فرقہ واریت کا خاتمہ ایک بنیادی ضرورت. عتیق گیلانی

1066
0

شیعہ سنی، بریلوی دیوبندی اور حنفی اہلحدیث مسلکوں اور فرقوں کی اصلاح موجودہ دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ کلیہ بہت پرانا اور ناکام ہوچکا ہے کہ ’’اپنا مسلک چھوڑونہیں اور دوسروں کا چھیڑو نہیں‘‘۔ شیعہ فرقے کی بنیاد اسلام سے صحابہؓ کی محبت نہیں بغاوت پر ہے تو وہ کیسے اپنے مسلک پر قائم رہ کر اہلسنت کی دل آزاری سے باز آسکتے ہیں؟۔ دیوبندی خودکو توحیدی ،بریلوی کو مشرک سمجھتے ہیں اور بریلوی خود کو محبان رسول اور دیوبندی کو گستاخ سمجھتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ ان کی نفرت پیار میں بدل جائے۔ اہلحدیث کے نزدیک حنفی مسلک والے احادیث سے منحرف اور حنفیوں کے نزدیک وہ تقلید ہی نہیں قرآن سے بھی منحرف ہیں تو کیسے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونگے؟۔
پاکستان کے بریلوی، دیوبندی ،شیعہ اور اہلحدیث کے جنرل ہیڈ کواٹرز اپنے پڑوسی دشمن ملک بھارت میں ہیں۔جب یہ سب ہندودیش میں ہندؤں کیساتھ گزارہ کرسکتے ہیں تو یہاں ان کی دُموں کو مروڑ کر کون لڑاتاہے؟۔ کیا یہ ہماری ریاست کی بہت بڑی کمزوری نہیں کہ جو لوگ دوسرے ممالک میں تو بہت سکون سے رہتے ہیں مگریہاں ایکدوسرے کیخلاف شر پھیلارہے ہیں؟، یہ سوالات بھی کھڑے کئے گئے مگر ان سوالات سے بھی حل نکلنے والا نہیں ہے۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری پر عوام کا ایک طرح سے اعتماد ہے مگرفرقہ واریت کے خلاف انکے اشعار نے بھی فرقہ بندی سے روکنے میں کردار ادا نہیں کیاہے۔
فرقہ واریت کا اصل مسئلہ حل کرنے میں عقیدے ، نظریے اور مسلک کے اختلافات کو احسن انداز میں پیش کرناہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وجادلہم بالتی ھی احسن ’’اور ان سے لڑو،اس طریقہ سے جو بہترین راستہ ہے‘‘۔ اس انداز تکلم سے فرقہ واریت کا نہ صرف خاتمہ ہوسکتا ہے بلکہ قرآن نے ایک دوسری جگہ یہ نشاندہی بھی کردی ہے کہ ’’ برائی کا بدلہ اچھائی کے انداز میں دو ،تو ہوسکتاہے کہ صورتحال ایسی بدل جائے کہ گویا وہ دشمن تمہارا گرم جوش دوست بن جائے‘‘۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے قائد مولانا اعظم طارق کو شہید کرنے والے محرم علی کی قبر پر جیونیوز کے طلعت حسین نے شیعہ رہنما علامہ امین شہیدی کی عقیدت بھری تصویر دکھائی اور علامہ شہیدی سے سوالات بھی کرلئے مگر مسئلے کا حل نہیں نکلا۔ فرقہ واریت کے حوالہ سے سخت زبان استعمال کرنے والوں پر پابندیاں لگ گئیں، ن لیگ اور سابقہ ق لیگ کے شیخ وقاص کے مقابلہ میں پھر بھی اہلسنت کے حمایت یافتہ مولانا جھنگوی جیت گئے۔ مولانا مسرور جھنگوی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ہے جس میں کلمہ کی طرح سپاہ صحابہ میں شامل ہونے کیلئے ’’کافر کافر شیعہ کافر ‘‘ ضروری ہے۔ سعودیہ نے یہ نعرہ قانونی طور پر اپنے ملک میں رائج نہیں کیا ، قادیانیوں کو بھی پہلے کافر نہیں کہا جاتا تھا۔ پارہ چنار کے ایک سنی نے کہا کہ اگر سنی حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے ماننے سے انکار کریں تو شیعہ علیؓ کو بھی کافر کہیں گے، یہ ایرانی مجوسی ہیں۔ہمارا کام اتحاد و اتفاق اور وحدت ہے اور کبھی موقع ملے گا تو کمیونسٹ ذہنیت کے اہل تشیع کی الجھی ہوئی ذہنیت کو ٹھیک کرینگے جو ایران کے بادشاہ مزدک سے نبی علیہ السلام ، اہلبیت اور حضرت ابو ذر غفاریؓ کو جوڑتے ہیں۔ تشدد و پابندی مسئلے کا حل نہیں ، صحابہ کرامؓ کا ذکر قرآن میں ہے اور قرآن سے نا واقفیت ہے۔ سیدعتیق گیلانی