اسلام کا مسئلہ طلاق کردار سازی کا ذریعہ

626
0

عربی میں عورت کو چھوڑدینے یا علیحدہ کرنے کا نام طلاق ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اس طلاق نے ایسی مذہبی کیفیت اختیار کرلی تھی جس میں شوہر چاہتا تو بیوی کو زندگی بھر حق سے محروم کرکے رکھ لیتا۔ طلاق دے دیتا اور پھر عدت کے خاتمے سے پہلے رجوع کرلیتا اور یہ بھی صورتحال تھی کہ بیک وقت تین طلاق دیتا تو رجوع نہیں کرسکتا تھا۔ اللہ نے شوہر کے اختیاری ظلم و جبر کو بھی ختم کردیا اور اس کیفیت سے بھی نجات دلادی کہ میاں بیوی باہمی رضا مندی سے رجوع نہیں کرسکتے تھے۔ طلاق کے حوالے سے دنیا نیوز کے معروف صحافی کامران خان نے ڈاکٹر ذاکر نائک ، جاوید احمد غامدی اور مفتی محمد نعیم کو اپنا اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا۔ رمضان کا مہینہ آرہا ہے جس میں طلاق کے واقعات کی کثرت ہوتی ہے۔ اہل حدیث کے دار الافتاؤں میں سوالات کے انبار پڑے رہتے ہیں۔
طلاق کے حوالے سے قرآن میں سورہ طلاق کی پہلی دو آیات اور سورہ بقرہ کی 224 سے 232تک کسی بھی مسلک کے بڑے عالم دین کا صرف عوام ترجمہ ہی دیکھ لیں۔ ہمارا مؤقف کتاب ’’ابر رحمت‘‘ اور ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ میں بہت واضح ہے جس کی آج تک بڑے پیمانے پر بڑے بڑے علماء و مفتیان کی طرف سے بہت تائید ہوئی ہے مگر ان کی تردید کی جرأت آج تک کوئی نہیں کرسکا ہے۔ الحمد للہ کافی لوگوں کے مسائل بھی حل ہوئے ہیں اور امید ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء اور دنیا بھر کی تمام ریاستوں کی طرف سے اس کو بھرپور پذیرائی ملے گی۔ ہم یہاں پھر چند مغالطے ختم کرنا چاہتے ہیں۔
اسلام نے نکاح و طلاق کے معاشرتی تصورات کو کچھ اہم اصلاحات کیساتھ متعارف کرایا ہے، نکاح و طلاق کی سب سے زیادہ اہمیت نسب کی حفاظت اور جائز و ناجائز کا تصور ہے۔ نکاح و طلاق میں شوہر و بیوی کے حقوق کا مکمل تحفظ ہے۔ نکاح اور طلاق میں جاہلانہ رسم و رواج کا بالکل جڑ و بنیاد سے خاتمہ کیا گیا ہے مگر بد قسمتی سے اسلام اجنبی بن گیا ہے۔
ایک شوہر اپنی بیوی کو ایک طلاق دیتا ہے اور پھر عدت کے آخر میں بیوی کی رضا مندی کے بغیر رجوع کرلیتا ہے ، اسی طرح سے تین مرتبہ بیوی کو عدت گزارنے پر مجبور کرتا ہے تو کیا یہ حق اس کو شریعت نے دیا ہے؟۔ کم عقل علماء و مفتیان کہتے ہیں کہ اللہ نے ہی شوہر کو یہ حق دیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے شوہر کو ایک ہی عدت کا حق دیا ہے تین عدتوں کا نہیں۔ پھر اگر شوہر اپنی بیوی کو زندگی بھر طلاق نہیں دے تو بھی کم عقل علماء و مفتیان کہتے ہیں کہ یہ حق شوہر کو اللہ نے ہی دیا ہے۔ بیوی خلع لینا چاہتی ہو مگر شوہر طلاق نہ دے تو بھی یہ کم عقل طبقہ کہتا ہے کہ اللہ نے شوہر کو یہ حق دیا ہے۔ قرآن کی تعلیمات کو چھوڑنے کا سب سے بڑا ذمہ دار طبقہ یہ علماء و مفتیان ہیں جنکو عوام قرآن و سنت اور دین و شریعت کا محافظ سمجھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے قیامت کے دن اپنی اُمت کے خلاف شکایت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے جس سے علماء و مفتیان اندازہ لگاسکتے ہیں۔
و قال رسول ربی ان قومی اتخذوا ھٰذ القرآن مہجورا ’’اوررسول ﷺ فرمائیں گے کہ اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت 224میں یہ نکتہ واضح کیا کہ اللہ کو اپنی یمین کیلئے مت استعمال کرو ڈھال کے طور پرکہ تم نیکی نہ کرو گے ، تقویٰ اختیار نہیں کرو گے اور لوگوں کے درمیان مصالحت نہ کرو گے۔۔۔ عربی میں یمین کی جمع اَیمان ہے ۔ دائیں ہاتھ کو یمین کہا جاتا ہے اور جب کوئی عہد و پیمان کرتا ہے ، حلف اٹھاتا ہے ، کسی چیز کو حرام قرار دیتا ہے تو یہ سب کے سب یمین کی صورتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے وضاحت یہ کی کہ اللہ کو نیکی ،تقویٰ اور مصالحت نہ کرنے کیلئے عہد و پیمان میں ڈھال کے طور پر استعمال نہ کرو۔ یہ ایسی وضاحت ہے کہ جب بھی میاں بیوی آپس میں ملنے پر راضی ہوں تو کوئی یہ فتویٰ نہیں دے سکتا ہے کہ اللہ کی طرف سے منع ہے ، شریعت رکاوٹ ہے ، فقہ رکاوٹ ہے ، حدیث رکاوٹ ہے اور قرآن رکاوٹ ہے۔ کم عقل علماء و مفتیان کی ذہنیت پر اس آیت میں اللہ نے بینڈ (پابندی)لگادی۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ بیوی کو غصہ میں ماں کہہ دیا جاتا تھا ، حرام کہہ دیا جاتا تھا اور تین طلاق دی جاتی تھی ، نہ ملنے کی قسم کھالی جاتی تھی اور پھر پشیمانی کے بعد بھی مذہب کو آڑ بنا کر میاں بیوی ایکدوسرے کے قریب نہیں آسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سرخ لکیر ان تمام فتوؤں پر خط تنسیخ بنا کر کھینچ دی کہ اب اللہ کو ان معاملات میں ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چھوڑ دو۔ اللہ کو پتہ تھا کہ انسان بتوں کو بھی پوجتا ہے ، چاند، تارے اور سورج کا بھی پجاری بنتا ہے ، گائے کو بھی پوجتا ہے ، احبار و رہبان علماء و مشائخ کو بھی رب کے درجے پر فائز کردیتا ہے۔ ڈھیٹ انسان کیلئے ایک جملہ کافی نہیں تفصیل ضروری ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت 225 میں واضح کردیا کہ اللہ تمہیں لغو یمین سے نہیں پکڑتا بلکہ دل کے گناہوں سے پکڑتا ہے۔ پھر 226میں یہ بھی بتادیا کہ اگر کوئی اپنی بیوی سے نہ ملنے کی ٹھان لے تو اس کیلئے 4ماہ ہیں اور اگر مل گئے تو اللہ غفور رحیم ہے اور پھر آیت 227میں یہ بھی بتادیا کہ اگر پہلے سے طلاق کا عزم تھا تو اللہ سننے جاننے والا ہے۔ پھر آیت 228میں یہ بھی بتادیا کہ طلاق شدہ کیلئے انتظار کی مدت تین مراحل یا تین ماہ ہے اور اس مدت میں شوہر صلح کی شرط پر رجوع کے حقدار ہیں۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ اگر طلاق کا عزم تھا اور اس کا اظہار نہ کیا تو اللہ تعالیٰ دل کے اس گناہ پر ضرور پکڑے گا اسلئے کہ طلاق کے عزم کا اظہار نہ کرنے کی صورت میں عدت 3 کے بجائے 4 ماہ ہے اور یہ عورت کیساتھ زیادتی ہے۔ جب طلاق کے عزم کا اظہار نہ کرنیکی صورت میں عورت کی عدت ایک ماہ بڑھ جائے اور اس پر بھی اللہ کی طرف سے واضح طور پر پکڑکی وعید سنائی گئی ہو تو پھر شوہر کو زندگی بھر عورت کو رلانے کا حق اللہ کی طرف سے کیسے ہوسکتا ہے؟۔
عدت 4ماہ کی ہو یا 3ماہ کی لیکن اللہ تعالیٰ نے رجوع کیلئے بار بار عدت ہی کا حوالہ دیا ہے۔ عدت میں بھی رجوع کیلئے باہمی رضا مندی اور صلح کی شرط کو واضح کیا ہے۔ قارئین ! خود ہی قرآن کی آیات کا ترجمہ ہی دیکھ لیں۔ سورہ بقرہ کی آیت 228میں تین مراحل کی عدت اس صورت میں ہے جب عورت کو حیض آتا ہو اور اگر حیض نہ آتا ہو یا اس میں کوئی مسئلہ ہو تو پھر 3ماہ کی عدت ہے۔ 3طہر و حیض کا مجموعہ بھی 3ماہ بنتا ہے۔ اگر عورت کو حمل ہو تو پھر عدت کے 3مراحل میں 3مرتبہ طلاق کا کوئی تصور نہیں بنتا، 228میں یہ بھی واضح ہے کہ میاں بیوی کے حقوق بالکل برابر ہیں البتہ مردوں کو ایک درجہ زیادہ حاصل ہے۔ یہ بڑا درجہ ہے کہ شوہر طلاق دیتا ہے اور عورت انتظار کی عدت گزار تی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت 229میں یہ واضح کیا ہے کہ طلاق دو مرتبہ ہے ، پھر معروف طریقے سے رجوع یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ واضح فرمادیا کہ 3مرتبہ طلاق سے مراد حیض کی صورت میں طہر و حیض کے 3مراحل ہیں۔ بخاری کی کتاب التفسیر سورہ طلاق کے علاوہ کتاب الاحکام ، کتاب الطلاق اور کتاب العدت میں حضرت ابن عمرؓ کے حوالے سے اس وضاحت کا مختلف الفاظ کے ساتھ ذکر ہے۔ ایک صحابیؓ کے سوال کے جواب میں بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تسریح باحسان ہی تیسری طلاق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کردیا کہ اگر معروف طریقے سے رجوع کا پروگرام نہ ہو تو پھر طلاق کی صورت میں تمہارے لئے بیوی سے کچھ بھی لینا حلال نہیں جو بھی تم نے انکو دیا ہے، البتہ اگر دونوں اس بات پر متفق ہوں کہ اگر کوئی دی ہوئی چیز ایسی ہو جس کو واپس نہ کیا جائے تو دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے اور اگر فیصلہ کرنے والوں کو بھی یہ خوف ہو کہ اس چیز کو واپس کئے بغیر یہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو عورت کی طرف سے اس چیز کا فدیہ کرنے میں دونوں پر کوئی حرج نہیں۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرتا ہے تو بیشک وہی لوگ ظالم ہیں۔ پھر یہ تمہید مکمل کرنے کے بعد اللہ نے آیت 230میں واضح کیا کہ پھر اگر طلاق دیدی تو اس کیلئے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔ علماء و مفتیان اپنی کم عقلی کی وجہ سے قرآن کی ساری حدود کو پامال کرتے ہوئے یہ ایک جملہ پکڑ لیتے ہیں اور باقی آگے پیچھے سے کچھ دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ اسکے بعد آیت 231اور 232میں بھی عدت کے بعد رجوع کی گنجائش کو واضح کیا گیا ہے۔ دیوبندی بریلوی اصول فقہ کی متفقہ کتاب ’’نور الانوار: ملا جیونؒ ‘‘ میں بھی حنفی مؤقف کی وضاحت ہے کہ آیت 230میں اس طلاق کا تعلق 229میں فدیہ کی صورت سے ہے ۔ علامہ ابن قیم ؒ نے بھی ’’زاد المعاد‘‘ میں حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے تفسیر لکھ دی ہے کہ اس طلاق کا تعلق سیاق و سباق کے مطابق مرحلہ وار دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں فدیہ دینے کی صورت سے ہے۔ تفسیر کے امام علامہ جاراللہ زمحشریؒ کی بھی یہی رائے ہے۔ اور سب سے بڑھ کر قرآن کی سورہ طلاق میں بھی اسی مؤقف کی ہی زبردست تائید ہے۔ ابو داؤد شریف میں حضرت ابو رکانہؓ اور حضرت اُم رکانہؓ کے حوالے سے بھی سورہ طلاق کا حوالہ دیکر نبی کریم ﷺ نے اسی مؤقف کی تائید فرمائی ہے۔
سورہ بقرہ اور سورہ طلاق کی آیات اور احادیث میں یہ مؤقف بالکل واضح ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق طہر و حیض کے 3مراحل سے ہے۔ رجوع کا تعلق باہمی رضامندی اور عدت کی تکمیل کے حوالے سے ہے۔ عدت کی تکمیل سے پہلے عورت دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی اور عدت کی تکمیل کے بعد دوسری جگہ بھی شادی کرسکتی ہے اور پہلے سے بھی وہ رجوع کرسکتی ہے اللہ تعالیٰ کی آیات رجوع کیلئے معاون ، مددگار اور ترغیب کا ذریعہ ہیں۔ جن لوگوں نے قرآن و سنت کو باہمی رضامندی کی راہ میں رکاوٹ بنالیا ہے یہ ان کی اپنی کارستانی ہے۔ جس طرح سے صاحب ہدایہ ، فتاویٰ قاضی خان اور فتاویٰ شامیہ میں سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کی باتیں انتہائی گمراہ کن، کافرانہ اور مردودانہ ہیں اور اگر کوئی اس میں شک کرتا ہے تو پھر رمضان کی 27ویں شب میں تمام ٹی وی چینلوں کے سامنے ان گمراہ کن کتابوں کو لاکر ان کی تردید کی جائے یا ان کی تائید کیلئے سورہ فاتحہ کو توبہ نعوذ باللہ من ذٰلک پیشاب سے لکھنے ۔۔۔جس طرح سے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کی بات فقہ کی مستند کتابوں میں ہونے کے باوجود انتہائی غلط اور گمراہ کن ہے اسی طرح سے یہ بھی غلط ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف بیک وقت تین طلاق پر کسی عورت کی عزت لوٹنے کا فتویٰ دیا جائے۔ حضرت عمرؓ نے جھگڑے کی صورت میں شوہر سے طلاق کے بعد رجوع کا حق بالکل ٹھیک چھینا تھا۔ قرآن ایک طلاق کے بعد بھی صلح کے بغیر شوہر کو رجوع کا حق نہیں دیتا۔ ائمہ اربعہ نے ٹھیک فیصلہ کیا کہ طلاق واقع ہوجاتی ہے تاکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ شادی کرسکے۔ مگر باہمی رضامندی سے رجوع کا حق قرآن و سنت میں نہیں چھینا گیا تو کسی اور کو یہ حق کیسے ہے؟۔ ٹی وی پر کوئی بھی عالم و مفتی ہمار اچیلنج قبول کرلے۔