اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے حل پیش کردیا، مفتی محمد خالد حسن مجددی

444
0

ummat-bukhari-muslim-quran-mufti-muhammad-khalid-hassan-mujaddadi-syed-atiq-ur-rehman-gailani(2)

حنفیت کے زعماء کی خبر لی اور اپنے بیگانے کی تمیز نہیں رکھی، کسی کا تقدس آڑے نہیں آیا، اس انداز میں کھل کر بات کرنا آسان نہیں، اگر گویم مسلمانم بلدرم کہ دانم مشکلات لا الہ را
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ یہ بیباکی ، یہ جرأت کہ جبہ دستار ، سجہ و خرقہ ، مسند و ارشاد و افتاء ، یہ منصب و جاہ ، خیرہ نہ کرسکا ۔ اظہار حق اور خوب اظہار ۔ طلاق ثلاثہ پر خوب رونق بخشی
چودہ صدیوں کے مسئلہ کو پندرہویں صدی میں خوب اجاگر کیا۔ اس مسئلہ پر اچھی کاوش اچھی تحقیق ہے، ابن قیم ، ابن تیمیہ کو نئی تحقیق کیساتھ محققانہ انداز میں پیش کیا۔ فقہ کی اغلاط پر نظر ، سبحان اللہ ، کیا یہ اغلاط قابل عمل و فہم ہیں؟
نہیں بلکہ اسلام کی تضحیک کا باعث ہیں۔ سُود کی لعنت کو حلال کرنیکی جرأت خسر الدنیا و الاٰخرہ ہے۔ ہمارے مفت خور مفتی عقل و شعور سے عاری ، لکیر کے فقیر اُمت مسلمہ کو مشکلات میں ڈالنے والے ہیں حل نکالنے والے نہیں

آبروما زنام مصطفےٰ است ،ابو مسعود مفتی محمد خالد حسن مجددی قادری رفاعی ،چےئرمین تحریکِ تحفظ امن پاکستان ، امیر مجلسِ عمل تحفظ ختم نبوت صدر جمعیت المشائخ پاکستان پنجاب، راہنما جماعت اہلسنت پاکستان تحریر فرماتے ہیں:
محققِ دوراں راہِ نورد عرصۂ تحقیق صاحبِ فکر عمیق سید عتیق الرحمن گیلانی عتق الرحمن من بلاء الدنیا و عذاب الآخرۃ ادام اللہ العز والجاہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مزاج شریف احوال آنکہ آپ نے تحقیق کا حق ادا کردیا ہے۔ سیدنا آدم علیہ السلام سے لیکر ، ایندم اغلاط ونقائص کی نشاندہی کی۔ اصحابِ بدر و احد سے لیکر آئمہ تک جوچوک کسی سے ہوئی برملا اس کا بیان کردیا۔ائمہ اربعہ کی تقلید اور اس کے نقائص سامنے رکھے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے حل پیش کردیا۔
ابر رحمت میں یکدم ابر رحمت اُمت مسلمہ پر برسنے کا نسخہ درج کیا۔ حنفیت کے زعما کی خبر لی۔ اس میں اپنے بیگانے کی تمیز نہیں رکھی۔ کسی کا تقدس آڑے نہیں آیا۔ اس انداز میں کھل بات کرنا آسان نہیں اگر گویم مسلمانم بلدرم کہ دانم مشکلات لا الہ را
اگرچہ بت ہیں جماعت کے آستینوں میں
مجھے ہے حکم آذاں لاالہ الا اللہ
یہ بے باکی، یہ جرأت، کہ جبہ ودستار ، سجہ وخرقہ ، مسند ارشاد وافتاء ، یہ منصب و جاہ ، خیرہ نہ کرسکا۔ اظہار اور خوب اظہار ، طلاق ثلاثہ پر رونق بخشی، چودہ صدیوں کے مسئلہ کو پندر ھویں صدی میں خوب اجاگر کیا۔ اس مسئلہ پر اچھی کاوش ہے، اچھی تحقیق ہے۔ ابن قیم اور ابن تیمیہ کو نئی تحقیق کے ساتھ محققانہ انداز میں پیش کیا۔ فقہ کی اغلاط پر نظر، سبحان اللہ کیایہ اغلاط قابلِ عمل وفہم ہیں؟۔ نہیں بلکہ اسلام کی تضحیک کا باعث ہیں۔ سود کی لعنت کو حلال کرنے کی جرأت خسرالدنیا والآخرہ ہے ۔ ہمارے مفت خور مفتی عقل و شعور سے عاری لکیر کے فقیرامت مسلمہ کو مشکلات میں ڈالنے والے ہیں۔ مشکلات کا حل نکالنے والے نہیں ہیں۔ جدید مسائل پر توجہ دی جائے۔ حلالہ جس انداز میں آپ نے اس کی تصویر کھینچی، ہمارے وہم وگمان میں بھی نہ تھی۔ مدارس نوردی ہم نے بھی کی، اپنے مدارس میں یہ عیاشی کا ساماں کہیں نظر نہیں آیا۔ یہ تحقیق ، تحقیق کاحق ہے۔ اس پر توجہ کرنی چاہیے۔
الحکمۃ ضالۃ مؤمن نظروں سے اوجھل گمشدہ متاع حاصل ہو تو کیا کہنا۔
ملک کا سوادِ اعظم حنفی ہے مگر متعدد حصوں میں بٹا ہوا ہے۔دیوبندی، بریلوی ۔ پھر ان کی شاخیں۔ کوئی اکٹھا کرنے والا مجھے نہیں معلوم کہ یہ نوشتۂ دیوار کیسے جاری ہوا، جس نے بھی مہربانی کی ، مجھ پر بڑا احسان کیا۔ اس گئے گزرے دور میں اس بے باکی سے بلا خوف لومۃ لائم لکھنا بہت بڑی بات ہے۔سید صاحب آپ کو سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔ آپکے تمام رفقاء کار کو سلام۔
signature-Khalid-hassan2
مہتمم جامعہ فاطمہ الز ہراجامعہ مسجد نقشبندیہ و عید گا ہ مین بازار کھوکھر کی سیالکوٹ روڈ گوجرانوالہ۔