میرامختصرخاندانی پسِ منظر اور میری جدوجہد

627
0

میرا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان و علاقہ گومل ٹانک سے ہے۔ محسود، وزیراور بیٹنی قبائل میں ہمارا خاندان عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔ کانیگرم سے تحریک کا آغاز کیا تو ڈاکوؤں کا بڑا زور تھا۔ ایک مرتبہ کراچی سے آنیوالے ساتھیوں کو ٹانک سے کانیگرم کرایہ کی گاڑی پک اپ میں ڈاکوؤں نے روک لیا، ڈرائیور نے میرے والد پیر مقیم شاہ کا نام لیا کہ انکے مہمان ہیں تو ڈاکوؤں نے چھوڑ دیا۔ ہمارا خاندان ڈاکوؤں سے لین دین اور سرپرستی کی ساکھ والا نہ تھا۔ میرے پردادا سیدحسن عرف بابو ؒ کو محسود شمن خیل نے بروند وزیرستان میں اعزازی زمین دی تھی۔ جب انگریز نے برصغیر کو آزاد کرنے کا اعلان کیا تو افغانستان کے امیر امان اللہ خان کا بیٹا مدراس کی جیل سے فرار ہوکر آیا، عبدالرزاق بھٹی مرحوم اس وقت کیمونسٹ تھے۔ جسکا تعلق شیخ اوتار ڈبرہ علاقہ گومل سے تھا، وہ امیرامان اللہ کے بیٹے کو بیٹنی خلیفہ دین فقیرکے پاس لیکر گئے،دین فقیر نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں کو امیرامان اللہ کا بیٹا مطلوب ہے، صرف محسودقبائل کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ پناہ دیکر دونوں سے بچا سکتے ہیں۔ چنانچہ شمل خیل قبیلے کے سردار رمضان خان نے پناہ دی پھر ایک مرتبہ چھپ کر سفر کررہے تھے کہ حکومت کی مخبری سے ان کو گرفتار کرکے ڈیرہ اسماعیل خان جیل میں قید کیا گیا، اسی دوران عبدالرزاق بھٹی مولانا مودودی ؒ کی کتابوں کا مطالعہ کرکے مسلمان ہوئے۔1913ء میں اسلامیہ کالج پشاور بنا تھا 1914ء میں والد مرحوم کے چچازاد پیرایوب شاہ ؒ اور دیگر عزیز اسمیں BAکے سٹودنٹ تھے۔
امیرامان اللہ خان نے 1919ء سے 1929ء تک افغانستان پر حکومت کی۔ حکومت کے قیام کیلئے جنوبی وزیرستان کانیگرم میں میرے دادا سیدامیرشاہ باباؒ کے گھر سے تحریک کا آغاز کرنے شام سے ایک عرب پیر سید سعدی شاہ گیلانی آئے، تو اس وقت اس کی داڑھی اور مونچھیں بھی نہ آئی تھیں۔ کانیگرم کے علماء نے ڈھول کی تھاپ پر جلوس نکالا، کہ پیر وں کے پاس انگریز میم آئی ہے، پھر علماء سے کہا گیا کہ طاقت کے زور کو چھوڑو، بیٹھو ، اطمینان کرلو کہ مسئلہ کیاہے؟۔ جب علماء سے عربی ، فارسی میں قرآن وسنت کے علوم پر بات ہوئی توپھر اپنے سگریٹ کے دھویں کو علماء کے چہروں پر سجی داڑھی کی طرف چھوڑ رہا تھا۔ امان اللہ خان کا رشتہ داریہ شامی پیر جرمنی سے رقم لیکر آیا تاکہ افغانستان میں حکومت قائم کی جائے۔پھر علماء اور مشائخ کی قیادت میں ایک بڑا لشکر تشکیل دیا گیا، جس نے افغانستان میں امیر امان اللہ کی حکومت قائم کی۔ افغانستان کا پہلا اخبار پیرایوب شاہ عرف آغاجانؒ کی ادارت میں جاری ہوا۔ انگریز کی سازش سے امیر امان اللہ کا تختہ الٹا گیا،وہ علماء جنہوں نے جانوروں کی طرح سوات میں خواتین فروخت ہونے کی منڈیوں کو کبھی اسلام کے منافی نہیں کہا، انہیں امیرامان خان کی بیوی کا لباس خلاف اسلام لگتا تھا۔ دوسری بار شامی پیر آیا تو راہ میں بمباری کرکے لشکر کو منتشر کیا گیا۔ سید ایوب شاہؒ کو امیرامان اللہ کی بیٹی سے شادی اور مال ودولت کی پیشکش ہوئی مگر انہوں نے انکار کردیا،البتہ اپنے اخبار میں حمایت جاری رکھی اسی وجہ سے افغانستان میں قید کی سزا بھگت لی۔ شامی پیر نے میرے داد کو جانشین و بڑا خلیفہ بنانے کی پیشکش کی مگر انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنے گناہوں کو معاف کرادوں تو یہ بہت ہے، آپ کی خلافت کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاسکتا‘‘۔ پیرایوب شاہؒ نے جماعتِ اسلامی کا لٹریچر پڑھا تھا اور بہتوں کو جماعت میں شامل کیا، بچپن کے الیکشن میں مَیں نے سب سے پہلے ’’ترازو‘‘ کا نشان اٹھایا۔آزادی کے لیڈرز جرمن امدادسے مالامال تھے۔ محمود اچکزئی کو ہمارے عزیزپیریونس نے یونیورسٹی میں شکست دی تھی۔
جرمنی، فرانس، ناروے، سویڈن، عرب امارات اور چین جانے کا موقع ملا ہے مگرکہیں خواتین و حضرات کو اس قدر ایک دوسرے سے ہڈی پسلی ایک ہونے کی حد تک میل ملاپ نہ دیکھا جیسے خانہ کعبہ میں حجراسود چومنے کے دوران ایکدوسرے سے ملنے کا منظر ہوتا ہے۔ سعودیہ میں جنسی جرائم کی شرح خطرناک ہے، بیرون سے لائی جانے والی خدامہ کیساتھ باپ، بیٹے اور بھائیوں کی مشترکہ جنسی زیادتی حدِ تواتر کو پہنچی ہے اسلئے مسیار کے نام پر متعہ کی قانونی اجازت دی گئی ۔ مفتی عبدالقوی جیسے حلالہ کی لعنت کے خوگر آخرکارسرِ عام رنگ رلیوں سے جنسی تسکین کا فتوی ٰ دینگے۔
1983ء میں بنوری ٹاؤن ، دارالعلوم کراچی اور جامعہ فاروقیہ سے طلبہ کو سکول کا امتحان دینے کیلئے جمعہ کے دن فاروق اعظم مسجد ناظم آباد میں ٹیوشن پڑھنے کے جرم میں نکالا گیا، جبکہ1923ء میں پیرمبارک شاہ گیلانیؒ فاضل دارالعلوم دیوبند نے کانیگرم وزیرستان میں ’’نوراسلام‘‘ کے نام سے پبلک سکول کھولا تھا۔ دارالعلوم دیوبند کے بڑے معروف استاذ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ نے مالٹا سے رہائی پانے کے بعد 1920ء میں حکیم اجمل خانؒ کی پرائیوٹ یونیورسٹی کا افتتاح کیا تھا۔ شیخ الہندؒ نے مالٹاکی قید میں تجزیہ کرلیا تھا کہ ’’ مسلم اُمہ کو فرقہ وارانہ درسِ نظامی سے نکالنے اور قرآن کی طرف توجہ میں نجات ہے‘‘۔ اپنے مشن کیلئے علماء ومدارس سے مایوسی اور کالج کے طلبہ کوقرآن کی طرف متوجہ ہونے کی امید کا اظہار کیاتھا۔ مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے مذہبی طبقات سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے جابجا لکھاہے کہ ’’ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں، انہوں نے مذہب کو تجارت بنالیا ہے‘‘۔
میں نے بریلوی دیوبندی،جماعت اسلامی ،اہلحدیث اور شیعہ تضادکولیہ سکول کے دورمیں سمجھا، بغاوت کرکے مدارس کا علم حاصل کیا، دارالعلوم کراچی کورنگی میں چند دن کے بعدداخلہ کینسل ہوا، بنوری ٹاؤن پہنچالیکن وہاں داخلے بند تھے، دارالعلوم الاسلامیہ واٹرپمپFBایریامیں داخلہ میں لیا،مولانا یوسف لدھیانویؒ کے درس سے استفادہ کرنے الفلاح مسجد نصیرآباد جاتا،ایک مرتبہ پروفیسر غفور احمدؒ نے بھی وہاں تقریر کی تھی ،حالانکہ مولانا یوسف لدھیانویؒ کی کتاب’’ اختلاف امت اور صراط مستقیم‘‘ میں مولانا مودودیؒ کے بارے میں غلام احمد پرویز و غلام احمدقادیانی کا قلم چھین لینے ، انبیاء کرامؑ اور حضرت عائشہؓ سے متعلق گستاخانہ لہجے کے ریمارکس بھی مجھے یاد تھے۔ مولانا لدھیانویؒ سے سنا کہ ’’ قرآن پر حلف نہیں ہوتا، اسلئے کہ یہ نقشِ کلام ہے، اللہ کی کتاب نہیں‘‘ تو مجھے احساس ہواکہ ہم عوام اور علماء کرام کے علم وسمجھ میں بڑا فرق بلکہ کھلا تضاد ہے، جامعہ بنوری ٹاؤن کے پہلے سال میں ایک قابل سمجھنے جانے مولانا عبدالسمیعؒ سے سرِ راہ بحث کا سلسلہ بڑھااور اس نے قرآن منگوایا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے؟، مجھے مولانا لدھیانویؒ کی بات یادآئی اور برجستہ کہا کہ ’’یہ اللہ کی کتاب نہیں بلکہ اس کا نقش ہے!‘‘، مولانا نے مجھے کافر کہا تو میں نے مولانا لدھیانویؒ کا حوالہ دیا، جس پر مجھے الزام دیا کہ’’ تمہارا مقصد دین کی تعلیم نہیں ہمیں ذلیل کرنا ہے، سب کچھ پڑھ کر آئے ہو‘‘۔ اس مباحثہ کو کافی سارے طلبہ نے سنا اور اسکے بعد علامہ تفتازانی کا نامانوس لقب میں نے اپنے لئے طلبہ سے سن لیا۔ حقیقت میں علماء ومفتیان درسِ نظامی کو سمجھنے سے قاصر ہیں صاحبِ ہدایہ نے اللہ کی کتاب کا نقش سمجھ کر ہی سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز قرار دیا، مفتی تقی عثمانی نے جانے بوجھے بغیر اپنی کتابوں میں نقل کیا اور پھردباؤ پر نکالا تھا۔ٹانک و ڈیرہ اسماعیل خان کے علماء کے اجتماع کے اہتمام پر مولانا فضل الرحمن نے میرے سامنے مولانا عطاء اللہ شاہ کو شرکت کا کہا، مگرخفیہ طورپر مولانا عصام الدین محسود کو بھی روکنے کاکہا، یہی وجہ تھی کہ ڈیرہ کے علماء وعدے کے باوجود نہ آئے ۔ٹانک کے علماء سے مولانا فتح خانؒ نے میری وضاحت پر فرمایاکہ ’’میری داڑھی سفید ہوچکی، عتیق کی کیا عمر ہے؟، مگر آج اس جوان نے میری آنکھوں سے پٹیاں کھول دیں ہیں‘‘۔