داعش کے پیچھے مغرب یا نظریہ خلافت؟ عتیق گیلانی

618
0

کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں الماوردی کی کتاب’’ الاحکام السلطانیہ‘‘ کا تذکرہ ہے، علماء کا طبقہ اس کتاب کے نام اور احکام سے بالکل بے خبر ہے۔ ہزارسال سے زیادہ عرصہ پہلے لکھی گئی یہ واحد کتاب تھی جو اس موضوع پر معروف و مشہور ہے۔ اس کتاب میں مسلم اُمہ کا اجتماعی فریضہ لکھا گیاہے کہ ’’ ایک خلیفہ مقرر کرنا ضروری ہے‘‘۔ یہ بھی واضح کیا گیاہے کہ ’’ ایک ، دو یا چند افراد کے پہل کرنے سے خلیفہ مقرر ہوجائیگا اور پھر تمام مسلمانوں پر اس کی اطاعت فرض ہے‘‘۔ کتاب میں خلیفہ کے شرائط و صفات کا بھی ذکرہے۔ جن میں قریشی ہونا اور اعضاء کی سلامتی شامل ہے۔ جیو کے پروگرام جرگہ میں سلیم صافی سے داعش کے امور پر مہارت رکھنے والے نے بتایا کہ ’’ داعش نے ملاعمر کے امیر المؤمنین بننے کو اسلئے مسترد کیا کہ وہ قریشی نہ تھے اور آنکھ سلامت نہ تھی‘‘۔
جس طرح کسی ملک میں بادشاہ یا وزیراعظم کی تقرری کے بعد عام باشندوں کیلئے رمضان کے روزے رکھنااور بقرہ عید کی قربانی ذبح کرنا بھی حکمران کے مقرر کردہ ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے تابع ہوجاتا ہے اور سودی نظام بھی علماء ومفتیان کے فتوے سے حلال ہوتاہے،اسی طرح داعش کے خلیفہ اور انکے علماء ومفتیان جس قسم کے احکام بتاتے ہیں اور جو فتوے دیتے ہیں دنیا بھر میں ابوبکر البغدادی کی تقرری اور مقرر کردہ امیروں کا حکم چلتاہے اور اس کو سمجھنے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ جیسے اسماعیلیہ آغا خانیوں کا اپنا امام ہے، داودی بوہرہ کا اپنا امام ہے، میرا خیال ہے کہ اہل تشیع نے بھی ایرانی انقلاب اور امام خمینی کے بعد ہی پاکستان میں جمعہ پڑھنا شروع کردیا۔ ترکی کے صدر طیب اردگان سے پہلے سپیکر قومی اسمبلی نے پاکستانی قوم کی طرف سے سپاسنامہ میں خلافت موومنٹ اور کمال اتاترک کا تذکرہ کیا ، علامہ اقبال ، خلافت موومنٹ اور پاکستان کا حوالہ دیا لیکن اس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کن متضاد پگڈنڈیوں پر چل کر قدم ڈگمگارہے ہیں اور نہ ہی زبان لڑکڑارہی ہے، جاہل تو ہوتے ہی لٹ مار ہیں، قومی اسمبلی کا سپیکر غیر جانبداری کا حلف اٹھاتاہے مگر ہمارے سپیکر صاحب غیر جانبداری کے فرض سے ناواقف۔
بہرحال طیب اردگان نے مسلم امہ کو قریب کرنے کی بات کرکے داعش کو مغرب کے کھاتہ میں ڈال دیا تو بھی حقائق کا ان کو پتہ ہوگا مگر جس طرح اپنے سیاسی حریفوں کے سکول پاکستان میں بند کرادئیے جن میں تشدد اور دہشت گردی کی کوئی تعلیم نہیں تھی، فوجی بغاوت پر بھی فتح اللہ گولن نے کہا تھا کہ ’’ہم خود ہمیشہ فوجی بغاوت کے خلاف رہے ہیں اور ہم نے ان کے تشدد کا خود بھی سامنا کیاہے تو ہمارا ہاتھ کیسے ہوسکتاہے؟‘‘۔ پاکستان ، ترکی ، امریکہ اور دنیا بھر میں مغربی جمہوریت سے الزام تراشیوں کے سلسلے جاری ہیں۔داعش کے سخت ترین حریفوں کا داعش میں شمولیت کو امریکہ اور مغربی سازش قراردینا نادانی ہے، یہ درست ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں بھی گڈ اور بیڈ کا تصور تھا،ایک نمبر اور دونمبر والوں کی عام شہرت تھی لیکن داعش ایک سازش نہیں بلکہ خلافت کا فلسفہ و نظریہ ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے جمعیت علماء کے ایک بہت بڑے پروگرام میں خلافت کی احادیث کو اپنی جماعت پر فٹ کیا اور تسلسل کیساتھ اپنے مشن کی اس طرح سے تشہیر بھی کرتے رہے۔ مولانا نیاز محمد قریشی (جو سینٹر مولانا صالح شاہ قریشی کے کزن ) نے یہ تقریر ’’آذانِ انقلاب‘‘ کے نام سے شائع کی۔ بریلوی مکتبۂ فکر علامہ عطاء محمد بندھیالویؒ نے خلافت کو شرعی فریضہ قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جنرل ضیاء الحق بھی قریشی نہیں، مسلمانوں خلیفہ کا تقرر شرعی فریضہ ہے جو قریشی ہو۔ ڈاکٹرا اسرار کے ایک پروگرام میں علامہ طاہرالقادری اور دوسرے میں حزب التحریر اور المہاجرون تنظیم کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔ خلافت کیلئے امام کا تقرر ہے اور امام کاتعلق سرحدوں سے بالاتر زمانہ کیساتھ ہے۔ تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی ، جماعتِ اسلامی اور دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کے علاوہ قادیانی بھی اپنے امیر وامام کی تقرری پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان کی ریاست کو خلافت کا اعلان کرنا ہوگا۔ زندگی آساں گر حوصلہ بڑا ہے، منزل بڑی ہے تو امتحان کھڑا ہے ۔ خلافت سے آسمان و زمین والے خوش ہونگے۔