فاروق اعظمؓ اور امام اعظمؒ کا زبردست انوکھا دفاع: عتیق گیلانی کی تحریر

1005
0

’’ زانی اور زانیہ کی سزا 100کوڑے ہے‘‘۔ سورۂ نور۔ شادی شدہ و غیر شادی شدہ کافرق نہیں۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا : ’’ اس میں زنابالرضا و زنا بالجبر کافرق نہیں‘‘۔ حالانکہ زنا بالجبر میں عورت کا جرم ہے ،نہ اس کی سزا۔ جبکہ مرد کا جرم بھی بڑا اوراسکی سزا بھی بڑی۔ صحابیؓ سے پوچھاگیاتھا کہ سورۂ نور کے بعد سنگسار کرنے کی سزا دی گئی؟، تو جواب دیا تھاکہ مجھے پتہ نہیں۔( صحیح بخاری)
توراۃ میں ہے الشیخ و الشیخۃ اذا زنیا فارجمھما ’’جب بوڑھا و بوڑھی زنا کریں تو دونوں کو سنگسار کردو‘‘۔ علامہ مناظر احسن گیلانیؒ نے لکھا: ’’بوڑھا و بوڑھی غیرشادی شدہ بھی زد میں آتے ہیں، جوان شادی شدہ بھی زد میں نہیں آتے۔ قرآن میں کوڑوں کی سزا ہے، یہ یہود کی اختراع ہے ،قرآن کے واضح حکم کے بعد اس پرعمل بہت بڑی زیادتی ہے۔ بے عمل علماء نے مذہبی تعلیم کا حصہ بناکر یہودو نصاریٰ کی طرح اللہ کے احکام میں تحریف وتبدیلی کا ارتکاب کیاہے، اس کو نصاب سے خارج کیا جائے‘‘۔(تدوین القرآن)
مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے لکھا ’’ سنگساری کا حکم توراۃ میں تعزیر تھا‘‘۔متکبر غریب اور بوڑھے زناکار کی حدیث میں سخت مذمت ہے۔ موسیٰ علیہ السلام سے بھی یہ نقل ہوگا،پھر یہود نے توراۃ میں تعزیر لکھی ہوگی۔ قرآن میں خواتین کو زبردستی نشانہ بنانے والوں کو قتل اور حدیث میں زنابالجبر پر بھی سنگساری کی سزا کا ذکر ہے۔ بعض دفعہ معاملات ایکدوسرے سے خلط ملط ہوجاتے ہیں۔
جن میں حکم نازل نہ ہوتانبیﷺ اہل کتاب کیمطابق حکم کرتے (بخاری) سورۂ مجادلہ میں ظہار، قبلہ بیت المقدس، خاتون و مرد کا اپنے پر گواہی کے بعد سنگساری کا حکم مثال ہیں۔ نبیﷺ نے چاہاتھا کہ سنگساری سے بچ جائیں، جب پتہ چلا کہ مرد بھاگ رہا تھا تو آپﷺ نے فرمایا : اسے بھاگنے دیتے۔
زنا پر حد جاری کرنا روز کا معمو ل نہ تھا ۔ اکا دکا واقعہ سے روایات کی بھرمار ہے۔ حضرت عمرؓ اللہ کے احکام میں زیادہ سخت تھے۔ اپنے غیرشادی شدہ بیٹے کو کوڑے لگوانے لگے تو بیگمؓ نے سفارش کی کہ ’’کوڑے لگانیوالا آدمی بدلو‘‘۔ جس پر وہ جان سے بھی گیا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: نبی ﷺ نے سنگسار کرایا ، اگر الزام نہ لگتاکہ عمر نے اضافہ کیا تواس کو قرآن میں لکھ دیتا۔ عمرؓکو بھنک پڑی تو سخت وعید سناکر حالات پر قابو پانا چاہا ۔ سنگساری کے غیرفطری حکم پر عمل مشکل تھا اسلئے اللہ نے عمرؓ کے ہاتھوں ہی ا سکی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی۔ چنانچہ مغیرہ ابن شعبہؓ کے حوالہ سے چارگواہ آگئے، پہلے کی گواہی پرعمرؓ کا رنگ پیلا پڑ ا، دوسرے کی گواہی پر عمرؓ کی پریشانی میں اضافہ ہوا اور تیسرے کی گواہی پر عمرؓ کی پریشانی انتہاء کو پہنچ گئی۔ چوتھے گواہ زیاد کو آتے دیکھ کریہ ترغیب دی کہ اسکے ذریعے اللہ اس صحابیؓ کو رسوائی سے بچائیگا۔ وہ گواہی دینے لگا تو حضرت عمرؓ نے زور سے دھاڑ کر کہا :’’بتا تیرے پاس کیاہے؟‘‘۔ راوی نے کہا کہ وہ اتنے زور کی چیخ تھی کہ قریب تھا کہ خوف کے مارے میں بیہوش ہوجاتا۔زیاد نے کہا: میں نے دیکھا: عورت کے پاؤں اسکے کاندھے پر گدھے کے کانوں کی طرح پڑے تھے ۔تو عمرؓ نے کہا:’’ بس گواہی مکمل نہ ہوئی‘‘۔ باقی تینوں کو بہتان کے 80، 80کوڑے لگادئیے اور پیشکش کی کہ اگر اقرار کرلو کہ جھوٹی گواہی دی تو آئندہ تمہاری گواہی قبول ہو گی۔گواہوں میں صحابی صرف حضرت ابوبکرہؓ تھے جو اپنی بات پر ڈٹ گئے کہ’’ میں نے درست گواہی دی، آئندہ میری گواہی قبول نہ کی جائے تو مجھے اس کی پرواہ نہیں‘‘۔ باقی افراد نے سمجھا کہ بھاڑ میں جائے، یہ قانون اور گواہی کہ مجرم بچ جائے اورالٹا ہمیں کوڑے کھانے پڑیں۔ چنانچہ دونوں نے اقرار کیا کہ ہم نے جھوٹ بولا تھا۔
بخاری میں بھی یہ واقعہ ہے، امام مالکؒ ،امام شافعیؒ اور امام احمد حنبلؒ جمہور متفق تھے کہ حضرت عمرؓ کی پیشگش درست تھی ، بہتان پر توبہ کے بعدگواہی قبول کی جائے گی مگر امام ابوحنیفہؒ نے کہا کہ ’’ولاتقبلوالھم شہادۃ ابدًاقرآن میں جھوٹی گواہی کے بعد ہمیشہ کیلئے گواہی قبول نہ کرنا واضح ہے، اسلئے گواہی قبول نہ کی جائیگی‘‘۔ اسلام میں قانون سازی کیلئے یہ واقعہ بذاتِ خود بہت بڑا المیہ ہے ،عمرؓ کا طرزِ عمل قرآن کے منافی قرار دیکر امام ابوحنیفہؒ نے حق ادا کیا۔ عمرؓ کے رویے کو قابلِ تحسین کہنے کا قانونی، شرعی اور اخلاقی جواز نہیں مگر اس غلط طرزِ عمل نے اسلام کو بڑے حادثہ سے بچایاکیونکہ سنگساری کا حکم قرآن کے بالکل منافی تھا، اگر اس پر نیک نیتی سے عمل ہوجاتا تو اسلام کی حفاظت بھاڑ میں جاتی۔ امام ابوحنیفہؒ کا مسلک جزئی شق کیلئے اثاثہ ہے مگر عمرؓ کایہ غلط طرزِ عمل اسلام کیلئے بڑا کارنامہ ہے، جس پر شیعہ کا ہنگامہ ہے۔بدری قیدیوں کے قتل کا صائب مشورہ حضرت فاروق اعظمؓ کا اتنا بڑا کارنامہ نہ تھا جتنااس واقعہ کی وجہ سے اسلام کو ابدی تحفظ مل گیاہے۔اسلام کو احکام ہی سے زندہ کیا جاسکتاہے۔
عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کوحد ٹالتے دیکھا، ایک آدمی نے اقرار کیاتو نماز کا وقت ہوا، عمرؓعرض کیا :اس نے اقرار کیا،تو نبیﷺ نے فرمایا :اس نے توبہ کی ۔ حضرت عمرؓ سنگسار کرتے تومسلمان اس عظیم حادثے کا شکار ہوتے جسے قرآن نے عظیم میلان قرار دیا۔ امام ابوحنیفہؒ نے حضرت عمرؓ اور جمہور کیخلاف شہادت کے مسئلے پر قرآن کی آیت کے الفاظ کو تحفظ دیکر عظمت کا حق ادا کیا۔ حضرت عمرؓ نے نادانستہ اللہ کے فضل سے توراۃ کے مقابلے میں قرآن کے واضح حکم کی حفاظت کا اہتمام کیا۔امام اعظمؒ نے عمرؓکا فعل یاجمہور کا مسلک نہیں دیکھاتو کیا قرآن کے مقابلے میں کوئی چیز احناف یا کسی مسلمان کی ترجیح ہوسکتی ہے؟۔
اللہ نے فرمایاکہ ’’جب لونڈی کو نکاح میں لاؤ، پھر اگر کسی فحاشی کی مرتکب ہوں تو ان کیلئے آزاد خواتین کے مقابلے میں آدھی سزا ہے‘‘۔ یعنی100کے بجائے50۔ غیرشادی شدہ لونڈی کی یہ سزا ہوتی توثابت ہوتا کہ شادی شدہ کی الگ سزا ہے مگرشادی شدہ لونڈی کی نصف سزا یہ وضاحت ہے کہ اسلام میں سنگساری کی سزا نہیں ۔ ازواج مطہراتؓ کیلئے کھلی فحاشی پرقرآن میں دہری سزا کی وضاحت ہے جو ڈبل سنگساری نہیں200کوڑے ہی ہوسکتے ہیں۔
شادی شدہ کیلئے سنگساری، غیرشادی شدہ کیلئے سال جلاوطنی کی سزا ہوتی تو کم لوگ عمل کرتے۔ ولوکتبنا علیھم ان اقتلوا انفسکم اواخرجوا من دیارکم مافعلوہ الا قلیل منھم ’’اور اگران پر ہم اپنی جانوں کا قتل اور جلاوطنی کی سزا لکھ دیتے تو اس پر عمل نہ کرتے مگر ان میں سے بہت کم‘‘۔ یہود نے سنگساری وجلاوطنی کی خود ساختہ سزا پر عمل نہ کیا ،ہم نے بھی قرآن کے برعکس سزا کا تصور قائم کرکے عمل نہ کیا۔کوڑوں کی سزاقتل کے مقابلہ میں جان بچانے کی مہم ہے جو آج بھی ایک کارگر نسخہ ہے لیکن قرآن سے انحراف کیا گیا۔