طلاق کا تعلق محض الفاظ نہیں بلکہ عمل وعزم سے ہے

813
0

لا یؤاخذکم باالغو فی ایمانکم ولکن بماکسبت قلوبکم Oللذین یؤلنون من النساء ھم تربص اربعۃ اشہر فان فاؤا فان اللہ غفور رحیمOوان عزموا الطلاق فان اللہ سمیع علیمOاللہ تمہیں نہیں پکڑتا لغو قسموں سے مگر جو تمہارے دلوں نے (گناہ)کمایا،اس پر۔Oجو لوگ اپنی عورتوں سے قسم کھالیتے ہیں ان کے لئے 4ماہ ہیں، پس اگر آپس میں مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہےOاور اگر ان کا عزم طلاق کا تھا تو سننے جاننے والا ہے۔سورۃالبقرۃ
ان آیات میں یہ وضاحت ہے کہ عورت کو چھوڑنے (طلاق دینے) کا تعلق لغو قسم سے نہیں بلکہ دل کے عزم اور طلاق کے عمل سے ہے۔طلاق کے عزم کا اظہار نہ کیا تو بھی زیادہ سے زیادہ انتظار 4 ماہ کا ہے ، اسلئے کہ پھر عورت کی حق تلفی ہوگی۔ شوہر طلاق کے عزم کا اظہار نہ کریگا تو عورت زندگی بھر بیٹھی رہے گی؟۔ اللہ نے ایسا ظالمانہ معاشرتی نظام نہیں بنایا ۔ ایلاء عورت سے ناراضگی کی قسم کو کہتے ہیں، یہ بالکل واضح ہے کہ طلاق کا تعلق لغو الفاظ سے نہیں، طلاق کے عزم کا اظہار بھی ضروری نہیں بلکہ عمل ہی کافی ہے۔ آیات میں واضح ہے کہ طلاق کا عزم ہو مگر اظہار نہ کیا جائے تو اس دل کے گناہ پر اللہ کی پکڑ ہوگی اسلئے کہ طلاق کے عزم کا اظہار ہو تو انتظار کی مدت 4ماہ کی بجائے3ماہ ہوگی۔تبیانا لکل شئی (قرآن ہرچیز واضح کرتاہے)
ان آیات سے واضح ہے کہ نکاح و طلاق میں شوہر اور بیوی دونوں کا حق ہے، دورِ جاہلیت کی طرح یہ تعلق لغو قسم سے بھی نہیں ٹوٹتا ، شوہر نہ ملنے کی قسم کھالے تو بیوی فوری طور سے قانوناً الگ نہیں ہوتی بلکہ ناراض ہونے کی حالت میں 4ماہ کا انتظار ضروری ہے، اس مدت یا عدت میں دونوں راضی ہوگئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور اگر نہ بن سکی تو عورت اس سے زیادہ انتظار کی پابند نہیں۔البتہ عزم کا اظہار نہ کرنے پر شوہر کی اللہ کے ہاں اس وقت پکڑ ہوگی جب طلاق کا عزم ہو، اسلئے کہ پھر عزم کا اظہار کرتا تو عورت کو اس سے کم 3ماہ کی عدت اور انتظار کی تکلیف گزارنی پڑتی۔
امام ابوحنیفہؒ کے مسلک میں چار ماہ انتظارکے بعد عورت طلاق ہوجائے گی۔ جمہور ائمہ کے نزدیک جب تک طلاق کے عزم کا اظہار نہ ہو عورت زندگی بھرانتظار کریگی۔ علامہ ابن قیمؒ نے جمہور کے حق میں اور احناف کیخلاف دلائل دئیے لیکن قرآن میں اتنا بڑا تضاد کیسے ہوسکتا ہے کہ حنفی مسلک میں چارماہ کاعمل طلاق قرار دیا جائے اور جمہورکے نزدیک چارماہ کا انتظار ہی غلط ثابت ہو ؟۔ میاں بیوی چار ماہ کے بعد باہمی رضامندی سے ملنے پر راضی لیکن ان کو طلاق کا فیصلہ سنادیا جائے اور عورت الگ ہونا چاہتی ہو تب بھی انتظار پر مجبور ہو۔ یہ افراط و تفریط اور غلو ہے۔
یہ اختلاف رحمت نہیں زحمت ہے، یہ امت مسلمہ کو اس مذہبی گمراہ ذہنیت کا شکار کرتی ہے جس سے اسلام نے نکالا ۔ اس مسلکی اختلاف و تضاد کی بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شوہر اور بیوی دونوں کے حقوق کی وضاحت اور حد ود مقرر کردئیے ، شوہر کا حق یہ ہے کہ بیوی اس کی ناراضگی کے باوجود ایک مخصوص عدت تک انتظار کی پابند ہے۔ طلاق کے عزم کا اظہارنہ کرنے کی صورت میں انتظار کی مدت یا عدت اظہارکے مقابلہ میں بڑھ جاتی ہے، شوہر اپنی قانونی ذمہ داری پوری نہیں کرتا اور اس کو راضی نہیں کرتایا پھر وہ راضی ہونے کیلئے تیار نہیں ہوتی ہے تو 4ماہ انتظار کافی ہے۔
چونکہ فقہاء کرام اس دور کی پیداوار تھے جب خلافت کا نظام موروثی امارت میں تبدیل ہوچکا تھا، انہوں نے عورت کے حق کو ہی بالکل فراموش کردیا،وہ آیات کا فیصلہ صرف شوہر کے حق کو مدِ نظر رکھ کر کررہے تھے، اسلئے طلاق ہونے ،نہ ہونے کے فتویٰ میں تضاد آگیا۔اگر ان کے پیشِ نظر عورت کا حق بھی ہوتا تو یہ اختلاف کے شکار نہ بنتے۔ قانون میں طاقتور اور کمزور دونوں کے حقوق متعین ہوتے ہیں،عورت کمزور ہوتی ہے، اسکے حقوق کا خاص طور سے خیال رکھنا ضروری تھا۔ قرآن میں اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالہ سے وضاحت فرمائی کہ 8سال کام کرنا ہوگا اور اگر10سال پورے کئے تو یہ آپکی طرف سے احسان ہوگا۔ مزدور، ملازم اور افسر کو کچھ گھنٹے روزانہ مقررہ وقت کیمطابق کام ، پھرمرضی کا مالک ہے۔ معمولات اور انسانی فطرت سے سبق لیتے تو قرآن کے قانون میں تضاد کی ضرورت نہ پڑتی۔
عورت کو طلاق کے عزم کے اظہار تک چار ماہ اور حدود وقیود سے بڑھ کر جمہور فقہاء کا مسلک تو قرآن کے الفاظ اور انسانی فطرت کے بالکل منافی تھا ، حنفی مؤقف مقابلے میں بہتر اور قرآں فہمی کے تقاضہ سے مطابقت رکھتا تھا، تاہم عورت کے حق کو مدِ نظر رکھا جاتا تو چار ماہ کے گزرتے طلاق ہونے کا فتویٰ دینے کی بجائے قانون کی وضاحت کی جاتی کہ عورت چارماہ کی مدت کے بعد پابند تو نہیں لیکن وہ چاہے تو چارماہ کے بعد بھی باہمی رضامندی سے ازدواجی زندگی بحال رکھ سکتی ہے۔کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ اب طلاق پڑگئی ہے ، دوبارہ نکاح کا معاہدہ کرنا پڑیگا۔
ناراضگی کی صورت میں عورت کو 4ماہ کے انتظار کا حکم ہے اور عدتِ وفات میں4ماہ 10دن انتظار کا حکم ہے۔ اللہ کی آیات کی تکذیب کرنے والے گدھوں کو اس بات کی سمجھ ہونی چاہیے کہ اللہ نے شوہر کی ناراضگی میں 4ماہ کی عدت کیوں رکھی ہے جو عدتِ وفات سے بھی دس دن کم ہے؟۔ اور طلاق کے اظہار پر 3ماہ کی عدت رکھی ہے۔ کھل کر طلاق کے اظہار کے بعد عورت کے انتظار کا زمانہ سب سے کم ہے، اسلئے کہ عورت دوسری جگہ شادی کرسکے، ناراضگی کی صورت میں انتظار کی مدت زیادہ ہے تاکہ مصالحت کیلئے زیادہ وقت ملے اور وفات کی صورت میں شوہر کا طلاق میں کوئی کردار نہیں ہوتا اسلئے اس میں انتظار کی مدت زیادہ ہے۔
عدت شوہرکے حق کی انتہاء ہے ،عورت انتظار کی پابند ہے اور اسکے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرسکتی ہے۔ عورت اگر اپنے حق سے دستبردار ہوکر عدتِ وفات کے بعد بھی دوسری شادی نہ کرنا چاہے تو ساری زندگی وفات اور روز محشر وجنت تک یہ نکاح کا تعلق قائم رہتا ہے۔ یوم یفرالمرء من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وابنیہ ’’ اس قیامت کے دن انسان بھاگے گا اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے‘‘۔ جنت میں بھی وہ اور انکی بیویاں ساتھ ہونگے۔فقہاء نے یہ غلط مسلک بنا یا کہ وفات ہوتو شوہر بیوی کی طلاق ہوجاتی ہے، ایک دوسرے کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے،مہاجر،سندھی، بلوچ ، پنجابی اور پختون عوام میں اس پر عمل بھی ہوتا ہے ۔ان علماء سے یہ پوچھا کہ جب تمہارے باپ کی وفات کے بعد تمہاری ماں کو طلاق ہوگئی تو پندرہ بیس سال بعد تمہاری ماں فوت ہوگئی پھراسکی قبر پر زوجہ مفتی اعظم کا کتبہ کیوں لگایا؟۔
جس طرح وفات کی عدت کے بعد عورت اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہے تووہ آزاد ہے اور اپنے حق سے دست بردار ہوکر اپنے شوہر کے نام پر بیٹھی رہنا چاہے تو اس کا حق ہے، پاکستانی حکومت کے علاوہ دنیا بھر کے عام قوانین بھی یہی ہیں، فقہاء نے عورت کے حق کی بجائے طلاق کی انوکھی منطق کی ایجاد کررکھی ہے کہ حمل کی صورت میں آدھے سے زیادہ بچہ پیدا ہوا تو رجوع نہیں ہوسکتااور کم پیداہوا ہے تو رجوع ہوسکتا ۔اللہ جانے گونگے شیطان کب گرفت میں آئیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانی ذہن کو تسکین کو پہنچانے کیلئے عدت کا تصور رکھا ہے اور باہمی رضامندی سے بار بار رجوع کی وضاحت فرمائی ، عدت کے بعد بھی یہ تصور غلط ہے کہ طلاق واقع ہوگی اور عدت سے پہلے تو ہے ہی غلط۔ البتہ عدت کے بعد عورت چاہے تو دوسری شادی کرلے اور چاہے تو باہمی رضامندی سے ازدواجی تعلق کو بحال کردے۔اللہ نے یہ بھی وضاحت فرمائی کہ عدت کو تکمیل کے بعد بھی عورت کو اسکے شوہر سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔ اپنی نسبت قائم رکھے تو وہ بیوی ہے۔ عتیق گیلانی