کیے ، جن میں آخر تک رجوع کا دروازہ کھلا رکھنے کو صلح کی شرط پرفرض قرار دیاتو دومرتبہ طلاق اور تیسری مرتبہ معروف طریقے سے روکنے یا احسان کیساتھ چھوڑنے میں کیا ابہام رہ جاتاہے؟۔ طلاق اہم معاشرتی مسئلہ ہے اسلئے میاں بیوی کے علاوہ فیصلے والوں کی موجودگی کا بھی صراحت سے ذکرہے ۔ خاص طور سے اس صورت میں جب علماء ومفتیان حلالہ کے حوالہ سے غلط فتوؤں کا ادھار کھائے بیٹھے ہوں۔ چناچہ اگر رجوع کیا تو ٹھیک ہے لیکن اگر تیسرے مرحلہ میں بھی طلاق کے فیصلہ پر شوہر برقرار رہا تو پھر اس صورت میں اللہ نے مزید وضاحت کردی کہ جو کچھ بھی بیوی کو دیا ہے اسمیں کچھ لینا جائز نہیں۔ہاں میاں بیوی اور فیصلہ کرنیوالے سمجھتے ہوں کہ مستقل جدائی کا فیصلہ ہوچکا، عورت نے کہیں دوسری جگہ شادی کرنی ہے، دئیے ہوئے مال میں سے کوئی چیز ہو جس کی وجہ سے خطرہ ہو کہ اگر وہ نہ دی تو ان کا پھر آپس میں ملاپ ہوگا اور دونوں کسی طرح سے اللہ کی حدود کو پامال کرسکتے ہیں تو عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کی جائے۔ جدائی کا یہ فیصلہ باہوش وحواس اور متفقہ فیصلے کے نتیجہ میں ہو، فدیہ بھی اسلئے دیا گیا ہو کہ آئندہ سامنا بھی نہ ہوسکے۔ چونکہ غیرت کا تقاضہ سمجھا جاتا کہ طلاق کے باوجود عورت کو مرضی سے شادی نہ کرنے دیتے، انصار کے سردار سعد بن عبادہؓ کے حوالہ سے بخاری کی روایت ہے اور نبیﷺ کی وفات کے بعد اللہ نے ازواج مطہراتؓ سے شادی پر پابندی لگاکر فرمایاکہ نبیﷺ کو اذیت ہوتی ہے۔ لیڈی ڈیاناکو بھی طلاق کے بعد دوسری شادی کی غیرت کے چکر میں ماراگیا اور پٹھانوں میں بھی یہ رسم موجود ہے ۔ کوئی بھی اس کیلئے مشکل سے تیار ہوتاہے، اسلئے اللہ نے شوہر پر اس طرح طلاق کے بعد پابندی لگادی کہ اس کیلئے حلال نہیں اسکے بعد یہاں تک کہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔اصول فقہ کی کتاب نورالانوار میں بنیادی مسئلے کی بہترین وضاحت بھی ہے کہ دومرتبہ سے ایک کے بعد دوسری مرتبہ مراد ہے اور جس طلاق کے بعد حلال نہ ہونیکی بات ہے وہ فدیہ سے منسلک ہے ،مگر ساتھ اس میں حماقت کی تعلیم بھی ہے کہ فدیہ سے مراد خلع ہے، خلع جملہ معترضہ ہے یا سیاق و سباق کے ہی مطابق ہے۔ اگرچہ بنیادی طور سے حنفی مؤقف ہی برحق اور حقائق کے مطابق ہے مگرتیسری طلاق کی تلاش میں سرگرداں اور اختلافات پر مشتمل سبق کی حماقت پر حیرت بھی ہے،اسلئے کہ نبیﷺ کا تسریح باحسان کو تیسرے مرحلے کی تیسری طلاق قرار دینا کافی تھا۔آیت میں خلع کا حال بیان نہیں کیا گیاہے بلکہ اسی صورتحال کی بھرپور وضاحت ہے جس کی وجہ سے علماء ومفتیان نے اپنی مطلب براری کیلئے امت مسلمہ کو پریشان کر رکھاہے۔ خلوص ہو تو معاملہ بالکل واضح ہے۔
فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما ان یتراجعا ن ظنا ان یقیما حدود اللہ و تلک حدود اللہ یبینھا لقوم یعلمون (البقرۃ : 230) ’’پس اگر اس نے اس کو طلاق دے دی تواس کیلئے حلال نہیں اس کے بعد جب تک کہ وہ نکاح نہ کرے کسی اور خاوند سے۔ پھر اگر وہ طلاق دیدے تو دونوں پر گناہ نہیں اگر باہم مل جائیں اگر ان کو گمان ہو کہ اللہ کی حدود کو قائم رکھ سکیں گے اور یہ اللہ کے حدود ہیں جو واضح کرتا ہے اس قوم کیلئے جو سمجھ رکھتے ہیں‘‘۔ جس صورت میں میاں بیوی اور فیصلے کے افراد یہ بھی کرڈالیں کہ دی ہوئی چیزوں میں سے وہ چیز بھی عورت کی طرف سے فدیہ کریں تو اللہ کی مقرر کردہ حدود سے عوام اور علماء ومفتیان کو نکلنے سے روکا گیاہے۔ پھر مستقل شادی کی ہی عورت مجاز ہے نہ کہ شوہر حلالہ کروائے اور مفتی حلالہ کردے، البتہ مستقل شادی کے بعد دوسرا شوہر طلاق دے تو بھی پہلے سے اس شرط پر شادی کی اجازت ہے کہ جس سے شادی کی، اس آشنائی کا خمیازہ بعد میں یہ نہ بھگتے کہ دوسرے سے بھی واسطہ پڑتا رہے اور حدود پامال ہوں۔
و اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ او سرحوھن بمعروفٍ ولا تمسکوھن ضرارً لتعدوا ومن یفعل ذٰلک فقد ظلم نفسہ ولا تتخذوا اٰیٰت اللہ ھزواً واذکروا نعمت اللہ علیکم وما انزل علیکم من الکتٰب و الحکمۃ یعظکم بہٖ و اتقوا اللہ واعلموا ان اللہ بکل شیءٍ علیم(البقرہ: آیت 231) ’’ اور جب تم نے طلاق دی عورتوں کو پھر پہنچیں وہ اپنی عدت کو، تو انکو معروف طریقے سے روکو یا معروف طریقے سے چھوڑ دو اور نہ روکے رکھو ان کو ستانے کیلئے تاکہ ان پر زیادتی کرو اور جو ایسا کریگا وہ بے شک اپنی جان پر ظلم کریگا اور مت بناؤ اللہ کے احکام کو مذاق اور یاد کرو اللہ کی نعمت کو جو تم پر اس نے کی ہے اور جو اتاری تم پر کتاب میں سے(طلاق ورجوع کے احکام) اور حکمت، تم کو نصیحت کرتا ہے اللہ اسکے ذریعہ سے اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے‘‘۔اس آیت میں پھر اللہ نے واضح کردیا کہ عورت راضی نہ ہو تو عدت میں بھی صلح کے بغیر رجوع نہیں ہے اور عورت راضی ہو تو عدت کی تکمیل کے بعد بھی اللہ نے رجوع پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ البتہ اگر عورت رجوع کیلئے راضی ہو لیکن شوہر بسانے کی نیت سے نہیں ستانے کی نیت سے رکھتاہے تویہ اس نے عورت پر توظلم کیا نہ کیا لیکن اپنے اوپر ضرور ظلم ہے۔ عورت ایک نعمت ہے، طلاق ورجوع کے احکام بھی اللہ نے قرآن میں نعمت کے طور پر نازل کئے ہیں اور انسان کو حکمت و دانش بھی اللہ کی نعمت ہے، ان سب نعمتوں کو فراموش کرکے نفسانی خواہشات کے فقہاء کا شکار ہونا اللہ سے ڈرنا نہیں ہے بلکہ ان نعمتوں کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ علماء کو اللہ کی پکڑ کا احساس ہونا چاہیے۔
و اذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ذٰلک یوعظ بہٖ من کان منکم یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ذٰلکم ازکیٰ لکم و اطھر و اللہ یعلم و انتم لا تعلمون (البقرہ:آیت 232) ’’اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پورا کرچکی اپنی عدت کو تو اب نہ روکو ان کو اس سے کہ ازدواجی تعلق قائم کریں اپنے خاوندوں سے جب راضی ہو ں آپس میں معروف طریقے سے یہ نصیحت اس کو کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت کے دن پر، اور اس میں تمہارے واسطے زیادہ پاکی اور زیادہ طہارت ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے‘‘۔ اللہ نے پھر وضاحت کردی کہ اگر ناراضگی شوہر کی طرف سے نہ ہو بلکہ بیوی روٹھ کر گئی ہو، خلع لیا ہو اور پھر دونوں آپس میں ملنا چاہیں تو عدت پوری ہونے اور بڑے عرصے کی مدت گزرنے کے باوجود بھی ان کو ازدواجی تعلقات بحال کرنے سے نہ روکو ، جب آپس میں معروف طریقے سے راضی ہوں۔ اسی میں معاشرے کی طہارت اور پاکیزگی ہے، طلاق یافتہ خواتین کا اپنے شوہروں سے رجوع ہو تو معاشرے میں زیادہ تزکیہ اورطہارت ہوگی۔ اللہ جانتاہے مولوی مفتی سمیت عوام نہیں جانتے۔
سورۂ بقرہ کی ان آیات میں تسلسل کیساتھ جو وضاحت ہے ، مولوی حضرات خالی ان کا ترجمہ دیکھ کر اپنا دل ودماغ کھولنے کی کوشش کرکے تو دیکھ لیں، حلالوں کے مزے اڑانے والے شاید شرم، خوف، لالچ اور دیگر وجوہات ومفادات کی وجہ سے اپنے بے تکے فتوؤں سے باز نہ آئیں مگر حق کے متلاشیوں کیلئے ان آیات میں بڑی زبردست وضاحت ہے، حضرت عمرؓ اور امام ابوحنیفہؒ سے انحراف نہیں ،اسلاف پر اعتماد بھی ہے اور اسلام بھی اجنبیت سے نکلتاہے ۔ سورۂ طلاق دیکھ لو!
یاایھا النبی اذا طلتم النساء فطلقوھن لعتدھن واحصوا العدۃ و اتقوا اللہ ربکم لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃٍ و تلک حدود اللہ ومن یتعد حدود اللہ فقد ظلم نفسہ لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذٰلک امراً (الطلاق: 1) اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کو عدت تک کیلئے طلاق دو اور شمار کرو عدت کااحاطہ کرکے اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ ان کو مت نکالو ان کے گھروں سے اور نہ وہ خود نکلیں مگر جب کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں اور یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا، تمہیں خبر نہیں شاید اللہ (اختلاف کے بعد موافقت کی)کوئی نئی صورت پیدا کردے‘‘۔اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ نے آیت کا مفہوم بھی کنزالایمان میں بدل ڈالا ہے، لکھاہے کہ’’ ہوسکتاہے اللہ کوئی نئے احکام نازل کردے‘‘ اور علامہ شبیراحمد عثمانیؒ نے بھی بالکل غلط تفسیر لکھ ڈالی ہے کہ ’’ اللہ نے عورت کی عدت حیض میں ہی طلاق کا حکم دیاہے ، یعنی حیض سے تھوڑا پہلے‘‘۔ دیوبندی بریلوی علماء خودہی دیکھ کر فیصلہ کریں۔
فاذ بلغن اجلھن فامسکوھن بمعروفٍ او فارقوھن بمعروفٍ و اشھدوا ذوی عدلٍ منکم و اقیموا الشھادۃ للہ ذٰلکم یوعظ بہٖ من کان یؤمن باللہ و الیوم الاٰخر ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً (الطلاق: 2 )’’ اور جب پہنچے وہ اپنی عدت کو تو ان کو معروف طریقے سے رکھ لو یا معروف طریقے سے الگ کردو اور گواہ بنادو اپنے میں سے دو انصاف والوں کو اور گواہی دو اللہ کیلئے۔ یہی ہے جس کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے اس کوجو ایمان رکھتاہے اللہ اور آخرت کے دن پر اور جو اللہ سے ڈرا تو وہ اس کیلئے نکلنے کا راستہ بنادے گا‘‘۔ اللہ کی طرف سے پھر وضاحت کردی گئی کہ عدت کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ فقہ کی کتابوں کے مطابق آدھے سے زیادہ بچہ باہر آیا تو عدت ختم ہوگئی، اب رجوع نہیں ہوسکتا۔ منکر کے مقابلہ میں معروف آتاہے اور منکر کے مقابلہ میں احسان بھی آتاہے۔ رجوع و طلاق میں جو بھی راستہ اختیار کیا جائے وہ معروف ہو، احسان والا ہو، منکر نہ ہو۔ فقہاء نے اختلافی مسائل میں منکر صورتوں کو ایجاد کیاہے۔ آیت میں چھوڑنے کی صورت پر دو گواہ مقرر کرنے کی وضاحت کیساتھ یہ بھی واضح ہے کہ آئندہ بھی اللہ نے رجوع کا راستہ نہیں روکا ہے، جو اللہ سے ڈرا، اس کیلئے اللہ راستہ بنادیگا، یعنی عورت پھر راضی ہوگی اور قرآن کے مطابق معاشرے کاخوف رکاوٹ نہ بنے گا۔ طلاق میں انا کو بھی مسئلہ بنالیا جاتاہے اور علماء وفقہاء نے الگ سے جہالت کا ماحول کھڑا کردیاہے۔ جو اللہ سے نہ ڈرا، اس کا راستہ بھی اللہ نے بند نہیں کیاہے۔ البتہ جب عورت راضی نہ ہو اور شوہر رکھنے پر منکر طریقہ سے مجبور کرے تو اس کا اللہ نے بھی راستہ روکا ہے، حضرت عمرؓ نے بھی یہی کیا تھا، امام ابوحنیفہؒ نے بھی یہی کیا اور انسانی فطرت بھی اس کا تقاضہ کرتی ہے لیکن مولوی کا جاہلانہ فتویٰ دوسری بات ہے۔ ابو رکانہؓ نے ام رکانہؓ کو عدت کے مطابق الگ الگ تین طلاق دی ، دوسری شادی کی، اس عورت نے نامرد ہونے کی شکایت کی رسول اللہﷺ نے دوسری کو طلاق کا حکم دیا، ام رکانہؓ سے رجوع کا کہا، انہوں نے عرض کیا کہ تین طلاقیں دے چکا، نبیﷺ نے فرمایا، مجھے معلوم ہے اور سورۂ طلاق کی آیات پڑھ کر سمجھایا۔ مسلم شریف میں ہے کہ ابن عمرؓ نے تین طلاقیں دی تھیں، جسکے مقابلہ میں کوئی شخص قابل اعتماد ایسا نہ تھا جو ایک طلاق کی درست بات کرتا، پھر بیس سال بعد حضرت حسن بصریؒ کو ایک اور مستند شخص ملا، جس نے کہا کہ ایک طلاق دی تھی، اسکے بعد روایات کی ایسی بھرمار ہے کہ انسان کانوں کو ہاتھ لگاکر معاذاللہ پڑھنے کے بجائے مرغا بناکر لاتعلقی کا اظہار بھی کرادے۔
: یا ایھا الذین اٰمنوا اذا نکحتم المومنٰت ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا فمتعوھن و سرحوھن سراحاً جمیلاًO (الاحزاب: 49 ) ’’اے ایمان والو! جب تم نکاح میں لاؤ ایمان والیوں کو ، پھر ان کو چھوڑ دو اس سے پہلے کہ ان کو ہاتھ لگاؤ۔ پس ان پر تمہیں کوئی حق نہیں عدت کا، کہ اس کی گنتی پوری کراؤ۔ سو ان کو خرچہ دو اور رخصت کرو ان کو خوبصورتی کے ساتھ رخصت کرنا‘‘۔ شوہر کو عدت میں صلح کی شرط پرحقدار قرار دیاہے، تین طلاقوں کی ملکیت کا تصور جہالت ہے ،عدت شوہر کا حق ہے، ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق میں حرج ہے اور نہ عدت، البتہ نصف حق مہر کا جرمانہ ہے ۔
و ان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکماً من اہلہٖ و حکماً من اہلھا ان یریدا اصلاحاً یوفق اللہ بینھما ان اللہ کان علیماً خبیراًO (سورہ النساء: 35 ) ’’اور اگر تمہیں خوف ہو، ان دونوں کے درمیان جدائی کا تو تشکیل دو، ایک فیصلہ کرنے والا شوہر کے خاندان سے اور ایک فیصلہ کرنے والا بیوی کے خاندان سے، اگر دونوں صلح کا ارادہ رکھتے ہوں تو اللہ تعالیٰ دونوں کے درمیان موافقت پیدا کردے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا خبر رکھنے والا ہے۔‘‘
اذا نفوس زوجتO و اذا المؤدۃ سئلتO بای ذنب قتلتO (اور جب جیون کے ساتھیوں کے جوڑے بنائے جائیں اور جب زندہ درگور کی جانیوالی سے پوچھا جائیگا۔ کہ کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئی‘‘۔بیٹیوں کو زندہ دفنانے کی رسم ختم ہوگئی لیکن میاں بیوی کو جدا کرنے کے جرائم نے بھی حلالہ کی لعنت میں رغبت کی وجہ سے دورِ جاہلیت کی یاد تازہ کردی۔
ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھٰذا حلٰل و ھٰذا حرام لتفتروا علی اللہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحونO ’’اور اپنی زبانوں کے بنانے سے جھوٹ کا نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام، تاکہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو، بے شک جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں فلاح نہیں پاتے‘‘۔ اگر نکاح و طلاق کے حوالہ سے ناجائز حلال و حرام کا تعین ہوگیا اور مسلم معاشرے نے قرآن و سنت کی طرف توجہ کی تو دوسرے اختلافی مسائل بھی مٹانا مشکل نہ ہوگا۔ اولی الامر سے اختلاف کی گنجائش ہے اور یہی رحمت ہے، فقہاء کے حلال و حرام کی گنجائش نہیں، مکروہ شرعی اصطلاع نہیں بلکہ طبعی رُجحانات سے مکروہات بنتے ہیں۔ عتیق گیلانی