اسلامی احکامات کی اجنبیت کو ختم کرنے کی ہمیں سخت ضرورت ہے

807
0

zina-bil-jabr-sangsar-rajam-tobah-rajeem-doodh-ibne-majah-quran-bakri-kha-gai-matami-jaloos
خلفاء راشدین حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ ، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓاور حضرت حسنؓ کا 30 سالہ دورمبارک تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دور کو بہترین قرار دیا تھا۔ مدینہ کے سات فقہاء میں حضرت ابوبکرؓ کا پوتا اور نواسہ بھی شامل تھا۔پوتا حضرت قاسمؒ بن محمد بن حضرت ابوبکرؓ اور نواسہ عروہؒ بن زبیرؓ تھے۔پھر تبع تابعین کا دورتھا ۔ائمہ مجتہدینؒ کو ہم چار اماموں کے نام سے جانتے ہیں۔حضرت عمر فاروق اعظمؓ اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے بارے میں بھرپور طریقے سے وضاحت مسلم اُمہ کے اتحاد کیلئے سنگِ میل ہوگی۔ان حضرات کی غلط وکالت نے بیڑہ غرق کردیا۔
خانہ کعبہ سے پہلے قبلہ اول بیت المقدس تھا۔ تحویل قبلہ کی طرح بہت سے احکام بدل گئے جن پر پہلے عمل کیا گیا ۔ سخت ترین طلاق یہ تھی کہ شوہر بیوی کو ماں سے تشبیہ دیتا تھا۔ جسکے بعد حلالہ سے بھی حلال نہ ہوتی تھی۔ سورۂ مجادلہ میں اس کی اللہ نے بھرپور وضاحت کردی۔ اہل کتاب کے ہاں یہ رائج تھا کہ شادی شدہ کو زنا کرنے پر سنگسار کردیا جاتا اور کنواروں کو 100 کوڑے ، ساتھ میں ایک سال جلاوطنی کی سزا دی جاتی تھی۔ سائنس کے ذریعے دنیا کو زمین سے آسمان پر پہنچانا آسان مگر مذہبی اور دنیاوی رسوم کو ملیامیٹ کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ قرآن میں بیوی کو بدکاری پر دیکھنے میں لُعان کاحکم ہے مگر قتل کردیا جاتا ہے۔ مذہبی احکام اپنے اصل کے اعتبار سے کچھ ہوتے مگر پھر مذہبی طبقوں کی طرف سے تحریف اور تبدیلی کا شکار ہوجاتے تھے۔ یہودنے لعان کے بجائے قتل کیلئے حکم بدل ڈلا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہود کی کٹر مذہبی ذہنیت کا مقابلہ کچھ اس طرح سے کیا کہ ’’ زنا کے مرتکب شادی شدہ کو سنگسار کیا جانے لگا تو فرمایا کہ سب سے پہلا پتھروہ مارے جس نے خود زنا نہیں کیا ہو‘‘۔( بائبل) یہ کام حضرت عیسیٰ ؑ خود بھی کرسکتے تھے مگر مقصد اس خود ساختہ مذہبی حد سے جان چھڑانا تھا۔ان کے پاس اقتدار نہیں تھا اسلئے حکمت سے کام لیا تھا۔
رسول اللہﷺ کے سامنے ایک یہودی اپنا مقدمہ لیکر آیا کہ میراغیر شادی شدہ لڑکا دوسرے کی بیوی سے زنا کا مرتکب ہوا۔ میں نے 100بکریوں پر فیصلہ کیا۔ پھر علماء نے بتایا کہ تمہارے لڑکے کو 100کوڑے اور سال جلاوطنی کی سزا ہوگی اور اس کی بیوی کو سنگسار کیا جائیگا۔ یہود نے آیت رجم کو انگلی سے چھپایا مگر نشاندہی ہوگئی تو رسول ﷺ نے اس پر عمل کروادیا۔ ایک مسلم خاتون نے اپنے اوپر زنا کی گواہی دی، رسول ﷺ نے سالوں سال ٹالا مگر خاتون آخر پھر حاضر ہوئی کہ’’بچہ دودھ نہیں روٹی سے پل رہاہے‘‘۔ نبیﷺ نے پھرسنگساری کا حکم دیا۔ یہود ونصاریٰ رجم کے حکم پر عمل نہیں کرتے تھے، بیوی کو زنا پر ماردینے کا عام رواج تھا۔ لُعان کاحکم نازل ہوا تب بھی حضرت سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ ’’میں قرآن کے حکم پر عمل نہیں کروں گا ، بیوی کو قتل کردوں گا ‘‘۔ حکم سے اس طرح واضح انکار یہود نے بھی حضرت موسیٰ ؑ کے سامنے کیا ہوگا۔ توراۃ میں رجم سے مراد سنگسار کرنا نہیں بلکہ لعن طعن کرنا ہی ہوگا۔ جیسے شیطان رجیم ہے کیونکہ بوڑھا 100کوڑے سے مر سکتا ہے اور دین میں قتل کرنے کی اس طرح سے اجازت ہوتی تو لُعان کرنے کا حکم نہ اترتا۔
خاتونؓ سنگسار ہوئی توحضرت عمرؓ نے مذمت کی کہ اپنی اور خاندان کی تذلیل کردی ۔نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ اس خاتونؓ کی توبہ ایسی قبول ہے کہ اگر سب مدینہ والوں پر اسکو بانٹ دیا جائے تو سب کے گناہ معاف ہوں‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ مجرم خود کو قانون کے حوالہ کرکے سزا بھگت لے تو یہ بہت بڑی بات ہے۔سزا پر عمل ہوتو دوسرے اس سے عبرت بھی پکڑتے ہیں۔ پھر ایک شخصؓ نے خود پر گواہی دی اور بار بار اقرارِ جرم پر اس کو بھی سنگسار کرنے کا حکم دیا گیا۔ وہ بھاگ رہا تھا تو حضرت عمرؓ نے جانور کی بڑی ہڈی مار کر قتل کیا۔ نبیﷺ کو بتایا گیا تو نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’ بھاگ رہا تھا تو جانے دیتے‘‘۔ حضرت عمرؓکو احساس ہوا کہ غلط ہوگیا۔ پھر کسی نے چار مرتبہ اقرارِ جرم کیا تو نماز کا وقت ہوگیا، نماز کے بعدجب کسی میں ہمت نہ تھی کہ سنگسار کرنے کے حکم پر عمل کیلئے آواز اٹھاتاتو حضرت عمرؓ نے ہمت کرکے عرض کیا کہ اس شخص نے اقرار کرلیا ، اس کو سنگسار کیا جائے تو نبیﷺ نے فرمایا کہ ’’اس کو جانے دو، اس نے نماز پڑھ لی اور توبہ کی ہے‘‘۔یہ چند واقعات ہیں، سورۂ نور میں زنا پر100کوڑے کی سزا واضح ہے۔ بخاری کی روایت ہے کہ صحابی سے پوچھا گیا کہ ’’ رسول ﷺ نے اسکے بعدکسی کو سنگسار کیا ہے تو اس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں ‘‘۔ جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ سورۂ نور میں کوڑوں کے حکم کے بعد اس پر عمل نہیں ہوا۔
یہ حکمت یاد رکھنے کے قابل ہے کہ رسول اللہﷺ نے یہودی خاتون اور مسلمان خاتون کے بعد مسلمان مرد پر بھی سنگساری کا یکساں حکم جاری فرمایا۔ غیرمسلم اور مسلم پر برابری کی سطح،اس طرح مرد اور عورت پر برابری کی سطح نے معاشرے کے چہرے سے منافقت کا کردار ختم کردیا تھا۔ ہمارے یہاں تو سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ عورت کنواری ہو تو بھی ماری جاتی ہے اور اگر مرد شادی شدہ ہو تو بھی نہیں مارا جاتاہے۔ الزام کی بنیاد پر غیر مسلم اقلیتوں کی بستیاں جلادی جاتی ہیں اور ایکدوسرے پر شرک وگستاخی اور واجب القتل کے فتوے لگاگر بھی دُم پیچھے سے دبائی جاتی ہے اور اس منافقانہ کردار کی وجہ سے لوگ معاشرے میں مذہبی طبقات سے سخت نفرت کرتے ہیں۔
سنگساری کا عمل رُک گیا مگرغیرشادی شدہ کو100کوڑے کے بعد سال کیلئے جلاوطن کرنے پر حنفی مسلک اور باقی تینوں مسلکوں میں اختلاف رہا۔ چونکہ قرآن میں اس حکم کا ذکر نہیں اسلئے حنفی مسلک میں ایک سال کی جلاوطنی شرعی حد نہیں ، اگر نبیﷺ ، خلفاء راشدینؓ سے اس پر عمل کا ثبوت ہو تب بھی یہ تعزیز ہے جو حکمران اپنی طرف سے تجویز کرتا ہے لیکن حد اللہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے۔حنفی مسلک روایت پرست اور تقلیدی ذہنیت کا حامل نہیں ۔ قرآن کے مقابلہ میں روایات کو ترجیح نہ دینا تقلید واجتہانہیں اور نہ ہی دین سے انحراف بلکہ اصولِ دین کا تقاضہ ہے اسلئے امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ’’ کوئی حدیث صحیح ثابت ہوجائے تو وہ میرا مذہب ہے‘‘۔ شیعہ سمجھتے ہیں کہ ’’قرآن اور اہلبیت ایکدوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے۔ حدیث‘‘۔ امامیہ کہتے ہیں کہ’’ اہلبیت سے مراد موجودہ دور میں عرصہ ہزار سال سے غائب امام مہدی ہیں‘‘۔ اسلئے ان کو اس الزام کا سامنا کرنا پڑتاہے کہ وہ اصلی قرآن کو بھی امام کیساتھ پردہ غیب میں سمجھتے ہیں۔ اسماعیلی ، بوہری اور حوثی بھی اس عقیدے کی وجہ سے امامیہ شیعہ کو گمراہ سمجھتے ہیں،وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی طرح امام بھی غائب نہیں ہوسکتا ،جبکہ امامیہ شیعہ ان دوسرے شیعہ فرقوں کو اس طرح کافر سمجھتے ہیں جس طرح مسلمان قادیانیوں کو سمجھتے ہیں۔قائداعظم آغا خانی تھے اور دیوبندی نے جنازہ پڑھایا تھا۔
اہلحدیث حنفی کو بدترین گمراہ سمجھتے ہیں جبکہ ’’ جماعت المسلمین ‘‘ اہلحدیث کو گمراہ سمجھتے ہیں۔ دیوبند سے الگ ہونیوالے پنج پیری علماء دیوبند کو توحید میں ڈھیلا سمجھتے ہیں اور مسعود عثمانی اور کمال عثمانی والے پنج پیری کو بھی خائن سمجھتے ہیں۔ اس تفریق وانتشار کے پیچھے علم سے زیادہ جہالت کارفرماہے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ رسولﷺ کا وصال ہوا تو بڑے آدمی کا کسی عورت کی چھاتی سے لگ کر دودھ پینے کی10آیات بکری نے کھاکر ضائع کردیں۔ حنفی اس حدیث کو قرآن میں تحریف کا ذریعہ سمجھتے ہیں اسلئے مسترد کرتے ہیں۔ اہلحدیث کو یہ حدیث اپنے مسلک کو سپورٹ کرنے کیلئے اچھی لگتی ہے ۔ان کا مسلک ہے کہ’’بڑا آدمی عورت کا دودھ پی سکتا ہے ، اسکے بعد وہ عورت سے پردہ نہ کرے۔ البتہ اس سے شادی کرسکتا ہے‘‘۔اہلحدیث کا یہ مسلک فطرت اور قرآن وسنت سے متصادم ہے مگر بدترین تقلیدی ذہن والے اہلحدیث حقائق کو نہیں سمجھتے ہیں۔
کیا حدیث سے قرآن کی تحریف لازم آتی ہو تب بھی اس کو مانا جائیگا؟۔ اگر آیات ضائع ہونے کیلئے بکری نے کام دکھایا تو پھر کیا باقی بچا؟۔ اہل تشیع کی کسی کتاب میں نہیں کہ’’ قرآن چالیس پارے کاتھا، دس پارے بکری کے کھانے سے ضائع ہوگئے‘‘۔ مگر بے تکا الزام لگادیا گیا اور اہلحدیث اور درسِ نظامی پڑھانے والے دیوبندی بریلوی خود چور نکلے کہ ’’دس آیات بکری کے کھا جانے سے ضائع ہوگئیں‘‘ ۔ عقل کے اعتبار سے کمزور ڈٹ گئے کہ ’’ہم اہلحدیث ہیں‘‘ اور یہ نہیں سوچا کہ ’’ جب اجنبی آدمی سے عورت کیلئے قرآن میں چھاتی کا ابھار چھپانا بھی حکم ہے تو عورت چھاتی سے پھر دودھ کیسے پلاسکتی ہے؟۔ لمبی لمبی داڑھیوں والوں سے کوئی بعید نہیں کہ ہم مسلک خواتین کو آمادہ کرلیں کہ ضائع شدہ آیات اور احادیث کی روایات کی سنت کو زندہ کرنے کیلئے ان کی گود میں لیٹ کر چھاتیوں سے دودھ پینا شروع کردیں۔ اگر دنیا میں اس سنت پر عمل کا آغاز ہوا تو عاشورہ محرم کے اندر شیعوں کے ماتمی جلوس کو لوگ بھول جائیں گے۔
امام ابوحنیفہؒ نے جمہور کیخلاف کھڑے ہوکر اُمت کو گمراہی پر جمع ہونے سے بچایا تھا۔ شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک یہ ہے کہ مرد چار مرتبہ گواہی دے تب اس پر شرعی حد نافذ کی جائے گی اور عورت ایک مرتبہ بھی گواہی دے تو حد جاری کرنے کیلئے کافی ہے کیونکہ یہ مستند حدیث میں مذکور ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہؒ کے مسلک والے کہتے ہیں کہ ایک روایت کا ذکر مسئلہ حل کرنے کیلئے کافی نہیں، اس عورت کے واقعہ کی تفصیل موجود ہے حد ٹالنے کیلئے کتنی بار لوٹادیا گیا؟، کس قدر غلط بات ہے کہ مرد کیلئے چار مرتبہ اقرار اور عورت کیلئے ایک بار اقرار کافی ہو؟۔ حالانکہ دوسری طرف عورت کی گواہی بھی آدھی مانتے ہو؟، حد کیلئے پھر عورت کی گواہی سرے سے قابلِ قبول بھی نہیں تو عورت کا 4 مرتبہ اقرار بھی قابل قبول نہ ہونا چاہیے تھا یا اس کی طرف سے 8مرتبہ اقرار ضروری ہونا چاہیے تھا۔ اہلحدیث کی طرح اس جمہور کا بھی عقل کا پیمانہ کچھ زیادہ لائق اعتماد نہیں تھا البتہ اہلحدیث اور انکے اخلاص پر شک کی گنجائش نہیں ۔علم، شعور و آگہی کی دنیا میں وہ سب اختلافات ختم ہوسکتے ہیں جو جہالت اور تعصبات کا شاخسانہ ہیں۔آج کے اہلحدیث ہوشیار بن گئے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کے پوتے شاہ اسماعیل شہیدؒ نے تقلید کا بندھن توڑنے کی کوشش کی اور دیوبند ی اکابرؒ ان کی راہ پر چلنا چاہتے تھے کہ بریلوی مکتب کے اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان بریلویؒ کی طرف سے رکاوٹ ڈالی گئی۔ حسام الحرمین کے خوف سے المہند علی المفند کتاب اپنی وضاحت کیلئے لکھنا پڑگئی تھی۔ جس طرح دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث سب شاہ ولی اللہؒ پر اعتماد کرتے ہیں مگر سب نے ایکدوسرے سے راہیں جدا کرلی ہیں۔ ازل سے یہی کچھ ہوتا آیاہے۔
سب سے زیادہ قابل اعتماد ذریعہ قرآن پھر سنت ہے، خلافت راشدہ، امام ابوحنیفہ ؒ اور اکابرؒ کا سلسلہ بھی معتبرتھامگر عملی طورپر قرآن وسنت کا راستہ ہی مشعلِ راہ ہوسکتا ہے ۔ لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ پڑھنے والے پہلے تمام معبودوں کی نفی پھر اللہ کی توحید اور رسول ﷺ کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں۔مذہبی پیشواء جب قرآن وسنت کی رہنمائی کا حق ادا کریں تو علماء سے بہتر مخلوق نہیں جو انبیاء ؑ کے وراث ہیں اور اگر اپنی ذات اور اپنے بڑوں کو معبود کا درجہ دیں تو مخلوق میں بدترین ہیں۔ علماء حق اور علماء سوء کا سلسلہ ہر دور میں کوئی نہ کوئی واضح شکل اختیار کرتا رہاہے۔زکوٰۃ کے مسئلہ سے سود کو معاوضہ کے تحت جواز بخشنے کی حد تک سرکاری مرغے مفتی منیب و تقی عثمانی آج بھی موجودہیں۔
حضرت عمرؓ کے دور میں فتوحات کے دروازے کھل گئے، بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہوگئے۔ خوشحالی میں انسان کو جنت میں بھی نافرمانی سوجھ جاتی ہے۔ حضرت عمرؓ نے وقت کے بدلتے تیور دیکھے تو منبر پر چڑھ کر کہا کہ ’’ زنا کا کیس آیا تو سنگسار کردونگا، اگرمجھے ڈرنہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے قرآن میں اضافہ کیاہے تو میں رجم کا حکم قرآن میں لکھ دیتا‘‘ ۔ یہ بخاری میں ہے اور بخاری قرآن کے بعد صحیح ترین کتاب ہے۔ پھر بصرہ کے گورنرمغیرہؓ ابن شعبہؓ کے خلاف 4افراد زنا کی گواہی دینے کیلئے آگئے۔ ایک نے گواہی دی تو حضرت عمرؓ کا رنگ اڑگیا۔ دوسرے نے گواہی دی تو حضرت عمرؓ بہت پریشان ہوگئے اور تیسرے کی گواہی کے بعد حضرت عمرؓ کی پریشانی انتہاء تک پہنچ گئی۔ چوتھا آیا تو حضرت عمرؓ نے اظہار کیا کہ ہوسکتاہے کہ اسکے ذریعہ اللہ اس صحابیؓ رسولؐ کو اس ذلت سے بچائے۔ جب گواہی دینے لگا تو حضرت عمرؓ نے دھاڑ کر کہا کہ ’’بتا ،تیرے پاس کیا ہے؟‘‘۔ راوی نے کہا وہ اس زور کی دھاڑ تھی کہ میں بیہوش ہونے کے قریب پہنچ گیا۔چوتھے گواہ زیاد بن ابوسفیانؓ نے کہا کہ ’’ میں نے دیکھا کہ اس عورت کے پاؤں صاحب کے کاندھے پر گدھے کے کانوں کی طرح پڑے ہوئے تھے اور اسکی چوتڑ نظر آرہی تھی‘‘۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ گواہی نامکمل ہے اور باقی تینوں کو بہتان لگانے کی پاداش میں80،80کوڑے لگادئیے۔ پھر ان کو پیشکش کردی کہ’’ اگر تم کہو کہ جھوٹ بولا تھا تو تمہاری گواہی آئندہ قبول کی جائے گی‘‘۔ ان 4گواہوں میں صرف ایک صحابیؓ حضرت ابوبکرہؓ تھے۔ وہ ڈٹ گئے کہ میں نے سچ کہا تھا، آئندہ میری گواہی قبول نہ کی جائے تومجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ 2گواہوں نے جھوٹ کا اعتراف کرلیا کہ ایسی گواہی بھاڑ میں جائے جہاں لینے کے دینے پڑیں اوریہ واقعہ فقہاء کے درمیان قانون سازی کی بنیاد بن گیا۔ بخاری میں بھی گواہوں کے ناموں کی وضاحت ہے۔ حنفی مسلک میں حضرت عمرؓ کی پیشکش غلط تھی اسلئے جھوٹی گواہی ہو توآئندہ قرآنی آیت کے مطابق کبھی بھی اس کی گواہی قبول نہ کی جائے گی جبکہ باقی تین امام کے نزدیک حضرت عمرؓ کا مؤقف درست تھا، توبہ کے بعد گواہی قبول کی جائیگی۔ واقعہ بظاہر اتنا شرمناک ہے کہ پارلیمنٹ میں زیربحث نہیں آسکتا۔
اس واقعہ اور قانون سازی پر ائمہ مجتہدینؒ کیا حضرت عمرؓ کا دفاع کرنا بھی انتہائی دشوار تھا، اسلئے علماء اسلامی قانون سازی کیلئے اس واقعہ کا ذکر نہیں کرسکتے ہیں لیکن گدھے کی طرح آنکھیں بند کرکے سڑک پر کھڑا ہونے سے رواں ٹریفک کی زد سے خود کو نہیں بچا سکتے ہیں۔ یہود کے نقش قدم پر چل کر کمثل الحمار یحمل اسفارا کی روش سے ہم کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے سنگساری کے حوالہ سے جو کچھ تعلیم وتربیت پائی تھی اسکا یہی نتیجہ ہوسکتا تھا کہ سنگسار کرنے کے بجائے ہوشیاری دکھانے والوں کو ہی سبق سکھایا جائے۔ امام شافعیؒ ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے کہا ہوگا کہ حضرت عمرؓ پر لعن طعن غلط ہے یہ اس تعلیم وتربیت کا نتیجہ تھا جو رسولﷺ سے سیکھا تھا۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ نے حضرت عمرؓ کی طرف سے گواہوں کو اس طرح کی پیشکش کو غلط سمجھا۔مگر مسلکوں کی تقلید کرنے والوں کی بالکل ناجائز وکالت کا نتیجہ ہے کہ بعد والوں نے قانون سازی کو غلط رنگ دیدیا تھا۔پاکستان کا آئین قرآن و سنت کا پابند ہے اور قرآن کی درست وضاحت علماء کا فرض اورقانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے،پارلیمنٹ علماء کو بلواکر آغاز کرے۔
زنا کرنے پر سنگساری کی سزا کا حکم قرآن میں نہیں۔ اگر شادی شدہ وکنوارے مرد اور عورت کی زنا پر100کوڑے لگانے کے حکم کی ترویج اور اشاعت کی جائے تو خواتین کو غیرت کے نام پر قتل سے بچایا جاسکتاہے اور طاقتورمرد حضرات پر حد نافذ کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکتاہے اور پھر لوگ اپنے اوپر حد نافذ کروانے کا حوصلہ بھی کرینگے۔ شیعہ ماتمی جلوس میں زنجیر زنی سے نہیں خود پر شرعی حد نافذ کرکے محرم کی 10تاریخ کو حضرت علیؓ، حضرت حسنؓ ، حضرت حسینؓ ، امام جعفر صادقؒ اور امام مہدئ غائب کی خوشنودی حاصل کرینگے۔ تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کا طبقہ بھی اپنے گناہگار ہونے کے اعترافی قصیدے گانے کیساتھ ساتھ شرعی حد جاری کرکے ایمان کی دولت کا ثبوت دینگے۔ صحابہؓ نے شرعی حدود کے اجراء کیلئے خود کو پیش کردیا تھا۔طالبان دوسروں پر خود کش کرنے کے بجائے خود پر شرعی حد جاری کروائیں تواسلام دنیا میں پھر سے زندہ وتابندہ ہوگا۔
بیت المقدس پر قابض اسرائیلی یہودیوں کے سامنے مسلمان خود کو پیش کریں کہ توراۃ کے مطابق ہم پر سنگساری کا حکم جاری کریں تو یہود فلسطین چھوڑ کر بھاگ جائیں گے ۔ یہ بھول جائیں کہ امریکہ دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے ، پاکستان سے اسکا گلہ یہی ہوسکتا ہے کہ افغانستان کی طرح دہشت گردوں کے جتھے تم بھی پالو۔ امریکہ نے پاکستان کو دہشت گرد ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ پالنے کیلئے امداد فراہم کی تھی۔ حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اس کا ثبوت ہے جو دہشت گردوں کا مدر پلانٹ تھا، بینظیر بھٹو کو اسلئے راستے سے ہٹایا گیا کہ اس نے انکشاف کیا تھا کہ دہشت گردوں کو 2سو ڈالر ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ چوہدری نثار نے غیر ملکیوں کو رجسٹریشن کا پابند بنادیا اسلئے راستے سے ہٹادیا گیا۔ حامد کرزئی کو امریکہ کی پالیسی سمجھ میں آئی تو تنقید شروع کی اورپھر ہٹادیا گیا۔جنرل راحیل اور جنرل باجوہ کے کردار کے بعد امریکہ ہم سے ناراض ہے۔
حضرت عمرؓ کا کردار کسی کیلئے قابلِ تقلید یا تنقیدہے مگرآپ کی جو تعریف خالص اہل تشیع کی کتاب ’’ نہج البلاغہ‘‘ میں حضرت علیؓ نے کی، اس سے زیادہ کے سنی بھی قائل نہیں۔ یہ شکر ہے کہ اللہ کے احکام میں سب سے زیادہ سخت حضرت عمرؓ کے ہاتھ سے اللہ نے سنگساری کی سزا میں آخری کیل ٹھونک دی ۔ حضرت علیؓ کی یہ بات خلوص پر مبنی تھی کہ ’’اگر موقع ملے تو یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں پر اپنی اپنی کتابوں کا حکم نافذ کردیں‘‘۔ ہوسکتاہے کہ مسلمانوں پر سنگسارکرنے کا نہیں اللہ کی کتاب کے مطابق 100کوڑے لگانے کا حکم جاری کرتے۔ لیکن اللہ کو یہ بھی منظور نہیں تھااسلئے کہ توراۃ میں بھی سنگسار کرنے کا غیرشرعی اور غیرفطری حکم نہ تھا ۔ جب قرآن میں وضاحت نہیں تھی تو بھی رسول ﷺ اس پر عمل سے حتی الامکان پہلو تہی برت رہے تھے اور جب قرآن میں وضاحت آگئی تو پھر اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں تفصیل سے بتایا کہ قرآن محفوظ ہے اور یہود نے توراۃ میں تحریف کی ہے۔ اگر وہ اپنی کتاب سے فیصلہ کرنے کا کہہ دیں تب بھی ان کی کتاب سے ان کو فیصلہ نہ دیں اسلئے کہ جو تمہارے پاس ہے اس کی وجہ سے اپنی کتاب سے بھی فتنہ میں پڑجاؤگے۔ اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنا ولی نہ بناؤ۔۔۔‘‘۔ ولی سے مراد فیصلے کا اختیاردینا ہے۔ جیسے کنواری لڑکی کا ولی اس کا باپ ہوتاہے۔ دوست بنانا مراد نہیں۔ اہل کتاب سے شادی کی اجازت ہے تو اس سے بڑھ کر کیا دوستی ہوسکتی ہے۔ مسلمان یہود ونصاریٰ کو اپنے فیصلے کا اختیار دینگے تو وہ ان پر سنگساری کا حکم نافذ کردینگے۔ مسلمان کے پاس یہود ونصاریٰ بھی آئیں گے تو قرآن کے مطابق ان کو سنگسار نہیں کیا جائیگا بلکہ کوڑے مارے جائیں گے۔ آج دنیا میں داعش خواتین پر سنگسار ی کا حکم جاری کرکے اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ علماء اُٹھ کر حقائق کی وضاحت کردیں۔داعش والے طالبان کی طرح علماء کی غلط تعبیر سے نادانستہ استعمال ہورہے ہیں۔
قرآن میں شادی شدہ لونڈی کیلئے نصف سزا کا حکم ہے اور نبی کریمﷺ کی ازواج کو دوگنی سزا کا حکم بتایا گیاہے۔ 100کا نصف 50اور دگنا200ہے لیکن سنگساری میں نصف اور دگنے کا کوئی تصور نہیں ۔ قرآن نے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ’’ اللہ نے اہل کتاب کو اپنی جانوں کے قتل اور جلاوطنی کی سزا کا حکم نہیں دیا ،یہ انکا خود ساختہ حکم تھا‘‘۔ اللہ نے اس بات کو واضح کردیا کہ’’ زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ سے اور زانیہ کا نکاح نہیں کرایا جاتا مگر زانی یا مشرک سے اور مؤمنوں پریہ حرام کردیا گیا ہے‘‘ ۔ اس آیت میں واضح ہے کہ نکاح کرنے والے مردو عورت اور مشرکوں سے اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کے باوجود ان سے زندگی کا حق چھین لینے کا حکم نہیں دیا ۔ علماء نے لکھا کہ’’ اس آیت کا حکم اس آیت سے منسوخ ہے جس میں بے نکاح خواتین، صالح غلام اور لونڈیوں کے نکاح کرانے کا حکم دیا گیاہے کیونکہ اس میں زنا کار اور اچھے سب شامل ہیں‘‘۔ حالانکہ زناکاری کے ماحول سے بچنے کیلئے ہی اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیاہے۔اور اگر مسلک کا تقاضہ ہوتا تو سورۂ بقرہ کی آیت اور حلالہ سے متعلق روایت کو منسوخ قرار دینا مناسب سمجھا جاتا۔ مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے اپنی طرف سے اسلام کو قابلِ عمل بنانے کی تجاویز پیش کی ہیں چنانچہ لکھاہے کہ ’’سنگساری کا حکم توراۃ میں تعزیر تھا ۔ ان تک اس حکم کو محدود کیا جائے جن کی ازدواجی زندگی بحال ہو، طلاق شدہ اور بیوہ اور جن مردوں کی بیوی طلاق یامرچکی ہو ان کو سنگسار نہ کیا جائے‘‘۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے توراۃ کی آیت کو لفظی اور معنوی اعتبار سے من گھڑت قرار دیا۔ بوڑھے اور بوڑھی پر رجم کا حکم ہو تواس کی زد میں جوان کنوارے اور شادی شدہ نہیں آتے اور بوڑھے کنوارے زد میں آتے ہیں (تدوین القرآن) جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ نے ’’تدوین القرآن‘‘ پر اپنا مقدمہ بھی لکھ دیاہے۔نصاب تعلیم کی غلطیوں اور کفر کو مان کر بھی حق قبول نہ کرنازیادتی ہے۔
اگر اللہ کی حدود کو قائم کرنے والا حکمران فاسق وفاجر ، منافق اورکافر ہو تب بھی عدل کا نظام قائم ہوگا مگرکوئی بڑا پارسا، متقی و پرہیزگار اور عالم فاضل بھی حکمران ہو تو اللہ کے حدود کو قائم نہ کرنیوالا عدل وانصاف کے تقاضے پر پورا نہیں اترسکتا۔ یہ بحث چھوڑ دی جائے کہ کون خلیفہ تھا اور کون ہو، اسلام کی اصل تصویر سامنے لائی جائے توخلافت قائم ہوگی۔جس دن ہم نے قرآن وسنت کے معاشرتی احکام کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا تو پارلیمنٹ اور عدلیہ سے بھی قانون سازی اور قانون پر عمل درآمد کا سلسلہ شروع ہوگا۔ سورۂ بقرہ آیت230میں جس طرح حلال نہ ہونے کا ذکر ہے اس سے قبل اور بعد کی آیات میں عدت میں رجوع ، مرحلہ وار طلاقوں اور مکمل پسِ منظر کا بھی ذکرہے، سورۂ طلاق اور ابوداؤد کی روایت میں وضاحت ہے ۔ ساغرصدیقی نے سلطان باہو ؒ کے اشعار کاترجمہ کیا جس میں علم اور علماء کو بہرہ گونگا قرار دے دیا تھا۔ سید عتیق الرحمن گیلانی