طلاق اور تین طلاق پرایک محققانہ تحریر

704
0

علماء ومفتیان نکاح وطلاق کے بارے میں عوام کو اسلامی تعلیم نہیں دیتے بلکہ ناک کی نکیل کی طرح عقیدتمندوں کوہاتھ میں رکھا ہے، کوئی شک نہیں کہ اسلام کی بقاء کیلئے علماء ومشائخ کی بڑی خدمات ہیں۔ وزیرستان کے لوگ بہت مہمان نواز ہوتے تھے، عام لوگوں کے مہمان خانے بھی نہیں تھے، مہمانوں کو گھر میں چولہے کے پاس بٹھادیتے تھے ۔ کسی سادہ میزبان نے دیکھا کہ مہمان کی شلوار پھٹی ہے تو اس نے کہا کہ ’’اگرچہ تم مہمان ہو لیکن اپنے فوتے کو چھپاؤ‘‘۔ اس کی اس سادگی کو اتنی مقبولیت حاصل ہوئی کہ اس کہاوت کو بہت سارے معاملات میں استعمال کیاجانے لگا۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ احترام اپنی جگہ پر لیکن اپنی حدود سے باہر نکلنا بھی قابلِ برداشت نہیں ہے۔ علماء ہمارے سروں کا تاج اور مشائخ ہمارے دلوں کا راج ہیں لیکن قرآن و سنت کے حدود میں ہی رہنا ہوگا۔
سورۂ بقرہ کی آیات224سے لیکر 232تک ، سورۂ طلاق کی پہلی دو آیات کی تفصیل دیکھ لی جائے تو طلاق و رجوع کی تمام حدود سمجھ میں آجائیں گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحت کردی کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے عورتوں کے بھی مردوں پر حقوق ہیں البتہ مردوں کوان پرایک درجہ حاصل ہے۔ بعض پاگل قسم کی خواتین اس آیت کی وجہ سے برگشتہ ہیں۔ حالانکہ یہ فضلیت مردوں کو مہنگی پڑتی ہے، طلاق میں عورت حق مہر اور دی ہوئی چیزوں کی مالک بنتی ہے۔ عدت کا انتظار بھی عورت کے اپنے ہی مفاد میں بھی ہوتا ہے۔
نکاح کے میثاق غلیظ یعنی پختہ عہد وپیمان کو طلاق مغلظ میں بدلا گیا اور اس کیلئے انواع واقسام کے فقہی مسائل اور احادیث گھڑنے سے بھی دریغ نہیں کیا گیا۔ مفتی عطاء اللہ نعیمی نے لکھا ۔تیسری حدیث: عن انس قال سمعت معاذ بن جبل یقول: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : یا معاذ ! من طلق لبدعۃ واحدۃ أو اثنین أو ثلاثاً الزمناہ ( دارالقطنی کتاب الطلاق )رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! جس نے ایک یا دو یا تین بدعی طلاق دیں ، ہم نے اسکی بدعت کو لازم کردیا‘‘۔ جتنی طلاق دے واقع ہونگی۔ چوتھی حدیث: نبیﷺ نے فرمایا أیما رجل طلق امرأتہ عند الاقراء أو ثلاثا مبہمۃ لم تحل لہ حتی تنکح غیرہ ( سن الکبریٰ ، کتاب الخلع والطلاق) یعنی جس شخص نے اپنی بیوی کو الگ الگ طہروں میں یا بیک وقت تین طلاقیں دیں تو وہ عورت اس کیلئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے‘‘ ۔( طلاق ثلاثہ کا شرعی حکم ۔ جمعیت اشاعت اہل سنت پاکستان ، نور مسجد کاغذی بازار کراچی )
نبیﷺ کی حدیث سے بدعت کی توثیق بجائے خودغلط ہے ، الفاظ کا انتخاب بھی ان احادیث کے من گھڑت ہونے کی دلیل ہیں۔ حنفی مکتبۂ فکر کے علماء قرآن کے مقابلے میں صحیح احادیث کو بھی ترک کردیتے ہیں، حنفی علماء کی معتبر تصانیف میں ان احادیث کو اسلئے جگہ نہیں مل سکی کہ ان پر اعتماد نہیں تھا ۔جب احادیث گھڑنے سے دریغ نہیں کیا گیا تو اور کیا کچھ نہیں ہوا ہوگا؟۔ طلاق سے رجوع کیلئے باہمی رضامندی سے آیات کو نظر انداز کیا گیا۔
شوہر اوربیوی کے حقوق واضح ہیں مگر عدت میں بھی بیوی کا حق نظر انداز کیا گیاہے جس کی وجہ سے امت اختلافات کے علاوہ خرفات کا بھی شکار ہوگئی۔ اگر صرف یہ خیال رکھا جاتا کہ خواتین کا بھی حق ہے تو کسی بھی غیر فطری اختلاف وتضاد کی گنجائش نہیں ہوتی۔ طلاق کا واقع ہونا کوئی بڑی بات نہیں البتہ رجوع کی گنجائش ختم کرنا بڑا مسئلہ ہے۔ حضرت عمرؓ نے بھی اسلئے ایک ساتھ تین طلاق کے واقع ہونے کا فتویٰ دیاتھا کہ اگر طلاق واقع نہ ہو توپھر عورت دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی۔ عورت کے حق کیلئے ضروری ہے کہ ایک طلاق ہو یا تین طلاق بہرحال عورت کی مرضی کے بغیر اس کو ناقابلِ رجوع قرار دیا جائے ، حضرت عمرؓ کا مؤقف درست اور قرآن کے مطابق تھا۔ البتہ جب باہمی رضامندی سے اللہ تعالیٰ نے عدت کے اندروباہر بار بار رجوع کی اجازت دی ہے تو نہ حضرت عمرؓ نے رجوع کا حق منسوخ کیا ہے اور نہ ائمہ نے باہمی رضامندی کے قرآنی حق کو منسوخ کیا ہے اور نہ کرسکتے تھے۔ اللہ نے طلاق کی جس صورت پر حلال نہ ہونے کی بات فرمائی ہے وہ ایک مخصوص صورت کیساتھ خاص ہے جس کو حلالہ کی لعنت والوں نے اپنی حدود سے نکال کر بہت پھیلا دیا ہے۔ مسلم امہ نے قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔تفصیل صفحہ نمبر 3پر