13سالہ مکی، 10سالہ مدنی، اور 30 سالہ خلافت راشدہ نے دنیا کی تاریخ کو بدل ڈالا ، یہ قرآن ، سنت اور اسلام کی نشاۃ اول کا زبردست کارنامہ تھا

869
0

اسلام کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ خواتین بلارنگ ونسل اور مذہب کے تمام انسانوں کے بنیادی حقوق برابری کی بنیاد پر بحال کردئیے، فضیلت کا معیار تقویٰ و کردار کو قرار دیا، انسانی حقوق پامال کرنے کو ناقابلِ معافی جرم کہا

نکاح، طلاق، رجوع، خلع کے واضح احکام کو معروف سے مذہبی طبقہ نے منکرمیں بدل دیا، مسلم معاشرہ بتدریج تنزلی اور اسلام ا جنبیت کا شکار بنتا چلاگیا۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے اصلاح اسی طرح سے ہوگی جیسے پہلے ہوئی تھی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا’’ اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا تھا، یہ عنقریب پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا، خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے‘‘۔ اسلام کے معروف شرعی احکام کو منکرات میں بدلا جائے تو اسلام اجنبی بن جائیگا ،

علامہ سیدیوسف بنوریؒ اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیعؒ کے استاذ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث علامہ انورشاہ کشمیریؒ نے لکھا : ’’ قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی ہے۔۔۔‘‘فیض الباری۔معنوی تحریف کی مثالیں سمجھ لو!،

مفتی تقی عثمانی نے بینک کا سود جائزاور شادی بیاہ میں لفافہ سود قرار دیا۔آسان ترجمۂ قران کے نام سے پہلی مرتبہ طلاق کی آیات کی تفسیر میں نہیں بلکہ ترجمہ میں بھی تحریف کا ارتکاب کیا، معنوی تحریف سے معروف کو منکر بنایا گیا

اسلامی نظریاتی کونسل میں خواتین کے حقوق کے حوالہ سے سماء ٹی وی چینل سے رئیس کا پروگرام تھا، مفتی نعیم، مفتی عبدالقوی، ماروی سرمد، سمیعہ راحیل قاضی مہمان تھے۔اسکرین پر سورۂ النساء کی ایک ادھوری آیت اور اس کا ترجمہ دکھایا گیا۔پوری آیت اورترجمہ: یاایھاالذین اٰمنوالایحل لکم ان ترثوا النساء کرھاو لاتعضلوھن لتذھبوا ببعض ما اٰ تیتموھن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسٰی ان تکرھوا شئیا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیراO
’’ اے ایمان والو! تمہارے لئے حلال نہیں کہ اپنے بیویوں کے زبردستی مالک بن بیٹھو اور ان کو مت روکے رکھو تاکہ تم لے اُڑھو،بعض ان چیزوں کو جوتم نے ان کو دی ہیں مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں، اور انکے ساتھ سلوک کرو ،اچھائی سے اور اگر تم انہیں برا سمجھتے ہو تو ہوسکتا ہے کہ کسی چیز کو تم برا جانو اور اس میں تمہارلئے اللہ خیر کثیر بنادے‘‘۔
اس آیت میں زبردست معنوی تحریف کی گئی ، اللہ تعالیٰ نے بہت سی آیات میں النساء بیویوں کو قرار دیا ہے، اس آیت میں بھی بیوی کے علاوہ کوئی غیر عورت مراد ہوہی نہیں سکتی، اسلئے کہ اپنی بیوی کو ہی چیزیں دی ہوتی ہیں،جب وہ چھوڑ کر جانا چاہتی ہے تو ان میں سے بعض چیزیں واپس لینا اپنا حق سمجھاجاتاہے،اللہ تعالیٰ نے اس صورت میں بعض چیزوں کو واپس لینا مستثنیٰ قرار دیا ،جب وہ کھلی ہوئی فحاشی کا ارتکاب کریں۔اگر بیویاں چھوڑ کر جانا چاہیں تو ان کے بارے میں وضاحت ہے کہ انکے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو، ان کو اسلئے بھی مت روکے رکھو کہ بعض دی ہوئی چیزیں ان سے واپس لو، اگر چھوڑ کر جانے کی وجہ سے تمہیں بری لگیں تو ان کے چھوڑ کر جانے کو برا مت سمجھو۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ اس میں تمہارے لئے خیر کثیر بنادے۔ اس سے بہتر بیوی مل جائے، اس کو روک کر زبردستی سے مالک بن بیٹھو تو تمہاری عزت کہیں تارتار نہ ہوجائے۔ اسی میں مصلحت ہے کہ چھوڑدو۔
علماء وفقہاء نے اس آیت میں معنوی تحریف کرکے النساء (عورتوں) سے دوالگ قسم کی عورتیں مراد لی ہیں۔ آیت کے پہلے حصہ سے رشتہ داروں کی بیوائیں مراد لی ہیں کہ ان کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو، ان کو اپنی مرضی سے جہاں چاہیں شادی کرنے دو اور ان کو جو تم نے چیزیں دی ہیں وہ واپس مت لومگر یہ وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کریں، آیت کے دوسرے حصہ سے اپنی بیگمات مراد لی ہیں کہ انکے ساتھ اچھا سلوک کریں، اگر تمہیں بری لگتی ہوں تو ہوسکتا ہے کہ اچھا سلوک کرنے سے اللہ تمہارے لئے خیر کثیر بنادے، اولاد ہو اور حالات بدل جائیں وغیرہ۔ حالانکہ یہ سراسر غلط ہے اسلئے کہ دوقسم کی خواتین کی طرف ایک ہی ضمیر سے الگ الگ خواتین کی طرف کیسے نسبت ہوسکتی؟،یہی معنوی تحریف ہے۔
علماء وفقہاء یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ شوہر کو کیسے مخاطب کیا جاسکتا کہ بیوی کا زبرستی سے مالک مت بن بیٹھو،شوہر بیوی کے ایک طلاق نہیں تین طلاق کا مالک ہوتا ہے۔ایسی انوکھی ملکیت دنیا کی کسی اور چیز میں ہوہی نہیں سکتی، جس طرح طلاق کی ملکیت کا مکروہ اور انتہائی منکر تصورعلماء وفقہاء نے بنارکھا ہے۔ عقل دنگ رہ جائیگی ، فطرت کو پسینہ آجائیگا اور روح تڑپ اُٹھے گی کہ معروف اسلام کو ایسا منکر بنانے کا تصور کیسے کرلیا گیا؟۔
شوہر تین طلاق کا مالک ہے، ایک طلاق بیوی کو دیدی، عورت کی دوسری شادی ہوئی ، پہلا شوہر پھر بھی بقیہ دو طلاق کا مالک ہے۔ دوسرے نے طلاق دی اور پہلے سے پھر شادی ہوئی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلا شوہر بدستور سابق بقیہ دو طلاق کا مالک ہوگا یا نئے سرے سے تین طلاق کا مالک ہوگا؟۔ ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ بقیہ دو طلاق کا مالک ہوگا۔ یہی مسلک حضرت ابوہریرہؓ، حضرت علیؓ ، حضرت ابی کعبؓاور حضرت عمران بن حصینؓ کی طرف منسوب ہے جس کی طرف جمہورائمہ فقہ امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، محدثینؒ اور امام ابوحنیفہؒ کے بعض شاگرد گئے ہیں۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ اور امام ابوحنیفہؒ انکے مخالف گئے ہیں کہ نکاحِ جدید سے پہلا شوہر نئے سرے سے تین طلاق کا مالک ہوگا۔
یہ کوئی معمولی اختلاف نہ تھا بلکہ جیسے فرض کیا جائے کہ صحابہؓ کی طرف جھوٹ سے نسل کی نسبت کرنے والا علماء کا کوئی گروہ ہو، جسکے آباء واجداد میں سے کسی نے عورت کو اس طرح طلاق دی اور پھر دوبارہ شادی کرلی ہو تو پھر ایک طلاق کے بعد بعض کے نزدیک عورت کو مغلظہ قرار دیا جائیگا اور بعض کے نزدیک وہ رجوع کے بعد بدستور بھی بیوی ہوگی۔ بعض کا مؤقف ہوگاکہ شوہر سے اس کا تعلق حرام کاری والا ہے اور بعض دوسری جگہ نکاح کرے تو اس تعلق کو حرام کاری قرار دینگے، کیا اسلام میں ایسے شکوک وشبہات کی گنجائش ہے؟۔ دور کی بات نہیں کرتا، ہمارے مرشد حاجی محمدعثمانؒ کے مریدو معتقد کے بارے میں فتویٰ دے دیاگیا کہ ’’نکاح جائز ہے، منعقد ہوجائیگا، جائز نہیں، اس نکاح کا انجام کیا ہوگا عمر بھر کیلئے حرام کاری اور اولاد الزنا، یہ نکاح جائز نہیں گو منعقد ہوجائے‘‘۔ ان پر مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے دستخط بھی ہیں، میں دارالعلوم کراچی میں نمازباجماعت کے بعد اعلان کرکے ان کو چیلنج کیا لیکن وہ وہاں سے دم دباکر بھاگ گئے۔
جب رسول اللہ ﷺ کی طرف من گھڑت احادیث منسوب ہوسکتی ہے تو کیا صحابہ کرامؓ اور فقہی اماموں کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے کوئی شرم، حیاء اور غیرت آتی؟۔ اگر یہ سچ ہے تو نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ ’’ اسلام اجنبیت کی حالت میں شروع ہوا ہے اور عنقریب یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا ، خوشخبری ہے اجنبیوں کیلئے‘‘۔ تین طلاق کی ملکیت کایہ تصور ہی سراسر باطل ،قرآن و سنت کے واضح احکام سے متصادم اور انسانی عقل و فطرت کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔ اسلام نے طلاق کے عمل کیلئے عدت کا تصور دیکر علیحدگی کا بہترین انداز دنیا کے سامنے پیش کیا۔ شوہر تین طلاق کا مالک نہیں بلکہ عدت کا حقدارہوتا ہے اور مذہبی طبقات نے انتہائی کفرو گمراہی، کم عقلی وبد فطری کا ثبوت دیتے ہوئے اسلام کے معروف کو منکر میں تبدیل کردیا ہے۔یہ صحابہ کرامؓ اور ائمہ مجتہدینؒ کی طرف سے نہیں تھا امام ابوحنیفہؒ نے بھی ایلاء میں چار ماہ کے انتظار کی مدت کو طلاق کا عمل قرار دیا لیکن پھر بعد میں امام ابوحنیفہؒ کے نام پر غلط اور من گھڑت مسائل بنائے گئے۔

1747_lاس میں سارے مذہبی طبقات کو ملوث قرار دینا سراسر زیادتی ہے۔ سب میں سمجھ بوجھ ، عقل و ذہن اور صلاحیت نہیں ہوتی ہے، مفتی تقی عثمانی نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے معاوضہ لیکر سودی نظام کو جائز قرار دیا ہے اور شادی بیاہ کے رسم میں لفافہ سود قراردیا ۔ مفتی عبدالرؤ ف سکھروی جیسے لوگ وعظ کرنے لگے :’’ شادی میں نیوتہ یا سلامی کی رسم سود ہے اور اسکے ستر گناہ ہیں، ستر وبال ہیں اور اس کا کم ازکم گناہ اپنی ماہ سے زنا کے برابر ہے‘‘۔ اس کو کتاب کی شکل شائع بھی کردیا گیا۔ کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ ایک طرف بینک کے سود کو جائزکیا تودوسری طرف لفافہ کی رسم کو سود اور اسکے کم ازکم گناہ کو ماں سے زناکے برابر قرار دیا۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ سے فرمایا لاتمنن فتکثر ’’ احسان اسلئے نہ کریں کہ زیادہ بدلہ ملے گا‘‘۔ یہ مالی معاملات کے حوالہ سے نہیں بلکہ نبی کریمﷺ کے مشن کے حوالہ سے ہے اسلئے کہ جب کوئی بھی انسان قوم کی بھلائی کیلئے ان سے اچھائی کے حوالہ سے تحریک شروع کرتا ہے تو فطری طور سے توقع رکھتا ہے کہ اس کا بدلہ خیر کثیر کی شکل میں ہی ملے گا لیکن جو جاہل، ہٹ دھرم اور ہڈ حرام ہوتے ہیں ان کی طرف سے اکثر خلافِ توقع نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسلئے اللہ نے نبیﷺ سے فرمایا کہ احسان سے بھلائی کی توقع نہ رکھیں۔
اس کو سود کی تعریف میں شامل کرنا معروف کو منکر بنانا ہے، تحفہ تحائف سے محبت بڑھتی ہے اسلئے نبی ﷺ نے فرمایا کہ’’ ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اور محبتوں کو بڑھاؤ‘‘۔ حکومت ڈنڈے کے زور پر نہیں لیکن اپنی ذمہ داری سمجھ کر علماء کرام کے درمیان صحیح طریقہ سے راہ ہموار کرکے پارلیمنٹ میں مکالمے کا اہتمام کروائے تو بہت سارے معاشرتی مسائل سے چھٹکارا مل جائیگا۔ دین ومذہب ایک روحانی اور اخلاقی قوت ہے ، آدمی بڑی قربانی دیدیتا ہے لیکن اپنا ایمان بچالیتا ہے۔اسلام عظیم دین ہے اور مسلمان عظیم قوم ہیں، مذہبی طبقات حلالہ کروائیں، زنجیر زنی کروائیں، تعصبات کے انگارے لوگوں کے دل و دماغ میں ڈال دیں اور خود کش حملے کروائیں عوام مذہب کی ہرطرح کی قربانیاں دیدیتے ہیں۔
اگر علماء ومفتیان کے ذریعہ مسلمانوں کے اندر معاشرتی حقوق کو بحال کردیا جائے تویہ اتنا بڑا انقلاب ہوگا کہ بھارت،روس، امریکہ، پورپی یونین، برطانیہ کے علاوہ سعودیہ اور ایران کو بھی پاکستان کی امامت میں اقتداء کرنے پر مجبور کردیگا، افغانستان کیساتھ بھی اسی وجہ سے نہ صرف معاملات ٹھیک ہونگے بلکہ طالبان و افغان حکومت بھی پاکستان کی ہاں و ناں کو مانیں گے۔ ماروی سرمداور مفتی نعیم ، سمیعہ راحیل اور مفتی عبدالقوی ایک ہونگے ۔
تازہ واقعہ ہے کہ مری میں ایک 19سالہ لڑکی کو رشتہ کے تنازع پر جلادیا گیا، یہ واقعہ کوئی انوکھا نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی اقدار کا وہ نمونہ ہے جو جاہلانہ طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرتی اقدار کو تحفظ دینے کیلئے اسلام کو ٹیشو پیپر بنایاہے۔ اسلام نے جاہلانہ معاشرتی روایات کو ختم کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھالیکن مسلمانوں نے جاہلانہ رسوم کو ختم کرنے کی بجائے حیلے بہانے سے اسلام کا نام لیکر ان کو تحفظ دیا ہے۔ اسلام نے بیوی اور لونڈی میں تفریق کی تھی،بیوی منکوحہ ہوتی ہے مملکوکہ نہیں۔قرآن کہتا ہے کہ زبردستی سے بیوی کا مالک مت بن بیٹھو، علماء وفقہاء نے قرآن کی آیت کے الفاظ کو توتبدیل نہیں کیامگر اس کے معانی اور تفسیر کو تبدیل کردیا۔ یہ صرف مدارس تک بات محدود نہیں جماعتِ اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی نقوی اور بلکہ غلام احمد پرویز کے پیروکاروں نے ان سے بھی بدتر کردار ادا کیاہے، مدارس والوں سے زیادہ جماعتِ اسلامی کو سیاست کی پڑی ہے۔
سورۂ النساء کی آیات میں الصلح خیراور اسکے سیاق وسباق کی پوری وضاحت ہے جس سے صلح ہی مراد ہے لیکن مولانا مودودی ؒ نے اس سے ’’ خلع‘‘ مراد لیا ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سورۂ بقرہ کی جس آیت میں طلاق کے بعد فدیہ کا ذکر ہے اس سے مراد خلع نہیں بلکہ علیحدگی کی ایک خاص صورتحال کا ذکر ہے مگر پھر بھی اس سے خلع مراد لیا ہے، اور حنفی علماء کے مقابلہ میں علامہ ابن تیمیہؒ کے شاگرد علامہ ابن قیمؒ کی عقل پر ہنسی آئیگی جس نے ’’خلع‘‘ کے بارے میں اپنی انتہائی کم عقلی کا مظاہرہ صرف اسلئے پیش کیا ہے کہ وہ حنفی مسلک کی تردید کرنا چاہتے تھے۔ معلومات کا ذخیرہ اور مخلص تھے مگر عقل نہ دارد۔
امام ابوحنیفہؒ اپنے دور میں قرآن کیلئے جس طرح کھڑے ہوئے ، یہ دین اور حق کو تحفظ دینے کا بہترین ذریعہ تھا، اگرچہ صحیح حدیث کے مقابلہ میں ان کا مؤقف سوفیصد غلط تھامگر ضعیف اور من گھڑت روایات کے مقابلہ میں انہوں نے زبردست کردارادا کیا جس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ مثلاً قرآن اور صحیح حدیث میں واضح ہے کہ تین مرتبہ طلاق کی عدت کے تین پیریڈ تین طہر ہیں، جس طرح تین دن تین روزے رکھے جائیں تو عدد میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی ہے مگر احناف نے خود ساختہ طور سے قرآن میں 3کے عدد کو تحفظ دینے کیلئے حیض مراد لئے۔ جس طرح روزہ کی ابتداء دن کے شروع سے ہوتی ہے رات کو روزہ مکمل ہوجاتا ہے، اسی طرح نبیﷺ نے طہر میں پرہیز کو ایک مرتبہ طلاق قرار دیا۔
غلام کی دو طلاق اور لونڈی کی دو حیض عدت سے بھی مراد یہی ہے کہ غلام دو طہروں کی پرہیز کریگا تو یہ دو طلاق ہیں اور لونڈی تین کی بجائے دو حیض تک انتظار کریگی۔ ان باتوں کو مزید وضاحت کساتھ ایک کتابچہ میں پیش کررہا ہوں لیکن علماء ومفتیان اور عوام کو یہ توجہ دلانا ضروری ہے کہ اسلام کے معروف احکام کو واضح کرنے کے بعد نہ صرف مسلمان بلکہ دنیا بھر کے انسان بھی ان کی طرف لپکیں گے اور سب اسلام کی طرف آئیں گے۔ عتیق گیلانی