ایم کیوایم کا جن بوتل میں یا سرکٹی لاش بن گئی ہے؟:فیروز چھیپا

458
0

مہاجر نے کراچی سے ہمیشہ غریبوں کو اسمبلیوں میں بھیجا ایم کیو ایم پاکستان ، لندن اور PSP چلے کارتوس ہیں

نوشتۂ دیوار کے مہتمم فیروز چھیپا نے کہاہے کہ کراچی میں امن وامان کی بحالی کیساتھ ایک ایسی فضاء قائم ہوئی ہے جہاں امیدومایوسی کا اظہار ہورہاہے۔ پاکستان کے طول وعرض کو دیکھا جائے تو ایسی قیادت نہیں جو کراچی کو اس فضاء سے نکالنے میں کامیاب دکھائی دے ۔ بکھری ایم کیوایم کے رہنماؤں کو حوصلہ کرنا چاہیے، چلے کارتوس کے خول ہیں، تاہم مہاجر زندہ دل ہیں۔ مہاجرقوم میں بے پناہ صفات ہیں۔ کراچی سے ہمیشہ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ قومی و صوبائی اسمبلی میں گئے ہیں۔ جب بھی کوئی قومی سطح کی تحریک چلی ہے ،ہمیشہ کراچی کے زندہ دل لوگوں نے اس میں بہت بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ مصطفی کمال کی پارٹی ہو یا ایم کیوایم پاکستان و ایم کیوایم لندن یہ پارٹیاں بہت پہلے بن کر اپنے منطقی انجام تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔ جب کسی قوم میں نبی کریم ﷺ کی عظیم شخصیت بھی موجود تھی تو اللہ تعالیٰ صحابہ کرامؓ سے مشاورت کے باوجود بھی وحی کے ذریعے سے رہنمائی فرماتا تھا۔ کراچی میں ایم کیوایم لندن کے وہ کارکن جنہوں نے براہِ راست اپنے قائدالطاف حسین کے شب وروز اور معمولاتِ زندگی کو کافی عرصہ سے دیکھا نہیں ہے ان کا جذباتی لگاؤ فطری طور پر بہت زیادہ ہوگا۔ ان کے برعکس جن کا ملنا جلنا رہتا تھا وہ اتنا جذباتی لگاؤ نہیں رکھتے تھے۔ زیادہ تر مہاجروں کی مثال پیرکے مریدوں یا فوجی سپہ سالار کے سپاہیوں کی ہوتی ہے۔ وہ جزا وسزا کے خوف سے زیادہ حکم کی پاسداری کرنا ہی جانتے ہیں اور کسی قوم کیلئے اس وقت یہ بڑی کامیابی کی ضمانت ہے جب اس کی قیادت محفوظ ہاتھوں میں ہو۔جرمن قوم کی قیادت ہٹلر کے ہاتھوں میں تھی اور قوم کا اس پر بے پناہ اعتماد تھا، اکثر اوقات رہنماؤں کے مقابلے میں یہ حقیقت سامنے آتی تھی کہ ہٹلر ہی کی بات ٹھیک ہوتی تھی۔ جب ہٹلر نے آخر میں سب کیساتھ قوم کو لڑایا تب بھی ان کو ہٹلر کی بات کے درست ہونے کا یقین تھا لیکن عظیم قوم جرمن کا بیڑہ غرق ہوا، تو پتہ چلا کہ ہٹلر کا دماغ ہی چل گیا تھا۔ الطاف حسین عظیم انسان ہوسکتے ہیں لیکن پیغمبر تو نہیں ہیں؟۔
کراچی میں الطاف حسین کی قیادت ماننے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے اور قائد خود بھی اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر ہی ایمان رکھتے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بناہے اور مہاجرقوم نے اسلام کی وجہ سے ہی بھارت سے پاکستان ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تربیت کا جو معیار قرآن وسنت کے ذریعے دنیا کے سامنے متعارف کرایا ہے ، وہ صرف کلمہ پڑھ لینے کا نام نہ تھابلکہ اللہ اور اسکے رسولﷺ کی اطاعت اور فرمان برداری کانام اسلام ہے۔ قرآن میں روزہ رکھنے کیلئے طلوع فجر سے رات تک کا واضح حکم ہے ۔ اگر مسلم اُمہ کی فوجی یا مریدی کی تربیت ہوتی تو جہاں سورج چھ ماہ تک غروب نہیں ہوتا،وہاں روزہ رکھنے سے مسلمان مرجاتے لیکن اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ مؤمن وہ ہیں ’’ جو اللہ کی آیات پر بھی بہرے اور اندھے ہوکر نہیں گرپڑتے ہیں‘‘۔ یہ بھی سورۂ مجادلہ میں ہے کہ اللہ نے عورت کا نبیﷺ سے جھگڑا سن لیا اور پھر اسی کے حق میں فیصلہ بھی دیدیا ۔غزوہ بدر کے موقع پر فدیہ لینے پر اکثریت کی مشاورت کے باوجود جب نبیﷺ نے فیصلہ کیا تو اللہ نے نامناسب قرار دیا اور حضرت عمر فاروقؓ کے مشورے کی توثیق کردی۔ عمر فاروقؓ نے حدیث قرطاس کے مسئلے میں رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ’’ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے‘‘۔ تو مسلمانوں نے قرآنی تعلیم وتربیت کے نتیجے میں اس اختلاف کو گستاخی سمجھ کر قتل یا بغاوت کا فتویٰ جاری نہیں کیا۔ الطاف حسین نے بار بار قیادت سے دست برداری کے اعلانات کرکے یہ تربیت کردی تھی کہ مائنس ون فارمولے پر عمل ہوجائے تو ایم کیوایم کے رہنما اور کارکن مایوس نہ ہوں۔ ریاست کی یہ پالیسی بہت اچھی ہے کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہی بلاامتیاز کاروائی کا کہہ رہی ہیں۔ ایم کیوایم حقیقی کو پہلے میدان میں اتارا گیا، پھر بیت الحمزہ کو ملیامیٹ کردیا گیا تھا۔ اب ایم کیوایم کے دفاتر مسمار کردئیے گئے لیکن مسئلہ کا حل ریاستی جبر نہیں بلکہ سیاسی قیادت ہے۔
ریاست کی رٹ صرف کراچی نہیں بلکہ سب سے پہلے سوات میں بحال کی گئی تھی۔ پھر جہاں جہاں خیبرپختونخواہ اور بلوچستان میں ریاست کی رٹ نہیں رہی تھی وہ بحال کی گئی۔ کراچی میں بھی ایم کیوایم کے سیکٹر انچارج فیصلے کرتے تھے۔ اگر کراچی کی ایم کیوایم اور طالبان سے عوام بھی بہت خوش ہوتی تو ریاست کو مداخلت کی ضرورت نہ پڑتی۔ گورنر سندھ سعیدالزمان صدیقی نے موجودہ عدالتی سسٹم سے بچنے کیلئے عوام میں اپنا ایک فورم متعارف کرایا تھا جو اپنی مدد آپ کے تحت جلد اور سستا انصاف فراہم کرنے کے فلسفے پر بنایا گیا تھا۔ جب ایم کیوایم کے مقابلہ میں پیپلزامن کمیٹی کا وجود عمل میں لایا گیا، طالبان گروپ بھی کراچی میں بھرپور طریقے سے متحرک تھے، دوسری مذہبی و سیاسی جماعتوں کے حوالہ سے بھی عدالت نے فیصلہ دیدیا تو ریاست کو سب کیخلاف حصہ بقدر جثہ کاروائی کرنی پڑگئی۔ اب بھی ایم کیوایم ختم نہیں ہوئی ہے اور الطاف حسین کی مقبولیت میں بھی کمی نہیں آئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے ہمارے ساتھیوں کو22اگست سے پہلے کہا تھا کہ ’’ جنرل احسان الحق(ر+آئی ایس آئی چیف) کو الطاف بھائی کے پاس بھیجا جائے تو معاملہ ٹھیک ہوجائیگا اور اگرچہ اب اس تجویز پر عمل کرنے سے فائدہ ہوتاہے یا نہیں لیکن الطاف حسین کی قیادت کے بغیر یہ نہ سمجھا جائے کہ ایم کیوایم کا جن بوتل میں بند کیا گیاہے۔ اگر اس سر کٹی لاش نے بھوت بن کر کاروائیاں شروع کردیں تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔الطاف بھائی کو چاہیے کہ اگر ایم کیوایم پاکستان کی موجودہ قیادت پر ہی اپنے اعتماد کا بھرپور اظہار کردیں تو مہاجر قوم مشکل سے نکل سکتی ہے۔ مہاجر قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے اس نظام کی تبدیلی بڑی ضروری ہے جسکی وجہ سے ایم کیوایم بن گئی تھی۔ ایم کیوایم نہیں تو دوسرے کون سے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں؟۔