قرآنی آیات واحادیث میں خواتین کے حقوق اور معاشرے کی خلاف ورزی

1: عورت کو خلع کا اختیار ہے اور شوہر کو طلاق کا اختیار ہے۔ (سورہ نساء آیت 19،20 اور 21)
یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا یَحِلُّ لَکُمْ أَن تَرِثُوا النِّسَاءَ کَرْہًا وَلَا تَعْضُلُوہُنَّ لِتَذْہَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَیْتُمُوہُنَّ إِلَّا أَن یَأْتِینَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن کَرِہْتُمُوہُنَّ فَعَسَیٰ أَن تَکْرَہُوا شَیْءًا وَیَجْعَلَ اللَّہُ فِیہِ خَیْرًا کَثِیرًا (19)وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَآتَیْتُمْ إِحْدَاہُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْہُ شَیْءًا أَتَأْخُذُونَہُ بُہْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِینًا (20) وَکَیْفَ تَأْخُذُونَہُ وَقَدْ أَفْضَیٰ بَعْضُکُمْ إِلَیٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنکُم مِّیثَاقًا غَلِیظًا (21)
”اے ایمان والو!تمہارے لئے حلال نہیں کہ عورتوں (بیویوں)کے زبردستی سے مالک بن بیٹھو۔ اور ان کو اسلئے مت روکو کہ جو تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے بعض چیزیں واپس لو مگر یہ کہ وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں۔ اور ان کے ساتھ (خلع کا فیصلہ کرنے کے باوجود) اچھا سلوک کرو۔ اگر تمہیں وہ بری لگتی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کو تم برا سمجھو اور اللہ تعالیٰ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر رکھ دے۔ اور اگر تمہارا ارادہ ہو کہ ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی کا اور تم نے کسی ایک کو بہت سارا مال دیا ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس مت لو، کیا تم ان پر بہتان باندھ کر اور کھلے ہوئے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے مال واپس لو گے؟۔ اور تم کیسے واپس لو گے جبکہ تم ایک دوسرے سے بہت قربت حاصل کرچکے ہو اور ان عورتوں نے تم سے پکا عہد لیا ہے“۔
2: خلع میں منقولہ اشیاء اور طلاق میں منقولہ اور غیر منقولہ اشیاء عورت کا حق ہے۔ (حوالہ بالا:ایضاً)
3: ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق میں آدھا حق مہر اور ہاتھ لگانے کے بعد پورا حق مہر عورت کا حق ہے۔
لَّا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ إِن طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوہُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَہُنَّ فَرِیضَۃً وَمَتِّعُوہُنَّ عَلَی الْمُوسِعِ قَدَرُہُ وَعَلَی الْمُقْتِرِ قَدَرُہُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَی الْمُحْسِنِینَ (236) وَإِن طَلَّقْتُمُوہُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوہُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَہُنَّ فَرِیضَۃً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَن یَعْفُونَ أَوْ یَعْفُوَ الَّذِی بِیَدِہِ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَیٰ وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ إِنَّ اللَّہَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ (237: البقرہ)
”تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دو، ہاتھ لگانے سے پہلے یا ان کیلئے کوئی حق مہر مقرر کیا ہو۔ اور ان کو خرچہ دو، مالدار پر اپنی حیثیت اور غریب پر اپنی حیثیت کے مطابق خرچہ ہے معروف طریقے سے، یہ حق ہے نیکو کاروں پر۔ اور اگر تم نے ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی اور ان کیلئے کوئی حق مہر بھی مقرر کیا ہو تو جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا آدھا دینا ہوگا۔ مگر یہ کہ وہ خواتین اپنا حق معاف کریں یا وہ مرد جنکے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے (پورا حق مہر) عورت کیلئے درگزر کریں۔ اگر تم درگزر سے کام لو تو یہ تقویٰ کے قریب ہے۔ اور آپس میں ایکدوسرے پر مہربانی کرنا مت بھولو، بیشک اللہ تعالیٰ جو تم کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے“۔
بڑے بڑے جاہل نما علامہ قرآن کی ٹی وی پر تفسیر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ عورتوں پر مردوں کو جو فضیلت بخشی ہے اس کو مت بھولو۔ حالانکہ یہاں پر ایک دوسرے کے ساتھ حق مہر کے حوالے سے در گزر کی بات کی گئی ہے اور مردوں کو احساس دلایا گیا ہے کہ ان کے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے اسلئے ان کی طرف سے پورا حق مہر دینا زیادہ مناسب ہے۔ اور اس سے ایک فقہی مسئلہ یہ بھی مستنبط ہوتا ہے کہ اگر عورت ہاتھ لگانے سے پہلے خلع کا مطالبہ کرے تو پھر آدھا حق مہر ضروری نہیں ہوگا۔ یہ احساس دلایا گیا ہے کہ جب مرد نکاح کی گرہ کو توڑ رہا ہے تو اس پر نہ صرف یہ کہ آدھا حق مہر فرض ہے بلکہ اگر پورا حق مہر بھی دیدے تو بہتر ہوگا۔ فقہاء نے ان معاملات میں اسنتباط کی طرف دھیان نہیں دیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح اس آیت میں نکاح کے گرہ کی نسبت مرد کی طرف کی گئی ہے تو اسی طرح سے نکاح کے مضبوط معاہدے کی نسبت عورت کی طرف بھی کی گئی ہے۔ دونوں سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا ہے کہ صرف مرد طلاق دے سکتا ہے یا صرف عورت خلع لے سکتی ہے بلکہ جس طرح سے باہمی رضامندی سے نکاح ضروری ہے اسی طرح سے باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا بھی ضروری ہے۔ عورت خلع لینا چاہے تو وہ ادا کئے ہوئے حق مہر اور دی ہوئی چیزوں کو ساتھ لے کر جاسکتی ہے۔ لیکن جو چیزیں غیر منقولہ ہوں جیسے گھر، دکان، باغ اور دیگر جائیداد تو وہ خلع کی صورت میں چھوڑ کر جائیگی۔ البتہ طلاق کی صورت میں تمام دی ہوئی چیزوں کو عورت کا حق اللہ تعالیٰ نے قرار دیا ہے۔
جب کسی معاشرے میں عورت اپنے والدین کے گھر کو چھوڑ کر اپنے شوہر کے گھر کو اپنا گھر بنالیتی ہے تو پھر یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ شوہر اس کو فحاشی کے علاوہ کسی بھی صورت میں طلاق دے کر بے دخل کردے۔ طلاق کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے سورہ طلاق میں بھی گھر کو عورت ہی کی طرف منسوب کیا ہے۔ اگر شوہر اس کو طلاق دے اور گھر سے نہ نکالے بلکہ اسی گھر میں اس عورت کو کسی اور شوہر سے نکاح کا حق ہو تو پھر عورت کے ساتھ زیادتی کا وہ تصور نہیں ہوگا جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اس سے جنسی خواہشات پوری کرنے کے بعد یہ بھی مرد کیلئے کم سزا نہیں ہوگی۔ دنیا میں بچوں کی ماں کے حقوق کا درست تصور اجاگر ہوگا تو وہ بادشاہتیں جو عرصہ دراز سے مسلمانوں پر مسلط رہی ہیں اور جن کی تاریخ ظلم و جبر سے بھری پڑی ہے اور جن کی وجہ سے ہر دور کے شیخ الاسلام نے کمزوروں کے حقوق کو غصب کیا ہے سب کا پردہ چاک ہوجائے گا۔
4: پنجابی حق مہر دینے کے بجائے جہیز کے نام پر ظلم کرتے ہیں۔ پختون اپنی بیٹیوں کا حق مہر بھی کھا جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں خواتین معاشرے کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ باپ بیٹی کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کردے تو یہ نکاح نہیں ہوتا۔ اس حدیث کی خلاف ورزی کی وجہ سے کئی لڑکیاں بھاگ کر کورٹ میرج کرتی ہیں جس کیوجہ سے سسرالی خاندان آدمی کیلئے قرآن کے مطابق دوستی اور احسان کے بجائے دشمن بن جاتا ہے۔ دنیا میں ایک تماشہ کھڑا ہوتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ جس عورت نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ لیکن حنفی فقہاء نے تمام جمہور فقہاء کے مقابلے میں اس حدیث کو رد کردیا ہے۔ حالانکہ حنفی مسلک یہ ہے کہ قرآن حدیث کی تطبیق ہوسکتی ہو تو تطبیق کی جائے گی۔ قرآن میں طلاق شدہ و بیوہ کو خود مختار قرار دیا گیا ہے جبکہ حدیث میں کنواری مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ طلاق شدہ وبیوہ اور اپنے صالح غلام اور لونڈیوں کا نکاح کراؤ۔ اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ”اپنی جوان لڑکیوں کو بغاوت یا بدکاری پر مجبور نہ کرو،اگر وہ نکاح کرنا چاہتی ہوں“۔ اس آیت کو غلط مفہوم پہنادیا گیا کہ”لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو،اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں“۔ جس سے دنیا میں بدکاری کے اڈے چلانے کو جواز مل سکتاہے۔ حدیث میں نکاح کیلئے دوعادل گواہوں کو ضروری قرار دیا گیا، فقہاء نے دو فاسق گواہ کو بھی کافی قرار دیا۔ حدیث میں دف بجاکر نکاح کے اعلان کا حکم تھا اور فقہاء نے دوفاسق گواہ کو اعلان قرار دیا۔امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ ”حدیث صحیح ہو تو میری بات دیوار پر دے مارو“۔
پاکستان کا اسلامی آئین اور قرآن کی واضح خلاف وزری
اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ سے فرمایا کہ ”یہودی آپ کو کیسے اپنا فیصلہ سپرد کرینگے؟۔ جبکہ انکے پاس تورات ہے اور اس میں اللہ کا حکم ہے“۔ یعنی اس واضح حکم پر بھی یہ لوگ عمل نہیں کرتے ہیں۔ تورات میں کس حکم کا ذکر ہے؟۔ اللہ تعالیٰ نے تورات کے حوالے سے قرآن کے سورہ ئ مائدہ میں فرمایا کہ ”ہم نے ان پر فرض کیا کہ جان کے بدلے جان، کان کے بدلے کان، ناک کے بدلے ناک، آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت ہے اور زخموں کا قصاص (بدلہ) ہے“۔ یہود اس واضح حکم پر عمل نہیں کرتے تھے۔ پاکستان میں لوگوں کی ناک کاٹی جاتی ہے، دانت توڑے جاتے ہیں، کان کاٹے جاتے ہیں اور آنکھیں پھوڑ دی جاتی ہیں مگر اللہ کے حکم پر عمل نہیں ہوتا۔ سیاسی علماء اور مذہبی طبقے نے کبھی بھولے سے بھی کوئی یاداشت پیش نہیں کی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین کی بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ قرآن میں بار بار یہ واضح کیا گیا کہ عدت کے اندر، عدت کی تکمیل پر معروف طریقے سے باہمی اصلاح اور رجوع کا راستہ اللہ نے کھلا رکھا ہے۔ کوئی صحیح حدیث کسی قرآنی آیت کے منافی نہیں مگر علماء ومفتیان نے عزتوں کا بیڑہ غرق کردیا اور ہزاروں خاندانوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے بھی تحقیقات کو التواء میں ڈالا گیا۔ کانیگرم وزیرستان میں لڑتے وقت ایک شخص نے پتھر مارکر دوسرے کے کئی دانت توڑدئیے اور پھر متأثرہ فریق نے بدلے میں اس شخص کے بھی ہتھوڑے سے اتنے ہی دانت توڑ دئیے اسلئے وزیرستان کی سرزمین پر پاکستان سے زیادہ امن وسلامتی کا ماحول تھا۔ ایک طاقتور کسی کی ناک کاٹتا اور بدلے میں اسکی بھی ناک کاٹی جاتی تو کوئی قیامت تک کسی غریب کی ناک نہ کاٹتا، یہ قرآن کا انصاف ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی

اپنا تبصرہ بھیجیں