1: جان کے بدلے جان اورناک، کان، دانت…..

668
0

عالمی اسلامی جمہوری منشور کے اہم نکات
1: جان کے بدلے جان اورناک، کان، دانت…..
اللہ نے فرمایا: یاایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلیٰ،الحر بالحر والعبد بالعبد والانثیٰ بالانثیٰ ،فمن عفی لہ من اخیہ شئی فاتباع بالمعروف وادا ء الیہ باحسان، ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ فمن اعتدیٰ بعد ذلک فلہ عذاب الیم O و لکم فی القصاص حیاۃ ےٰأولی الاباب لعلکم تتقون O اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا بدلہ ہے آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام ، عورت کے بدلے عورت، پس جس کو اپنے بھائی کی طرف سے کوئی چیز معاف کردی جائے۔ تو معروف کااتباع کرنا ہے اور اس کی طرف دیت احسن طریقہ سے ادا کرنا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے۔ اسکے بعد جو حد سے تجاوز کرے تو اس کیلئے دردناک عذاب ہے ۔ اور تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ،اے عقل رکھنے والو!، شاید تم تقویٰ اختیار کرلو۔( البقرہ: آیت178,9) دور جاہلیت میں طاقتور اور کمزور کے درمیان مقتول کے بدلے حد سے تجاوز تھا اسلئے آزاد، غلام اور خواتین کا بدلہ اپنی حدود میں محدود کردیا گیا۔ آزاد قبائل میں طالبان کی آمد سے پہلے امن تھا۔ اسلحہ کی بھرمار میں جھگڑا ہوتا مگر قتل سے گریز ہوتا اور وجہ قصاص کا قانون تھا۔ طاقتور کمزور کو اسلئے نہ مارسکتا تھا کہ پولیس، عدالت اور غلامی کیلئے بننے والے قوانین کے نقاب میں چھپ سکے۔ پھرطالبان نے بد امنی کی انتہاء کردی اور اب پاک فوج نے مثالی امن قائم کررکھا ہے۔
قرآن کے اندرجان میں تفریق نہیں۔ تورات کے حوالہ سے اللہ نے فرمایا کہ ’’ہم نے ان پر لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان،آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان،دانت کے بدلے دانت اور زخموں کا بدلہ قصاص (برابر) ہے۔ جو اللہ کے نازل کردہ احکام پر فیصلہ نہیں دیتے تو وہی لوگ ظالم ہیں‘‘۔(المائدہ:45)
ہمارا آئین پابند ہے کہ قرآن وسنت سے متصادم قانون نہ بنے ،قرآنی آیات کے مطابق قانون بنے۔ طاقتور اور کمزور میں تمیز کئے بغیر قاتل کو قتل کیا جائے، ناک اور کان کاٹنے والوں کے ناک کان کاٹے جائیں ، آنکھ پھوڑنے والے کی آنکھ پھوڑی جائے، دانت توڑنے والے کا دانت توڑا جائے ،ٹانگ پر گولی مارنے والے کی ٹانگ پر گولی ماری جائے، ڈنڈے سے سر توڑنے والے کا ڈنڈے سے سر توڑا جائے، پیٹ میں چھرا گھونپ دینے پر چھرا گھونپ دیا جائے تو سب بدمعاشوں کو راستے پر آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ناک کاٹنے پر جیل کی سزا سے جرم نہ رُکے گا۔ جیل جانیوالا قید پر فخر کریگا لیکن جب بدلے میں ناک کاٹی جائے تو مجرم چلتا پھرتا عبرت کا نشان بن جائیگا اور جرم بالکل رُک جائیگا۔
سب انسانی جان برابر ہیں۔ یہودنے یہ حکم بدل ڈالا اورغیریہود کے بدلے یہودی کے قتل کو نکال دیا، یہی جمہور مالکی، شافعی ، حنبلی نے کہا کہ مسلمان کو غیر مسلم کے بدلے میں قتل نہ کیا جائیگامگر امام ابوحنیفہؒ نے قرآن کے واضح حکم میں تحریف کو ناکام بنادیا۔ رسول اللہﷺ نے ریاستِ مدینہ میں یہود کیساتھ میثاق مدینہ کا آئین بنایا۔ تب بھی یہی قانون مساوات کی بنیاد تھا۔ طاقتور کمزور کو حیثیت نہیں دیتا لیکن ریاست کا کام ہے کہ کمزور کا بدلہ طاقتور سے لے ۔ صحابیؓ کے بیٹے نے دوسرے صحابیؓ کے بیٹے کا دانت توڑ دیا۔ صحابیؓ نے کہا کہ ’’اللہ کی قسم! میں بیٹے کے دانت کو اسکے دانت کے بدلے توڑنے نہ دونگا۔ نبیﷺ نے قرآن کے مطابق اسکے بیٹے کا دانت توڑنا تھا۔ مگر دوسرے صحابیؓ نے خود ہی معاف کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بعض لوگ اللہ کے نزدیک اتنے پسندیدہ ہوتے ہیں کہ اگر وہ قسم کھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا کرلیتاہے۔(بخاری)
یہ انسانی فطرت ہے کہ آخری حد تک اپنی ذات اور اقرباء کو بچائے مگر حکومت کا فرض بنتاہے کہ وہ مساوات قائم کرے۔ صحابیؓ نے انسانی جبلت کے مطابق سزا سے مقدور بھر بچنے کی کوشش کی ۔ اس وجہ سے صحابیؓ پر طعن کرنا غلط ہے۔فتح مکہ کے موقع پر مشرک کیساتھ نکاح میں رہنے پر حضرت علیؓ نے بہن کو مجرم سمجھا جس نے مؤمن ہوکرمشرک سے لاتعلقی اور ہجرت کا فرض پورا نہ کیا مگرقتل اسکاشوہر کرناچاہا،اس وجہ سے حضرت علیؓ پر طعن کرنا غلط ہوگا۔ قصاص سے انکار کے باوجود نبیﷺ نے اس صحابیؓ کو اس قدر مقدس قرار دیا کہ اس کی ناجائز قسم کو بھی اللہ کے ہاں مقبولیت کا درجہ دیا؟۔ حالانکہ یہ تعجب کی بات نہیں!۔ دانت توڑنے سے بڑا جرم قتل ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قومی عصبیت میں غلطی سے ایک شخص کو قتل کیا ،پھر پتہ چلا کہ اپنی قوم کا فرد ہی غلط ہے یہ تو قرآن کا قصہ ہے۔ ’’آگ لینے گئے اور پیغمبری مل گئی‘‘ بلکہ قتل کرکے گئے اور پیغمبری مل گئی۔ قافلہ لینے گئے اور بدری جہاد کی فضیلت مل گئی۔ ہوسکتاہے کہ یہود کے علماء نے اسی واقعہ کی وجہ سے اللہ کے قانون کو بدل ڈالا ہو کہ یہودی کو غیر یہودی کے بدلے قتل نہیں کیا جائیگا۔ اسلامی ریاست کا فرض ہے کہ مجرم کومعصومیت کے لبادے میں معاف نہ کرے بلکہ قتل کے بدلے قتل، اعضاء کے بدلے اعضاء اور زخموں کے بدلے قصاص کا یکساں اور برابری کا قانون نافذ کردے۔
قرآن و احادیث کے واقعات کا پسِ منظر سمجھنے کی ضرورت ہے اور کسی واقعہ کے مخصوص پسِ منظر کو چھوڑ کر عمومی قوانین سے انحراف کرنا بہت بڑی گمراہی ہے۔ فرعون کو بھی مولانا طارق جمیل نے عادل کہا ، حالانکہ ہزاروں بچوں کو اقتدار کی خاطر قتل کرنیوالا عادل نہیں ہوسکتا۔ حضرت موسی ؑ سے غلطی کی بنیاد پر اس شخص کا قتل ہونا اس پسِ منظر میں انوکھی بات نہ تھی۔ اگرایک عادلانہ نظام ہوتا تو حضرت موسیٰ کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا۔ لواحقین دیت لیکر معاف کردیتے۔ ہزاروں بے انصافیوں کے سامنے یہ چھوٹی بات ہرگز التفات کے لائق نہ تھی مگر اللہ نے پھر بھی اس کو فروگزاشت نہیں کیا ۔فرمایاکہ ’’اے موسیٰ ڈرو مت، بیشک ہمارے مقرر ہونیوالے رسول نہیں ڈرتے مگر جس نے ظلم کیا ‘‘۔ عدل وانصاف میں جان کے بدلے جان ، اعضاء کے بدلے اعضاء اور زخموں کا بدلہ صرف اسلامی ممالک نہیں بلکہ دنیا بھر کی ضرورت ہے۔امریکہ اوریورپ میں پھر سفیدفام دہشت گردوں کا فتنہ سیاہ فام اور مسلمانوں کیخلاف اٹھ کھڑا ہے۔ درندے اور گزندے نما انسان کا تعلق جہاں سے ہو، حکمران طبقے سے ہو یا عوام سے، کسی رنگ ونسل کی بنیاد پر ہو یا مذہب و ریاست کی بنیاد پر قاتل کو قتل کی سزا دی جائے تو روئے زمین پر امن قائم ہوگا۔ کوئی پُرامن اور سلیم الفطرت انسان اللہ کے قانونِ فطرت کا انکار نہیں کرسکتا جو اللہ نے تورات کے حوالہ سے قرآن میں لکھ دیاہے۔ اچھے اچھے بھی خود کو قانون کے حوالہ نہیں کرتے مگر قیام امن کا راستہ یہی ہے۔ یہود، نصاریٰ، مسلمان اور تمام مذاہب اور لادین طبقات اس پر متفق ہوکر بہتر ین ریاست وجود میں لاسکتے ہیں۔ یہی وہ خلافت ہوگی جس سے زمین وآسمان والے دونوں کے دونوں خوش ہوں گے۔جس کا ذکر قرآن کی آیات اور احادیث میں واضح طور سے موجود ہے۔
قتل کے بدلے قتل نہ ہو بلکہ قاتل تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی ، جماعت اسلامی، جہادی تنظیموں اور کسی بھی لبادے میں منہ چھپائے تو دنیا میں عدل کا نظام قائم نہیں ہوسکتا۔ حدیث کی روایت میں 100افراد کو قتل کرنیوالے کے بارے میں معافی کی بات درست اسلئے ہے کہ وہ معافی کیلئے ہرقیمت چکانے پر تیار تھا۔ اگر عدل وانصاف کا نظام ہوتا اور اقرارِ جرم پر اس کو قتل کردیا جاتا تو اس کی توبہ قبول ہونے میں فرشتوں میں جھگڑا اور اللہ کیلئے زمین کی پیمائش بدلنے کی ضرورت نہ تھی اور نہ مزید قتل کی نوبت نہ آتی۔اگرمذہبی جماعتیں بھی نہ صرف قاتلوں اور دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہوں بلکہ وہ کھلم کھلا دہشتگردوں کو ہم عقیدہ ،ہم مسلک اور ہم مشرب سمجھ کر انکو سپورٹ کرتے ہوں، ریاستی ادارے ان پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے انکی حفاظت پر مأمور ہوں، مولانا طارق جمیل تبلیغی جماعت کے رہنما کایہ زورِ خطابت فون کی گھنٹیوں پر نشرہو کہ ’’زنا کو گناہ سمجھتے ہیں، نماز کا چھوڑ دینا زنا سے بڑا جرم ہے۔رشوت کھانے کو گناہ سمجھتے ہیں، نماز کا چھوڑدینا رشوت سے بڑا جرم ہے۔ قتل کرنے کو بڑا گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم ہے‘‘۔ کہاوت ہے کہ ’’کتیا چوروں سے مل گئی ،پہرہ دیوے کون‘‘۔ریاست بھی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔
مولانا مودودی نے لکھا کہ استطاعت کے باوجود حج نہ کرنیوالا مرتد ہے اور وجہ یہ ہے کہ حدیث ہے کہ’’ جو حج کی استطاعت رکھتا ہو اور حج نہ کرے تو اس کی مرضی ہے کہ عیسائی بن کر مرے یا یہودی بن کر‘‘۔ علماء نے کہا کہ فقہ کی کتابوں میں حج نہ کرنیوالے کو فاسق اور حج کے منکر کو کافر کہاگیا۔ مولانا مودودی ؒ نے کہا کہ فقہ کے مقابلے میں حدیث کو مانتا ہوں جب مرتد کوواجب القتل قرار دیا جائے توکئی واجب القتل ہونگے۔ حالانکہ قرآن میں متعدد بار کفر اور اسلام قبول کرنے کی تکرار پر بھی قتل کا حکم نہ دیا گیا۔ احادیث میں بڑوں کی توقیر نہ کرنے والے، چھوٹوں پر رحم نہ کھانے والے کے بارے میں بھی کہا گیا کہ وہ ہم میں سے نہیں۔ ملاوٹ کرنیوالے وغیرہ کیلئے بھی یہی الفاظ ہیں،آپس میں لڑنے پر بھی کفر کا فتویٰ ہے لیکن قرآن میں لڑنے کے باوجود نہ صرف مؤمن قرار دیا گیاہے بلکہ صلح کا بھی حکم ہے۔ فقہ میں بے نمازی کی سزا پر قتل سے لیکر زدو کوب اور قید تک مختلف سزائیں مقررہیں۔
فقہ سمجھ کا نام ہے فضول بکواس دیکھنے اور اس کا رٹا لگانے کا نہیں۔ صحابہؓ کی عظمت پر لڑنا جھگڑنا مسائل کا حل نہیں بلکہ ان اسلامی احکام کو زندہ کرنا مسائل کا حل ہے جن پر عمل کرکے صحابہ کرامؓ اسلام کی عظمت رفتہ کے تابندہ ستارے بن گئے۔ حضرت علیؓ اور حضرت عائشہؓ کا اختلاف جن غلط فہمیوں کا نتیجہ تھا اور حق وناحق کا فیصلہ بھی روشن دلائل سے ہوسکتاہے لیکن شیعہ سنی کا وہ کاروباری مذہبی طبقہ کون راستے پر لائیگا جنکے بچے تعصبات کی آگ بھڑکانے سے پل رہے ہیں۔حضرت عائشہؓ پر بہتان لگا تو مصیبت میں کس نے ساتھ دیا؟ لیکن اللہ نے وحی کے ذریعے بری کرنے کا اعلان فرمایا، حضرت عثمانؓ کی شہادت کی افواہ پر قرآن میں تحت الشجرہ بیعت الرضوان میں حضرت علیؓبھی تھے۔ آخری ایام میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ پچھتائے کہ’’ غیرجانبداری کا فیصلہ غلط تھا، مجھے حضرت علیؓ کا ساتھ دینا چاہیے تھا‘‘۔