خواتین کے حقوق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی فقہاء وعلماء کی سمجھ سلب ہوگئی

سورۂ بقرہ کی آیات222سے 232تک سارا زور عورت کی اذیت اور اسکے حقوق کے تحفظ پر ہے لیکن علماء نے مقصد اور نصب العین کو ہی مدِ نظر نہ رکھا تو آیات کی تفسیر پر فقہی اختلافات کا بہت بڑاپردہ ڈال دیا۔
آیت222البقرہ میں عورت کی دو چیزوں اذیت اور طہارت کا ذکر ہے اور اذیت کے مقابلے میں توبہ اور ناپاکی کے مقابلے میں طہارت والوں کا ذکر ہے لیکن علماء وفقہاء نے اذیت کو نظر انداز کرکے گند مراد لیا۔ یہ خواتین کی حق تلفی کا پہلامرحلہ ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ ’’ تمہاری عورتیں تمہارا اثاثہ ہیں ، جہاں یا جیسے چاہو انکے پاس آؤ‘‘۔ آیت223۔اثاثہ کی جگہ ترجمہ ومفہوم کھیتی کردیا ، جسکے جانوروں سے بھی کم حقوق ہیں ۔ اس طرح پہلی آیت میں اذیت کا غلط ترجمہ کیا تو اس آیت میں عورت کیساتھ لواطت پر بیہودہ فقہی اختلافات کا راستہ اپنالیا۔ صحابہ کرام ؓ اور ائمہ عظام ؒ تک اس پر حلال وحرام اور کفرو اسلام کے اختلافات نقل کردئیے ہیں۔
آیت:224میں اَیمان(عہدوپیمان) سے مرادلاتعلقی ، طلاق اورصلح کیلئے ہرطرح کی رکاوٹ ہے اور کسی بھی ایسی صورت کی نفی ہے کہ میاں بیوی یا کسی بھی افراد کے درمیان صلح نہ کرنے کیلئے اللہ کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جائے۔ ’’ اللہ تمہیں لایعنی عہدوپیمان سے نہیں پکڑتامگر جو تمہارے دلوں نے کمایا‘‘۔آیت225 اس میں طلاق صریح وکنایہ کے تمام لغو الفاظ شامل ہیں۔ اللہ نہیں پکڑتا مگر بیوی پکڑسکتی ہے،اسلئے کہ اسکے حق کا معاملہ ہے۔ نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ تین چیزوں کی سنجیدگی اور مذاق معتبر ہے۔ طلاق، رجوع اور عتاق‘‘۔ اصولِ فقہ میں اس آیت پر حنفی شافعی اختلاف بالکل غلط ہے۔ یمین کا لفظ عام ہے۔ عہدو پیمان اور حلف سب شامل ہے۔ سورۂ مائدہ میں کفارہ کیلئے اذا حلفتم کی وضاحت ہے۔نکاح سے زیادہ بڑا عہدوپیمان کیا ہے؟۔ مگر اس کو توڑنے پر کفارہ نہیں ۔ کفارہ صرف حلف کی صورت میں ہوتا ہے۔
آیت: 226میں ایلاء بیوی سے ناراضگی کا ذکر ہے جس میں طلاق کا کھلے لفظوں میں اظہارنہ کیا جائے تواس صورت میں طلاق کے اظہار سے ایک عدت ایک ماہ زیادہ ’’چار مہینے‘‘ ہے۔ اس مدت میں دونوں کو خوشی سے صلح کی وضاحت ہے اور آیت:227میں واضح ہے کہ ’’ اگر طلاق کا عزم تھا تو سنتا اور جانتا ہے‘‘۔ یعنی طلاق کا عزم دل کاگناہ ہے جس سے عورت کی عدت میں ایک ماہ کا اضافہ ہوگا اور اس پر اللہ کی پکڑ ہے۔ آیات میں معاملہ بہت واضح ہے لیکن حنفی مسلک میں چار ماہ بعد طلاق ہوگی اور جمہور کے نزدیک چار ماہ بعد بھی نکاح قائم رہے گا۔ اس بھیانک اختلاف کی واحد وجہ یہ ہے کہ عورت کا حق جو قرآن کا بنیادی مقصد ہے ان ظالم فقہاء نے بالکل نظر انداز کردیا۔ چنانچہ ایک طبقہ سمجھتا ہے کہ شوہر نے اپنا حق استعمال کرلیا اور دوسرا سمجھتا ہے کہ شوہر نے پھر بھی اپنا حق استعمال نہیں کیا۔ حالانکہ اللہ نے عورت کا حق محفوظ کیا تھا کہ طلاق کے اظہار کے بعد تین طہروحیض یا تین ماہ کی عدت ہے اور طلاق کا اظہار نہ ہو تو چار ماہ کی عدت ہے۔
اللہ نے فرمایا کہ ’’ عدت میں اصلاح کی شرط پر شوہروں کو رجوع کا حق ہے‘‘۔( آیت:228البقرہ ) تو صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ اتنے پاگل تو نہیں تھے کہ صلح کیلئے وہ کسی عدالت، حکمران اور مفتی سے رجوع کرلیتے؟۔ جبکہ اللہ نے یہ واضح کردیا تھا کہ ’’ اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جدائی کا خدشہ ہو تو ایک حکم فیصلہ کرنیوالا شوہر کے خاندان اور ایک حکم بیوی کے خاندان سے تشکیل دو، اگر دونوں اصلاح چاہتے ہوں تو اللہ ان میں موافقت پیدا کردیگا‘‘۔ (النساء آیت:35) جس سے یہ واضح پتہ چلتا ہے کہ طلاق کے بعد صلح کیلئے عدت میں کسی سے فیصلہ اور فتویٰ لینے کی ضرورت نہیں اور میاں بیوی آپس میں صلح کریں ۔ صلاحیت سے محروم ہوں تو ایک ایک رشتہ دار تشکیل دیدیں لیکن عدالت سے فیصلہ اور مفتی سے فتویٰ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اتنے خاندان اسلئے تباہ اور اتنی عزتیں اسلئے لُٹ رہی ہیں کہ امت نے قرآن کو چھوڑ رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہی شکایت قیامت کے دن کرنی ہے۔ وقال الرسول یارب ان قومی اتخذوا ہذا قراٰن مھجوراً ’’رسول کہیں گے کہ اے میرے ربّ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘۔ امت میں عوام سے زیادہ ان خواص اور علماء ومشائخ کی پکڑ ہوگی جنہوں نے قرآنی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ بھی نہیں دی اور وہ فقہی مسالک کے اختلافات اور فرقہ واریت کے مسائل میں الجھتے اور عوام کو الجھاتے رہے ۔
فقہ وتفسیر کی کتابوں میں تضادات و اختلافات کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صنفِ نازک کو تحفظ دیا ہے اور انہوں نے خواتین کے حقوق کو سلب کرنے پر ہی اپنا زور صرف کرڈالا ہے۔ مغرب نے خواتین کو مردوں کے برابر حقوق دئیے ہیں لیکن اسلام نے خواتین کو مردوں سے زیادہ حقوق دیدئیے ہیں۔ درجہ اسلئے نہیں دیا کہ عورتوں کے حقوق سلب کئے ہیں بلکہ درجہ کا احساس دلاکر خواتین کو زیادہ حقوق دئیے ہیں۔ درجہ یہ ہے کہ شوہر طلاق دیتا ہے اور عورت عدت تک انتظار کرتی ہے۔ یہ انتظار خواتین کے حق میں زیادہ فائدہ مند ہے۔ جب میاں بیوی جدا ہوتے ہیں تو عورت کو زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے، اسلئے اللہ تعالیٰ نے مرد پر حق مہر کا فریضہ عائد کردیا ہے۔اگر دنیا کے سامنے یہ واضح ہوجائے کہ ’’ حق مہر دونوں کی باہمی رضا شوہر پر ضروری ہے‘‘۔ خلع کا حق عورت کو اور طلاق کا حق مرد کو حاصل ہے۔ اگر عورت خلع لے تو ایک حیض کے بعد اس کی عدت پوری ہوگی اور گھر سے اس کو نکلنا ہوگا۔دی ہوئی غیرمنقولہ جائیداد، گھر ، باغ اور دکان وغیرہ سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ اگر شوہر طلاق دے تو منقولہ وغیر منقولہ تمام دی ہوئی جائیداد چاہے خزانے دیدئیے ہوں سب سے شوہر کو ہاتھ دھونا پڑینگے۔ سورہ البقرہ: 229،سورۂ النساء: 20اور سورۂ طلاق آیت:1میں گھر کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے مگر فحاشی کی صورت میں عورت گھر سے نکل بھی سکتی ہے اور اس کونکالا بھی جاسکتا ہے۔ اگر عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور عورت کا اپنا کوئی گھر نہ ہو تو مکمل ایک سال تک شوہر کے عزیز واقارب پر عورت کی ذمہ داری پڑتی ہے۔ اسلام کے یہ قوانین قرآن کی واضح آیات میں موجود ہیں۔
مغرب اور ترقی یافتہ ممالک میں جو قوانین ہیں وہ برابری کے نام پر انسانی فطرت اور انصاف کے منافی ہیں۔ عورت امیر ہو تو طلاق کے بعد اس کو اپنی آدھی جائیداد شوہر کو دینی پڑتی ہے اور مرد امیر ہو تو عورت نے جدائی کا فیصلہ کیا ہو تب بھی شوہرکو آدھی جائیداد دینی پڑتی ہے۔ سویڈن میں اشرف میمن کے ایک دوست نے ایک رات مہمان نوازی کی تھی اور اس نے اپنی بیگم کو طلاق دی تھی لیکن اپنے گھر تقسیم کرنے کے بجائے بیوی کو گفٹ کردیا تھا۔ عمران خان نے جمائماخان کو طلاق دی تو اس کی جائیداد میں حصہ سے انکار کردیا تھا۔ وہاں کے جج نے عمران خان کے اس اقدام کو سراہا تھا۔ مغرب کا یہ قانون غیرفطری اور غلط ہے اور اس قانون سے خوف کھاتے ہوئے بہت لوگ شادی نہیں کرتے بلکہ گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے چکر میں رہتے ہیں۔
اگر قرآن کے فطری اور منصفانہ قوانین کا پتہ چلاتو پوری دنیا میں اسلام کا معاشرتی نظام رائج کیاجائیگا۔ قرآن نے طلاق کا بڑی وضاحت کیساتھ ذکر کیا۔ اگر میاں بیوی مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے نتیجے پر پہنچے کہ آئندہ رابطے کی کوئی صورت نہ رکھی جائے۔ جرگہ بھی یہی سمجھتا ہو تو مسئلہ یہ نہیں کہ رجوع ہوسکتاہے یا نہیں؟۔ بلکہ طلاق کے بعد شوہر عورت کو دوسرے شوہر سے مرضی کے مطابق نکاح نہیں کرنے دیتا۔ عورت تو ایسی کمزور چیز ہے کہ کسی مرد کی منگیتر بن جائے تو منگنی ٹوٹنے پر بھی مرد کو غیرت آتی ہے کہ کسی اور سے شادی نہ ہو اور اگر وہ کسی اڑوس پڑوس ، دوست اور احباب کے ہاں نکاح کرتی ہے تو مرد پر یہ گراں گزرتا ہے۔ اسلئے اللہ تعالیٰ نے بہت واضح الفاظ میں عورت کا یہ مسئلہ حل کردیا کہ اس طلاق کے بعد دوسری جگہ اپنی مرضی سے نکاح کرنے کے بغیر پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں ہونے کی وضاحت کردی۔ رسول اللہ ﷺ نے عنقریب دین کے اجنبی ہونے کی خبردی تومسئلہ طلاق اجنبیت کا شکار ہوا۔ حضرت عمر ؓ، صحابہ کرام ؓ ، ائمہ مجتہدین ؒ اور سلف سالحین ؓ نے قرآن کی اس روح کو سمجھ کر عورت کی جان خلاصی پر زور دیا اور مختلف صورتوں پر یہ حکم لگادیا کہ عورت پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرے۔ یہانتک کہ اکٹھی تین طلاق پر اور لفظ حرام پر بھی یہی حکم لگادیا۔ مسئلہ عورت کی جان خلاصی تھا۔ بعد والوں نے باہمی رضا سے رجوع ناجائز قرار دیا اور حلالہ کی لعنت کیلئے حیلے تراشنے اور مواقع تلاش کرنے کے درپے ہوگئے یہانتک کہ 950ھ اور980ھ میں وفات پانے والے علامہ بدرالدین عینی حنفی و علامہ ابن ہمام حنفی نے ثواب کی نیت سے حلالہ کی لعنت کو باعثِ ثواب بھی قرار دیا۔ اگر یہ لوگ قرآن کو دیکھتے تو ڈھیر ساری آیات میں بغیرحلالہ رجوع کے واضح احکام مل جاتے۔ زیادہ سے زیادہ اخلاف نالائقین سے یہ حسنِ ظن رکھنے کی گنجائش ہے کہ وہ حلالے کیلئے حیلے بہانے نہیں بلکہ اپنی نالائقی کے سبب قرآن سے واضح احکام تلاش کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ علامہ انورشاہ کشمیری ؒ نے آخر یہ اعتراف کرلیا کہ ’’ ساری زندگی قرآن وسنت کی خدمت نہیں کی بلکہ فقہ کی وکالت میں ضائع کردی‘‘۔ اللہ کے رسولﷺسے دیوبندی، بریلوی ، شیعہ اور اہلحدیث کو محبت ہے تو قیامت کے دن شکایت سے بچنے کیلئے قرآن کی طرف آئیں۔ وقال الرسول یاربّ ان قومی اتخذوا ہذالقراٰن مھجوراً ’’اور رسول(ﷺ قیامت کے دن) کہیں گے اے میرے ربّ ! بیشک میری قوم نے ا س قرآن کو چھوڑ رکھا تھا‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں