تین طلاق کا تعلق صرف طہرو حیض کی عدت سے ہے

1040
0

المطقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثہ قروء ۔۔۔ وبعولتھن احق بردھن فی ذٰلک ان ارادوا اصلاحاو لھن مثل الذی علیھن بالمعروف ولرجال علیھن درجۃ ۔۔۔O الطلاق مرتٰن فامساک بمعروف او تسریح باحسان ولا یحل لکم ان تأخذوا مما اٰتیتموھن شءًا الا ان یخافا الایقیما حدوداللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ۔۔۔Oفان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔۔۔Oواذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ۔۔۔ Oواذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن اذا تراضوا بینھم بالمعروف ۔۔۔ ذلک ازکیٰ لکم ۔۔۔
سورۂ بقرہ کی ان آیات کا ترجمہ کسی بھی مسلک وفرقہ کے عالمِ دین کا دیکھ لیں،
علماء ومفتیان نے ان آیات کی تمام معروف باتوں کو بھی منکر میں بدل دیا ہے۔
(ا): طلاق میں عدت کے 3ادوار کا تعلق طہروحیض سے ہے اور 3 مرتبہ طلاق کا تعلق بھی اسی صورتحال کیساتھ ہے۔ حمل کی صورت میں عدت بچے کی پیدائش ہے، اس میں عدت کے تین ادوار اور تین مرتبہ طلاق کا کوئی تصور بھی نہیں۔
نبیﷺ نے ابن عمرؓ کایہ واضح قرانی صورتحال نہ سمجھنے پر غضبناک ہو کرسمجھایا کہ ’’ طہر میں روکے رکھو یہانتک کہ حیض آئے، پھر طہر میں روکے رکھو یہانتک کہ حیض آئے۔ پھر طہر میں چاہو تو روکے رکھو اور چاہو تو ہاتھ لگانے سے پہلے چھوڑدو، یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے طلاق کا امر فرمایا ہے۔ (بخاری)۔ یہی صورتحال سورۂ البقرہ ، سورۂ طلاق اور دیگر قرآنی آیات میں وضاحت کیساتھ موجود ہے۔جیض نہ آتا ہو،یا اس میں ارتیاب ہو تو تین ماہ کی عدت ہے اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تو کوئی عدت کا حق نہیں جس کی گنتی کرائی جائے۔
جب عبداللہ بن عمرؓ نے مغالطہ کھایا تو بعد میں آنے والے بزرگانِ دین کی غلط فہمی بڑی بات نہ تھی لیکن اللہ کی کتاب اور نبیﷺ کی اس وضاحت کومدِ نظر رکھاجاتا تو علماء ومفتیان، غلام احمد پرویز، جاویداحمد غامدی اور ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی مغالطہ نہ کھاتے۔ 3طلاق کو ملکیت قرار دیکر مضحکہ خیز صورتحال کو مختلف سمت میں اتنا پھیلایا گیا ہے کہ ایک انتہائی درجہ کا کم عقل انسان بھی پیٹ پکڑ کر ہنسنے پر مجبور ہوگا، اس کی نسبت بڑے بڑوں کی طرف کی گئی ہے مگر قرآن وسنت سے بڑھ کر کون ہوسکتا ہے؟ اور جب نبیﷺ سے من گھڑت احادیث منسوب تو دوسروں پر کیاکچھ نہ ہوگا؟۔
گنتی طلاق نہیں بلکہ عدت ہی کی ہوتی ہے، حیض کی صورت میں طہر کے تین ادوار میں تین مرتبہ طلاق خود بخود ہوجاتی ہے،آخری مرتبہ سے پہلے دو مرتبہ طلاق کی خبر مرضی پر منحصر نہیں کہ ایک طلاق دی تو باقی دوطلاق کی ملکیت عدت کے بعد تک رہے یہاں تک کہ عورت کی دوسری جگہ شادی اور پھر وہاں سے طلاق ہو تویہ بحث کی جائے کہ پہلاشوہر نئے سرے سے 3طلاق کا مالک ہوگایا پہلے سے موجود2 کا؟۔
(ب): رجوع کاتعلق صلح وباہمی رضامندی کیساتھ ہے لیکن عدت کے اندر شوہر ہی صلح کی شرط پر رجوع کرسکتا ہے اور عدت کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کا حق رکھتی ہے اور باہمی رضامندی سے دونوں ازدواجی تعلق کو بحال کرسکتے ہیں جس میں اللہ نے رکاوٹ ڈالنے سے روکا ہے۔ قرآنی آیات بالکل واضح ہیں۔سورہ بقرہ آیت226,228,229,231,232اور سورۂ طلاق آیت1,2۔
اللہ تعالیٰ نے ازدواجی تعلق کے بعد نکاح کومیثاقِ غلیظ قرار دیا ہے، جس کا معنیٰ مضبوط معاہدہ ہے، فقہاء نے قرآن کی ضدمیں من گھڑت اصطلاح طلاقِ مغلظ کے منکر کو معروف کے مقابلہ میں کھڑا کردیا۔ معروف تو یہ تھا کہ جس نکاح میں ازدواجی تعلق قائم کیا گیا ہو ، وہ میثاق غلیظ( مضبوط معاہدہ) ہے جس کو توڑنے کیلئے عدت درکار ہے جوصلح و رجوع کا لازمی پریڈ ہے مگر اسکے مقابلہ میں طلاق مغلظ کا منکر وجود میں لایا گیا جس میں منہ سے کوئی لفظ پھسلنے سے نکاح کا مضبوط تعلق ختم ہوجاتا ہے۔ اس میں انواع واقسام کے صریح اور کنایہ الفاظ ہیں جن پر اختلافات بھی ہیں۔یہی وجہ تھی کہ اللہ نے کسی صریح و کنایہ لفظ کی بجائے طلاق کو عدت وعمل قرار دیا،رجوع کا تعلق الفاظ کی بجائے باہمی رضامندی، صلح اور عدت سے جوڑ دیا ہے۔
(ج): اللہ تعالیٰ نے بار بار جس طرح کے عمل کی وضاحت فرمائی ہے اور فقہاء نے اسکے باوجود اس عمل کو معروف سے منکر میں بدل ڈالا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ بار بار قرآن میں معروف طریقہ سے رجوع کا حکم دیا گیا ہے۔ مدارس کا ہی قصور نہیں بلکہ جدید مذہبی تعلیمات والے زیادہ بڑے گدھے ہوتے ہیں، رجوع کا معروف طریقہ تو عام آدمی سمجھتا ہے کہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا، پھر صلح کرلی گئی۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آبادکے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ نے ’’تین طلاق‘‘ پر مصنف حبیب الرحمن کی ایک کتاب شائع کی ہے۔ جس میں رجوع کے حوالہ سے لکھا ہے ’’ حنفی مسلک میں رجوع کیلئے نیت شرط نہیں ، اگر عدت کے دوران شہوت کی نظر غلطی سے بھی پڑگئی تو رجوع ثابت ہوگا، شوہر رجوع نہ کرنا چاہے اور نظر پڑی تو مسئلہ گھمبیر ہوجائیگا، ایسی صورت میں شوہر دستک دے تو نظر پڑنے پر شوہر ذمہ دار نہ ہوگا۔ اور شافعی مسلک یہ ہے کہ مباشرت بھی کرلی جائے تو رجوع نہ ہوگا جب تک نیت رجوع کی نہ ہو‘‘۔ تین طلاق: حبیب الرحمن ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی۔
معروف کو منکر میں بدلنے کیلئے ہمارے فقہاء نے (سکہ رائج الوقت ہے) یہود کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جدید تعلیم والوں کی وجہ گمراہی کے قلعے مدارس کسی رعایت کے قابل نہیں، اصل گمراہی تو انہی کی وجہ سے پھیلی ہوئی ہے۔ معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ ’’ رجوع اس وقت بھی ثابت ہوگا ، جب نیند میں ایک دوسرے کو شہوت سے چھو لیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہوت عورت کی معتبر ہوگی یا مرد کی ؟، جواب یہ ہے کہ دونوں کی معتبر ہوگی‘‘۔ کیا یہ قرآن اور معاشرہ میں موجود معروف کے مقابلہ میں منکر رجوع نہیں ہے؟۔ یقیناًہے اور فقہاء نے الف سے ی تک معروف کو منکر بنایا۔
(د): سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ فلاتحل لہ من بعدحتی تنکح زوجا غیرہ ’’پھر اگر طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرلے‘‘۔ اس کا کیا مطلب ہے؟۔
جواب یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے میں کوئی رسمِ بد ہوتی ہے تو اس کو ملحوظِ خاطر رکھ کر حل تجویز کیاجاتا ہے، شوہر بیوی کو طلاق دینے کے بعد بھی اپنی مرضی سے نکاح نہیں کرنے دیتا تھا، بخاری میں انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ کے حوالہ سے بھی وضاحت ہے، نبیﷺ کی ازواج مطہراتؓ کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ آپ کی وفات کے بعد نکاح نہ کرو، اس آپﷺ کی اذیت ہوتی ہے، آج بھی یہ رسم قبائل میں موجود ہے کہ طلاق کے بعد بھی اپنی مرضی سے شادی میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے، لیڈی ڈیانا کو بھی طلاق کے باوجود اپنی مرضی سے دودی الفہد سے شادی کو برداشت کرنے کی بجائے ماردیا گیا، شہبازشریف اور غلام مصطفی کھر کو تہمینہ درانی سے شادی کرنے پر نذیر ناجی اوراطہر عباس نے نشانہ بنایا تھا۔ریحام خان طلاق پر دوبارہ پاکستان آمد میں جان کا خطرہ محسوس کرنے کا برملا اظہار کررہی تھی۔
میاں بیوی میں سے ایک نیکوکار اور دوسرا بدکار ہو تو بدکاروں کی بدکاروں سے یا مشرکوں سے نکاح اور مؤمنوں پر حرام قرار دینے کی بات کی گئی ہے جو ’’حلال نہیں‘‘ سے زیادہ سخت لفظ ہے تاہم اس آیت سے پہلے جو صورتحال ذکر کی گئی ہے اس کو بھی نظر اندازکرنا معروف کے مقابلہ میں منکر کو وجود بخشنا ہے جس کی تفصیل دیکھ لو۔ عتیق گیلانی