مذہبی نظام کی اصلاح

529
0

مذہبی نظام میں اہم معاملہ مدارس کا نصابِ تعلیم ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور انکے بھائی مولانا عطاء الرحمن وغیرہ سیاسی ہیں، مدارس کے نصاب سے آگاہ نہیں۔ اساتذہ و مفتی حضرات کا واسطہ نصاب سے پڑتاہے۔ فرقہ وارانہ اور مسلکانہ الجھنوں میں گرفتار کم عقل فرد کا تعلق کسی بھی فرقے اورمسلک سے ہو وہ ایک وفادار سیاسی کارکن کی طرح قابل اعتماد، مخلص اور نیک سمجھا جاتاہے۔ مدارس میں کرایہ کی وکالت سے زیادہ دین کی کوئی خدمت نہیں ہے۔ ایک مجبورطبقہ مأمورہے جو وہی جووہ پڑھتا، پڑھاتا اور فتویٰ دیتاہے جس کی وکالت پر پیٹ پوجا کرتاہے۔ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے چند سال مالٹا کی جیل میں گزارے اور درس وتدریس اور سیاست سے ہٹ کر قرآن پر تدبر کا موقع مل گیا تو آنکھیں کھل گئیں، دارالعلوم دیوبند اور اپنے شاگردوں کے حصار کو توڑ نہیں سکے لیکن یہ فرمان چھوڑ دیا کہ ’’ امت کے زوال کی 2وجوہات ہیں، قرآن سے دوری اور فرقہ پرستی‘‘۔ واحد شاگردمولانا سندھیؒ نے قرآن کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کاآغاز کیا لیکن وہ فتوؤں کی نذر ہوگئے، مولانا سندھیؒ نے لکھا ہے کہ ’’ تم امام مہدی کا انتظار کرتے ہو مگر جب اپنے استاذ کی درست بات نہیں مانتے تو تم امام مہدی کے بھی مخالفین کی صف میں ہوگے‘‘۔ مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے بھی آخر کار فرمایا کہ ’’ میں نے قرآن وسنت کی خدمت نہیں بلکہ مسلکوں کی وکالت میں اپنی ساری زندگی ضائع کردی‘‘۔ مفتی اعظم مفتی محمد شفیعؒ نے بھی آخری عمر میں یہ اقوال نقل کئے اور مدارس کو بانجھ قرار دیدیا۔ مولانا ابولکلام آزادؒ کی والدہ عرب تھیں، مادری زبان عربی تھی ، بچپن حجاز میں گزرا، بعد میں اردو بھی سیکھ لی۔ مدارس کے نصاب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی، جب بھارت کے وزیرتعلیم تھے تو علماء کرام کا بڑا اجلاس بلاکر نصاب بدلنے کی تلقین کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’’ یہ ساتویں صدی ہجری کی کتابیں ہیں، جس وقت مغلق عبارتوں کو کمال سمجھا جاتاتھا، زوال کے دور میں لکھی گئی کتابیں پست ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں، یہ شکایت غلط ہے کہ علماء کی ستعداد کم ہوگئی ہے، یہ نصاب ہی ذہین لوگوں کو کوڑھ دماغ بنانے کیلئے کافی ہے‘‘۔ مگر علماء نے توجہ نہ دی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چےئرمین مولانا شیرانی اور مولانا عطاء الرحمن کے پاس پہنچا تو اپنی ریاست پاکستان کو عجیب و غریب قرار دے رہے تھے، مجھ سے پوچھا تو میں نے مدارس میں قرآن کی تعریف کے حوالہ سے سوال اٹھادیاکہ کتابی شکل میں اللہ کے کتاب کی نفی ہے، مکتوب فی المصاحف سے مراد لکھی ہوئی کتاب نہیں، حالانکہ الذین یکتبون الکتاب بایدیھم ، علم بالقلم، اکتتبھا بکرۃ واصیلا، والقلم ومایسطرون دلیل ہیں کہ اصولِ فقہ میں کفر پڑھایا جارہاہے۔ پھر کتاب اللہ کے بارے میں کہ صحیح بات کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شبہ ہے اور نقل متواتر سے غیرمتواتر آیات خارج ہوگئیں ، اگر قرآن کی تعریف قرآن کیخلاف ہو، اس میں شک اور کچھ کمی کی بھی تعلیم دی جائے ، حالانکہ ایک ان پڑھ اور بچہ بھی کتاب کی تعریف سمجھتا ہے‘‘۔
مولانا عطاء الرحمن نے پشتو کہاوت سنائی کہ’’ بھوکے سے کہا کہ پراٹھے کیوں نہیں کھاتا؟ ، ہم ملک پر سرگرادن تھے اور اس نے یہ مسئلہ اٹھادیا‘‘۔ کیا نصاب میں قرآن کے خلاف کوئی اور طبقہ یہ سازش کرے تو مولوی اسکے خلاف طوفان نہیں کھڑا کرینگے؟۔ کیا ریاست علماء ومفتیان کو قرآن کے حوالہ سے حق بات پوچھنے سے بھی ڈرتی ہے؟۔ کیا اس نصاب کا پڑھنا اور پڑھانا کسی بڑی سازش سے کم ہے؟۔ ہم نے پہلے بھی یہ آواز اٹھائی تھی، شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے فقہ کی سب سے مستند کتاب ’’ہدایہ ‘‘کے مصنف کے حوالہ سے لکھ دیا کہ ’’ علاج کیلئے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘، یہ حوالہ فتاویٰ شامی اور فتاویٰ قاضی خان میں بھی ہے۔ یہ عمران خان کے ثناخواں اور نکاح خواں مفتی سعید خان نے بھی اپنی کتاب ’’ریزہ الماس‘‘ میں اس دفاع کیساتھ لکھاہے کہ ’’جیسے قرآن میں سؤر کاگوشت جائز ہے، جو بدن کا جزء بھی بن جاتاہے مگر سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھاجائے تو جزء بدن نہیں بنتا‘‘۔ مفتی تقی عثمانی نے عوام کے دباؤ میں اس سے رجوع کرکے اپنی کتابوں سے نکالنے کا بھی اعلان کردیا مگر سوال پیدا ہوتاہے صاحب ہدایہ کو یہ لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟۔مولانا اشرف علی تھانوی کی کتاب ’’اعمال قرآنی‘‘ میں بھی یہ نسخے ہیں لیکن صاحب ہدایہ نے یہ جرأت اسلئے کی کہ اصول فقہ میں علم الکلام کا مسئلہ ہے کہ تحریر میں سورۂ فاتحہ باقی قرآن کی طرح اللہ کا کلام یا کتاب اللہ نہیں ہے۔امام ابوحنیفہؒ نے علم الکلام کی گمراہی سے توبہ کی ،ہمارے ہاں یہ فقہ، اصولِ فقہ اور دم تعویذکیلئے پڑھایا جاتاہے۔مولانا فضل الرحمن، مفتی منیب الرحمن اور مفتی تقی عثمانی اہل اقتدار سے کہتے ہیں کہ ’’میں ہوں البیلا تانگے والا‘‘۔ فرقہ پرستوں کا حال ان سے بدتر ہے، مخلصوں کو ریاست نہ سپورٹ کیا تو پاکستان عالمِ اسلام بلکہ دنیا کا امام ہوگا۔