بہت ہی معذرت کے ساتھ چند گزارشات

289
0

بہت سے علماء کرام کے بیانات شائع نہ ہوسکے ، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ علماء کرام اور بیانات دینے والے حضرات کے خیالات کو ضرور شائع کریں۔ ہمارے قارئین ان کے افکار سے محروم رہ گئے ہیں ۔ ماہنامہ اخبار میں گنجائش بھی بہت کم ہوتی ہے لیکن ہماری اپنی بھی خواہش ہے کہ قارئین تک معتبر لوگوں کے تاثرات ، اعتراضات اور مختلف خیالات بھی پہنچ جائیں۔
پاکستان میں بڑے دینی مدارس، اعلیٰ عدالتیں ، ریاستی ادارے ، سیاسی و مذہبی جماعتیں .. سب ہی غریب عوام اور پسے ہوئے طبقات کے دکھ درد سے بیگانہ نظر آتے ہیں۔ مدارس کا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی غریب ، جاہل اور ان پڑھ اپنے گھریلو مسئلہ لے کر آتا ہے تو مفتی صاحبان کا فتویٰ گھر توڑنے ، پریشانی میں اضافہ اور حلالہ کا شکار کرنے کیلئے ہوتا ہے۔ کمزوروں کے ساتھ شروع سے یہ رسم چلی ہے۔ اعلیٰ عدالتی فیصلوں میں بڑوں کو ہی ریلیف ملنے کی روایت چلی ہے اور ظالم کے سامنے مظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے جس ماحول کی ضرورت ہے اس کا دنیا میں کوئی دور دور تک نشان منزل دکھائی نہیں دیتا۔ ظلم سے ڈوبی ہوئی یہ دنیا گلی محلے سے لیکر عالمی سطح تک جس نظام سے بندھی ہے وہ ظلمات بعضھا فوق بعض اندھیروں پر اندھیرے کے مانند ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طاقت کو کوئی نہیں پہنچ سکتا لیکن جب اللہ تعالیٰ کے کھلے احکام سے علماء کو انحراف کرنے میں عار محسوس نہ ہو اور ہماری ریاست انصاف نہ کرسکے تو اور کسی کی کیا غلطی۔