منظور پاشتین کا فوج کے خلاف بیانیہ

376
0

ye-jo-dehshat-gardi-he-is-ky-piche-wardi-he-40-fcr-mehsood-slogan-waziristan-allama-iqbal

منظور پاشتین کی تقاریر ، سوشل میڈیا پر پختون تحفظ موومٹ کا پروگرام اور پرنٹ والیکٹرانک میڈیا پر گہماگہمی مچی ہے۔ کراچی سے سوات اور کوئٹہ سے لاہور تک ایک بھونچال ہے۔اسلام آباد سے اٹھنے والا نعرہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘دنیا میں سنا جارہا ہے۔ منظور پاشتین کے ساتھیوں کے دل ودماغ میں صرف فوج نہیں بلکہ یہ نعرہ بھی ہے کہ ’’یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے ملا گردی ہے‘‘۔ لیکن اتنا حوصلہ نہیں کہ کھل کر اسکا اظہار کریں۔ امریکہ نے وردی اور وردی نے مجاہدین ور طالبان کو استعمال کیا ۔امریکہ نے یوٹرن لیا توپاک فوج کو بھی مجبوراً اپنا رخ بدلنا پڑا۔ فوج کا ذہن تقسیم ہوا۔ اس منتشر ذہنیت سے بڑا نقصان اٹھایا۔ طالبان کو مارتے تو قوم ناراض ہوتی اور پالتے تو امریکہ ناراض ہوتا۔ منافقانہ ذہنیت نے فوج کرپٹ بنادیا، جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کی وسیع جائیداد سے سپاہیوں کاکھلے عام ڈیزل وپیٹرول بیچنے کاتماشہ دنیا نے دیکھ لیا۔ جنرل راحیل شریف نے کرپشن کیخلاف اقدامات اٹھائے، دہشتگردی کادونوں ہاتھوں سے کھیلے جانے والے کھیل کاخاتمہ کردیا۔ جنرل قمر باجوہ نے رہی سہی کسر بھی نکالی، حالات معمول پر آگئے ،شریف الطبع بہادر آرمی چیف جنرل باجوہ نے دہشت گردوں کے دور دراز کے ٹھکانوں کابھی خاتمہ کیا تو منظور پاشتین نے فوج کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا۔ اس میں شک نہیں کہ فوج کا دماغ سیاسی نہیں ہوتا اور جب وہ سیاست میں حصہ لیتی ہے تو سیاست کا بیڑہ غرق کردیتی ہے۔ جنرل ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو جنم دیا تو بھٹو نے قائدِ عوام بن کر بدترین ڈکٹیٹرشپ کی انتہا کردی تھی۔ جماعت اسلامی کے جان محمد عباسی کو لاڑکانہ میں الیکشن کیلئے کاغذات جمع کرنے پر بھی گرفتار کیا تھا اور بلوچستان کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے ساری سیاسی قیادت ہی باغی قرار دیکر جیل میں قید کرلیا۔ بھٹو لیڈر نہیں سیاسی مہرہ تھا۔ فوج نے خودلایا تھا ، خودہی قوم کی جان چھڑائی، کیفر کردار تک پہنچادیا۔ فوج نے پھرایک مہرہ محمد خان جونیجوکی شکل میں تلاش کیا اور پھر اسکی بساط لپیٹ دی ۔اتفاق اسٹیل میں نوازشریف کے آہنی اعصاب تیار ہوئے، جو لمبے عرصہ تک چلے، زنگ آلود نہ ہوسکے۔ اسلامی جمہوری اتحاد میں یہ مہرہ کام آیا ، پھر تمام سیاسی قائدین کو اسمبلی سے باہر کرکے دوتہائی اکثریت مل گئی اور پھر سعودی عرب کی جلاوطنی کے دوران بھی اس لوہے کے چنے کو زنگ نہ لگا اور واپسی پر پیپلزپارٹی کے خلاف استعمال ہوا۔ پھر اس کو انتخابات کی آڑ میں حکومت دلائی گئی لیکن جس فوج نے اپنے کرپٹ لوگوں پر ہاتھ اٹھایا تو اس کیلئے وہ کیسے سہارا بن سکتی تھی؟۔ نوازشریف کو دکھ ہے کہ مہرہ تبدیل کرکے عمران خان کو کیوں لایا جارہاہے۔ شہبازشریف بہتر خدمت کرسکتا ہے۔ مریم نواز سدھی ہوئی نہ تھی اسلئے پارٹی صدارت کیلئے انتخاب نہ کیا۔فوج کو امریکہ واسرائیل اور یورپی ممالک نے استعمال کرکے پھینکا۔ اپنے پالتو سیاسی مہروں اور مجاہدین کی طرف سے مشکل کا سامنا ہے تو منظور پاشتین نے پشتون قوم کا نعرہ بلند کرکے ٹارگٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ مشکل گھڑی میں ایک طرف امریکہ کے بجائے روس سے دوستی کے متمنی فوج کو یہ توقع نہ تھی کہ قوم پرست اور کمیونسٹ عناصر اسکے خلاف کھڑے ہونگے بلکہ وہ منظور پاشتین اور انکے دوستوں سے اچھی توقعات رکھتے لیکن قسمت کا کھیل ہے کہ مذہبی طبقے اور سیاسی مہروں سے فوج کا تعلق ختم ہوگیا تو اسرائیل و امریکہ بھارت کیساتھ کھڑے ہیں اور کمیونسٹ بھی مخالف ہیں، مذہبی جنون IJI کے نام پر نواز شریف کو استعمال کیاگیاجواپنی حیثیت کھوبیٹھا اور اب عمران خان نئے مہرے کا کردار ادا کررہاہے۔ فوج کو پتہ چل رہا کہ ہرشاخ پر اُلو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا؟۔ منظور پاشتین نے ایسے وقت پر آواز اٹھائی ہے جب ہر طرف سے فوج کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ عمران خان اپنی بیگمات سے وفا نہ کرسکا تو اس پر کون بھروسہ کریگا؟۔ منظور پاشتین کیخلاف گلی کے جانے پہچانے کتوں نے بھونکنا شروع کیا مگر ان کی سنتا کوئی نہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بڑی دلیری سے مشکلات کھڑی کی گئی ہیں۔ گولی لاٹھی کی سرکار کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ یہ کرائے کے لوگ نہیں بلکہ ضمیر کی آواز پر اپنا ہدف سوفیصد نشانہ پر لے رہے ہیں۔ مشکل گھڑی میں حق کی وکالت کرنا بہت دشوار ہے مگر ضروری ہے۔ منظور پشتین نے پاکستان کی بہت طاقتور فوج کیخلاف آواز اٹھائی ہے تو یہ بہادری ہے۔ فوج کو اس کی غلطی پر غریب عوام کیلئے متنبہ کرنا ایسا نہیں جیساکہ اب نوازشریف اپنے مفادات کیلئے ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کی رٹ اپنے مفاد کیلئے لگارہاہے۔ قوم کو تکلیف ہو تو فوج کو اس تنبیہ پر احسان مند ہونا چاہیے اور ضرور ہوگی مگر!