تین طلاق کا اہم ترین مسئلہ اور اس کا آسان حل

698
0

تین طلاق کے مسئلے پر نت نئے مسائل کھڑے ہوتے رہے ہیں۔تین مرتبہ طلاق پر قرآن وسنت کا ایک معروف ڈھانچہ ہے جسے کوئی بھی سمجھ سکتاہے اور دوسرا منکرات کا پیش خیمہ تھا جس کو بڑے لوگ آج تک بھی سمجھنے سمجھانے سے قاصر ہیں لیکن افسوس کہ مسلمانوں نے معروف کو چھوڑکر منکر پر طلاق کے ایسے مسائل کھڑے کردئیے کہ فرشتے بھی حیران ہونگے کہ آخر ابلیس کی ضرورت کیا ہے۔مذہبی لبادے میں شیاطین الانس کے خناس ہی کافی ہیں جن سے قرآن کے آخری سورہ میں آخری لفظ سے پناہ مانگی گئی ہے۔اللہ نے قیامت کے دن رسول ﷺ کی طرف قرآن میں یہ شکایت درج کی وقال رسول رب ان قومی اتخذوا ہذاالقرآن مھجورا
’’اور رسولﷺ فرمائیں گے کہ میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
طلاق کے مسائل کا آغاز کرنے سے پہلے اللہ نے فرمایا کہ ’’ اللہ کو اپنے عہدوپیمان کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال نہ کرو، کہ تم نیکی نہ کرو، تقویٰ اختیار نہ کرو اورعوام میں مصالحت نہ کراؤ‘‘، مگر افسوس کہ پھر بھی اللہ کا نام لیکر میاں بیوی میں جدائی کرائی جاتی ہے اور تقویٰ اختیار کرنے کے بجائے حلالہ کی لعنت پر مجبور کیا جاتاہے، میاں بیوی صلح چاہتے ہیں لیکن علماء ان کے درمیان اللہ کو استعمال کرکے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ ہماری بات سمجھ میں آئی ہے لیکن ڈھیٹ بن گئے ہیں۔
قرآن میں طلاق کا لفظ جہاں استعمال ہوا ہے، اس میں حقائق بھی بالکل واضح ہیں۔ پہلی عدت چار ماہ بیان ہوئی ہے لیکن اگر طلاق کا عزم تھا تو اس پر پکڑ بھی ہوگی اسلئے کہ طلاق کے اظہار سے مدت چار کے بجائے تین مراحل (طہروحیض)یاتین ماہ کی وضاحت ہے۔طلاق کی عدت بچے کی پیدائش، تین طہرو حیض اور تین ماہ کی وضاحت قرآن میں ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ عورت خلع لے تو پھر اس کی عدت ایک طہرو حیض ہے۔ غلام کی دو طلاقیں اور لونڈی کی عدت دو حیض ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مرتبہ کے طلاق کا تعلق ایک طہرو حیض سے ہی ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کو نبیﷺ نے سمجھایا کہ ایک طہر میں ہاتھ لگائے بغیر بیوی کو رکھ لینا ایک مرتبہ کی طلاق اور دوسرے طہرو حیض میں رکھ لینا دوسری مرتبہ کی طلاق ہے اور تیسرے طہر وحیض میں رکھنے یا ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دینا تیسری مرتبہ کی طلاق ہے۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ حمل اور تین ماہ کی عدت سے تین طلاق کا کوئی تعلق بھی نہیں ۔ سورۂ بقرہ اور سورہ طلاق کی آیات میں عدت کے حوالہ سے طلاق اور رجوع کی زبردست وضاحت ہے ۔ حنفی مکتبۂ فکر کی سوچ بہت عمدہ ہے اور اسی بنیاد پر طلاق کا مسئلہ میں نے قرآن وسنت کی روشنی میں روزِ روشن کی طرح حل دیکھا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میرا اللہ زندہ بھی کرتاہے اور مارتا بھی ہے تو خدائی کے دعویدار وقت کے بادشاہ نمرود نے جواب میں کہاتھا کہ یہ کام تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ ایک گناہگار کو چھوڑ دیا اور بے گناہ کو قتل کردیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے پھر فرمایا کہ ’’میرا رب مشرق سے سورج طلوع کرتا ہے اور مغرب میں غروب کردیتاہے۔تو جو انکار کر رہا تھا وہ مبہوت بن کر رہ گیا‘‘۔
امام ابوحنیفہؒ کے استاذ امام حمادؒ کا مسلک یہ تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق واقع نہیں ہوتی ہیں ، جبکہ امام ابوحنیفہؒ ، امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا مسلک یہ تھا کہ ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں۔ میں بہت واضح طور سے یہ کہتا ہوں کہ حضرت عمرؓ نے بالکل ٹھیک فیصلہ فرمایا تھا کہ ایک ساتھ تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور ائمہ مجتہدین ؒ کا مسلک بھی% 100 درست تھا۔ اس پر ایک اضافہ یہ بھی کرنا چاہیے کہ شوہر ایک طلاق بھی دے تو اس کو یک طرفہ غیرمشروط رجوع کا کوئی حق حاصل نہیں۔ البتہ عورت عدت تک دوسری شادی نہ کرنے کی پابند ہے اور اگر دونوں کی طرف سے صلح کی شرط پر رجوع کا پروگرام ہو یا دونوں طرف سے ایک ایک رشتہ دار مصالحت کیلئے کردار ادا کرے تو پھر رجوع پر پابندی لگانے کی بات غلط ہے۔ طلاق واقع نہ ہونے کا فتویٰ دینا غلط اسلئے ہے کہ پھر مرد رجوع کرلے اور عورت راضی نہ ہو توعدت کے بعد بھی شادی نہیں کرسکتی۔
جس منکر صورت کی قرآن و احادیث میں بالکل گنجائش نہیں ہے وہ یہ ہے کہ ایک طلاق کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرلے تب بھی پہلا شوہر دو طلاق کی ملکیت کا مالک رہتا ہے ، اس ملکیت سے دستبردار بھی نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ طلاق عدت ہی میں واقع ہوسکتی ہے، ایسی منکر ملکیت قرآن و سنت اور انسانی فطرت کے بالکل منافی ہے اور اسی منکر صورتحال کی بنیاد کسی ضعیف حدیث پر رکھی گئی ہے ، اس حقیقت سے بڑے بڑے علماء ومفتیان ناواقف ہونے کے باوجود اس سمجھ سے قاصر ہیں کہ فقہ اور اصولِ فقہ کے سارے مسائل اس منکر صورتحال کی پیداوار ہیں۔ جس میں قرآن اور سنت کے منافی عدت سے پہلے رجوع کا راستہ باہمی رضامندی سے بھی رک جاتا ہے اور عدت کی مدت کے بعد عورت دوسری جگہ شادی کرلے تب بھی کچھ طلاقوں کی منکر ملکیت باقی رہتی ہے۔