علامہ علی شیر رحمانی صاحب مناظر اسلام، مرکزی رہنما جماعت اہل سنت پاکستان کے مطالبہ پر ایک وضاحت

835
0

wifaq-ul-madaris-teen-talaq-rujoo-allama-ali-sher-rahmani-khairpur-mirs

گذشتہ شمارے میں خیر پور میرس کے مولانا واحد بخش فاضل دار العلوم وفاق المدارس نے طلاق کے حوالے سے ہماری تائید کی تھی اور کہا تھا کہ خیر پور میرس کی مشہور بہت بڑی علمی شخصیت مناظر اسلام جماعت اہل سنت کے مرکزی رہنما علامہ مولانا علی شیر رحمانی صاحب کو بھی آپ کا اخبار پسند آیا اور فرمایا کہ گیلانی صاحب ابن عمرؓ کی روایت کو اور زیادہ واضح کرکے تحریر کریں۔
حدثنا قتیبۃ حدثنا اللیث عن نافع ان ابن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنھا طلق امراۃ لہ وھی حائض تطلیقۃ واحدۃ فامرہ رسول اللہ ﷺ ان یراجعھا ثم یمسکھا حتیٰ تطہر ثم تحیض عندہ حیضۃ اخریٰ ثم یمھلھا حتیٰ تطہر من حیضھا فان ارادہ ان یطلقھا فلیطلقھا حین تطہر من قبل ان یجامعھا فتلک العدۃ التی امر اللہ ان تطلق لھا النسایٗ و کان عبد اللہ اذا سئل عن ذٰلک قال لاحدھم ان کنت طلقتھا ثلاثاً فقد حرمت علیک حتیٰ تنکح زوجاً غیرک و زاد فیہ غیرہ عن اللیث حدثنی نافع قال ابن عمر لو طلقت مرۃ او مرتین ان النبی ﷺ امرنی بھذا (کتاب العدت: 5332) ترجمہ و تشریح: حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کے اس واقعہ کو صحیح بخاری میں متعدد اور مختلف مقامات پر مختلف الفاظ سے نقل کیا ہے۔ علاوہ ازیں صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابوداؤد، مسند احمد اور موطا امام مالک وغیرہ نے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ ان تمام روایات کا پہلا اہم نکتہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ سمجھایا کہ قرآن کریم میں عدت اور طلاق کا طریقہ کار کیا ہے؟۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ وضاحت فرمائی ہے کہ طلاق کا تعلق عدت سے مرحلہ وار ہے، قرآن میں طہر (پاکی کے ایام) و حیض کے 3مراحل میں 3مرتبہ طلاق کی وضاحت ہے۔ پہلے طہر میں پہلی مرتبہ طلاق کا تعلق اس وقت ہے جب عورت کو ہاتھ نہ لگایا ہو۔ اسی طرح دوسرے طہر و حیض اور تیسرے طہر و حیض کے مراحل میں بھی ہاتھ لگائے بغیر طلاق دی جائے تو اسی طرح سے قرآن میں طلاق اور عدت کی وضاحت ہے۔ قرآن کی یہ وضاحت سورۂ بقرہ اور سورۂ طلاق میں بھی بالکل واضح ہے، علماء و مفتیان اور مذہبی طبقات میں سے بھی کسی کا اس وضاحت پر کوئی اور کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔ یہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن کے متعلق کوئی ایسی وضاحت فرمائی ہے جو عام لوگوں اور علماء و مفتیان کے ذہنوں میں نہیں آتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ قرآن و سنت کی واضح اور بھرپور وضاحتوں کے باوجود مذہبی طبقات نے روایات میں الفاظ کا سہارا لیکر خود کو بھی الجھادیا ہے اور پوری ملت اسلامیہ کو بھی الجھادیا ہے۔ جب قرآن میں بار بار عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر طلاق سے رجوع کی گنجائش اور بھرپور وضاحت ہے تو صحابہ کرامؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی مزید وضاحت کی ضرورت بھی نہیں سمجھی۔ تین طلاق سے رجوع نہ ہونے کی سب سے بڑی اور مستند روایت یہ ہے جس کی شکل بگاڑ کر مختلف انداز سے نقل کیا گیا ہے۔ پہلی اہم بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی بھی مستند حدیث میں کوئی ایسی روایت نہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے رجوع نہ کرسکنے کی کوئی وضاحت فرمائی ہو، رسول اللہ ﷺ نے صرف 3طہر و حیض میں 3مرتبہ قرآن کے مطابق عدت اور طلاق کا طریقۂ کار بتایا ہے اور بس۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ فتویٰ اور قول حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی طرف منسوب ہے کہ ’’تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ، یہاں تک کہ عورت کسی دوسرے سے نکاح کرلے‘‘اور یہ بھی حضرت ابن عمرؓ سے منسوب ہے کہ ’’جب ایک مرتبہ یا دو مرتبہ طلاق دی جائے تو رسول اللہ ﷺ نے رجوع کا حکم فرمایا ہے اور اگر تیسری مرتبہ طلاق دیتا تو رسول اللہ ﷺ یہ حکم نہ دیتے‘‘۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے بالکل ٹھیک فرمایا کہ اگر وہ قرآن کے مطابق پہلے طہر و حیض میں پہلی مرتبہ طلاق دیتے، دوسرے طہر و حیض میں دوسری مرتبہ طلاق دیتے اور پھر تیسرے طہر و حیض میں تیسری مرتبہ طلاق دیتے تو رسول اللہ ﷺ رجوع کا حکم نہ دیتے۔ یہ بات سمجھنے کیلئے کسی ایسی ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی تسخیر کا قرآن میں ذکر کیا ہے تو سولر سے شمسی توانائی کس طرح سے حاصل ہورہی ہے؟۔ سیدھی سادی بات ہے کہ جو شخص قرآن کے مطابق 3طہر و حیض کے مراحل میں 3مرتبہ طلاق دے گا تو اس بات کی ترغیب کی ضرورت نہیں رہے گی کہ کوئی طلاق دینے سے روکے۔ البتہ جب جاہلیت کا ایسا دور دورہ تھا کہ خوشی اور مرضی سے مرحلہ وار 3طلاق دینے کے باوجود اس صورت میں بھی عورت کو اپنی مرضی سے اڑوس پڑوس اور آس پاس کے رشتے داروں میں دوسرے سے نکاح کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور مطلق العنان حکمران کی طرح شوہر بیوی کی مرضی کے بغیر بھی رجوع کرلیتا تھا تو جھگڑے کی صورت میں عورت کو تحفظ دینا فطرت کا تقاضہ تھا۔ قرآن نے بھی وضاحت کی ہے کہ باہمی اصلاح کی شرط پر شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے مگر مطلق العنان حکمران شوہروں کو لگام دینے کیلئے حضرت عمرؓ فاروق اعظم جیسی شخصیت کی ضرورت تھی۔اگر میاں بیوی آپس میں راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے عدت کے اندر اصلاح کی شرط پر رجوع کو واضح کیا ہے۔ اگر راضی نہ ہوں تو قرآن کا بھی یہی فرمان ہے کہ رجوع نہیں ہوسکتا اور حضرت عمرؓ نے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا تھا اور دنیا کی ہر عدالت ، قوم اور حکومت بھی یہی فیصلہ کرے گی۔ عبد اللہ ابن عمرؓ نے نیک نیتی کے ساتھ خواتین کے حقوق کو تحفظ دینے کیلئے یہی فتویٰ دیا ہوگا تاکہ تنازع میں کوئی شخص اپنی بیوی کو رجوع پر مجبور نہ کرے۔ علاوہ ازیں ابن عمرؓ اہل کتاب سے نکاح کو ناجائز قرار دیتے تھے حالانکہ قرآن میں ہے کہ ان سے نکاح حلال ہے مگر ابن عمرؓ نے فتویٰ دیا کہ اہل کتاب سے زیادہ مشرک کون ہیں جو تثلیث کے قائل ہیں؟ ۔ وزن ہونے کے باوجود کسی نے ان کا قول قبول نہیں کیا۔ اہل علم کیلئے یہ کافی ہے کہ جو طلاق ابن عمرؓ نے حیض کی حالت میں دی اس کو رسول اللہ ﷺ نے کسی شمار و قطار میں نہیں رکھا۔ حنفی اُصول فقہ کا یہ تقاضہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی بات کو بھی آیت کیخلاف پاتے تو رد کردیتے۔ عتیق گیلانی