حقوق نسواں کی واضح قرآنی آیات واحادیث پر اجنبیت کا بہت بڑا پردہ آگیا

سمجھا جاتا ہے کہ اللہ نے عورت کو خلع کا حق نہیں دیا۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ، بکواس اور لایعنی ہے۔ غلطی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مذہبی طبقے نے نصاب، تفسیر، حدیث کی کتابوں میں سورۂ البقرہ آیت229میں تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا تصور دیا۔ حالانکہ مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا تصور نہیں ہوسکتا ہے۔ خلع میں تو ایک طلاق اور عدت کے ایک مرحلے کا تصور نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا، جس پر آج بھی سعودیہ اور دیگر مسالک والے عمل پیرا ہیں۔ ہمارے نصاب میں بالکل غلط طور پر حدیث صحیحہ کو قرآن کیخلاف گردانا جاتا ہے کہ ’’ قرآن نے طلاق کی عدت تین مراحل یا تین ماہ مقرر کئے ہیں تو حدیث صحیحہ کی وجہ سے یہ قرآن کا واضح حکم منسوخ تصور ہوگا‘‘۔ حالانکہ حمل کی صورت میں تین مراحل کی یہ عدت نہیں ہے اور حدیث میں غلام کی دو طلاق اور لونڈی کی دو حیض کی عدت کو بھی احناف قرآن کے برعکس تسلیم کرتے ہیں۔
دو،تین مرتبہ طلاق کے بعد خلع کا کوئی تصور نہیں ہوسکتا ۔ البقرہ آیت: 229میں یہ واضح ہے کہ ’’ طلاق دو مرتبہ ہے پھر معروف طریقے سے روکنا ہے یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے‘‘۔علامہ غلام رسول سعیدی ؒ بریلوی تنظیم المدارس اور مولانا سلیم اللہ خان ؒ دیوبندی صدر وفاق المدارس نے اپنی بخاری کی شرح میں یہ حدیث نقل کی کہ صحابی ؓ نے پوچھا کہ قرآن میں تیسری طلاق کہاں ہے؟۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ تسریح باحسان تیسری طلاق ہے‘‘۔ جب حضرت عمر ؓ نے نبی ﷺ کو خبردی کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنی عورت کو حیض میں طلاق دی تو رسول اللہ ﷺ غضبناک ہوئے اور پھر ابن عمر ؓ سے فرمایا کہ رجوع کرلو۔ پاکی کے دور میں پاس رکھو یہانتک کہ اسے حیض آجائے۔ پھر پاکی کا دور آجائے اور اسے حیض آجائے۔ پھر پاکی کادورآجائے تو پھر اگر روکنا چاہتے ہو تو روک لو اور طلاق دینا چاہتے ہو تو ہاتھ لگائے بغیر چھوڑ دو، یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ نے اس طرح طلاق کا امر کیاہے‘‘۔ کتاب التفسیر سورۂ طلاق بخاری، کتاب الاحکام ، کتاب العدت اور کتاب الطلاق بخاری میں یہ روایت ہے اور صحیح مسلم میں تواکٹھی تین طلاق کا ذکر بھی ہے۔
اگر دو مرتبہ طلاق کے بعد تیسرے مرحلے میں معروف طریقے سے رجوع کیا تو بات ختم ہوجاتی ہے لیکن اگر تیسرے مرحلے میں تیسری مرتبہ بھی طلاق دیدی تو اللہ تعالیٰ نے اسکے بعد فرمایا کہ ’’ اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لے لو۔ الا یہ کہ دونوں کو یہ خوف ہو کہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور اگر تمہیں ( اے فیصلہ کرنے والو!) خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر نہیں قائم رہ سکیں گے تو پھر عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز مت کرو اور جو ان سے تجاوز کرتا ہے تو بیشک وہی لوگ ظالم ہیں ۔ (البقرہ آیت229)
آیت میں مرحلہ وار جدائی کے حتمی نتیجے تک پہنچنے کے بعد یہ حکم بیان کیا گیا ، جس سے خلع مراد لینے کا کوئی امکان بھی نہیں۔ افسوس کہ کم عقل لوگوں نے جو کتابیں لکھ ڈالیں ہیں ،ان کو درسِ نظامی کا حصہ بنادیا گیا ہے۔ چنانچہ اصولِ فقہ کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ حنفی مؤقف یہ ہے کہ آیت230میں فان طلقہا (پھر اگر اس نے طلاق دی تو اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی اور سے نکاح کرلے) کی ’’ف ‘‘تعقیب بلا مہلت کیلئے آتا ہے اسلئے اس طلاق کا تعلق خلع(فدیہ) کی صورت سے ہی ہے جبکہ امام شافعی ؒ کے نزدیک اس طرح دومرتبہ طلاق کے بعد خلع تیسری طلاق بن جائے گی اور پھر اگلی تیسری طلاق کی گنجائش نہ رہے گی، اسلئے یہ خلع (فدیہ )کی صورت جملہ معترضہ ہے۔ احناف اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ خلع کوئی مستقل طلاق نہیں ہے بلکہ تیسری طلاق کیلئے ایک ضمنی مقدمہ ہے جس سے شوافع کے اعتراض کا جواب ہوجاتا ہے۔
حالانکہ دو تین مرتبہ طلاق کے بعد نہیں بلکہ ایک مرتبہ طلاق کے بعد بھی خلع کا تصور باقی نہیں رہتاہے۔ قرآن وحدیث میں واضح ہے کہ تین مرتبہ مرحلہ وار طلاق کے بعد شوہر کی طرف سے دیا ہوا مال واپس لیناغلط ہے۔ صرف اس صورت میں کسی ایسی چیز کو عورت کی طرف سے فدیہ کرنے میں کوئی حرج نہیں جب دونوں کو اس کی بنیاد پر میل ملاپ اور اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا خطرہ ہو اور فیصلہ کرنے والے بھی یہی خدشہ سمجھتے ہوں۔ یہ طلاق کی وہ صورت ہے جس میں باہوش وحواس مرحلہ وار جدائی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔علامہ ابن قیم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ کی یہی تفسیر نقل کی لیکن اس کو بھی خلع کی کتاب میں نقل کیا ہے۔( زادالمعاد: جلد4)
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے اس آیت میں الجھاؤ کے پیشِ نظر مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے ترجمہ و تفسیر کا ایک جگہ حوالہ دیا ہے۔ حالانکہ یہ آیت بالکل واضح ہے لیکن مذہبی طبقے نے مسلکی وکالت کی نمک حلالی کیلئے تعصب میں الجھ کر حقائق سے غفلت کا مظاہرہ کیا، ابن قیم ؒ احناف کی تردید میں اندھے پن کا شکار تھے۔ یہ کونسا فقہ اور قرآن فہمی ہے کہ قرآن شوہر کو اپنے دئیے ہوئے مال کو بھی واپس نہ لینے کا حکم دے رہا ہو اور علماء آیت کے واضح مفہوم کے برعکس عورت کو اپنا مال ومتاع دینے کو بھی اس آیت کی بنیاد پر جواز دیتے ہوں؟۔ اس آیت کا خلع سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہے۔ علماء وفقہاء نے غلط تفسیر وفقہی مسائل سے اسلام کو اجنبیت کی انتہاء پر پہنچادیا ہے۔ جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے تقریباً1435سال پہلے دی تھی۔علامہ تمنا عمادی ؒ ایک حنفی المسلک مولوی تھے ،انہوں نے حنفی مسلک کی بنیاد پر الطلاق مرتان کتاب لکھ دی اور انکارِ حدیث کا فتنہ بھی اسکے بعد پیدا ہوا۔ پھر بہت سے اسکالر علماء وفقہاء کی فقہ دانیوں سے اپنی تفہیم کشید کرنے میں لگے۔
خلع یہ ہے۔’’ تم عورتوں کے زبردستی سے مالک نہ بن بیٹھواور نہ اسلئے ان کو روکو، کہ جو کچھ تم نے انکو دیا، اس میں بعض واپس لو۔ مگریہ کہ وہ کھلی فحاشی کی مرتکب ہوں۔ ان سے (خلع کے باوجود) اچھا سلوک کرو، ہوسکتا ہے کہ تمہیں وہ بری لگیں اور اللہ تمہارے لئے اسمیں بہت سا خیر رکھ دے‘‘۔ (سورۂ النساء آیت:19)
اس آیت میں بھی اسلام کی اجنبیت کو برقرار رکھتے ہوئے غلط تفسیر لکھ ڈالی۔ممکن نہیں کہ اللہ عربی کی کھلی زبان میں اتنی بڑی غلطی کرے کہ ان جملوں کے انہی الفاظ میں الگ الگ قسم کی خواتین مراد لے۔ علماء نے یہ تفسیر کی ہے کہ ’’ عورتوں کے زبردستی سے مالک نہ بن بیٹھو ‘‘ سے مراد ایام جاہلیت میں خاندان کی بیوہ خواتین مراد ہیں۔ اور ’’ ان کواسلئے مت روکو کہ جو کچھ بھی تم نے ان کو دیا ہے ،اس میں سے کچھ بھی واپس لومگر یہ کہ کھلی ہوئی فحاشی کے مرتکب ہوں‘‘ سے مراد اپنی بیگمات ہیں حالانکہ علماء کی فاش غلطی ہے۔ یہ تفسیر عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان کی بھی نہیں ہوسکتی جبکہ عربی میں دوسرے جملے کی ضمیر کا مرجع پہلے جملے کی خواتین ہی ہیں۔ علماء نے مغالطہ اسلئے کھایا کہ انکے نزدیک شوہر تین طلاق کا مالک ہوتا ہے اور اللہ نے نکاح کا عقدہ شوہر کے ہاتھ ہونے کی وضاحت کی ہے۔ جبکہ یہ دونوں باتیں محض مغالطے کا نتیجہ ہیں۔ شوہر تین طلاق کا مالک ہوتا تو بیوی لونڈی کی طرح اس کی ملکیت ہوتی۔ اگر ہاتھ لگانے سے پہلے شوہر طلاق دے تو اللہ نے فرمایا کہ ’’تمہارا ان پر عدت کا کوئی حق نہیں جس کو تم گنو‘‘۔ جس سے یہ واضح ہوا کہ’’ شوہر ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دے تو اس کا بیوی پر عدت کا حق ہے‘‘۔ تین طلاق کی ملکیت کے غلط تصور نے بھی اسلام کو اجنبی بنادیا ہے۔ اگرایک طلاق دی جائے اور عدت کے بعد بھی دو طلاقوں کا تصور باقی رہے ،یہاں تک کہ عورت دوسری جگہ نکاح بھی کرلے اور پھر وہاں سے طلاق کے بعد یہ بحث کیجائے کہ پہلا شوہر نئے سرے سے 3 طلاق کا مالک ہوگا یا پہلے سے موجود بقیہ دو طلاقوں کا؟۔ اگر عوام کے سامنے یہ حقائق آگئے تو سمجھیں گے کہ علماء کو پاگل کتوں نے تو نہیں کاٹا ہے جو اس طرح کی بکواس پڑھتے اور پڑھاتے ہیں؟۔ دوسرا مغالطہ اس آیت سے لگاکہ شوہر نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو پھر بھی اس پر آدھا حق مہر ہے۔ اگر عورت آدھے کو معاف کردے یا مرد نے پورا حق مہر دیا اور وہ اپنا آدھا حصہ بھی چھوڑدیتا ہے جسکے ہاتھ میں نکاح کا گرہ ہے۔ چونکہ طلاق کی صورت میں شوہر نے ہاتھ لگانے سے پہلے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہوتا ہے اسلئے وہ پورا حق مہر بھی معاف کردے تو زیادہ مناسب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ’’مرد ہی میں نکاح کو ختم کرنے کی صلاحیت ہے‘‘۔ اس سے زیادہ واضح الفاظ میں اللہ تعالی نے عورت کی طرف پکے معاہدے نکاح کے میثاق غلیظ کی نسبت کردی ہے۔
فرمایا کہ ’’ اگر تم میں کوئی کسی ایک عورت کے بدلے دوسری سے نکاح کرنا چاہتا ہے اورکسی ایک کو چھوڑ نا چاہتا ہے تو اس کو اگربہت سارا مال بھی دیا ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں،ان کو محروم کرنے کیلئے بہتان مت باندھو۔ کیا تم بہتان باندھوگے؟ حالانکہ وہ تم ایکدوسرے سے بہت قربت حاصل کرچکے ہو اور بیشک انہوں نے تم سے میثاق غلیظ (بہت پکا مقدس عہد) لیا ہے ‘‘۔(النساء آیت 20اور21) اسکا یہ مطلب نہیں بن سکتا کہ عورت ہی نے مضبوط عہد لیاہے اور وہی اس کی مالک بھی ہیں۔ جب ہاتھ لگانے سے پہلے نصف حق مہر ہے تو ہاتھ لگانے کے بعد پورے حق مہر کیلئے مزید کیا وضاحت کی ضرورت باقی رہتی ہے؟۔ مفتی تقی عثمانی نے اپنے ’’ آسان ترجمۂ قرآن ‘‘ میں پہلی مرتبہ تفسیر کے علاوہ ترجمہ میں بھی تحریف کردی ۔ لکھ دیا کہ ’’ حق مہر مراد ہے‘‘۔ حالانکہ سورۂ بقرہ اور سورۂ النساء میں حق مہر کے علاو ہ دی ہوئی چیزیں مراد ہیں۔
مفتی تقی عثمانی کو اللہ نے نئی زندگی دی اور کھل کر اپنی غلطی کے اعتراف سے مخلوق خدا کو بڑا فائدہ پہنچے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں